پاکستان میں اخلاق کا جنازہ نکل گیا ہے

آئے روز پاکستان میں ایسے واقعات اور سانحات رونما ہو رہے ہیں جو پاکستانی قوم کے اخلاقی دیوالیہ پن کے جیتے جاگتے ثبوت ہیں۔ عصمت دری، اجتماعی زیادتی، قتل و غارت، کرپشن، ڈاکا، اغوا برائے تاوان، شہریوں کے جبری گمشدگی کے واقعات کا ہونا اب پاکستان میں تقریباً روز کا معمول بن چکا ہے۔

آج کل پنجاب میں عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک کے وزیراعظم سے لے کر ذہنی افلاس کے مارے عام مرد تک ان واقعات کی سبب اور وجوہات عورتوں کے لباس اور بود و باش سے منسوب کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہاں کفن میں لپٹی زیر زمین مدفون مردہ عورت کو بھی نہیں بخشا گیا۔ کچھ مہینوں کی ننھی معصوم بچی بھی زیادتی کی شکار بنی ہے۔ پانچ جوان بچوں کی بوڑھی ماں بھی درندوں کے ہوس کا شکار بنی ہے۔

مینار پاکستان میں پاکستانی قوم کے اصل سوچ اور چہرہ نمودار ہونے کے بعد مختلف مکاتب فکر کے لوگ ان واقعات کی وجوہات اور ان کی روک تھام کے لئے تجاویز دے رہے ہیں۔ کوئی دین سے دوری کا رونا رو رہا ہے کوئی ٹیکنالوجی کو برا بھلا کہہ رہا ہے۔ مگر یہ سب بہانے ہیں دراصل ہم شتر مرغ بنے خود سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ یہ پاکستانیوں کا قومی اور پسندیدہ مشغلہ ہے مسائل کی اصل محرکات کو جاننے اور اصلاح کرنے کی بجائے الزام اردگرد یا پڑوسی کے سر پر ڈال کر خود کو بری الزمہ قرار دیتے ہیں۔ لیکن سچ بتائیں کیا آپ نے کبھی صحیح معنوں میں سوچا ہے کہ یہ معاشرہ اتنی تیزی سے اخلاقی طور پر زوال پذیر کیوں ہوا ہے؟

میری ناقص رائے میں اس ملک کی سیاسی و سماجی اخلاقی طور پر زوال پذیر ہونے کا واحد سبب آئین اور قانون کی بے احترامی ہے۔ جس ملک میں آئین اور قانون کی عزت ہو وہاں عورتیں منی اسکرٹ میں گھومیں تو بھی مردانہ طاقت کی ہمت نہیں کہ جاگ جائے اور جہاں آئین کی عزت و احترام نہیں ہے وہاں عورتیں شٹل کاک برقعہ میں بھی محفوظ نہیں رہیں گی۔

مینار پاکستان میں چار سو مرد ایک لڑکی کو خیرات میں بٹنے والے حلوہ سمجھ کر چکھنے کی کوشش اس لئے کرتے رہے کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ اس ملک میں آج تک کسی عورت کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے مرد کو آئین اور قانون کے حساب سے سزا نہیں ملی ہے۔

بلوچستان جہاں زندگی موت کی علامت بن گئی ہے وہاں بے گناہ بلوچ شہریوں کو جبری طور پر لاپتہ کر کے ان کی مسخ شدہ لاشوں کو کسی ویرانے میں پھینکنے والی قوتوں کو بخوبی علم ہے کہ اس ملک کے آئین اور قانون کو ہم نے اس قدر مضبوط ہونے نہیں دیا ہے جو ان سے پوچھے کہ یہ غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر انسانی عمل بلوچستان کے شہریوں کے ساتھ کیوں کر رہے ہیں؟

برسر اقتدار آ کر غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لئے مختص رقم کو لوٹ کر جائیدادیں اور کاروبار بنانے والے سیاستدان کو اس ملک کے آئین و قانون کی حیثیت کا اندازہ ہے۔

آئین کو کاغذ کا ٹکڑا کہہ کر معطل کرنے والے فوجی جرنیل کو معلوم ہے کہ وہ اس ملک کے آئین اور قانون سے بالاتر ہے۔

ہاؤسنگ اسکیم کے نام پر ملک کے مڈل کلاس طبقہ کی زندگی کی کل جمع پونجی لوٹنے کے بعد سینہ تان کر ڈھٹائی کرنے والے بلڈر کو پتہ ہے کہ ملک کے آئین و قانون کو چند لاکھوں سے اپنے تابع کر سکتے ہیں۔ اشیائے خورد و نوش سے لے کر ادویات تک ملاوٹ کرنے والے یقین کرچکے ہیں کہ قانون اندھا ہے۔ شام کو ٹی وی پر نمودار ہونے والے صحافی جو ایک لمحے میں اس ملک کے صاحب کردار شہری کو غدار وطن قرار دیتا ہے۔ کیونکہ اس کو باور ہو چکا ہے کہ اس کے اسپانسرز آئین اور قانون سے زیادہ طاقتور ہیں۔

پاکستان میں آئین کو معطل کرنے والے جرنیل، ملک و قوم کا خزانہ لوٹنے والے کرپٹ سیاستدان، انسانی اعضاء بیچنے والے ڈاکٹر، سر عام عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے عام آدمی، غریبوں کی زمین پر قبضہ کرنے والے لینڈ مافیا، مدرسہ میں بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے معلم، اشیائے خورد و نوش میں ملاوٹ کرنے والے دکاندار اور رشوت لے کر قاتل اور ظالم کو بری کرنے والے منصف کو یقین ہو چکا ہے کہ ہم سب اس ملک کے آئین اور قانون سے بالاتر ہیں۔ تب ہی یہ مسائل میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔

درج بالا تمام مسائل کا حل صرف اور صرف آئین و قانون کو عزت دینے میں ہیں۔ اگر یقین نہیں آتا ہے تو ذرا ان معاشروں یا ملکوں کی طرف دیکھ لیں جہاں آئین اور قانون کو تقدس حاصل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words