امریکہ میں خواتین نے ووٹ کا حق کیسے حاصل کیا؟

خواتین کے ووٹ کے حق سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کے لیے خواتین نے صنعتوں کے مرد مزدوروں کو جاکر اپنے دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کی۔

ویب ڈیسک — انتھونی سوزن انیسویں صدی میں امریکہ میں حقوقِ نسواں کی صفِ اول کی سرگرم رہنماؤں میں شامل تھیں۔ انہیں 1872 میں ایک ایسے ‘جرم’ کی پاداش میں سزا سنائی گئی تھی جسے بعد میں قانون اور آئین نے ان ہی کا نہیں بلکہ امریکہ کی خواتین کا آئینی حق تسلیم کیا۔

سوزن پر الزام تھا کہ انہوں نے امریکہ کے قانون میں اجازت نہ ہونے کے باوجود 1872 کے صدارتی انتخابات میں ووٹ کاسٹ کیا تھا۔ اسی جرم میں سوزن کو 100 ڈالر جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

سوزن نے یہ جرمانہ تو کبھی ادا نہیں کیا لیکن ووٹ کا حق تسلیم کرانے کے لیے وہ تاحیات متحرک رہیں۔

سوزن 1906 میں چل بسیں لیکن خواتین کے ووٹنگ رائٹس کے لیے ان کی کوششیں ایک ایسا سنگ میل ثابت ہوئیں جس کے بعد بالآخر 26 اگست 1920 کو انیسویں ترمیم امریکہ کے آئین میں شامل ہوئی اور خواتین کو ووٹ دینے کا حق تسلیم کیا گیا۔

چھبیس اگست وہ دن ہے جب دو صدیاں قبل ایک آئینی ترمیم کی منظوری سے امریکہ کی دو کروڑ ساٹھ لاکھ خواتین کو ملک کے مستقبل کے فیصلوں میں اپنی رائے دینے کا حق ملا تھا۔

لیکن یہ تاریخی پیش رفت کئی صبر آزما مراحل اور جدوجہد کی کئی کٹھن منازل سے گزرنے کے بعد ممکن ہوئی۔

سینیکا کنوینشن: پہلا قدم

امریکہ کا آئین 1788 میں منظور ہوا تو اس میں تمام شہریوں کو ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا۔ البتہ خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد 1870 میں پندرھویں آئینی ترمیم منظور کی گئی جس میں تمام مرد شہریوں کو ‘نسل، رنگ یا غلامی کی سابقہ حالت’ کی تفریق کے بغیر ووٹ کا حق دیا گیا۔ لیکن خواتین پھر بھی اس حق سے محروم رہیں۔

خواتین کو ووٹ کا حق فراہم کرنے کے لیے کانگریس میں 1878 میں پہلی مرتبہ ترمیم متعارف کرائی گئی لیکن اس پر قانون سازی نہ ہوسکی۔

امریکہ اور دنیا کے دیگر خطوں میں خواتین کے انتخابات میں حقِ رائے دہی کے حامیوں کو ‘سفریجسٹ’ کہا جاتا ہے۔ یہ انگریزی کے لفظ ‘سفریج’ سے ماخوذ ہے جس کا مفہوم ووٹ دینا یا رائے دینا ہے۔

خواتین کے حقِ رائے دہی کے لیے چلنے والی سفریج تحریک کا آغاز نیویارک میں سینیکا فالز کے میتھڈسٹ چرچ میں منعقد ہونے والے ایک کنونشن سے ہوا۔

اس کنونشن میں امریکہ سے غلامی کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنے والے معروف سماجی مصلح اور رہنما فریڈریک ڈگلس سمیت لگ بھگ 300 افراد شریک ہوئے۔ البتہ اس کنونشن میں کوئی سیاہ فام خاتون شریک نہیں ہوئی تھی۔

آج یہ چرچ سینیکا فالز میں خواتین کے حقوق کی تحریک کی یاد میں بنائے گئے نیشنل ہسٹورک پارک کا حصہ ہے اور اسے مبصرین امریکہ میں حقوقِ نسواں کی تحریک کی جائے پیدائش کہتے ہیں۔

کنونشن میں شریک ہونے والے مندوبین میں شامل الزبتھ کیڈی اسٹنٹن نے کنونشن کا اعلامیہ تیار کیا تھا جسے ‘ڈیکلریشن آف سینٹمنٹس’ کا نام دیا گیا۔

اس اعلامیے میں خواتین اور مردوں کے مساوی حقوق اور ووٹ کے حق کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ کنونشن میں تقاریر بھی ہوئیں اور سوزن بی انتھونی نے بھی اظہارِ خیال کیا تھا۔

نیویارک میں حقوق نسواں کی تحریک کی یاد میں بنائے گئے نیشنل پارک کی سپریٹنڈنٹ اینڈریا ڈیکوٹر کے مطابق یہ اعلامیہ بنیادی طور پر امریکہ کے ‘اعلانِ آزادی’ کو سامنے رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا تھا۔ البتہ اس میں اعلانِ آزادی کی عبارت ‘تمام آدمی یکساں پیدا کیے گئے ہیں’ کو تبدیل کر کے یوں کر دیا گیا تھا کہ ‘تمام مردوں اور عورتوں کو یکساں پیدا کیا گیا ہے۔’

اس دور میں امریکہ کی بعض ریاستوں نے خواتین کو ووٹ کا حق دینے کے لیے قوانین بنائے تھے اور زیادہ تر مغربی ریاستوں میں یہ قانون سازی کی گئی تھی۔ لیکن حقوقِ نسواں کے کارکن اس کے لیے قومی سطح پر قانون بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اُن کا مطالبہ تھا کہ امریکہ کے آئین میں ترمیم کر کے صنفی بنیاد پر رائے دہی کے حق سے محرومی یا اس میں رکاوٹوں کو خاتمہ کیا جائے۔

احتجاج، جیلیں اور عوامی رابطے

انیسویں صدی میں سوزن بی انتھونی اور الزبتھ کیڈی جیسی خواتین رہنماؤں کی شروع کی گئی یہ تحریک جب بیسویں صدی میں داخل ہوئی تو اسے اگلی نسل کی قیادت میسر آئی۔

خواتین کے حقِ رائے دہی کی مؤرخ اور اس موضوع پر کتاب ‘سفریج: ویمنز لانگ بیٹل فور ووٹ’ کی مصفنہ ایلن کیرول ڈیوبوئس کے مطابق اب یہ تحریک کالج گریجویٹ خواتین کے ہاتھ میں تھی۔ امریکہ کی افرادی قوت میں ان خواتین کا حصہ ایک چوتھائی ہو چکا تھا۔

ڈیوبوئس کے مطابق خواتین کو رائے دہی کا حق دلانے کے لیے اس تحریک میں انعام یافتہ مصنفین، شاعر اور فن کار بھی شامل تھے۔

خواتین 1913 میں ووٹنگ رائٹس کے لیے مارچ کررہی ہیں۔ فائل فوٹو
خواتین 1913 میں ووٹنگ رائٹس کے لیے مارچ کررہی ہیں۔ فائل فوٹو

اس تحریک نے 1916 میں ایک قدم آگے بڑھ کر احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے سڑکوں پر پریڈ کی، خاموش جلوس نکالے اور بھوک ہڑتالیں بھی کیں۔ ان خواتین کو ہراساں کیا گیا اور ان کا تمسخر اڑایا گیا۔

ڈوبوئس کے مطابق یہ خواتین ووٹ کے حق کے لیے عوامی مقامات پر تقریریں کرتی تھیں۔ دن کے کھانے کے وقفے کے دوران صنعتوں کے مرد مزدوروں کے ہجوم میں جاکر انہیں اپنے مطالبات سے آگاہ کرتیں اور اکثر اپنے سامعین کو قائل کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتیں۔

عوامی سطح پر رابطوں اور آگاہی کے لیے کی گئی ان مسلسل کاوشوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ کانگریس میں مسلسل التوا کا شکار رہنے کے بعد بالآخر انیسویں ترمیم کا مسودہ ریاستوں کو توثیق کے لیے بھجوا دیا گیا۔

امریکہ میں آئینی ترمیم سے قبل اس کی مںظوری کے لیے تین چوتھائی ریاستوں کی توثیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت امریکہ کی ریاستوں کی تعداد 48 تھی اور ٹینیسی آخری ریاست تھی جس نے اگست 1919 میں انیسویں ترمیم کی توثیق کی تھی۔

دو برس بعد 26 اگست 1920 کو یہ ترمیم امریکہ کے آئین کا حصہ بن گئی۔

دو ہزار بیس میں اس ترمیم کی منظوری کی یاد میں صد سالہ تقریبات ہوئیں اور اس قانون سازی میں نمایاں کردار ادا کرنے والی خواتین کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

سفریجسٹ تحریک کی خواتین کا 1917 میں وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ۔
سفریجسٹ تحریک کی خواتین کا 1917 میں وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ۔

اس موقع پر اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوزن بی انتھونی کی وہ سزا بھی معاف کر دی جو انہیں ووٹ دینے کے ‘جرم’ میں دی گئی تھی اور سوزن نے جس کی پروا کیے بغیر اپنی جدوجہد جاری رکھی تھی۔

سوزن بی انتھونی نے 1873 میں اپنی مشہورِ زمانہ تقریر میں امریکہ کے آئین کے ابتدائیے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں جہاں لکھا ہے کہ ہم امریکہ کے لوگ اسے ایک آزاد اور مضبوط یونین بنانے کے لیے یہ آئین بنا رہے ہیں تو اس ‘ہم’ سے مراد صرف سفید فام مرد نہیں بلکہ اس میں ہم سب (خواتین) بھی شامل ہیں۔

سفریج موومنٹ اور سیاہ فام خواتین

نیویارک میں حقوق نسواں کی تحریک کی یاد میں بنائے گئے نیشنل پارک کی سپریٹنڈنٹ اینڈریا ڈیکوٹر کا کہنا ہے کہ 1870 میں پندرہویں ترمیم کے ذریعے صرف سیاہ فام امریکی مردوں کو ووٹ کا حق دیا گیا تھا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد جب خواتین کے حق رائے دہی کی تحریک شروع ہوئی تو اس میں نسلی امتیاز برقرار رہا اور سینیکا سے جو تحریک شروع ہوئی تھی اس میں سیاہ فام خواتین کو شامل نہیں کیا گیا۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ کی پروفیسر اور حقوقِ نسواں کی تحریک پر کتاب کی مصنف مارتھا ایس جونز کے مطابق دو صدیوں کے دوران سیاہ فام خواتین نے اپنی الگ تنظیموں کے ذریعے حقوق کی ایک متوازی تحریک چلائی تھی۔

انیسویں ترمیم کے سو برس مکمل ہونے پر وائس آف امریکہ کی ڈیبورا بلاک سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان تنظیموں میں چرچ کانفرنسز، شہری حقوق کی تنظیمیں اور غلامی کی مخالفت کے لیے قائم کی گئی تنظیمیں شامل تھیں۔

‘خواتین کے یکساں حق میں اب بھی رکاوٹیں باقی ہیں’

امریکہ میں خواتین کے ووٹنگ حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ‘لیگ آف ویمن ووٹرز’ کے مطابق انیسویں ترمیم کی منظوری کو سو برس مکمل ہونے کے بعد بھی کئی مسائل موجود ہیں۔

ان کے مطابق ووٹ آئی ڈی سے متعلق شرائط، ووٹ کے لیے اہلیت کے باوجود شہریت کے ثبوت طلب کرنا، سیاہ فام آبادیوں میں ووٹنگ کے اوقاتِ کار میں کمی اور ووٹر فہرستوں سے غیر قانونی طور پر اندراج ختم کرنے جیسے اقدامات آج بھی خواتین کے یکساں حق میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

حقوقِ نسواں کے لیے آواز اٹھانے والے کارکن ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مساوی حقوق کی ترمیم ‘ای آر اے’ کی منظوری کو ضروری قرار دیتے ہیں۔

خواتین کو ووٹ کا حق دینے کے لیے 1920 میں منظور ہونے والی انیسویں ترمیم کے تین برس بعد مساوی حقوق کے لیے ایک اور ترمیم کانگریس میں پیش کی گئی تھی۔

اس ترمیم میں امریکہ کے آئین میں یہ تبدیلی تجویز کی گئی تھی کہ امریکہ یا اس کی کسی ریاست میں صنف کی بنیاد پر کسی بھی امتیاز کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سب کو مساوی حق دیے جائیں گے۔

امریکہ کے ایوانِ نمائندگان نے 1971 اور سینیٹ نے 1972 میں اس کی منظوری دے دی تھی لیکن آئین میں ترمیم کے لیے امریکہ کی تین چوتھائی یعنی 38 ریاستوں سے توثیق ضروری ہوتی ہے۔ گزشتہ برس جنوری میں ریاستوں کی یہ مطلوبہ تعداد ‘ای آر اے’ کی توثیق کر چکی ہے تاہم یہ توثیق مقررہ مدت کے کئی برسوں بعد کی گئی ہے۔

امریکی کانگریس رواں برس جنوری میں ‘ای آر اے’ کی توثیق کے لیے وقت کی حد ختم کر چکی ہے جس کے بعد ‘ای آر اے’ کے آئین میں شامل ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

فیمنسٹ میجورٹی فاؤنڈیشن کی صدر ایلینار سمیل کے نزدیک یکساں حقوق کی ترمیم سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امریکہ کے آئین کے تحت تمام خواتین کے ساتھ یکساں سلوک لازم ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘ای آر اے’ سے اجرت، تعلیم، انشورنس وغیرہ میں خواتین کے ساتھ برتے جانے والے امتیازی سلوک کے خاتمے کے علاوہ اس سے خواتین پر تشدد کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words