دیدہ ہائے اشک فشاں :معاشرے کی مسکراتی اداسیاں

اسلام نے خاتون کو علم کے حصول میں اس قدر منہمک اور اس سے نتائج حاصل کرنے میں اس حد تک با حوصلہ اور بے باک بنا دیا کہ خلیفہ ثانی، سیدنا عمر (رض) جیسے حکمراں عادل کے سامنے ایک بوڑھی خاتون اٹھ کر خلیفہ کے اس فیصلے پر اعتراض کرتی ہیں کہ انہوں نے کس بنیاد پر عورتوں کا حق مہر متعین (فکس) کر دیا، جبکہ قرآن کی رو سے مرد یہ حق ڈھیر (قنطارا) کی صورت میں بھی ادا کر سکتا ہے! حکمران کے فیصلے میں بلاواسطہ اور براہ راست مداخلت نہ صرف یہ کہ برداشت کی گئی بلکہ خلیفہ نے خاتون کے اعتراض کو حق بجانب پاکر اپنے فیصلے کو موقعے پر ہی تبدیل کیا۔ بڑی اماں انہی خواتین کی نمائندگی کر رہی تھیں جو قبل ازیں معاشرے میں اپنی کوئی منفرد حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ خاتون نے یہ فہم و فراست اور حکمت کہاں سے حاصل کی تھی؟ ظاہر ہے کہ یہ اسی علم و حکمت کا کارنامہ تھا جس کا درس شب و روز مسجد نبوی میں دیا جاتا تھا اور جس کی تحصیل میں مرد و زن بلا امتیاز مصروف رہتے تھے۔ رسالت مآب (ص) کی چہارگانہ ذمہ داری میں یہ بات شامل تھی کہ آپ (ص) لوگوں کے سامنے تلاوت آیات کر کے ان کے تزکیہ کا اہتمام فرمائیں اور ساتھ ساتھ ان کو احکام کتاب سے روشناس کریں اور حکمت کی تجلی سے ان کو منور کریں!

تحصیل و طلب علم کو ہر مسلم پر فرض قرار دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس میں بھی مرد و زن کی کوئی تخصیص یا تفریق روا نہیں رکھی گئی۔ حجہ الوداع کے موقعے پر رسول اللہ (ﷺ) نے مردوں کو خبردار کیا کہ خواتین نہ صرف یہ کہ اپنا ایک انفرادی وجود رکھتی ہیں بلکہ یہ معاشرے کا ایک تکمیلی عنصر ہیں جس کی تحسین اور توقیر کیے بغیر معاشرے کی صلاح و فلاح ناممکن ہے۔ معاشرے کے اس نصف حصے کی تہذیب نفس کے ساتھ ساتھ اس کو مرکزی دھارے (مین اسٹریم) میں شامل کرنے کے لئے نبی (ص) نے اعلان فرمایا کہ ”لا تمنعوا اماء اللہ مساجد اللہ، یعنی اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو (صحیح مسلم) ۔“

ظاہر ہے کہ مسجدیں اسلامی معاشرے کے لئے روز اول سے توعیظ و تذکیر کا ذریعہ رہی ہیں۔ ساتھ ساتھ علم و آگہی کی تجلی بھی انہی کے میناروں سے پھوٹتی رہی ہے۔ لیکن جب مختلف مسلم معاشروں کے نصف حصے کو، وجہ جو بھی ہو، ان مراکز نور سے دور رکھا گیا تو خواتین کے اندر دین کی تئیں ایک قسم کی سرد مہری نے جنم لیا۔ اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ خواتین دین کے علم سے بے بہرہ رہیں۔ یہ بات بھی ناقابل تصور ہے کہ خواتین دین سے، جیسا کہ وہ اس کو سمجھتی تھیں، سے لا تعلق رہیں۔ خواتین کا معتد بہ حصہ ہر زمانے میں بڑے انہماک کے ساتھ علم دین سیکھتا رہا اور اس پر عمل پیرا رہا لیکن یہ بات صحیح ہے کہ خواتین نے خود کو دین کا بالواسطہ ہی مخاطب سمجھا یا تصور کیا۔

اصل مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ جس طرح دین نے بحیثیت ضابطۂ حیات ہر انسان کو انفرادی طور پر مکلف اور مسؤل قرار دے کر اپنے اپنے دائرہ اختیار میں فیصلہ سازی کا حق دیا تھا، اس پر کہیں دیدہ دانستہ اور کہیں غیر شعوری طور پر شب خون مارا گیا۔ منبر و محراب جیسے مقدس اور فیصلہ کن اداروں سے ”لا تزر وازرت وزرا اخری یعنی کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا“ کی تلاوت بھی کی گئی اور تشریح بھی، لیکن خاتون کو یہ بات باور کرائی گئی کہ وہ خاندان کے کئی لوگوں کے خسران کا باعث بن سکتی ہے!

قرآن کے حکم ”غض بصر“ ، جو مرد اور خاتون دونوں کو برابر مخاطب کرتا ہے، کو کچھ اس طرح پیش کیا گیا کہ جیسے خاتون کی جبلت اور فطرت فقط ”فجور“ کے خمیر سے مرکب ہے اور اس میں ”تقوی“ کا کوئی عنصر شامل ہی نہیں! اسی طرح ”و لیس للانسان الا ما سعی یعنی ہر انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کے لئے وہ سعی کرے گا“ کی تشریح اور توضیح میں بھی خاتون کو حاشیے پر رکھا گیا۔

قرآن تقوی اور حیا کے اسباق سے پر ہے۔ لیکن ان تعلیمات کے علی الرغم قرآن واضح کرتا ہے کہ ”انسان کو ضعیف پیدا کیا گیا ہے، و خلق الانسان ضعیفا!“ تاہم ہمارے معاشرے میں اس ضعف کو خاتون کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔ کہیں پر کھلے عام تو کہیں دبی زبان میں خاتون کو ہر برائی اور گرتی اخلاقی قدروں کی پامالی کے لئے مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ ایسے معاملات میں شاذ و نادر ہی کوئی صاحب حوصلہ شخص اس آفاقی اصول کو دہرانا گوارا کرتا ہے کہ ”تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی یعنی اٹ ٹیکس ٹو ٹو ٹینگو!“ اکثر اوقات ایسے معاملات میں کشمیری صاحب زبان کہتے ہیں کہ ”رود پہ نے ووتھہ نہ رب یعنی دال میں ضرور کچھ کالا ہے!“ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کہنے والے کی طرز ادا ایسی ہوتی ہے کہ ”دال کی ہانڈی“ پر مرد کا قبضہ ہوتا ہے جبکہ ”کالک“ بکھیرنے والی بیچاری خاتون!

ہمارے معاشرتی رویوں کے بالکل برعکس قرآن خاتون کو فیصلہ سازی کا ایک مہذب دائرہ عطا کرتا ہے۔ غور کریں کہ وہ دو خواتین جن میں سے ایک موسی (ع) کے عقد میں آتی ہیں، کس طرح اپنے بزرگ والد کے لئے ریوڑ پالتی ہیں۔ جب موسی (ع) ان کی مدد کرتے ہیں تو آنجناب (ع) کو بے یار و مددگار پاکر وہ کامل حیا داری کے ساتھ (واضح رہے کہ قرآن نے ان خواتین کے حیا کی ایک انوکھی تصویر کھینچی ہے! ) اپنے گھر لے جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک خاتون جب موسی (ع) کی قوت اور امانت (قوی امین) کی تعریف کرتے ہوئے اپنے والد سے انہیں ”خدمت گار“ کے طور پر رکھنے کی سفارش کرتی ہیں، تو والد صاحب اس سفارش کو خاندانی، شرعی اور قانونی شکل دیتے ہوئے اپنی ایک بیٹی کا نکاح آنجناب (ع) سے کرتے ہیں۔ متعینہ مدت کی تکمیل پر یہی خاتون موسی (ع) کے ساتھ ہوتی ہیں جب آپ (ع) کو تجلئی رب کا مشاہدہ ہوتا ہے!

ہمارے معاشرتی رویے میں یہ بات بھی رچ بس گئی ہے کہ خاتون بحیثیت ایک سماجی کارکن اپنے دفتر میں غیر محفوظ ہوتی ہے۔ تضاد کی انتہاء تب ہوتی ہے جب ہم اپنی بچی کی پڑھائی کے لئے ایک مدرسہ اور اپنی مریض والدہ یا ہمشیرہ کے لئے ایک لیڈی ڈاکٹر کو ترجیح دینا پسند کرتے ہیں۔ اس تضاد کی تصحیح کے لئے ہم شاید ہی کبھی غور کرنا پسند کریں گے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) نبی (ﷺ) کے انتقال کے بعد کس طرح نصف صدی تک ہزاروں صحابہ (رض) کی تعلیم و تدریس کا باعث بنیں۔ دین اور نظام عدل کے بارے میں نہایت سخت نکتہ نظر رکھنے والے خلیفۂ دوم، سیدنا عمر (رض) نے کس طرح ایک لائق فائق خاتون، شفاء بنت عبداللہ کو انتظامی معاملات چلانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

اسی حوصلہ افزائی اور تحسین و آفرین کا نتیجہ تھا کہ عالم اسلام نے ہزاروں کی تعداد میں محدثات کو پروان چڑھایا جن کے تذکروں سے ہزاروں صفات پر مشتمل دائرت المعارف بھرے پڑے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ہمیں قرآنی مفسرات کی بھی ایک طویل فہرست دستیاب ہے جنہوں نے قرآنی علوم کی تجلیات سے معاشرے کی ظلمات کو دور کیا۔ داعیات کے ساتھ ساتھ خاتون سماجی کارکنوں کی ایک اچھی خاصی تعداد بھی سامنے آئی جنہوں نے دین کے فروغ کے ساتھ ساتھ معاشرتی فلاح کے کار ہائے نمایاں انجام دیے۔

لیکن کشمیری معاشرے میں خواتین کا ایک طبقہ موجود ہے جو قدیم و جدید یا روح و عقل یا بالفاظ دیگر دین و دنیا کا ایک ایسا امتزاج پیش کرتا ہے جو معاشرے کی تہذیب و رعنائی کے لئے ایک بیش قیمت سرمایہ ہے۔ اس طبقے کو تجلئی ذات باری سے بھی شغف ہے اور اسے دنیا کی مہذب رنگینی بھی محبوب ہے! تبصرہ اور تجزیہ نگار ان کے اعمال کی نفاست سے اتنا متاثر ہوتا ہے کہ ان کے لئے رب تعالٰی کے الطاف و اکرام کے نزول کے لئے سحر گاہی کر سکتا ہے۔

خیر! اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ تاہم ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر اس طبقے کی قدر دانی سے قاصر ہے۔ اس طبقے کی اکثریت اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اعلی عہدوں پر بھی فائز ہے۔ یہ خواتین بحیثیت ٹیچر، ڈاکٹر، لیکچرر، اسسٹنٹ پروفیسر، ڈی۔ ایف۔ او۔ اور اسی طرح کے اعلی مناصب کے ساتھ ساتھ انتظامی عہدوں پر بھی براجمان ہیں۔ گھر اور دفتر دونوں جگہوں پر یہ خواتین اپنے فرائض بحسن و خوبی انجام دیتی ہیں۔ ان کو اپنے گھر سے انس تو ہے ہی لیکن انہیں اپنا وہ منصب بھی عزیز ہے جس کی وجہ سے ان کی انفرادی شناخت محفوظ ہے۔ تاہم ان میں سے کئی ایک نے اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اپنے آپ کو خاندان کے لئے وقف کیا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر یہ اپنے معاشرے سے پیار کرتی ہیں جس کے لئے یہ اپنے ہر کام میں نفاست پسند واقع ہوئی ہیں۔

لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ خواتین جو اپنے معاشرے کی خاموش تنظیم و تہذیب کا کام کرتی ہیں، ان کے لئے کسی کے پاس تحسین کے چند الفاظ بھی نہیں ہوتے۔ سب سے پہلے ان کے کردار (رول) کی بالکل نفی یعنی تردید کی جاتی ہے۔ اگر کسی خاص وقت اور مقام پر ان کے کام کا ذکر بھی کیا جائے تو وہاں مردوں کے کردار کے حاشیے کے طور پر ذکر کر کے اس کی تخفیف کی جاتی ہے۔ اکثر اوقات ان کی تنقیص، تعییب اور تضحیک ہوتی رہتی ہے۔ اور تو اور ان میں سے جن خواتین نے صرف گھر کو سنبھالا ہوتا ہے، چونکہ وہ مرد کی ”غیرت“ کو پیسے سے سہارا نہیں دے پاتیں، وہ تجہیل اور تذلیل کا بھی شکار ہوتی رہتی ہیں! پھر بھی اللہ کی یہ بندیاں اپنے مرد حضرات کی تعریف کے ساتھ ساتھ تکبیر رب بھی کرتی رہتی ہیں۔

”زخم کی طرح ہنسنے والی یہ خواتین درد کی حالت کا اظہار نہیں کرتیں!“ ان کی غیرت ان کو کو اس چیز سے باز رکھتی ہے کہ یہ اپنے ”دیدہ ہائے اشک فشاں“ کسی کو دکھائیں۔ یہ دراصل معاشرے کی اداسیوں کو اپنی مصنوعی مسکراہٹوں سے چھپاتی ہیں۔ ان میں سے کسی کا شوہر خلیج کی کسی ریاست میں کام کرنے گیا۔ ساس نے حکم صادر فرمایا کہ بیٹا بہو کو ساتھ لے گا تو لوگ کیا کہیں گے۔ بہو کئی سال تک سسرال والوں کی بلا اجرت ”مزدوری“ کرتی رہی۔

چند سال بعد میاں نے خلیج میں ہی دوسری شادی رچائی اور اسے طلاق دیدی۔ خدا کی بندی اب اپنی بیوہ والدہ کی خدمت کر رہی ہے اور بیٹے کو پال رہی ہے۔ ایک اور خاتون کو شوہر نے تین بچوں کی پیدائش کے بعد طلاق دیدی۔ بچوں کو میکے میں پالا۔ بچے بڑے ہوئے۔ میکے والوں کے تیور بھی بدل گئے۔ بارہ سال بعد دوسرا نکاح ایک شخص سے کیا جس کی اہلیہ تازہ ہی فوت ہوئی تھی۔ دوسرے شوہر کے اپنے بچوں نے اپنے والد سے علیحدگی اختیار کی۔

اپنے بچوں سے جدا ہوئی ہی تھی، شوہر کے بچوں کی علیحدگی کا الزام بھی اسے سہنا پڑ رہا ہے۔ ایک اور بی بی کا شوہر پندرہ سال سے غیر ملک میں خاندان کا جی۔ ڈی۔ پی۔ مستحکم کرنے میں مصروف ہے اور اہلیہ کو اپنے مشترکہ خاندان کا ملازم بنا کے رکھ دیا ہے۔ ایک اور دوشیزہ کے شوہر کی وفات ہو گئی۔ والد صاحب نے مکان کا انتظام کیا۔ تین بچوں کی پرورش کر رہی ہے، جبکہ سسرال والے انتظار کر رہے ہیں کہ بچے جوں ہی ماں کے پروں سے باہر آئیں گے وہ چیل کی طرح جھپٹ کر ان کو دبوچ لیں گے!

ایک اور انتظامی منصب پر کام کرنے والی خاتون کو شوہر نے دو بچیوں کے ساتھ چھوڑا۔ یہ خاتون سرکاری ادارے کو بھی چلا رہی ہے اور بچیوں کی اعلی تعلیم کا بھی انتظام کر رہی ہے۔

ایسی خدا کی محبوب بندیاں بھی ہیں جو ہر صورت اپنے رشتہ ازدواج کو انہی نگاہوں سے دیکھتی ہیں جو تقدس اس کو خدائے بزرگ و تعالٰی نے عطا کیا ہے۔ اس تقدس کو برقرار رکھنے کے لئے یہ خواتین ہر قسم کا ایثار کرتی نظر آتی ہیں۔ اکیسویں صدی کے ڈیجیٹل دور میں بھی یہ خواتین اپنے شوہروں کے سامنے ان کو ”حاضر و ناظر“ بنا کر اپنے والدین سے فون پر بات کرتی ہیں۔ اعلی تعلیم یافتہ اور اعلی صلاحیتوں کی مالک یہ خواتین سسرال کے دیہاتی بلکہ ”اعرابی“ ماحول کو سنوارنے کا ملکہ بھی رکھتیں ہیں اور جذبہ بھی۔

لیکن ان کے میاں اپنے خاندانوں کی ”جوں کی توں حیثیت“ (اسٹیٹس کیو) میں کسی تبدیلی کے متمنی نہیں ہیں۔ کچھ خواتین نے تہیہ کیا ہوا ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو خاندان پر وقف کر کے اپنی دنیا کو جنت کا نمونہ بنائیں گی۔ گھر کی چار دیواری کے اندر وہ پھل پھول بھی اگاتی ہیں اور کیاریوں میں سبزیاں بھی اگاتی ہیں۔ یہ خواتین ساتھ ساتھ بچوں کی تعلیم و تربیت کا بھی خوب خیال رکھتی ہیں۔ کچن گارڈن سجانے والی ان خواتین کو کاش ”کچن کیبنیٹ“ یعنی گھر کی فیصلہ سازی میں بھی شریک کیا جاتا۔ لیکن افسوس! ان خواتین کو گھریلو جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ نفسیاتی تشدد کا روز شکار کیا جاتا ہے!

ہمارے معاشرے کی ان اعلی تعلیم یافتہ خواتین کی روداد غم سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام خواتین کے ساتھ کیا کچھ روا رکھا جاتا ہوگا۔ اس صورت حال کو بدلنے کے لئے نہ ہی ”وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ“ کی رٹ کافی ہو سکتی ہے اور نہ ہی حقوق نسواں کی محفلوں میں ایسی ترکیبات کی تکرار سے ہی اس کا مداوا ہو سکتا ہے جن میں ہم ”عورت بحیثیت ماں، عورت بحیثیت بیٹی، عورت بحیثیت بہن“ وغیرہ جیسے کلمات کا ورد کرتے نظر آتے ہیں۔

اس لئے ضروری ہے کہ خالق کائنات کی تخلیق پر اعتماد کرتے ہوئے خاتون کے لئے اسلام کی اصلی تعلیم گاہ یعنی مسجد کے در وا کیے جائیں تاکہ وہ اپنی ایک منفرد دنیا یعنی خاندان میں فیصلہ سازی کر کے اس کو جنت نما بنا سکے۔ یہی خاتون مریم (ع) کی طرح معبد کی نذر ہو کر بھی مسیح (ع) کی پیدائش کا باعث بن سکے گی۔ ایسے ہی ماں بیٹے پورے عالم کے لئے ایک نشانی بنکر عالم کفر و الحاد کو توحید کی تجلی سے چمکانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایسی ہی خواتین آسیہ کی طرح فرعون کے پنجہ استبداد میں ہو کر بھی نہ صرف یہ کہ موسی (ع) کی رضاعت کرتی ہیں بلکہ محبوب خدا بن کر خدا کے ساتھ جنت کا سودا بھی کرتی ہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words