پاکستان کی فیکٹریوں میں جاری آگ اور موت کا کھیل

27 اگست 2021 شاہ زیب خانزادہ اور پھر کراچی فیکٹری آگ۔ یہی منظر 11 ستمبر 2012 کو شاہ زیب نے سارے پاکستان کو لائیو بلدیہ ٹاؤن کی آگ میں جھلستی فیکٹری سے دکھائے تھے اس وقت بھی یہی مناظر تھے صرف مرنے والوں کی تعداد کا فرق تھا ہمارے خطے میں ویسے بھی انسان خاص کر اگر وہ امیر نہیں تو وہ صرف اعداد و شمار ہے ہاں دو اور فرق تھے جائے وقوع کے نام کا اس دفعہ بلدیہ ٹاؤن کی بجائے مہران ٹاؤن تھا باقی سب کچھ ویسے ہی ہے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری حادثے کی وجہ آگ کا مجرمانہ نیت سے لگائے جانا تھا یہاں شارٹ سرکٹ کا ہونا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آگ لگی تو اس وقت بھی زیادہ اموات کی وجہ متبادل راستوں کی عدم موجودگی، فیکٹری کے سامان کا سیڑھیوں اور دروازوں کے اندر ٹھسے ہوئے ہونا، بجلی کی ناقص وائرنگ، فائر ایکسٹیگشنر کی عدم موجودگی، فیکٹری کے مالکان کی جائے وقوع سے عدم موجودگی، آگ بجھانے والے عملے اور گاڑیوں کی کمی اور تاخیر سے آمد، حکومت اور انتظامیہ کی بے حسی اور غفلت ہے۔

دونوں واقعات میں کھڑکیوں تک کو مکمل سیل کر دیا گیا تھا فیکٹری مالکان کی طرف سے ساتھ ہی متبادل راستے حتی کہ مہران ٹاؤن فیکٹری میں عینی شاہدین کے مطابق کھڑکیوں پر لوہے کی سلاخیں، پھر جالی اور اس کے آگے شیشہ لگا کر بند کیا گیا تھا پھر اس کے آگے سامان کا ڈھیر تھا یہاں تک کے چھت کو جانے والے راستے میں بھی سامان رکھا گیا تھا اور اس کو تالہ بھی لگایا گیا تھا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فیکٹری مالکان کو کام کرنے والے مزدور انسانوں کی جگہ اپنے سامان کے چوری ہو جانے کی زیادہ فکر تھی اس سے بننے والے خاکے کو ذہن میں رکھ کر اگر انسان ضمیر رکھتا ہو تو اس بات سے ہی کرب کی کیفیت میں مبتلا ہوگا کہ یہ فیکٹری جس میں ہوا کے گزرنے کوئی راستہ نہیں کسی ٹھنڈے علاقے میں نہیں بلکہ کراچی میں ہے جس میں سال کے بیشتر مہینے انتہائی سخت حبس زدہ گرمی ہوتی ہے اور یہ مزدور انتہائی غیر انسانی حالات میں انتہائی معمولی تنخواہ پر کام کرتے ہیں۔

مہران ٹاؤن فیکٹری میں آگ کی وجہ سیڑھیوں کے نیچے بجلی کی تاروں میں شارٹ سرکٹ بتائی گئی جبکہ وہیں ہینڈل بنانے کا سامان بھی رکھا گیا تھا اور بلدیہ ٹاؤن میں اس کی وجہ بھتے کی رقم کی عدم ادائیگی تھی اس میں ہلاکتیں آگ سے جھلسنے، اونچائی سے چھلانگ لگانے، اور دم گھٹنے سے ہوئیں اور مہران ٹاؤن میں ہلاکتیں جلنے سے کم اور دھواں کی وجہ سے دم گھٹنے سے زیادہ ہوئیں۔ یہ صرف ان دو فیکٹریوں کا حال نہیں زیادہ تر فیکٹریوں میں یہی صورتحال ہے سونے پہ سہا گہ فیکٹری کہیں بھی بنائی جا سکتی ہے بس صحیح تعلقات اور درست مقدار میں نوٹوں کی موجودگی ہونی چاہیے آپ کے لیے پوری مملکت خداداد پاکستان حاضر ہے شرم کا مقام یہ ہے کہ دونوں حادثوں میں فیکٹری کے مالکان گدھے کے سر پر سینگ کی مانند غائب ہیں۔

بلدیہ ٹاؤن حادثے میں فیکٹری مالکان کو پکڑا گیا پھر ضمانت پر چھوڑا گیا اور وہ دبئی سدھار گئے ایسا کیوں ہے کہ اس حادثے میں آگ لگانے والوں کو تو سزا ہوئی لیکن فیکٹری مالکان کو چھوڑ دیا گیا اس سب کے باوجود کہ ان کی فیکٹری کے ڈھانچے میں آگ سے بچاؤ کی تدابیر کی عدم دستیابی کی وجہ سے سینکڑوں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اسی طرح مہران ٹاؤن حادثے میں یہی معلوم نہیں کہ فیکٹری کا مالک کون ہے معلوم نہیں یا ہم معلوم نہیں کرنا چاہتے کیا ایسا نہیں کہ امارت کے بہت سے فائدوں میں ایک یہ بھی ہے کہ جرم جرم نہیں نادانی اور غلطی بن جاتا ہے اور غریب کا جرم پھانسی کا پھندا۔

پاکستان کے آئین میں موجود لیبر لاز کی شق 37 e کے مطابق یہ فیکٹری مالکان کا فرض ہے کہ وہ محفوظ، منصفانہ اور انسانی حقوق کے موافق حالات اپنی فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں کو مہیا کریں کیا ایسا ہوتا ہے اور اگر پے در پے واقعات کے بعد حکومتی افراد کو پتہ چل گیا ہے کہ فیکٹری مالکان محفوظ حالات مزدوروں کو مہیا نہیں کرتے تو اس کا انسداد کیوں نہیں کیا جاتا؟ کیا غریب مزدور انسان نہیں، غربت سے مجبور یہ لوگ بھیک مانگنے کی بجائے اپنے زور بازو پر اپنا رزق کما رہے ہیں تو یہ ہمارا فخر ہیں یا صرف انسان امرا ہیں اور جینا کا حق بھی انہیں ہے۔

ہر حادثے کے بعد مرنے والوں کے لواحقین کے لیے پیسوں کا اعلان کیا جاتا ہے کیا انسان کی زندگی کی، اس کے خوابوں کی، رشتوں کی، پیچھے رہ جانے والی یادوں کی، تڑپ کی قیمت ہے پھر بھی زندگی نے چلنا ہے ہم نے اس آگ میں جھلسنے والوں کے لواحقین کے ساتھ یہ احسن سلوک کیا ہے کہ وہ اب بھی حکومتی اعلان کردہ رقم کے حصول کے لیے دربدر ہیں غریب کے لیے زندگی ناچتی گاتی نہیں رینگتی اور گھسٹتی ہے۔ اس سب کی بجائے اگر صوبائی حکومتیں ایسی کمیٹیاں تشکیل دے دیں جو ان فیکٹریوں کا اندراج کریں ان جو حفاظتی انتظامات کی موجودگی کی صورت میں ہی لائسنس کا اجرا ہو ورنہ فیکٹری مالکان کو گرفتار کیا جائے اور یہ کمیٹیاں وقتاً فوقتاً ان فیکٹریوں کا دورہ کریں اور اس بات کو لازم بنائیں کہ ان میں آگ سے بچاؤ کے لیے انتظامات کیے گئے ہوں، ہنگامی راستے موجود ہوں، ہوا کا مناسب انتظام ہو، بجلی کی وائرنگ درست ہو، مشینیں صحیح کام کرتی ہوں ان کو زبردستی جگاڑ لگا کر نہ چلایا جا رہا ہو اور کوئی بھی فیکٹری رہائشی علاقے میں نہ ہو کیونکہ حادثے کی صورت میں تنگ گلیوں کے باعث جائے وقوع تک پہنچنا عذاب بن جاتا ہے اور جو موجود ہیں ان کا لائسنس ختم کیا جائے اگر وہ صنعتی علاقے میں منتقل نہیں ہوتی اور ان کمیٹیوں کے افراد سفارشی پرچی بھرتی کی بجائے صنعتی شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین ہوں فائر برگیڈ کے افراد اور انجنیئر حضرات ہوں جو ان حالات سے بخوبی واقف ہوں جو ان فیکٹریوں کا مخصوص مدت کے بعد دورہ کریں اور سہولیات کی عدم موجودگی پر لائسنس منسوخ کر دیں۔

حادثے کے بعد کا افسوس صرف زخموں پر نمک چھڑکتا ہے اور معاشرے میں لاقانونیت اور امیر غریب کی خلیج کو تقویت دے کر نفرت میں بدل دیتا ہے۔ جب امیر لاکھوں میں عیاشی کریں اور غریب چند ہزار بھی محفوظ طریقے سے نہ کما سکیں تو نوجوان محنت کی بجائے لوٹ مار کو ترجیح دیں گے خدارا مزدور کو عزت سے جینے اور زندہ رہنا کا حق دیں اور مگر مچھ کے آنسو بہانا اور تکلیف ہونا کا ڈرامہ بند کریں حکومت لوگوں کی بہتری کے لیے ہوتی ہے اپنی ذاتی جائیداد بنانے کے لیے صرف نہیں ہوتی لوگوں کی جان کی حفاظت کریں اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے سب افراد 18 سے 38 سال کے درمیان اور خاندان کے کفیل تھے ان کے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے ریاست ماں کا کردار ادا کرے دشمن کا نہیں ان کے آنسو پونچھے ان کے زخموں پر مرہم رکھے اور ان کو احساس دلائے کے وہ باعزت شہری ہیں برابر کے جتنا ایک امیر شخص اور ملزمان کو سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی باہر سے تالہ لگا کر مزدوروں کو ایک ایسی فیکٹری جس میں کوئی آگ سے بچاؤ کا راستہ نہیں کام کے لیے مجبور نہ کرے اور اپنے لیے دولت کے ڈھیر اکٹھے نہ کرے۔

جلنے والے انسان ہیں ان کی موت میں ہی ان کو وہ عزت دے دیں جو ان کو زندگی میں نہیں دے سکے جن حالات میں وہ جوان کام کر رہے تھے اپنی مجبوریوں کے ہاتھوں نہ تو وہ انسانی تھی نہ اسلامی، گناہ خیرات سے نہیں مزدور کو اس کا حق دینے سے جھڑتا ہے۔ مزدور غریب ہے لیکن انسان ہے اس کو اس کا حق دیں نہیں تو جس آگ میں وہ جھلس رہا ہے وہ نفرت کی صورت میں ہر امیر کے ٹھنڈے گھر تک معاشرتی نا انصافی کی وجہ سے ضرور پہنچے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words