ہماری ضرورت یکساں نصاب تعلیم نہیں، یکساں نظام تعلیم

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ”یکساں نصاب تعلیم“ کا مطلب ”ایک قوم ایک نظام تعلیم“ ہے اور امیر و غریب کو ایک جیسی تعلیم میسر ہوگی تو میرے خیال کے مطابق ایسا کچھ بھی نہیں ہونے جا رہا۔ SNCایک دلفریب نعرے، دھوکے اور اس جذباتی قوم کے جذبات کے ساتھ کھیلنے سے زیادہ کچھ نہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ جب آئین پاکستان کے تحت (18 ویں ترمیم کے بعد ) تعلیم صوبائی معاملہ ہے تو وفاق کی اس میں دخل اندازی کیوں؟ یہ ہر صوبے کا حق ہے کی وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنا نصاب ترتیب دے اور اس میں اپنی علاقائی روایات اور ضروریات کا پاس رکھے۔ بالفرض اگر اس صوبے کے عوام اور ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ صوبے میں جاری نصاب طلبا کی ضروریات پوری نہیں کر رہا تو اس کے اندر تبدیلی کر سکتے ہیں۔

جو لوگ اس خوش فہمی یا غلط فہمی کا شکار ہیں کہ یکساں نصاب تعلیم سے امیر اور غریب کا بچہ ایک جیسی تعلیم حاصل کر سکے گا، تو ایسا ہر گز نہیں ہے۔ پاکستان کے اندر جو نظام تعلیم رائج ہے اس میں پہلے ہی امیر اور غریب کے لیے علیحدہ علیحدہ نظام موجود ہے جس کے مطابق امیروں کے بچے کیمرج سسٹم کے تحت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ تعلیم مہیا کرنے والے ادارے ایک طرف اتنے خود سر ہیں کہ حکومت نام کی کسی چڑیا کو اپنے قریب پر نہیں مارنے دیتے دوسری جانب ایک مخصوص طبقے کے علاوہ کوئی ان کے اخراجات برداشت کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

مڈل اور لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے بچے پرائیویٹ اسکولز (جہاں انہیں 500 سے 3000 روپے فیس کی مد میں ادا کرنے پڑتے ہیں ) میں جانے پر مجبور ہیں کیونکہ پہلے تو سرکاری تعلیمی اداروں میں اتنی گنجائش ہی نہیں کہ وہ بڑھتی ہوئی آبادی کی تعلیمی ضروریات پوری کر سکیں دوسرے سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی بھی ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ اس طرح اگر کہا جائے کہ ان نجی تعلیمی اداروں نے ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر کی اسکول ایجوکیشن کا 50 سے 60% بوجھ اٹھا رکھا ہے تو غلط نہ ہو گا۔

اس کے بعد جو باقی بچتے ہیں ان کے لیے سرکاری اسکول موجود ہیں جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ۔ ان اسکولز کے جو سرکاری اعداد و شمار بیان کیے جاتے ہیں وہ بھی کم مضحکہ خیز نہیں۔ کئی اسکول اساتذہ کی راہ دیکھ رہے ہیں تو کہیں پڑھنے والے ندارد، کہیں واش روم کی سہولت نہیں تو کہیں چاردیواری غائب، کہیں پینے کا پانی میسر نہیں تو کہیں عمارتیں خطرناک حد تک مخدوش۔

اب ان حالات میں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یکساں نصاب تعلیم سے امیر اور غریب کا فرق مٹ جائے گا یا سب کو ایک جیسی تعلیم میسر ہوگی تو بالکل غلط ہے۔ یکساں نصاب تعلیم صرف اسی صورت میں سودمند ثابت ہو سکتا ہے جب ملک میں دوہرے نظام تعلیم کی جگہ یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے۔ میٹرک تک تعلیم صرف مادری اور قومی زبان میں دی جائے اور انگریزی کو صرف بطور مضمون پڑھایا جائے۔ اسلامیات، سائنس، ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کے مضامین وفاقی وزارت تعلیم ”پاکستان ٹیکسٹ بک بورڈ“ قائم کر کے اس کے تحت نہ صرف شایع کرے بلکہ سبسڈی دے کر رعایتی نرخوں پر پورے ملک میں بروقت ان کی فراہمی یقینی بنائے جبکہ باقی مضامین صوبائی ٹیکسٹ بک بورڈز شایع کر کے رعایتی نرخوں پر فراہم کریں اور پورے ملک میں ہر سطح کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں بشمول سٹی، بیکن و آرمی پبلک اسکولز میں پڑھائی جائیں اور ان کے علاوہ کتب پر پابندی عائد کر دی جائے۔

اس وقت جو ڈھول یکساں نصاب تعلیم کے نام پر پیٹا جا رہا ہے اس میں ایسا کچھ بھی نہیں۔ کتاب کی قیمت، مواد، پبلشر کچھ بھی یکساں نہیں، ہر تعلیمی ادارہ اپنی مرضی کی کتاب پڑھانے میں آزاد ہے بس صرف وفاق سے منظور شدہ ہونی چاہیے جس کے لیے بازار سجا دیا گیا ہے یہی پرائیویٹ پبلشرز کروڑوں روپے ادا کر کے اپنی کتابوں کی NOC حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ آزاد ہیں اپنی کتاب کسی بھی قیمت اور فارمیٹ میں بیچنے پر اور ادارے بھی آزاد ہیں اپنی مرضی کی کتاب اور پبلشر منتخب کرنے میں، یعنی سب پرانی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
بشیر احمد چنہ کی دیگر تحریریں