گردش ایام
زندگی خدا کا ایک معجزہ ہے جس کے حقائق روز اول سے تاحال دنیا میں موجود ہیں۔ اس عالمگیر سچائی سے واقف ہونے کے لیے خیالات کی مجسمہ سازی سے سوچ و بچار کا چراغ جلا کر اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے اور ان تلخ حقائق کا تبادلہ خیال کیا گیا ہے، جو زندگی سے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
آسمان و زمین کی وسعتوں میں ایک چیز حیرتوں کے نور سے منور ہے، جس کا سچا سندر اور کھرا نام زندگی ہے۔
جو آفاقی صداقت کی بدولت آج تک زندہ ہے اور جب تک دنیا قائم ہے یہ اپنی تاریخ اس وقت دہراتی رہے گی اور جب دنیا کا شیرازہ بکھر جائے گا تو یہ اپنا رخت سفر باندھ کر آسمان پر کوچ کر جائے گی۔
اگر ہم انسانی زندگی کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو فرزندیت کے پہلے حقدار آدم اور حوا ٹھہرے، جن کا نام تاریخ کے اوراق میں انسانیت کے ساتھ منسوب ہے۔ بلاشبہ زندگی خدا کا ایک کرشمہ ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا نے اس میں دم کیسے ڈالا؟ شاید اس حقیقت کا جواب ہمارے پاس نہ ہو۔ کیونکہ ہم سب اس کے ہاتھ کی کاریگری ہیں، اس نے ہمیں اپنی صورت پر بنایا ہے، اس لئے ہماری سوچ اس حد تک نہیں جا سکتی اور نہ ہی رہتی دنیا تک جاسکے گی۔ اگر چلی گئی تو اس کی خدائی کا تصور ختم ہو جائے گا۔
کیونکہ آسمان و زمین کی وسعتوں میں ایک ایسی بزرگ و برتر ہستی کا تصور موجود ہے، جس کے ہاتھ میں کائنات کا نظام موجود ہے۔ جس کے اثبات اس بات میں پوشیدہ ہیں کے دنیا کی ہر چیز اور ہر متنفس اپنے اپنے اوقات پر اپنا فرض نبھا رہا ہے ان حقائق کو ہم ہر روز اپنی زندگی میں دیکھتے ہیں۔
وقت خدا کے ہاتھ کی کاریگری ہے، جس کا راز دنوں مہینوں اور صدیوں میں پوشیدہ ہے۔ وقت گزرتے پتہ ہی نہیں چلتا زندگی ایک خیال کی طرح گزر جاتی ہے۔ البتہ بیتے دن خیالات کے سمندر میں قطرہ قطرہ بن کر ٹپکتے رہتے ہیں۔ کبھی ان کا چڑھاو شور کی طرح اور کبھی اتراو سکوت کی طرح ہوتا ہے۔ یہ گردش ایام کا وہ بہاؤ ہے جو اپنے تصورات میں کرشمات و آثار کی مجسمہ سازی کرتا ہے۔
بلاشبہ آسمان و زمین کی تخلیق کے ساتھ ہی انسان کی تخلیق بھی معرض وجود میں آ گئی تھی۔ البتہ حیرت ہے نسل انسانی کا یہ سلسلہ صدیوں سفر طے کرنے کے باوجود بھی رکا نہیں، تھما نہیں، تھکا نہیں۔ بلکہ یہ نسل در نسل پروان چڑھتا گیا۔ کیونکہ حقیقت انمٹ ہوتی ہے، تعجب ہے خدا نے زندگی کا آغاز ماں کی کوکھ سے شروع کیا اور ماں کے نصیب کو وہ رتبہ بخشا جو دنیا میں کسی اور رشتے کو نہیں بخشا۔
ہماری زندگی بھی عجیب و غریب کرشمات سے بھری ہے، جو اپنے اندر گہرے مکاشفے، بھیدوں کا سمندر، تصورات کے چشمے، رشتوں کی سبیلیں، امید کا چراغ، بہاروں کے پھول، ایمان کی طاقت، محبت کی خوشبو، ملنساری کے روپ، غم کے کانٹے، حالات کے اتار چڑھاؤ، وفا کی حسرتیں، جو فطری رنگوں سے مزین ہو کر زندگی کی جستجو میں ایسے پھول آگا دیتی ہے۔ جن کی خوشبو نتھنوں کے ذریعے روح و قلب کو اس حد تک آسودہ کر دیتی ہے تاکہ زندگی کا چمن ہمیشہ آباد و شاد رہے۔
بعض اوقات زندگی ایسے دن بھی دکھاتی ہے، جہاں انسان کو شکوک و شبہات اس حد تک شرمناک کر دیتے ہیں جہاں انسانیت کی پہچان اور کردار ختم ہو جاتا ہے۔ بے شک انسانیت کردار و عمل کا وہ خوبصورت نام ہے جس سے ساکھ کی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ اگر وقت پر ضمیر کی آواز سن لی جائے تو زندگی کو صحرا بننے سے بچایا جا سکتا ہے۔
البتہ کچھ لوگ اپنی ہٹ دھرمی کے باعث اس قدر ضدی ہوتے ہیں کہ ان کے فیصلے انہیں دربدر کر دیتے ہیں۔ وہ ساری زندگی بھٹکتے رہتے ہیں۔ نہ ان کی آزمائش ختم ہوتی ہیں اور نہ انہیں زندگی کی خوشیاں ملتی ہیں اور نہ منزل کی نشاندہی ہوتی ہے۔
یہ بھی ایک انمول سچائی ہے کہ انسان مٹی سے بنا ہے اور مٹی میں ہی لوٹ جائے گا۔ انسان خواہشات اور تصورات کا جتنا مرضی بادشاہ ہو اسے دولت پر جتنا مرضی ناز ہو
لیکن جب موت تعاقب کر لے تو ہماری ساری شان و شوکت مٹی کے ذروں میں دفن ہو جاتی ہے۔ اس بات پر ضرور سوچ بچار کریں تاکہ ہماری زندگی بدل جائے۔ ایک اختصاریہ جو اپنی ذات کی تسخیر کی دعوت دیتا ہے۔
”عدالت اپنی ذات سے شروع کریں تاکہ دوسروں کے عیب دیکھنے کا موقع نہ ملے“
کاش آج کا انسان اس بات کا قائل ہوتا تو دنیا میں جرائم کی شرح اس قدر زیادہ نہ ہوتی جسے دیکھ کر آج ہم سب ایک دوسرے سے شرمندہ ہیں۔ کاش ہم نے وقت پر اپنے ضمیر کی آواز سن لی ہوتی اور اپنی عدالت کا دروازہ کھولا ہوتا تو نوبت یہاں تک نہ آتی جیسے آج عدالتوں میں لاکھوں کروڑوں لوگ انصاف کے منتظر ہیں۔ لیکن انصاف کا دروازہ کھلتے کھلتے زندگی سلاخوں کے پیچھے گزر جاتی ہے۔
زندگی دکھ سکھ کا خوبصورت بندھن ہے۔ کبھی انسان کو سکھ کا سایہ نصیب ہوتا ہے اور کبھی غم کے بادلوں کی گھٹائیں یوں زندگی اپنی خوشیوں اور غموں کی برسات میں نہاتی ہے۔
چونکہ زندگی فلک سے مجسم ہوئی ہے جس کے قیمتی انعامات عزت، حیات اور دولت ہیں۔ یہ خدا کی خاص منشا ہے کہ وہ اڑنے کے لئے کس کو عزت کے پر دیتا ہے اور کسی کو ذلت و رسوائی کے پر کاٹ دیتا ہے۔
بلاشبہ ان برکات و فضائل کی آمد عرش بریں سے ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کے بند کیے ہوئے دروازے کو کوئی کھول نہیں سکتا اور کھولے ہوئے کو کوئی بند نہیں کر سکتا۔ یہ دنیا ہے یہاں نصیبوں کے کھیل، دولت کے دریا، اور عزت کے پیمانے رائج ہے، لیکن ان سب چیزوں پر ایک چیز حکمرانی کرتی ہے جس کا نام بلای عظیم یعنی دولت ہے۔ جو ہوا کی چران ہے اس کی کوئی سمت نہیں ہے کہ وہ کہاں سے آتی اور کہاں کو چلی جاتی ہے؟ لیکن جس گھر پہ اترتی ہے اسے اڑان کے بال و پر ضرور دے جاتی ہے۔
زندگی کے راز بڑے انوکھے اور دلکش ہیں۔ کبھی یہ محلوں میں آنکھ کھولتی ہے اور کبھی کھلے آسمان کی جھونپڑیوں میں۔ لیکن کسی زمانے میں اس نے اپنی قدر و قیمت کبھی خاک میں ملنے نہیں دی۔ چونکہ یہ ہر امیر غریب کی پہچان کا ذریعہ ہے اور ہر گھرانے کی خوشی کا آئینہ بھی۔ جس گھر میں بھی اترتی ہے اس کی گود ہری ہو جاتی ہے۔ لیکن جب یہ بانجھ ہوتی ہے تو صحراؤں سے ریت اٹھا کر سر پر ڈالتی ہے۔
اگر گردش ایام کا فکری اور فطری تجزیہ کیا جائے تو یہ ایمان امید اور محبت کا دامن پھیلا کر ایسے تصورات کا خاکہ تیار کرتی ہے۔ جہاں حسرتیں مکاشفائی معمہ بن کر دکھائی دیتی ہیں، کچھ کو تو یہ پیدا ہونے کا موقع ہی نہیں دیتی اور زندگی کا حق چھین لیتی ہے اور کچھ سے یہ بچپن میں اپنا حق چھین لیتی ہے، اگر دیکھا جائے تو یہ زیادہ کربناک حالت ہے کیونکہ بچے معصوم اور والدین کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں۔ ان کی جدائی سے سال بہ سال گزرنے کے باوجود بھی زخم نہیں بھرتے خواہ انہیں جتنا مرضی بھرنے کی کوشش کی جائے۔ لیکن جب یہ جوانی کا حق چھین لیتی ہے تو آسمان و زمین بھی آبیدہ ہو جاتے ہیں۔
ویسے انسان بھی کیا چیز ہے جو زندگی پر تحقیق و جستجو کے فن پارے تراشتا ہے۔ لیکن یہ کسی کو اپنا رازداں نہیں بناتی اور نہ کسی کے ساتھ ہمیشہ تک رہنے کا عہد وفا کرتی ہے۔ ہاں یہ خاموش تماشائی بن کر ان سب کاموں کو دیکھتی ہے اور ان مناظر کو اپنے اندر محفوظ کرتی ہے جو انسان کی شخصیت پر اثر انداز ہو کر اس کے اعمال و کردار کا شجرہ تیار کرتے ہیں۔
لیکن آج انسانیت بشریات اور آدمیت شرمندگی کے لباس میں مبتلا ہے۔ کیونکہ دنیا میں کسی نہ کسی جگہ ہنگامہ آرائی، قتل و غارت، رنجشیں، قباحتیں، لڑائی جھگڑے، تہمتیں، الزام تراشیاں، نفرتیں، کدورتیں پھیلی ہوئی ہیں، جنہوں نے روحانیت کو پامال کر رکھا ہے۔
یاد رکھیں!
گناہ آلودہ ہاتھ کبھی بھی کسی کے خیرخواہ نہیں ہوتے کیونکہ انہیں گناہ کی عادت ہوتی ہے اور جو عادت ایک دفعہ پختہ ہو جائے اسے جاتے جاتے عمر بیت جاتی ہے۔ لہذا جس قدر ممکن ہو اپنی زندگی سے ان علتوں کی عمارت کو گرا دیں تاکہ ہمارے راستے صاف اور سیدھے ہوجائیں۔
آج زندگی ہم سے سوال پوچھتی ہے لیکن خود بے سوال ہے۔ کیونکہ نہ اس کا شروع ہے اور نہ آخر بس نسل در نسل ایک بہاؤ ہے جو روز اول سے چلا آ رہا ہے اور جب تک دنیا قائم و دائم ہے یہ اپنا بھرم قائم رکھے گی۔ لیکن حیرت اس وقت زیادہ ہوتی ہے جب یہ ہمارا ساتھ چھوڑ دیتی ہے، اور ہم ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ جاتے ہیں اور ہم روتے، چلاتے، پچھتاتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ واپس نہیں آتی چونکہ یہ ایک مکاشفائی بھید ہے اسے صرف وہی جانتا ہے جس نے اسے بھیجا ہوتا ہے اور اس کا نام رب العالمین ہے۔
آج ذرا اس بات کو ذہن میں رکھ کر سوچیں ہمارے حاصلات و ثمرات کن کے لیے ہیں؟ یقیناً ہمارا جواب نسلوں کی بقاء اور خوشحالی کے لیے ہوگا۔ لیکن اس فکر انگیزی میں بھی وہ آسودگی اور توشہ آخرت کے نمونے نہیں ملتے۔ کیونکہ یہ دھرتی اس بات کی گواہ ہے کہ جہاں ایک نسل تو عیش و عشرت دیکھتی ہے، جبکہ دوسری غربت کی خاک چاٹنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ ہمارے تعلقات و روابط بھی وقتی آس و امید کی جھونپڑی بناتے ہیں جن کا سایہ اور ساتھ بہت جلد ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔
لیکن جو شخص خوف خدا میں زندگی گزارتا اور دوسروں کے کام آتا ہے اور خدا کی مخلوق سے پیار کرتا ہے، رشتوں کی بنیادیں کھودتا ہے، اپنی منزل کا تعین کرتا ہے، خوش و خرم رہتا ہے، اپنی خوشیاں دوسروں پر قربان کرتا ہے، اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہے، احساس کمتری اور احساس برتری کے درمیان ایک نیا راستہ بناتا ہے جو بابرکت ہوتا ہے۔
آئی آج تھوڑا سا وقت نکال کر اس بات پر غور کریں کہ میں اپنی زندگی کس طرح گزار رہا ہوں؟ میرے باٹ کا ترازو کیسا ہے؟ میرے کس باٹ کا پلڑا بھاری ہے؟ کہیں میری آنکھ دوسروں کے تنکوں کو تو نہیں دیکھتی؟
یقیناً ہم ان سب باتوں کو پس پشت ڈال کر زندگی کو خوشحال بنا سکتے ہیں۔ پہلے اپنی زندگی سے گناہ کے کانٹے چنیں۔


