سٹیٹ کنٹرولڈ میڈیا کا ٹھپہ

پاکستان میں نئی مجوزہ میڈیا اتھارٹی کے قیام کا منصوبہ زیر غور ہے۔ اس کی تفصیلات کیا ہیں وہ ابھی تک کوئی نہیں جانتا حتی کہ چڑیا والی سرکار نے بھی اپنے ٹی وی شو میں یہی رونا رویا کہ ان کے پاس بھی اس حوالے کوئی مستند خبر نہیں۔ شاید ان کی چڑیا بھی وہاں پر نہیں مار سکتی جہاں اس قانون کے خدو خال وضع کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے میڈیا اتھارٹی کی ضرورت کا جواز پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان میں میڈیا کو کنٹرول کرنے والے سات قوانین کو یکجا کر کے پی ڈی ایم متعارف کروایا جائے گا۔ دوسری طرف میڈیا انڈسٹری کی تمام نمائندہ تنظیموں اور انجمنوں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں مجوزہ اتھارٹی کے قانون کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس اقدام کو میڈیا کے تمام طبقات پر ریاستی جبر مسلط کرنے کی طرف ایک قدم قرار دیا۔

یہ تو تھا پاکستان میڈیا اتھارٹی کے حوالے سے ایک مختصر پس منظر، اب بات کرتے ہیں اس کے ممکنہ مضمرات اور ان خدشات کا جن کی طرف میڈیا کے نمائندگان اشارہ کرتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر نے سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پر دیکھا ہو گا کہ چائنہ کے اخبار گلوبل ٹائمز وغیرہ اور رشین میڈیا آؤٹ لٹس کے ناموں کے نیچے State Controlled Media لکھا ہوا نظر آتا ہے۔ آپ خود گوگل پر جا کر سرچ کر کے اس کی تفصیل پڑھ لیں۔ مجھے یہ خدشہ ہے کہ پی ڈی ایم نے اگر حقیقت کا روپ دھار لیا اور اسے پاکستان میں نافذ کر دیا گیا تو پھر ہمارے تمام سرکاری و غیر سرکاری ٹی وی چینلز اور تمام سوشل میڈیا چینلز کے ناموں کے نیچے بھی یہ عبارت لکھی ہوئی نظر آئے گی۔ جس مطلب ہو گا کہ پاکستان میں میڈیا آزاد نہیں ہے۔

State Controlled Media کی تعریف اور معیارات طے کرنے کے لیے فیس بک نے اپنی سطح پر تحقیق کروائی اور دنیا بھر سے پینسٹھ ماہرین کی رائے شامل کی جن میں صحافیوں، میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں شامل ہیں جن میں سے کچھ کے نام یہ ہیں ؛ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز، سنٹر فار انٹرنیشنل میڈیا اسسٹنس، یورپین جرنلزم سنٹر، آکسفورڈ انٹر نیٹ انسٹیٹیویٹ، سنٹر فار میڈیا، ڈیٹا اینڈ سوسائٹی، دی کونسل آف یورپ، یونیسکو، گلوبل فورم فار میڈیا ڈویلپمنٹ، افریقن سنٹر فار میڈیا ایکسیلنس، ایس او ایس سپورٹ پبلک براڈ کاسٹنگ کولیشن وغیرہ۔ لہذا فیس بک کے طے کردہ معیارات کسی ایک ادارے کے نہیں ہیں، اسے ”آزاد دنیا“ کی یکجا رائے سمجھا جائے۔

جب کسی ملک یا میڈیا تنظیم پر State Controlled Media کا ٹھپا لگ جائے تو فیس بک اس سے اپنے اشتہارات لینا اور دینا بند کر دیتی ہے، اگر اشتہار چلایا بھی جائے وہ محدود پیمانے پر چلتا ہے اور اس کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔ شاید یہی حال باقی سوشل میڈیا فورمز پر ہوگا لیکن اس مختصر مضمون میں فقط فیس بک اور انسٹا گرام کو بطور کیس سٹڈی پیش کیا جا رہا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک جو پہلے ہی صحافیوں کے لیے خطرناک ترین جگہ شمار ہوتے ہیں اگر ہمارے دامن پر یہ داغ بھی لگ گیا تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ عالمی سطح پر ہمارے لیے کس قسم کی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

ابھی پھر بھی ہمارا کچھ بھرم قائم ہے، یہاں جیسے تیسے جمہوری ادارے کام کر رہے ہیں، لنگڑی لولی اپوزیشن بھی ہے، عورت مارچ بھی ہو رہا ہے، کچھ سر پھرے اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز بھی بلند کر لیتے ہیں، حکومت پر تنقید بھی ہو رہی ہے، ادبی تنظیمیں بھی سوشل میڈیا پر متحرک ہیں، مولوی بھی اپنا کام دکھا رہے ہیں لیکن جب ہمیں State Controlled Media کی لسٹ میں ڈال دیا جائے گا تو دنیا ہماری اچھی باتوں کو بھی شک کی نظر سے دیکھے گی۔ مثال کے طور پر کشمیر یا فلسطین کے لیے اٹھائی جانے والی حق کی آواز کو بھی یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے گا اس کے پیچھے ریاستی ادارے اور فنڈنگ ہے۔

پاکستان میں نئی مجوزہ میڈیا اتھارٹی کا خیال اپنی جگہ درست ہے کہ بجائے سات اداروں کے ایک ایسی اتھارٹی قائم ہو جس کے ذریعے میڈیا کے معاملات کی نگرانی کی جا سکے لیکن اس میں میڈیا انڈسٹری کے حقیقی نمائندوں کی رائے شامل کرنا ضروری ہے ورنہ اسے ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ اگر خدانخواستہ اس اتھارٹی کو بنانے کے پیچھے میڈیا اور خصوصاً سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے مذموم مقاصد شامل ہیں تو جان لیا جائے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں ایسا ہو نہیں سکتا۔ جب ملک پہلے ہی گرداب میں پھنسا ہوا ہے، معیشت بیساکھیوں کے سہارے چل رہی ہو، سیکورٹی کے خطرات سر منڈلا رہے ہوں تو ایسی صورت میں ایک اور کٹا کھولنے کی کیا ضرورت ہے۔

اگر یہ متنازعہ میڈیا اتھارٹی بغیر سٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لیے ہم پر مسلط کر دی گئی تو شاید چند میڈیا گروپس اور روزانہ سکرین پر نمودار ہونے والی شکلوں کا بھلا تو ہو جائے گا لیکن اس میں پاکستان اور پاکستانی عوام کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کبھی کبھی ایسا معلوم ہوتا ہے ہماری حالت اس گدھے کی طرح ہے جسے کھینچ کر بیس آدمی بھی کنویں کے پاس نہیں لے جا سکتے لیکن اگر اسے الٹا رخ پھیر کر اپنی جانب کھینچا جائے تو وہ خود بخود پیچھے کو زور لگا کر چلتا ہوا آخر کار کنویں میں جا گرے گا۔ کیا ہم کسی کی ضد میں اپنے لیے کوئی گڑھا کھود رہے ہیں۔

میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا کے سہارے بننے والی سرکار کیوں وہ شاخ کاٹنے پر تلی نظر آتی ہے جس پر اس کا اپنا آشیانہ بنا ہوا ہے۔ اپوزیشن کیوں خاموش ہے، کیا وہ حکومت کو یہ غلطی کرنے دینا چاہتی ہے یا پھر وہ میڈیا والوں کو اپنی اہمیت کا احساس دلانا چاہتی ہے۔ آپ یقین جانیں یہ میڈیا اتھارٹی عوام کا مسئلہ نہیں ہے، وہ تو خوش ہیں کہ انہیں چٹ پٹے تبصرے اور ہر قسم کی رائے سننے کو مل جاتی ہے۔ جس پروگرام، جس اینکر، جس سوشل میڈیا دانشور کو دیکھوں اس کے لاکھوں فالورز ہیں۔ یہ میڈیا عوام کے دکھوں کا مداوا بھی کر رہا ہے، یہ ان کی آواز ہے، کسی ناں کسی طرح ان زخموں پر مرہم بھی رکھتا ہے، کچھ حکومت مخالف تبصرے سن کر لوگوں کا کیتھارسس بھی ہو جاتا ہے لیکن اگر یہ دروازہ بھی بند کر دیا گیا تو سمجھو کہ عوام کا لاوا آج پھٹے گا یا پھر کل!

Comments - User is solely responsible for his/her words