پروفیسر عبدالقدیر شماریات والے، سوری سر میں غلط تھا

یہ 2017 کی بات ہے میں نے اپنے محترم پروفیسر صاحب کے بارے میں ایک آرٹیکل لکھا اور اس میں ایک سنجیدہ غلطی کی۔ آرٹیکل کا خلاصہ کچھ یوں تھا؛

پروفیسر عبدالقدیر نہایت اعلی پائے کے با اصول شخص ہیں۔ کچھ باتیں آپ کے گوش گزار کرتا ہوں تو آپ بھی میری طرح ان کے مرید ہو جائیں گے۔

پروفیسر صاحب شماریات کے ماہر استاد تھے۔ شماریات طلبا اور طالبات میں مشکل مضمون سمجھا جاتا ہے۔ یہ مضمون پڑھنے والے اکثر سٹوڈنٹس کو اضافی ٹیوشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے اس مضمون کے عام استاد ٹیوشن کی مد میں لاکھوں روپے ماہانہ کماتے تھے۔ لیکن پروفیسر صاحب نے اصول بنا لیا تھا کہ ٹیوشن کبھی نہیں پڑھانی۔ ان کا اعلان تھا کہ جو سٹوڈنٹس کلاس کے علاوہ بھی پڑھائی میں مدد چاہتے ہیں وہ کسی وقت بھی میرے پاس آ سکتے ہیں۔ کالج اور گھر دونوں کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔ پڑھائی میں جتنی بھی مدد چاہیں لیں مگر یہ ملے گی مفت۔ پوری زندگی تمام سٹوڈنٹس کی مفت مدد کی اور ٹیوشن کی مد میں کبھی ایک پیسہ بھی نہیں کمایا۔ کتنے ہی طلبا اکثر پڑھنے آتے، چائے بھی پیتے اور مفت کی ٹیوشن بھی لیتے۔

پروفیسر صاحب ایک شریف النفس انسان کے طور پر سارے چکوال میں مشہور تھے۔ لڑکیوں کے والدین اپنی بیٹیوں کو ان کے پاس پڑھنے بھیجنے میں بہت ”سیف“ محسوس کرتے تھے۔ پڑھاتے بھی بہت ہی اچھا تھے۔ اس لیے کئی مرتبہ ایسے ہوا کہ طالبات کے والدین نے ان سے اپنی بیٹیوں کو ٹیوشن پڑھانے کی درخواست کی اور منہ مانگے دام دینے کی پیشکش کی لیکن پروفیسر صاحب اپنے اصول پر قائم رہے۔ ان کا جواب ایک ہی تھا کہ مفت میں ہر روز آ کر پڑھ سکتے ہیں لیکن پیسوں سے نہیں۔ اصل میں انہیں اپنی فریڈم بہت عزیز تھی اور وہ اسے کھونا نہیں چاہتے تھے۔

ان کا پڑھانے کا طریقہ نہایت شاندار تھا اور بہت محنت کرتے تھے۔ ان کے مخالف بھی گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنے کام کے ساتھ کبھی بد دیانتی نہیں کی۔

اپنے طالب علموں کے ساتھ ان کا رویہ بہت ہی متوازن تھا۔ بہت اچھی دوستی اور بے تکلفی کے قائل تھے لیکن ضرورت پڑنے پر شدید ناراضگی کا اظہار بھی کرتے تھے۔

کبھی جھوٹ نہ بولتے۔ سفارش کے قائل نہ تھے۔ کسی کو ناجائز کام کی درخواست کرتے نہ کسی کی مانتے تھے۔ سفارش کی درخواست کو انتہائی دیدہ دلیری سے مسترد کرتے۔ بہت جلد لوگوں کو ان کے اس رویے کا علم ہو گیا، ایسی درخواستیں آنا ہی بند ہو گئیں۔ زندگی آسان ہو گئی۔

پروفیسر صاحب مذہبی تھے اور بہت لبرل بھی۔ مثلاً شاگردوں یا دوستوں کی محفل میں بیٹھے ہوتے اور نماز کا وقت ہو جاتا تو نماز ادا کرنے کی خاطر اٹھ کر چلے جاتے لیکن حاضرین مجلس میں اگر ایسے لوگ ہوتے جو نماز پڑھنے کے عادی نہ ہوتے تو انہیں کبھی مجبور نہ کرتے۔ رمضان میں خود کبھی روزہ نہ چھوڑتے لیکن اگر کوئی ایسا مہمان آ جاتا جو روزے سے نہ ہوتا تو اس کی خاطر مدارت ضرور کرتے۔

پروفیسر صاحب ایک قناعت پسند آدمی ہیں اور سادہ زندگی گزارنے کے قائل ہیں۔ سادہ اور صاف ستھرا لباس پہنتے ہیں اور موٹر سائیکل کو سواری کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ایک سادہ سی گاڑی صرف اس وقت خریدی جب فیملی بڑی ہو جانے کی وجہ سے موٹر سائیکل پر سما نہیں سکتی تھی۔ پھر بھی گاڑی صرف ضرورت کے وقت ہی استعمال کرتے زیادہ تر سفر موٹر سائیکل پر ہی کرتے ہیں۔ دوسروں کے معاملے میں پروفیسر صاحب ایک معقول اور سخی آدمی ہیں۔ بہت ہی اچھے مہمان نواز ہیں۔ وہ دوستوں اور شاگردوں پر ہمیشہ پیسے خرچ کرتے ہیں۔ خاص طور پر ان کے شاگردوں نے تو پروفیسر صاحب کے خرچے پر بڑے مزے اڑائے ہیں۔

وہ ایک بذلہ سنج آدمی ہیں۔ ان کی محفل میں کوئی بور نہیں ہوتا۔ کئی لوگوں میں پراسرار شخص کے طور پر بھی مشہور ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ عام طور پر کسی بھی سوال کا سیدھا جواب دینے کے قائل نہیں ہیں۔ سوال کا جواب سوال سے دیتے ہیں۔ جو لوگوں کو سوچنے اور خود جواب تک پہنچے میں مدد کرتا ہے۔ گفتگو کا یہ انتہائی شاندار طریقہ ہے جو پاکستان میں بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔ ہمارے ہاں تو ہر سوال کا ماہرانہ جواب دینا علم کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔

پروفیسر صاحب ایک مثالی باپ ہیں۔ اپنی بیٹیوں کے ساتھ ان کی گہری دوستی ہے جو کہ ایک مختلف بات ہے ورنہ پیار تو اپنے بچوں سے ہر کسی کو ہوتا ہے۔ آپ کی بیٹیاں بہت محنتی اور ذمہ دار ہیں۔ پروفیسر صاحب اپنی بیٹیوں کے تعلیمی کارناموں کا ذکر بہت شوق اور فخر سے کرتے ہیں۔

بڑی بیٹی انیقہ کو خاص طور پر تعلیم کا بہت شوق تھا۔ اس نے کمپیوٹر سائنس میں اسلام آباد کی ایک اچھی یونیورسٹی سے ایم فل کیا۔ محنتی اور ذہین ہونے کی وجہ سے انیقہ کا تعلیمی کیریئر ”ٹاپ پوزیشنوں“ سے بھرا پڑا ہے۔

اس مضمون کا محرک انیقہ کی تعلیمی کامیابیاں ہی تھیں۔ انیقہ نے اپنی بھرپور محنت سے امریکہ میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے فل برائیٹ سکالرشپ حاصل کیا اور ساتھ ہی اس کی شادی بھی ہو گئی۔ میں ڈر گیا کہ انیقہ کا فل برائیٹ سکالرشپ ضائع ہو جائے گا کیونکہ وہ شادی کی وجہ سے پی ایچ ڈی کے لیے امریکہ نہیں جا سکے گی۔ اس پر میں نے ایک آرٹیکل بھی داغ دیا۔ لیکن شکر ہے کہ میرا ڈر غلط نکلا۔ انیقہ اگلے ہی سال اعلی تعلیم کے لیے امریکہ چلی گئی اور اب پی ایچ ڈی کے تیسرے سال میں ہے۔ انیقہ اپنی یونیورسٹی کی سٹار پرفارمر ہے اور پی ایچ ڈی کے ساتھ ساتھ ابھی سے اپنی ہی یونیورسٹی میں پڑھانا بھی شروع کر دیا ہے۔

میرے پہلے آرٹیکل میں غلطی تھی اور اس کے لیے میں پروفیسر عبدالقدیر صاحب اور انیقہ سے معافی کا طلبگار ہوں۔ میں بہت خوش ہوں کہ پروفیسر صاحب اور انیقہ نے مجھے غلط ثابت کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words