ٹھرک سے وحشی پن تک


میں حیران ہوں کہ اس نے یہ کیسے کیا، اس وقت اس کے ذہن میں کیا چل رہا ہوگا؟ ، اس میں اتنی ہمت کہاں سے آئی ہوگی؟ ، کیا اسے اس بات کا ہوش بھی ہوگا کہ وہ کیا کرنے جا رہا ہے؟ یہ حرکت وہ اتنے کم وقت میں اور اتنی آسانی سے کیسے کر گیا؟ اسے کوئی خطرہ محسوس نہ ہوا؟ کسی نتیجے کا خیال نہ آیا؟ کیا وہ گھر سے سوچ کر نکلا تھا کہ آج ایسا کچھ کرنا ہے؟ اور کیا اس نے ایسا کچھ کرنے سے پہلے باقاعدہ منصوبہ بندی کی تھی کہ اپنا ٹارگٹ اچیو کرنے کے لئے کس وقت کون سے قدم اٹھانا ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ ایسا کچھ بھی اناً فاناً یا اچانک دل چاہ جانے سے نہیں ہو سکتا ۔ اس ایک واقعے کے پیچھے برسوں کی محرومیاں اور کوتاہیاں چھپی ہیں۔

چنگ جی میں بیٹھی وہ لڑکی للچائی ہوئی نظروں کے نرغے میں خوف زدہ تو ہوگی ہی، لیکن وڈیو کو غور سے دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ لڑکے کی طرف سے بوسہ لینے کے بعد اس بے چاری نے ساتھ بیٹھی خاتون کی جانب چند لمحے کچھ دیکھا۔ انداز سوالیہ تھا، شکایتی یا کچھ اور، میں نہیں جانتا لیکن میں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی سے اتنا مشکل سوال یا اس قدر تکلیف دہ احتجاج ہوتے نہیں دیکھا۔ یوں لگتا ہے جیسے چند لمحوں کے اس سکوت میں ہمارا پورا معاشرہ قیامت سے پہلے ہی میدان حشر میں اس کے سامنے جواب دہ کھڑا ہے۔

لڑکپن میں جب مجھے کوئی شرارت سوجھتی یا منفی خیال آتا تو اسے کر گزرنے کے راستے میں کچھ بڑے بڑے دیو سامنے آ کر کھڑے ہو جاتے۔ جیسے پہلے خود میرا اپنا ذہن کہ اس عمل کو کرنے کے بعد میرا شمار برے لڑکوں میں ہونے لگے گا، میں ناپسندیدہ بن جاؤں گا، یہ حرکت راز میں نہ رہی تو میں گھر کیسے جاؤں گا؟ جب گھر جاؤں گا تو امی ابو کو، بھائیوں کو، چچا کو، دادی کو اور بڑی بہن سے کیا کہوں گا؟ سب سوال کریں گے، سب کے سوال مختلف ہوں گے، اتنے سارے جواب کہاں سے لاؤں گا؟ میرے ساتھ ان کے تلخ رویے کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ پھر زندگی معمول پر کب آئے گی؟ اور گھر سے نکل کر یہ دائرہ رشتہ داروں اور محلہ داروں تک وسیع ہوتا چلا جاتا تھا۔ بڑے بڑے دیو میرا خیال اپنے پیروں تلے مسل دیتے تھے اور مجھے ارادہ تبدیل کرنا پڑتا تھا۔

جب میں کالج میں گیا تو ایک لڑکی مجھے اچھی لگنے لگی، چند روز تک میں اسے دیکھتا رہا، پھر اس کو سوچ کر کپڑوں اور حلیے کا خیال رکھنے لگا، دل میں آیا کہ اس سے بات کرنی چاہیے، کئی روز یہ سوچنے میں لگا دیے کہ کیا بات کروں، جملے تیار کرتا اور ان کی ریہرسل کرتا، پھر ایک دن ہمت کر کے ایک لیکچر سے متعلق کچھ پوچھ لیا، اس نے واجبی سا جواب دیا جو یہ سمجھنے کے لئے کافی تھا کہ فوری طور پر کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہو اور کوشش جاری رکھو۔

چند سیکنڈز کی اس گفتگو کے پیچھے ہفتوں کی مغز ماری اور خود کلامی تھی، گھر والوں کے خوف سے لے کر انکار کے خدشے تک اظہار کی اس بساط پر کون کون سے مہرے کس کس سمت میں آگے پیچھے نہ کیے ہوں گے میں نے، آپ تصور نہیں کر سکتے! اتنے سارے زاویوں سے سوچنے میں یقیناً وقت لگتا ہے جو میں نے خود کو دیا اور دینا ضروری سمجھا اور اسی وقت نے میرے سامنے ممکنہ نتائج بھی رکھ دیے جنھیں ذہن میں رکھتے ہوئے میں عملی طور پر آگے بڑھا۔

اب میں پھر سے اس لڑکے کی جانب آتا ہوں جس نے چنگ چی میں لڑکی کا بوسہ لیا، میں سوچ رہا ہوں کہ یہ حرکت کرنے سے چند لمحوں پہلے اس کے ذہن میں کیا چل رہا ہوگا؟ کیا اس کے لئے یہ محض ایک شعبدہ ہوگا کہ جس کو کرنے کے بعد وہ مجمعے میں ہیرو کی مانند واپس لوٹے گا اور دوستوں کی جپھیاں اور تھپکیاں وصول کرے گا؟ کیا اس نے خود کو مجمعے میں سب سے بہادر اور بے خوف ثابت کرنے کے لئے پہل کی ہوگی؟ کیا اس نے لڑکی کی گھبراہٹ اور ماحول کی وجہ سے زیادہ تر وقت نظریں نیچی یا گردن پیچھے کی طرف گھمائے رکھنے کا فائدہ اٹھایا ہوگا؟

یا پھر اس کی ٹھرک نے اسے بے قابو کر دیا ہوگا؟ میں خود بھی چونکہ عمر کا وہ حصہ پار کر کے آیا ہوا ہوں لہذا تجربے سے کہہ سکتا ہوں کہ اس طرح کے مجمعے میں ٹھرک کا کوئی اسٹاپ نہیں پڑتا۔ اپنی تسکین کے لئے نظاروں کو سوچ کے پنجرے میں قید کر کے گھر تو لے جایا جاسکتا ہے لیکن سڑک پر اور اس ماحول میں فوری تسکین حاصل کرنا ممکن ہی نہیں۔

پھر ٹھرک نہیں تو یہ بوسہ کس لئے تھا؟

میں نہیں جانتا کہ وہ لڑکا کون تھا لیکن اس کی حرکت سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کا باپ بچپن ہی میں فوت ہو چکا تھا، اس کا کوئی بڑا بھائی، کوئی بڑا کزن نہ تھا، اس کے ماموں، تایا اور چچا سب اس سے لاتعلق تھے۔ اس نے کبھی اسکول، کالج یونیورسٹی یا مدرسے کی شکل نہیں دیکھی تھی، اس کے محلے میں کوئی بڑا اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ وہ بے روزگار تھا اور اس نے کبھی کسی دفتر میں کام نہیں کیا تھا، اس کے تمام دوست اس سے چھوٹے یا اس سے خوفزدہ اور زیر اثر تھے۔ اگر ایسا ہے تو میں ان تمام محرومیوں اور کمزوریوں کو اس کے حق میں دلیل مانتا ہوں۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے، تو لڑکی کا بوسہ لینے کے لئے وہ چنگ چی پر اکیلا نہیں چڑھا تھا۔ اسے ٹھرکی سے وحشی بنانے والے بہت سے اور بھی تھے

Facebook Comments HS