وادی  پنج شیر کا پس منظر

عالمی میڈیا میں روز بروز انتہائی اہمیت اختیار کرتی افغانستان کی شمالی ریاست پنج شیر کے ارد گرد بغلان میدان کاپیسا بامیان اور پروان ریاستیں (صوبے) ہیں جس میں زیادہ تر پشتون آبادی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں طالبان کے ساتھ ساتھ گلبدین حکمت یار کا اثر و رسوخ بھی ہے بلکہ گلبدین بذات خود بغلان ریاست سے تعلق رکھتے ہیں جو پنج شیر کے ساتھ متصل یعنی ہمسایہ ریاست ہے.

پنج شیر پہلے پروان صوبے کا حصہ تھا اور اسے ایک ضلع کی حیثیت حاصل تھی جسے بعد میں الگ صوبے کی شکل دی گئی کیونکہ پنج شیر جغرافیائی اور بود و باش کے حوالے سے الگ تشخص کی حامل وادی ہے یعنی وہاں کے لوگ فارسی زبان بولتے ہیں اسی طرح ان کے رسوم و رواج اور مزاج بھی دوسری ریاستوں اور وہاں کے لوگوں سے مختلف ہیں۔

پہاڑوں میں گھری وادی پنج شیر کے لوگ تنہائی پسند ہونے کے ساتھ ساتھ حد درجہ انا پرست بھی ہیں اور یہی وجہ تھی کہ روسی افواج اپنی انتہائی کوشش کے باوجود بھی پنج شیر پر قبضہ نہیں کر سکے تھے بلکہ یہاں کے نوجوان احمد شاہ مسعود ایک دلیر جنگجو کے روپ میں پوری دنیا سے خراج لے چکے تھے۔

نائن الیون سے ذرا پہلے احمد شاہ مسعود ایک خودکش حملے میں جاں بحق ہوئے تو دلیری کی علامت پنج شیر نے ایک گہری خاموشی کی چادر اوڑھ لی اور پھر پر آشوب موسموں میں بھی پنج شیر دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا کیونکہ تب احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کی عمر محض گیارہ سال تھی۔

گو کہ روس افغان جنگ اور اس کے بعد پنج شیر سے تعلق رکھنے والے کئی لیڈرز سامنے آئے لیکن احمد شاہ مسعود کا مبالغہ آمیز حربی اور رومانوی تاثر زائل نہ ہو سکا۔

روس افغان جنگ کے ایک اہم سیاسی اور مذہبی رہنما استاد ربانی کا تعلق بھی پنج شیر سے تھا۔ ان کی موت کے بعد ان کا بیٹا صلاح الدین ربانی اپنے والد کے جانشین ہیں لیکن آج کل کابل میں مقیم ہیں بعض اطلاعات کے مطابق صلاح الدین ربانی طالبان اور احمد مسعود کے درمیان مذاکرات آگے بڑھانے میں خاموشی کے ساتھ اہم کردار ادا کر رہے ہیں

عبداللہ عبداللہ کے والد کا تعلق بھی پنج شیر سے تھا لیکن اس کی والدہ پشتون تھی اور ان کا تعلق شاید اورزگان ریاست سے تھا۔ غالبا! یہی وجہ ہے کہ طالبان شمال کے ساتھ مذاکرات کےلئے عبداللہ عبداللہ کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔

بعض ذرائع کے مطابق پیر اور منگل کے دن احمد مسعود اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان فون پر رابطے بھی ہوئے ہیں۔ عبد اللہ عبد اللہ، احمد مسعود اور طالبان کے درمیان مذاکرات اور لڑائی سے گریز کے سب سے بڑے اور با اثر رہنما سمجھے جاتے ہیں.

افغانستان کے سابق نائب صدر امر اللہ صالح کا تعلق بھی پنج شیر سے ہے۔ وہ اس وقت پنج شیر ہی میں موجود ہیں لیکن ان کی بقا کا سارا دار و مدار احمد مسعود پر ہی ہے کیونکہ امر اللہ صالح بذات خود عوامی سطح پر کسی طاقت یا اثر و رسوخ کے حامل نہیں۔

معتبر ذرائع کے مطابق احمد مسعود کے سخت روپے اور جارحانہ انداز کے پس منظر میں در اصل امر اللہ صالح ہی ہیں جو اپنی معزولی کے خلاف انتقامی طور پر نوجوان احمد مسعود اور پوری ریاست کو ایک بار پھر خوفناک جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

با خبر ذرائع کے مطابق پنج شیر میں نہ صرف رائے عامہ جنگ کی شدید مخالف اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دینے کی حامی ہے بلکہ امر اللہ صالح کے خلاف بھی شدید ردعمل موجود ہے لیکن احمد شاہ مسعود کا بیٹا ہونے کی وجہ سے لوگ احمد مسعود کی اس حمایت پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں جو یہ نوجوان لیڈر سابق نائب صدر امر اللہ صالح کو فراہم کر رہے ہیں .

چونکہ احمد مسعود کی عمر صرف بتیس سال ہے اور وہ تجربے سے محرومی کے سبب معروضی حالات کی حرکیات کو سمجھ نہیں پا رہے ہیں ساتھ ساتھ وہ عمر کا زیادہ حصہ بھی مغربی ممالک میں گزار چکے ہیں (جہاں وہ پڑھتے رہے) اور یہی وہ وجوہات ہیں جو احمد مسعود کو حقائق کی بجائے جذباتی فضا کی طرف دھکیل رہی ہے جس کا فائدہ امر اللہ صالح جیسے لوگ اٹھا رہے ہیں۔

ان حقائق کو نظر انداز کرنا ایک حماقت کے سوا کچھ نہیں کہ نیا منظر نامہ روس افغان جنگ سے بہت مختلف ہے کیونکہ پنج شیر جغرافیائی طور پر جن ریاستوں میں گھرا ہوا ہے وہ تمام ریاستیں کابل کی حمایت میں کھڑی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو دن سے پنج شیر جانے والے راستوں کو طالبان اور (بعض ذرائع کے مطابق گلبدین حکمت یار کے حزب اسلامی کے کمانڈروں نے بھی) مسدود کر کے پنج شیر کو جانے والی ھر قسم کی رسد بند کر دی ہے۔

اس کے علاوہ پنج شیر کے اندر بھی طالبان کا اثر و رسوخ گزرے برسوں میں کافی بڑھ گیا ہے۔ تاہم فی الحال لڑائی سے گریز ہی سب کا مطمح نظر ہے۔

 ایک ذریعے کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں طالبان نے احمد مسعود کو مذاکرات پر آمادگی کےلئے ایک سے زائد بار یہ پیش کش بھی کی ہے کہ نئی حکومت کے قیام میں پنج شیر کے انتظامی معاملات آپ کے مشورے پر ہی تشکیل دیئے جائیں گے۔ تاہم ڈیڈ لاک ابھی تک موجود ہے جس سے خوف اور اندیشے ایک تسلسل کے ساتھ ٹپک رہے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words