طالبان اور امریکہ میں ”مک مکا“

ذات کا رپورٹر ہوتے ہوئے میں جبلی طور پر ہماری زندگی کے مالک ہوئے طاقت ور افراد کے بیانات پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ ان کی جانب سے ہوئے دعوے شک وشبے کی چھلنی سے گزارنے کو مجبور محسوس کرتا ہوں۔ بے پناہ رسائی کے حامل بی بی سی اور سی این این جیسے ادارے گزشتہ کئی دنوں سے جس انداز میں کابل ائر پورٹ کے گرد جمع ہوئے افغانوں کی اذیت پر توجہ مرکوز کیے ہوتے تھے اس نے امریکہ اور یورپ کے کئی سیاستدانوں کو انسان دوستی کے ناٹک رچانے کو مجبور کر دیا۔ ان کی دہائی امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر مشتمل تنظیم G۔ 7 کا ہنگامی اجلاس بلانے کا سبب ہوئی۔ امید باندھی جا رہی تھی کہ مذکورہ تنظیم طالبان کو اجتماعی طور پر قائل کرنے کی کوشش کرے گی کہ امریکی افواج کی ان کے ملک میں موجودگی کو چند دنوں تک بڑھانے کی اجازت دی جائے۔ اس کی بدولت افغانستان سے ان تمام شہریوں کا انخلاء نسبتاً آسانی سے مکمل ہو جائے گا جو طالبان کے اقتدار میں لوٹنے کے بعد اس ملک میں رہنا نہیں چاہتے۔

امریکی سیاست کا طالب علم ہوتے ہوئے تاہم منگل کی صبح یہ کالم لکھتے ہوئے میں یہ دعویٰ کربیٹھا کہ صدر بائیڈن دل سے افغانستان سے اس وقت کابل ائرپورٹ کا انتظام سنبھالے فوجیوں کو 31 اگست گزرجانے کے بعد وہاں تعینات نہیں رکھنا چاہ رہا۔ یہ لکھتے ہوئے ہرگز فخر محسوس نہیں کر رہا ہے کہ میں بالآخر درست ثابت ہوا۔ مزید دکھ اس وجہ سے بھی ہو رہا ہے کہ منگل کی رات بتیاں بجھانے کے بعد سونے کی کوشش کر رہا تھا۔ فون دیکھنے کی علت مگر ٹویٹر اکاؤنٹ پر لے گئی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے وہاں اعلان ہو رہا تھا کہ چند ہی لمحوں بعد امریکی صدر صحافیوں کے روبرو آ کر ایک اہم بیان دے گا۔ صحافیانہ تجسس نے نیند کو دور بھگادیا۔

بائیڈن مائیک کے روبرو آیا تو اپنے خطاب کے ابتدائی 5 منٹ اس امر کے بارے میں اطمینان کے اظہارکی نذرکردیے کہ امریکی پارلیمان نے وہ بجٹ منظور کر دیا ہے جس کے ذریعے وہ کرونا کی وجہ سے بدحال ہوئی معیشت کو بحال کرنا چاہ رہا ہے۔ کم آمدنی والوں کو سستے مکانات فراہم کرنا بھی مذکورہ بجٹ کا اہم ترین ہدف ہے۔ اس کے علاوہ جدید سڑکوں پر پلوں کی تعمیر بھی درکار ہے اور دیہات میں انٹرنیٹ کو پھیلانا اور تیز تر بنانا بھی پاس ہوئے بجٹ کی وجہ سے ممکن ہو گا۔ امریکہ کے مقامی مگر ٹھوس معاملات پر اپنے ابتدائی کلمات میں بھرپور توجہ دیتے ہوئے بائیڈن جیسے کائیاں اور تجربہ کار سیاستدان نے نہایت مہارت سے یہ پیغام اجاگر کیا کہ اس کی اولیں ترجیح امریکہ کو خوش حال اور توانا تر بنانا ہے۔ دنیا میں کیا ہو رہا ہے یہ اس کا درد سر نہیں۔

اپنے ابتدائی کلمات کے ذریعے مذکورہ پیغام اجاگر کرنے کے بعد بائیڈن نے افغانستان کا رخ کیا۔ اعتراف کیا کہ بہت سے لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ امریکہ کابل ائرپورٹ پر اپنے فوجیوں کو مزید کچھ دن تعینات رکھے۔ وہ مگر اس کے لئے رضا مند نہیں۔ نہایت سکون سے بائیڈن یہ دعویٰ دہراتا رہا کہ افغانستان سے انخلاء کے واقعتاً حق دار افراد اپنے کنبوں سمیت 31 اگست تک وہاں سے باہر نکل آئیں گے۔ امریکی افواج کو لہٰذا 31 اگست کے بعد کابل ائرپورٹ پر تعینات رہنے کی ضرورت نہیں۔ کابل سے اپنی فوج نکالنے کے لئے اس نے یہ جواز بھی پیش کیا کہ افغانستان میں داعش کی خراسان کے حوالے سے بنی شاخ موثر انداز میں موجود ہے۔ امریکی فوجی اگر 31 اگست کے بعد بھی کابل ائرپورٹ پر موجود رہے اور افغانستان چھوڑنے کو بے چین شہری ہجوم کی صورت اسے گھیرے میں لیتے رہے تو مذکورہ تنظیم کی جانب سے تخریبی کارروائیاں شروع ہوجائیں گی۔ و ہ مصر رہا کہ داعش کی خراسان کے حوالے سے بنائی ہوئی تنظیم امریکہ ہی نہیں طالبان کو بھی اپنا دشمن گردانتی ہے۔ مذکورہ دعویٰ پر ٹھنڈے دل سے غور کریں تو امریکی صدر یہ پیغام دے رہا ہے کہ طالبان اور امریکہ کو داعش کے حوالے سے مشترکہ دشمن کا سامنا ہے۔ اس دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام تر اختلافات کے باوجود طالبان اور امریکہ آنے والے دنوں میں ایک دوسرے کے اتحادی بھی ہوسکتے ہیں۔

مستقبل میں امریکہ اور طالبان کا ”بھائی۔ بھائی“ بن جانا یہ کالم پڑھنے اور سننے والوں کو احمقانہ یاوہ گوئی محسوس ہوگی۔ مریضانہ نظر آتی ڈھٹائی سے لیکن میں اصرار کروں گا کہ طالبان اور امریکہ کے مابین ”مک مکا“ کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ میری دانست میں اس کا حقیقی آغاز دوحہ مذاکرات کے دوران ہوا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے آخری ایام میں امریکہ نے طالبان نامی گروہ سے نہیں بلکہ ”امارات اسلامی افغانستان“ سے ایک تحریری معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے بین السطور پر غور کریں تو وہ اشرف غنی کے تحت چلائے بندوبست کے اختتام کا اعلان بھی تھا۔ اس کے بعد جو بھی ہوا محض تاریخی تفصیلات ہیں۔

منگل کے روز G۔ 7 کا جو اجلاس ہوا ہے اس سے ایک روز قبل سی آئی اے کا سربراہ اچانک افغانستان پہنچ گیا۔ وہاں اس نے ملاغنی برادر سے ایک تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات کی خبر ”واشنگٹن پوسٹ“ نے جاری کی تھی۔ اس کی تردید نہیں ہوئی۔ پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی رات دو بجے کے قریب ٹی وی سکرینوں پر رونما ہوئی بائیڈن کی گفتگو سے قبل منگل ہی کی سہ پہر طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس کے دوران امریکہ کو واضح پیغام دیا گیا کہ اس کی فوج کو 31 اگست کے بعد کابل ائرپورٹ پر موجود رہنے کی اجازت میسر نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ اہم ترین اعلان مگر یہ بھی تھا کہ افغان شہریوں کو اب کابل ائرپورٹ جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ فقط وہ شہری ہی وہاں جا سکتے ہیں جن کے پاس امریکی پاسپورٹ یا وہاں قیام کا گرین کارڈ ہے۔ اس فیصلے کا جواز یہ بتایا گیا کہ افغانستان سے پڑھے لکھے اور کئی شعبوں کے ہنر مند افراد کی وسیع پیمانے پر ہجرت مستحکم اور خوشحال افغانستان تعمیر کرنے کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دے گی۔

یہ جوازبھی امریکہ کی آسانی کے لئے تراشا گیا ہے۔ طالبان کے کابل لوٹنے کے بعد یہ ہو رہا تھا کہ ہزاروں افراد جنہوں نے گزشتہ 20 برسوں کے دوران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے کسی نہ کسی انداز میں خدمات یا تعاون فراہم کی تھیں بیوی بچوں کے ہمراہ سیلاب کی صورت کابل ائرپورٹ کا رخ کرنا شروع ہو گئی۔ ان کی کثیر تعداد کے پاس کسی بھی نوعیت کی سفری دستاویزات بھی موجود نہیں تھیں۔ ان کی بے چینی اور پریشانیوں کو بی بی سی اور سی این این جیسے اداروں نے دل دہلا دینے والے انداز میں سکرینوں پر اجاگر کیا۔ اس کی وجہ سے بائیڈن انتظامیہ پر دباؤ بڑھناشروع ہوا کہ اپنے ”دوستوں“ کو دغا نہ دے۔ انہیں طالبان کے رحم وکرم پر نہ چھوڑے۔ بائیڈن مگر ٹس سے مس نہیں ہوا۔ اب وہ کمال مہارت ومکاری سے 31 اگست کا منتظر ہے۔ اس کے بعد طالبان جانیں اور ان کا افغانستان۔
بشکریہ نوائے وقت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words