مصنوعی قیادت بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں کر سکتی

بلوچستان ایک بار پھر ٹاک شوز اور اخباروں کے کالموں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ بیشتر ٹاک شوز اور کالموں میں بلوچستان کے بارے میں جو بولا اور لکھا جا رہا ہے وہ صاحب اقتدار و اختیار کے مزاج کے مطابق اور زمینی حقائق سے کوسوں دور ہے۔ زمینی حقائق کو مسخ کرنا، اپنے ظلم اور نا انصافیوں کے نتیجے میں جنم لینے والے بگڑتے ہوئے امن و امان کی صورتحال کی ذمہ داری اپنے اطراف میں سے کسی ایک

Read more

پاکستان میں اخلاق کا جنازہ نکل گیا ہے

آئے روز پاکستان میں ایسے واقعات اور سانحات رونما ہو رہے ہیں جو پاکستانی قوم کے اخلاقی دیوالیہ پن کے جیتے جاگتے ثبوت ہیں۔ عصمت دری، اجتماعی زیادتی، قتل و غارت، کرپشن، ڈاکا، اغوا برائے تاوان، شہریوں کے جبری گمشدگی کے واقعات کا ہونا اب پاکستان میں تقریباً روز کا معمول بن چکا ہے۔ آج کل پنجاب میں عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک کے وزیراعظم سے لے کر

Read more

بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو

”میرا جنازہ ہواوٓں کے دوش پر نہ لے جایا جائے۔ میری ساری زندگی پا برہنہ، سر برہنہ لوگوں کے ساتھ چلتے ہوئے گزری ہے۔ میری میت بھی انہی راستوں سے گزرنی چاہیے جن پر میرے لوگ چلتے ہیں۔ وہ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہی سہی، ان میں گڑھے اور کٹاوٓ بھی ہیں مگر وہ میری دھرتی پر غاصب حکمرانوں کی بے انصافیوں کے لگائے ہوئے زخم ہیں۔ جب ان پر بیمار جھٹکے سہتے ہوئے گزر سکتے ہیں، درد سے نیم جان

Read more

ناراض بلوچوں کو منانے سے پہلے راضی بلوچوں کو تو سن لیں

وزیراعظم پاکستان عمران خان سوچ رہا ہے کہ ناراض بلوچوں سے مذاکرات کریں۔ مگر میرے خیال میں وزیراعظم صاحب نے اس معاملہ پر ملک کے اصل حکمرانوں سے مشاورت نہیں کی ہے۔ کیونکہ بلوچستان کے نامور صحافی اور لکھاری انور ساجدی نے دو سال پہلے جب صدر پاکستان عارف علوی سے پوچھا تھا کہ بلوچستان کے حوالے سے بات چیت اور گفت شنید کی گنجائش نکالی جائے گی یا طاقت کا استعمال جاری رہے گا۔ اس پر پاکستانی صدر نے

Read more

بلوچستان کی پسماندگی میں سیاسی پارٹیوں کا کردار

زمانہ طالب علمی کے چھ سال پنجاب میں گزارے۔ اس دوران لاہور کو روز ترقی کرتے دیکھا۔ میٹرو بس پروجیکٹ، شہر میں بڑےفلائی اوورز، انڈر پاس اور بہت سے میگا تعمیراتی و ترقیاتی منصوبوں کو مکمل ہوتے اور لاہور کے انفراسٹرکچر میں نمایاں تبدیلی آتے دیکھی۔ اس وقت لاہور سے کراچی اور کراچی سے تربت بذریعہ بس یا گاڑی سفر کرتا تھا تو دوران سفر پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے مختلف شہروں سے گزرتا تھا۔ شہروں کی خوبصورتی، کلچر، طرز زندگی، حکمرانوں کی کارکردگی اور عوام کے حالت زار کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا تھا۔ اس دوران پنجاب کو ترقی کرتے ہوئے دیکھا مگر بلوچستان کو سیاسی سماجی معاشی بلکہ ہر لحاظ سے زوال پذیر ہوتے دیکھا۔ لاہور سے جب تربت پہنچتا تھا تو شہر کی خستہ حال سڑکیں، ٹوٹی پھوٹی انفراسٹرکچر اور بے ترتیب سیوریج دیکھ کر یہ محسوس ہوتا تھا کہ وقت ایک صدی پیچھے چلا گیا ہے۔

Read more