خواب نگر کے پرائم منسٹر کی لانڈری

جمہوری اقتدار کا مطلب عوام کی حکومت ہونا تصور کیا جاتا ہے اور اس سلسلہ اقتداریہ میں یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ عوام اپنے ووٹ کے حق سے ایک فرد کو منتخب کرتے ہیں اور وہ فرد ایوان اقتدار میں ان کی آواز بنتا ہے اور ان کے حقوق کے لیے کام کرتا ہے۔ اسی طرح کا ایک ملک دور پار پہاڑوں اور جنگلوں سے پرے وجود میں آیا جس کا نام اب ہمارے ذہن سے اتر چکا ہے لیکن ہم اس کو خواب نگر کا نام دے سکتے ہیں، کیوں کہ اس ملک کے عوام خواب بہت دکھائے جاتے ہیں۔

خواب نگر کے بنانے والے نے تو ملک بنایا تھا عوام، خواص، مسلم، غیر مسلم، اپنے اور پرائے سب کے لیے مگر ہوا یوں کے بعد میں آنے وا لے خواص نے خواب نگر کو اپنی ذاتی ریاست ہی سمجھا اور کچھ ایسے اصول وضع کیے کہ جن کے باعث رعایا کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا، خواص اور عوام۔ ساتھ ہی ان اصولوں کو لاگو کرتے ہوئے خواص و عوام کو کچھ حقوق و فرائض بھی بتائے گئے

چونکہ ظاہری طور پر خواب نگر عوام کے لیے بنا تھا تو سب سے پہلے عوام کے حقوق و فرائض کا ذکر کرتے ہیں۔

حقوق۔ ابھی تک ان کی تلاش جاری ہے، جیسے ہی خواب نگر سے ہمیں کوئی خبر ملی ہم آپ کے گوش فرما دیں گے۔

فرائض۔ خواب نگر کی عوام کے ذمے جو فرائض آئے ان میں محنت کرنا (جو وہاں کی عوام نے کبھی سوچا ہی نہیں ) ، خواص کو کما کر کھلانا اور ان کی ہر حال میں پیروی کرنا، مذہبی خواص (جن کے خدا کے ساتھ بقول ان کے، ڈائریکٹ تعلقات ہیں ) کی جھولیاں اور نذرانے کے ڈبے اپنے خون پسینے کی (حلال و حرام) کمائی سے بھرنا، ان مذہبی خواص کے انتہائی ناکارہ اور نا اہل بچوں کے ہاتھوں کو چومنا اور ان کو مستقبل کے پیر تصور کرتے ہوئے ان کی جوتیاں سیدھی کرنا (اور ان سے جوتیاں کھانا) ۔

ٹیکس دینا (اس اصول کو آج تک خواب نگر والوں نے سیریس نہیں لیا ) ۔ خوابوں میں مگن رہنا، اپنے پسندیدہ شخصیات کو اپنا مائی باپ ماننا اور ان کے لیے جان دینا اور جان لینا اور ہر آنے والی حکومت سے سننا کہ خزانہ خالی ہے اور ملک بہت ہی خطرے میں ہے عوام کو قربانی دینا ہو گی وغیرہ، یہ لسٹ بہت لمبی ہے، چلیں باقی پھر سہی۔

اب آتے ہیں خواص کی طرف، ان کے حقوق و فرائض بھی سن لیں۔

حقوق۔ خواب نگر کے خواص کے حقوق کی لسٹ بہت لمبی ہے، آسانی اور وقت کی بچت کے لیے آپ عوام کے فرائض کی لسٹ کو خواص کے حقوق کی لسٹ سمجھ سکتے ہیں۔

فرائض۔ چونکہ خواص میں سب سے پہلے خواب نگر کے وزیر اعظم آتے ہیں اس لیے اس ملک کے وزیر اعظم کے فرائض سب سے پہلے ڈسکس کرتے ہیں۔ خواب نگر میں وزیر اعظم بننے کے لیے اس شخص کا انتخاب کیا جاتا ہے جس کی اپنی لانڈری ہو۔ ارے زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں یہ لانڈری کپڑے صاف کرنے کے لیے نہیں بلکہ دوسری پارٹیوں کے ناکارہ، کرپٹ اور چور (بقول ہر آنے والے وزیر اعظم، جو پہلے اپوزیشن لیڈر ہوا کرتا ہے ) سیاستدان کو اپنی لانڈری میں پاک و صاف کرنے لیے ہوتی ہے۔

جیسے ہی الیکشن ہو جاتے ہیں تو خواب نگر میں دیکھا جاتا ہے کہ کتنے بندے کم ہیں اور ساتھ ہی اس لانڈری کو کھول دیا جاتا ہے، دوسری پارٹیوں سے بندے لائے جاتے ہیں اور نامزد وزیراعظم خود دوسری پارٹی سے آنے والے ہر بندے کو سرف ایکسل سے نہلا دھلا کر صاف کر دیتا ہے، ویسے داغ تو اچھے ہوتے ہیں اس لیے تھوڑے بہت داغ باقی رہنے دیے جاتے ہیں تاکہ مستقبل میں دوبارہ دھلائی کی ضرورت باقی رہے۔ باقی خواص کے فرائض درجہ بندی کے حساب سے متعین کیے جاتے ہیں، اگر کوئی خاص شخصیت کوئی بہت بڑی کرپشن کر دے یا کوئی اور بلنڈر کرے تو عوامی دباو (اگر کوئی ہو تو، یا سمجھا جاتا ہو تو) کی صورت میں میوزک اینڈ چئیر گیم کا انعقاد کرنا بھی خواب نگر کے وزیر اعظم کے فرائض میں شامل ہے تاکہ وہ کرپٹ شخصیت میوزک سنتے ہوئے کسی اور چئیر پر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جائے۔ اس کے علاوہ خواص کے فرائض ابھی تک ہم تک نہیں پہنچے جیسے ہی کوئی کھوج لگی آپ کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words