افغانستان: خواہشوں کے پرندے اور امید کی ہجرت

وہی کابل کی گلیاں ہیں، وہی وحشت زدہ آنکھیں۔ گہرے پانیوں پر رواں حریف بجرے مختلف رنگوں کے جھنڈوں سے دور فاصلاتی اشارے دے رہے ہیں۔ کرزئی ائرپورٹ سے بلند ہوتے جہازوں سے ٹوٹتے ستاروں کی طرح گرتے خاک زادے، کابل کے صدارتی محل کے مرصع ایوانوں میں بندوق بردار فاتحین، بم دھماکوں میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کے گنگ اعداد و شمار، اسلام آباد کی کلیدی مسجد پر لہرائے اور پھر اتارے گئے پھریروں کا علامتی ابلاغ اور پھر یہ اعلان کہ غلامی کی زنجیریں توڑ دی گئی ہیں۔ حافظ نے کہا تھا غلام نرگس مست تو تاجدار انند (تیری آنکھوں کی گلابی نے تاجداروں کو غلام بنا رکھا ہے۔) حافظ شیراز تو لسان الغیب تھے، ہمارے اپنے شاعر اقبال نے روح عصر پر کیا بولتا ہوا تبصرہ کیا۔ خواجگی میں کوئی مشکل نہیں رہتی باقی / پختہ ہو جاتے ہیں جب خوئے غلامی میں غلام۔ یہ منظر ابھی پوری طرح سے کھلا نہیں، خوشیاں منانے والوں کی وارفتگی اور کف افسوس ملنے والوں کا ملال، دونوں قبل از وقت ہیں۔ کہ عشق آسان نمود اول ولے افتاد مشکل ہا۔

گزشتہ دنوں رفیق محترم سلیم صافی نے ایک تحریر میں افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان میں آٹھ مشترک نکات بیان کیے، باخبر صحافی ہیں، دریا کو کوزے میں سمیٹ لیتے ہیں۔ صافی صاحب ہی سے تحریک پا کر کچھ نکات عرض کرنا چاہتا ہوں۔ افغانستان کی موجودہ صورت حال میں ایک ان کہی جہت یہ ہے کہ پاکستان نے بیس برس پر محیط اپنی حکمت عملی میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ افغانستان میں بھارت کا پتہ کٹ گیا اور ایک معاند حکومت رخصت ہو گئی۔ کچھ خوش فہم اسی مضمون کو پھیلا کر یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان نے منظر پر آئے بغیر دنیا کی واحد سپر طاقت کو خاک چٹوا دی۔ یہ بیانات حقیقت سے کلی طور پر خالی نہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ اب کیا ہو گا؟ افغانستان میں سخت گیر مذہبی قوت کے اقتدار میں آنے سے پاکستان میں دستوری بندوبست اور جمہوریت کی مخالف قوتوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ گزشتہ ہفتوں میں پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں واضح تیزی آئی ہے۔ بھول جائیے کہ افغان طالبان کبھی ٹی ٹی پی کے سرکردہ افراد کو پاکستان کے حوالے کریں گے۔ نور ولی محسود کابل میں فروکش ہیں اور سی این این پر انٹرویو میں پاکستان مخالف عزائم بیان کر چکے ہیں۔ بے شک طالبان نے داعش کے خلاف کچھ کارروائیاں کی ہیں لیکن افغانستان میں سیکورٹی امور کے موعودہ سربراہ خلیل حقانی داعش سے گہرے روابط میں ہیں۔

پاکستان نے طالبان کی کامیابی پر اپنی مسرت کے اظہار میں بے احتیاطی کی ہے۔ طالبان کو تو معاشی ترقی اور انفراسٹرکچر وغیرہ جیسے چونچلوں میں دلچسپی نہیں کیونکہ ایک خوشحال اور باضابطہ افغانستان طالبان کی سیاسی گرفت کے لئے ناموزوں ہے۔ بین الاقوامی برادری کا طالبان حکومت کو تسلیم کرنا مشکل نظر آتا ہے اور طالبان کا کیا دھرا پاکستان کے گلے کا طوق بن جائے گا۔ طالبان عالمی مطالبات ٹھکرائیں گے تو ان کی سرکشی کا ردعمل پاکستان پر آئے گا۔ بظاہر چین موجودہ افغان صورت حال پر خوش ہے لیکن پاکستان میں چینی مفادات پر مسلسل حملے کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت کا امکان مفقود ہی سمجھیے۔ ناگزیر خانہ جنگی کے نتیجے میں پناہ گزینوں کے سیلاب کو روکنا ممکن نہیں ہو گا۔ پاکستان کی معاشی حالت حکومتی دعووں کے باوجود اچھی نہیں اور اس مرتبہ ہمیں بیرونی اعانت بھی میسر نہیں ہو گی۔ مارچ 1989 میں جلال آباد آپریشن کے بعد سے پاکستان کی سیاسی قیادت افغان پالیسی سے دست کش ہو چکی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں اقتدار کی موجودہ بساط پر سیاسی قیادت کوئی بامعنی کردار ادا کرنے سے معذور ہے۔

آئیے اب اس تصویر کا تیسرا اور اہم ترین رخ دیکھتے ہیں یعنی پاکستان امریکا تعلقات۔ تاریخ کی کچھ باز آفرینی کی اجازت دیجئے۔ جولائی 1971 ءمیں یحییٰ حکومت نے امریکا اور چین میں تعلقات بحال کرانے میں اہم کردار کیا۔ اس کارکردگی کے صلے میں یحییٰ کو امید تھی کہ امریکی اس قدر احسان مند ہوں گے کہ پاک بھارت جنگ کی صورت میں ہماری بامعنی مدد کریں گے۔ اس امید کی حقیقت یہ تھی کہ 15 جولائی 1971ء کو صدر نکسن نے چین سے سفارتی روابط کی باضابطہ بحالی کا اعلان کیا تو اس مختصر بیان میں پاکستان کا ذکر تک نہیں تھا۔ قوموں کے باہم تعلقات میں دو اشاریے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، متعلقہ ملک کی معاشی حیثیت اور داخلی سیاسی استحکام۔ دسمبر 1971ء میں ہم ساتویں بحری بیڑے کا انتظار ہی کرتے رہے۔ ٹھیک نصف صدی بعد ہم دوحہ مذاکرات میں سہولت کاری کا صلہ چاہتے ہیں۔ ان مذاکرات کا اسلام آباد کی بجائے دوحہ میں انعقاد ہی عقل مند کے لئے کافی اشارہ ہونا چاہیے تھا۔ کیا امریکی نہیں جانتے کہ ملا برادر پاکستانی پاسپورٹ پر دوحہ، ایران اور چین وغیرہ کے دورے کرتے رہے ہیں۔ ٹھیک جس طرح ایک چھوٹا ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر بیس برس سے ڈالر سمیٹ رہا تھا، مالی اور سیاسی طور پر بڑی اسامی نے بھی خفیہ کھاتہ کھول رکھا تھا۔ مئی 2011ء کے ایبٹ آباد آپریشن میں پاکستان کو بار بار کلین چٹ دینے کی صرف ایک وجہ تھی۔ دس برس قبل راہداری اور دوسری سہولتوں کے ختم ہونے سے جنگ کے اخراجات بڑھ جاتے۔ اب جب کہ امریکی افغانستان سے رخصت ہو رہے ہیں، ممکنہ طور پر ہم 1989ء جیسی صورت حال سے دوچار ہو رہے ہیں۔ ہماری عالمی تنہائی بڑھ جائے گی اور افغانستان کا ملبہ بھی ہمیں اٹھانا پڑے گا۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک تاریخ ساز موڑ پر ہیں۔ 28 اپریل 1977ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی میں ہاتھی کی یادداشت کا ذکر کیا تھا۔ 44 برس بعد معاشی طور پر کمزور اور سیاسی طور ہر بے دست و پا قوم کو ہاتھی کی یادداشت کا سامنا ہے اور ہاتھی کے راتب سے گنے چرانے والے میعادی جتھے دار تاریخ کے غبار میں اوجھل ہو چکے ہیں۔ کس خرابے میں مجھے چھوڑ گئی درباری!

Comments - User is solely responsible for his/her words