ضرورتوں کے رشتے

وہ تینوں دوست بل گیٹس کے شہر Seattle کے نواحی قصبے میں ایک کرائے کے مکان میں مقیم تھے۔ سبھی ساتھیوں کو ان کی سماجی و معاشی ضرورتوں نے جوڑ رکھا تھا۔ لیکن جب ضرورتیں خواہشات میں ڈھل گئیں تو ہر ایک اپنی ذات کا سوچنے لگا۔ شاید مادیت پسندی اپنے مفاد کے علاوہ کچھ سوچنے ہی نہیں دیتی۔ وہ مشترکہ ضرورت کے تحت ایک چھت تلے رہے، پھر بظاہر مخلص دکھائی دینے والے دوست، تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر گئے۔ ایک دوسرے کی ضرورت کیا ختم ہوئی کہ برسوں کا یارانہ بھی ٹوٹ گیا۔
یہ کہانی انسان کی بنیادی ضرورتوں کی ہے جن میں ”روٹی، کپڑا اور مکان“ شامل ہیں۔ انسانوں کی اکثریت انہیں ضرورتوں کے حصول کے لیے تگ و دو میں مصروف رہتی ہے۔ روٹی، کپڑا اور مکان، انسان کی مادی ضرورتوں کے نام ہیں لیکن انسانوں کی فقط مادی ضرورتیں ہی تو نہیں ہوتیں، وہ کچھ جذبات بھی رکھتے ہیں، ان کی کچھ تمنائیں بھی ہوتی ہیں۔ یہ جذبات ہی کا کمال تھا کہ اماں حوا نے بابا آدم کو ایک ممنوعہ پھل کھانے پر آمادہ کر لیا، پھر وہ اس کے لیے مورد الزام ٹھہری، مگر کیا وہ اس غلطی کی اکیلے ذمہ دار تھی، کیا اس میں بابا آدم کی اپنی رضا شامل نہیں تھی۔ آدم اور حوا کی کہانی میں جذبات کا کیا کردار ہے، یہ سوال ہم اپنی جگہ چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔
نسل انسانی کی بنیاد ہی جذبات کے ستونوں پر کھڑی ہے، ماں بننا بھی تو ایک جذبے کا نام، ورنہ ایک عورت نو مہینوں تک اپنے پیٹ میں کسی کا بوجھ کیوں اٹھائے گی، اس سنسار میں کون کسی کا بوجھ اٹھا تا ہے، بس، یہ ایک ماں ہی تو ہے جو سب تکلیفیں برداشت کرتی ہے۔ ایک عورت، نسل انسانی کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی جسم کی قربانی پیش کرتی ہے، کیا ہم نے قربانی کی بھینٹ چڑھنے والے دنبوں کو دیکھا ہے، کس طرح وہ ہماری قربانی کی رسم کے نذر ہو جاتے ہیں اگر ان کی جگہ ہمیں قربانی دینا پڑے تو پھر! کیا ہم قربان ہونا پسند کریں گے۔
جانور کس پر قربان کر دیے جاتے ہیں، چلو خدا کے نام پر ہی سہی لیکن ان کی جان تو چلی جاتی ہے، شاید انسان اپنی ذات کی قربانی دینے سے بچنا چاہتا ہے، شاید اسے قربانی دینے کے انعام کا ادراک نہیں، ماں بچے کو اپنی نرم و نازک کوکھ میں پالنے کی ذمہ داری لیتی ہے، کسی کا بوجھ اپنے سر اٹھانا بھی تو قربانی دینے کے مترادف ہے۔ اسی لیے تو جنت کو ماں کے قدموں تلے نچھاور کیا جاتا ہے کیونکہ وہ آدم کی نسل کو پروان چڑھانے کے لیے اپنے پاک جذبات رکھتی ہے۔ وہ خون کے ایک لوتھڑے کو اپنے جسم کا حصہ مان لیتی ہے۔
دوستی، رشتے داری، انسانیت یہ سب ایک عظیم الشان جذبے کا نام ہیں۔ جذبات کا عمل بالکل فطری ہے، اتنا ہی، جتنا، روٹی، کپڑے اور مکان کی ضرورت۔ مادی ضرورتوں کے حصول کے ساتھ ایک انسان کو اپنی روحانی تسکین اور جذبات کی تکمیل کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ روزی روٹی کے چکر میں انسانوں کی زندگی روبوٹک بنتی جا رہی ہے۔ روبوٹ بنانے والے شاید کبھی بھی اس کے اندر جذبات کی روح نہ پھونک سکیں۔ کچھ انسان بھی تو ایسے ہی ہوتے ہیں، جذبات سے عاری، ایک بورنگ مشین کی طرح۔ یہ مادی اور روحانی ضرورتوں کا فرق ہی تو ہے جو انسان کو فرشتوں سے الگ کرتا ہے، ہر وقت سر بسجود رہنے والے فرشتے کیا جانیں کہ مادی ضرورتوں کے امتحان کیا ہوتے ہیں۔
یہ انسان ہی تو ہے جو آزاد پیدا کیا گیا اور وہ آزاد رہنا چاہتا ہے۔ انسانوں کو ہر وقت اپنی اس آزادی کے چھن جانے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ شاید اسی لے وہ خوراک کا ذخیرہ اور اپنے ہتھیار ہر وقت تیار رکھتے ہیں۔ کیا کسی نے شاہین کو دیکھا ہے جو اپنے لیے خوراک کا ذخیرہ جمع رکھے۔ وہ توکل کا بادشاہ پرندہ ہے، آج کا مل گیا، کل ہو گی تو دیکھا جائے گا۔ شاہین کی طاقت کا اصل راز یہ ہے کہ وہ اپنے کل کے بارے میں پریشان نہیں ہوتا ورنہ تو وہ ہر وقت ہی شکار کی تلاش میں پروازیں بھرتا رہے یہاں تک کہ اس کے مضبوط پکڑ والے پنجے اور چیر بھاڑ کرنے والی چونچ تھک نہ جائے۔
شہباز، طاقتور انسانوں کی طرح حریص نہیں ہوتا۔ حریص اور اپنی خواہشوں کے غلام لوگ ہمیشہ پریشان رہتے ہیں۔ وہ دوسروں کا حصہ بھی ہڑپ کر لینا چاہتے ہیں، وہ جمع خوری کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے زیادہ کو کم اور دوسروں کے کم کو ان کے نصیب کا لکھا سمجھتے ہیں۔ ہر انسان کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے محنت کرے، دنیا سے اپنا حصہ وصول کرے، بالکل شاہین کی طرح۔ سست اور پیداواری صلاحیتوں سے عاری لوگ، کر گس کی طرح دوسروں کے شکار کا انتظار کرتے ہیں، یا پھر کسی مزار کے کبوتروں کی طرح، جن کو رزق، صاحب مزار کے پاس آنے والے عقیدت مندوں کے وسیلے سے ملتا ہے۔ قدرت نے ہر حال میں انسان کو صاحب اختیار بنا یا ہے بس موت اور زندگی کے اختیار کے سوا۔
یہ کہانی بھی ایسے دوستوں کی ہے جس کو ان کی بنیادی ضرورتوں اور موسیقی سے پیار کے جذبے نے اکٹھا کر رکھا۔ وہ ایک چھت کے نیچے، ایک خاندان کی طرح رہتے، ان میں ویسے تو کچھ بھی مشترک نہیں تھا، لیکن چھت کی ضرورت اور موسیقی سے محبت کے جذبے نے انہیں جوڑا ہوا تھا۔ وہ سب اچھے روم میٹس کی طرح رہتے، مل کر مکان کا کرایہ ادا کرتے اور گھر کا نظام چلاتے ہیں۔ تینوں بہترین دوست بھی تھے۔ میوزک ان کے لیے ایک پیشے سے زیادہ اپنے دوستوں اور اپنی کمیونٹی سے جڑے رہنے کا ذریعہ تھا۔
یہ گھرانا، دو مردوں اور ایک عورت پر مشتمل ہے۔ ایک مرد کو عورتوں میں دلچسپی نہیں تھی، وہ ہم جنس پرست تھا۔ دوسرا مرد، عورت کا ایکس بوائے فرینڈ تھا لیکن اب وہ محض اچھے دوستوں کی طرح اکٹھے رہ رہے تھے۔ عورتوں میں دلچسپی نہ رکھنے والا مرد، ایک اچھا ڈانس انسٹرکٹر تھا اور دنیا کی ہر قسم کی دھن پر خوب ناچتا تھا، وہ ایک جم میں زمبے کی کلاسیں لیتا اور اچھے خاصے پیسے بنا لیتا۔ اس گھر کی عورت نے اکاؤنٹنٹ کی تعلیم حاصل کر رکھی تھی لیکن وہ کوئی بھی مستقل کرنے سے نفرت کرتی۔ وہ آزاد رہ کر جینا چاہتی تھی، اس لیے ایک ریسٹورنٹ میں ویٹریس کا کام کرتی اور خوب ٹپس کماتی۔ وہ سلیقہ مند ہونے ساتھ بہت خوبصورت بھی تھی۔
وہ ایک سرٹیفائیڈ یو گا ٹیچر تھی لیکن سب سے زیادہ وہ گانگ باتھ، ساؤنڈ ہیلنگ اور کرتان کی محفلیں سجانے کی شوقین تھی۔ ہفتے میں ایک مرتبہ وہ سب دوستوں اور اپنی کمیونٹی ممبرز کے لیے کرتان کی محفل سجاتی۔ محفل کرتان میں وہ سب مل کر کچھ مخصوص آوازیں نکالتے، جسے انگریزی میں ہمنگ کہتے ہیں۔ ہمنگ کے ساتھ انسٹرومنٹل میوزک کی آواز کی آمیزش کر دی جاتی۔ کبھی بدھ مت کے عبادت خانوں میں بجنے والے گانگ کی پر اسرار آواز کے ساتھ تو کبھی ہندوؤں کے مندر میں بجنے والی ٹلی کے ساتھ۔ کرتان میں انسانوں کی نہ سمجھ آنے والی آوازوں کے ساتھ، موسیقی کے آلات کو بجائے جاتے تھے۔
جب انسانوں اور موسیقی کے آلات کی آوازوں میں، کسی مقام پر جا کرردھم پیدا ہو جائے تو ایک لے جنم لیتی ہے، وہ لے جہاں سے آگے سروں کی ایک لمبی تان بندھ جاتی ہے پھر ایک خوبصورت میوزک ترتیب پا نے لگتا ہے، وہ سب کچھ وقت کے کسی دریا کی طرح معلوم ہو تا ہے، جس میں روشنی کی کرنیں بہتی ہوں، وہ کرنیں جو سورج کی سمت کے ساتھ اپنا رخ بدل لیتی ہیں۔
کرتان کی محفل میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا تھا، اس میں شامل انسان دنیا سے رخ موڑ کر، اپنی ذات میں گم ہو جا تا، قریب پڑے گانگ کے بجنے کی آواز بھی سنائی دینا بند ہو جاتی۔ انسان روشنی کے گھوڑے پر سوار ہو کر، ایک ایسی پراسرار دنیا میں گم ہو جا تا جو اس نے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو، ایک حیرت انگیز منظر، ایک جنت نما ماحول، جس کے سب طلبگار ہوتے ہیں۔ کرتان اور ساؤنڈ باتھ کی محفلوں میں شامل لوگ کچھ ایسے ہی مجرد تجربات سے گزرتے۔ شاید اسی لیے وہ کرتان والی اپنے کمیونٹی ممبرز کی آنکھ کا تارا تھی۔
کرتان والی عورت جو کہ نسلاً آئرش گوری اور امریکن تھی وہ سنسکرت زبان میں ہندوؤں کے دیوتاؤں کے بھجن گاتی۔ اس نے انڈیا سے ایک ہرمونیا بھی منگوا یا، طبلے بھی اور کچھ افریقی ڈھول بھی منگوا رکھے تھے، جنہیں ڈی جنبے کہتے ہیں، ڈی جنبے شاید دنیا کا سب سے قدیم ڈھول ہے جس کا ایک سرا کھلا رکھا جا تا ہے اور وہ لکڑی کے بڑے تنے سے تیار کیا جاتا ہے، جس کا ایک سرا زیادہ چوڑا ہو تا ہے، اس کی لمبائی دو سے تین فٹ تک ہوتی ہے اور ڈھول کا چوڑا سرا چمڑے سے بند کر دیا جاتا ہے جس کی گولائی چھ سے بارہ انچ رکھی جاتی یا کبھی اس سے بھی زیادہ۔
کرتان والی نے باجا بجانا خود سیکھ لیا اور افریقی ڈھول بجانے کے لیے اس نے ڈھولچی رکھا ہوا تھا جو کہ اس کا ایکس بوائے فرینڈ تھا۔ وہ بہت خوبیوں کا مالک اور مور نسل کا افریقی تھا۔ وہ اپنے آپ کو مور کہلوانا پسند کر تا۔ وہ نسلی تفاخر کا شکار تھا مگر اس نے اپنی سابقہ محبوبہ کی خاطر ڈھول بجانا سیکھ لیا اور یوں وہ بھی اس گھرانے کا اہم فرد سمجھا جاتا۔ وہ اپنے آپ کو اعلی نسل کا افریقی سمجھتا تھا، افریقہ کی قدیم روایات میں عورت کا ڈھول بجانا ممنوع تھا، کرتان والی گوری بھی بڑی روایت پسند تھی اور اس نے اپنے افریقی ڈھول بجانے کے لیے، ایک افریقی ڈھولچی کا ہی انتخاب کیا۔
وہ ڈھولچی، ٹو ان ون تھا، گوری کے ساز اٹھا نے والا بھی تھا اور انہیں بجانے والا بھی۔ موسیقی کا سامان، ادھر ادھر لے جانے میں وہ کرتان والی کا مدد گار تھا، ڈانسر مرد کبھی کبھی کرتان کی محفل میں شمولیت کرتا مگر گھر میں کرتان کی ریاضت کے دوران وہ باقاعدہ اپنے ساتھیوں کی محفل میں شامل ہوتا۔ مکان کا کرایہ اور بلوں کی ادائیگی، تینوں مکینوں میں برابر تقسیم ہوتی، ان تینوں نے اپنا اپنا کھانا کھانے کی اشیاء گھر کی مشترکہ فریج میں رکھی ہوتیں۔ جب گھر کے کھانے کا موڈ بنتا تو وہ امریکن سسٹم کے تحت پیسے ملا کر ایک ضیافت کا اہتمام بھی کرتے۔ ان کی ضیافت بھی کیا ضیافت ہوتی جسے ہم بقول رومی ؒ Banquet of Wisdom کہہ سکتے ہیں۔
سب نے اپنے کپڑے دھونے کے لیے الگ الگ واشنگ پاؤڈر رکھا ہوا ہوتا اور کبھی کبھی ایک دوسرے کا واشنگ پاؤڈر بھی استعمال کر لیتے، اکثر اجازت سے مگر کبھی کبھی ایسے ہی۔ گھر کے تینوں رہائشیوں کی بنیادی ضرورتیں پوری ہو رہی تھیں، وہ سرسبز اور شاداب وادی میں، درختوں کے جھنڈ کے درمیان واقع ایک پرانے مغربی طرز کے گھر میں بہت خوش تھے۔ ڈھول بجانے والا مرد بھی عام دنوں میں چھوٹی موٹی مزدوری کر تا، اسے کھانے سے زیادہ اور اپنے گانجے کی فکر ہوتی تھی۔ وہ دن کو محنت مزدوری کے بعد ، شام کو بیئر کے ساتھ ڈبل سگریٹ ٌ پینے کا بھی عادی تھا۔ اس کے حصے کے مکان کا کرایہ بھی، کرتان والی ہی ادا کر دیتی تھی کیونکہ وہ اعلی نسل کا افریقی، گوری کی غیر رجسڑڈ میوزک کمپنی میں کام جو کرتا تھا، کبھی بطور ڈھولچی اور کبھی ہیلپر کے طور پر۔
یوں یہ گھرانا اپنی مادی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی طرح جذبات کے بندھن میں بھی بندھا ہوا تھا۔ انہیں، ان کی معاشی اور مادی ضرورتوں نے تب تک اکٹھا رکھا جب تک ان کے اندر خواہشات کے آسیب نے سر اٹھا شروع نہیں کر دیا۔ اچانک ڈانسر کو اپنی پرائیویسی بہتر بنانے کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ اسے ڈانس کلاسز لینے کے ساتھ ساتھ فل ٹائم جاب بھی مل گئی تھی۔ آمدن بڑھی تو وہ اپنا الگ اپارٹمنٹ لے کر رہنے لگا۔ دوستوں کے مشترکہ مکان میں اس کی ہم جنس روحیں آنا پسند نہیں کرتی تھیں کیونکہ وہاں انہیں درکار پارٹی کا ماحول میسر نہیں تھا۔
مورو النسل افریقی بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس کر نے لگا لہذا اس نے ایک ادھیڑ عمر لیکن امیر عورت کو اپنی محبت کے جال پھانس لیا۔ وہ جلد ہی اس کے ساتھ شفٹ ہونے کی باتیں کرنے لگا۔ اب اسے کرتان والی کی طرف سے ملنے والی مدد کی ضرورت بھی باقی نہیں رہی تھی کیونکہ امیر عورت کی صورت میں، اس کے ہاتھ ایک عدد اے ٹی ایم مشین لگ چکی تھی۔ وہ اسی کے بڑے بنگلے میں رہتا، مفت کی شراب پیتا، اسے کوئی کام کاج کرنے کی ضرورت بھی نہ تھی۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنے ڈھولچی والے فرائض بھی ادا کرنے بند کر دیے جس کرتان کی محفلوں کی رونق بھی پھیکی پڑ گئی اور اس طرح بے چاری کرتان والی بھی اکیلی رہ گئی۔
کرتان والی کو کیا معلوم تھا کہ اس کی دوستی کے رشتے، ضرورتوں کے کچے دھاگوں سے بندھے ہوئے تھے۔ وہ اپنے دوستوں کو اپنی فیملی سمجھنے لگی تھی۔ شاید وہ نہیں جانتی تھی کہ مادہ پرستی کے اس دور میں خون کے رشتوں میں بھی مادیت کا زہر گھلنے لگا ہے، دوستوں سے اس کا تعلق تو محض ضرورتوں کے رشتے تھے۔ یہ کلجگ ہے، یہاں لوگ عملیت پسندی کے نام پر کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔ کرتان والی نے بھی اپنے دوستوں کا طرز عمل اختیار کیا۔ اس نے بھی ایک ایسے لائف پارٹنر کی تلاش شروع کر دی جس کے پاس بڑا گھر ہو، جو اس کے ناز نخرے برداشت کر سکے اور اسے ویٹریس والا کام بھی نہ کرنا پڑے۔ یوں یہ ضرورتوں کے رشتے میں بندھا گھرانا بکھر گیا۔
جب انسانی ضرورتیں خواہشات کے چنگل میں گرفتار ہو جائیں۔ انسان اپنی پسند اور نا پسند کا اسیر ہو جائے۔ چھوٹا مکان ایک بڑے بنگلے کی تمنا بن کر اچھلے۔ پیٹ کا پجاری جب سادہ روٹی سے بوفے کی ٹیبل پر سجائے گئے انواع و اقسام کے کھانوں کو پسند کرنے لگے، تو سمجھو انسانی تعلق ٹوٹنے کا وقت آ گیا ہے۔ جب بھی دیکھو، اگر کسی کو کوئی کھانا پسند نہیں آ رہا تو سمجھ جائیے کہ اب کھانا اس کی ضرورت نہیں رہا، بھوکا انسان بھلا کھانے میں حلال و حرام یا پسند و ناپسند کا خیال کب رکھتا ہے، اسی طرح خواہشات کی غلامی انسان کے پہناوے کو دکھاوا بنا دیتی ہے، پھر کپڑا تن ڈھانپنے کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کی نظر کو دھوکا دینے کے لیے چمکتا ہے۔

