لیکن” والے چار سو لوگوں سے بدتر ہیں”

گیم آف تھرونز کا ایک ڈائیلاگ ہے کہ ”لفظ“ لیکن ”سے پہلے کی بات بے کار ہوتی ہے۔“

مینار پاکستان والے وقوعے میں سب مانتے ہیں کہ سینکڑوں لوگوں نے عورت کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا تو اس کے بعد کیا کسی ”لیکن“ کی گنجائش رہتی ہے؟ کیا سفاکیت کی توجیہ پیش کرنا اس سے بڑی سفاکی نہیں؟ سر حاشر ابن ارشاد لکھتے ہیں۔ ”میں نے لیکن والی سب کہانیاں سنیں اور ان لیکن والوں کو چار سو لوگوں سے بدتر پایا۔

اس معاملے میں ”لیکن“ والے خود کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کبھی ادھر لڑھکتے ہیں تو کبھی ادھر۔ صبح کچھ کہتے ہیں اور شام کو کچھ۔ خلیل الرحمن قمر بول ٹی وی پر گرجتے ہوئے پائے گئے کہ ”بدنصیبوں کے کمینٹس بھی سنے کہ اس کو جانے کی کیا ضرورت تھی؟ تو بے شرمو یہ تم فیمینسٹ کے اس بیانیے کو سپورٹ کر رہے ہو کہ جس میں وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ آپ نے ہماری بچیوں کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے۔ آج مجھے لگا کہ وہ صحیح کہ رہی ہیں۔ مجھے مان لینا چاہیے کہ ہمارے ہاں عورت کی عزت آبرو محفوظ نہیں۔

یہ اکا دکا واقعات نہیں ہو رہے۔ اب تو ایک ایسا مجمع اور ایک ایسا بدمست گروہ بھی اکٹھا ہو سکتا ہے جو ایک لڑکی کو کتے کی طرح نچوڑنے میں لگ جائے گا۔ میری سمجھ سے باہر ہے یہ۔“ بعد میں شاید ان کو احساس ہوا کہ ان کے لاکھوں فالوورز کا مقبول بیانیہ کچھ اور ہے تو اردو پوائنٹ کو دیے گئے انٹرویو میں کہتے پائے گئے کہ ”ہراسمنٹ کو دونوں طرف سے جج کرنا ہوگا۔ مرد کی طرف سے بھی اور عورت کی طرف سے بھی۔ یہ عورت کی طرف سے ہراسمنٹ ہے۔ جب آپ کھڑی ہوکے چوکوں میں فلائنگ کسز کریں گی۔ لوگوں کو ہگ کریں گی تو یہ تو ہوگا۔“

عورت کو قصوروار ٹھہرانے کی توجیہات سے ہٹ کر وجوہات پر بات کریں تو عورتوں کے ساتھ مردوں کا یہ سلوک نیا نہیں۔

قدیم مصر میں عورت کی لاش کو فوری دفن کرنے کے بجائے دو چار روز تک ایسے ہی رکھ دیا جاتا تھا تاکہ لاش سڑ جائے اور قبر میں اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہ کرے۔

ہند و مذہب میں عورت کو شوہر کی لاش کے ساتھ اس لیے زندہ جلا دیا جاتا تھا تاکہ اکیلی عورت زبردستی دوسرے مردوں کے ہتھے نہ چڑھے۔

عرب چھوٹی بچیوں کو زندہ صرف اس خوف سے دفن نہیں کیا کرتے تھے کہ بڑی ہو کر بوجھ بنیں گی۔ اس سفاک عمل کو کرنے کی وجہ چھوٹی بچیوں کے ساتھ زبردستی سیکس کا خوف بھی تھا۔

آج ہمارا معاشرہ فحاشی سے اس لیے پاک ہے کہ فحاشی کا تصور صرف عورت سے جڑا ہے۔ عورت سے اگر ذرا سی غلطی ہو جائے تو آسمان ٹوٹ کر گر پڑتا ہے۔ مرد کسی عورت کے ساتھ اجتماعی زیادتی کر ڈالیں اور وہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کردے تو اس کی آواز بدنامی کا باعث بنتی ہے اور عورت ہی راندہ درگاہ ٹھہرتی ہے۔ چنانچہ ایسی آوازوں کو زیادہ تر چپ کرا دیا جاتا ہے۔

انہی بھیڑیوں کی وجہ سے خواتین اپنے آپ کو گھر تک میں ڈھانپنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ مبادا انسیسٹ پورن کے شوقین جذبات میں آ کر کوئی غلطی کر بیٹھیں۔

فطرتا شریف افراد کے گھر کی خواتین کو بھی خود کو اچھی طرح ڈھانپنا پڑتا ہے کہ ان کی ذرا سی بد احتیاطی ان کے باپ بھائی اور بیٹے کو صریح امتحان میں ڈال سکتی ہے اور ان کی شرافت کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کے برعکس مغربی ممالک میں عورت کو مختصر لباس پہننے کی آزادی ہے۔ گھر میں ماں بہن بیٹی بھی مختصر لباس پہنتی ہے۔ اس سب کے باوجود وہاں ہراسمنٹ کی نظروں سے دیکھنا بھی جرم سمجھا جاتا ہے۔

مشہور امریکی گلوکارہ لیڈی گاگا ایک لائیو کانسرٹ کے دوران اپنے چاہنے والوں کے اوپر جمپ کرتی ہے۔ انتہائی مختصر لباس میں ہونے کے باوجود اس کے دیوانہ وار چاہنے والے اسے جنسی طور پر ہراساں نہیں کرتے۔

ایسا کیوں ہے؟ کیا یہ وہی روبوٹ ہیں کہ جن کے جذبات نہیں ہوتے؟ ان کے جذبات ہیں لیکن وقت بے وقت نہیں پھڑکتے۔ ان کے ہاں جنسی آسودگی مرد عورت کسی کے لیے شجر ممنوعہ نہیں۔ بے شمار قانونی ذرائع موجود ہیں تو کون ایسا بے وقوف ہوگا جو گناہ بے لذت کے لیے سخت قانونی شکنجے میں آنا چاہے گا۔

مذکورہ وقوعے میں کیا ہوا؟ کب کیوں اور کیسے ہوا؟ یہ سب کو معلوم ہے۔ اگر مگر چونکہ چنانچہ کا راگ کس کس واقعے پر الاپیں گے۔ بے ہنگم ہجوم کی وحشت و بربریت کا شکار ہونے والی مزید خواتین ایک ایک کر کے سامنے آ رہی ہیں۔ سینکڑوں چھوٹے بڑے واقعات تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

نیو ائیرنائٹ پر ہونے والی بے ہودگیوں کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے تو اس کو کیوں نہیں۔ یوم آزادی پر ہونے والی تقریبات اور ریلیوں میں وی آئی پیز کی شرکت سکیورٹی اداروں کو مکمل طور پر وہاں مشغول کیے رکھتی ہے۔ چنانچہ عوام کے لیے ان کی دستیابی تقریباً ناممکن ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں فل پروف مکینیزم کی امید لاحاصل ہے۔ صرف عوامی مقامات پر فیملی کے ساتھ شرکت کو یقینی بنایا دیا جائے تو چار دیواری کی حد تک تو ایسے واقعات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

سو باتوں کی ایک اور آخری بات یہ ہے کہ اپنی سکیورٹی کو یقینی تو عوام کو خود ہی بنانا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
سعد ریحان کی دیگر تحریریں