ہمارے بچپن کا محرم
دس محرم کے دن گاؤں کے اکثر مرد و خواتین قبرستان کا رخ کرتے۔ ہاتھوں میں جھاڑو، پھول پتیاں اور ٹانگر، پھلیوں سے بھرے شاپر، اگر بتیوں کے پیکٹ، ’کیہی‘ اور بالٹی، قرآن پاک اور سپارے لیے قبرستان جاتی سڑک پر سنجیدہ چہروں کے ساتھ چلتے جاتے۔ کچی قبروں کو ’بھونہہ‘ ملی مٹی سے لپائی کرتے۔ مردہ جسموں اور بے جان ہڈیوں کو ڈھانپتی، ٹوٹ پھوٹ کا شکار قبریں پھر سے جی اٹھتیں۔
لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر قرآن خوانی کرتے، جھاڑو لگاتے، گلاب کی پتیاں قبروں پہ رکھتے، پھولوں کی پتیوں تک جن کی پہنچ نا ہوتی وہ قبرستان میں اگے ’ون‘ کے درختوں کی سبز شاخوں سے ہرے ہرے پتے توڑ کر قبروں پر پھیلا دیتے۔ ان کا ماننا تھا کہ سبز پتے خدا کا ذکر کرتے ہیں لہذا قبر پر رحمت کے فرشتے اتریں گے۔ پانی کا چھڑکاو کرتے تو مٹی سے اٹھتی خوشبو بھی گلاب کی پتیوں سے ابھرتی خوشبو سے مل جاتی۔ اگر بتیاں جلا کر قبروں کے سرہانے لگا دی جاتیں جن کی تیکھی خوشبو ہر سو پھیل جاتی اور قریب سڑک سے گزرتی بھیڑ بکریوں کے پیچھے چلتے چرواہے تک بھی ضرور پہنچتی۔
فاتحہ پڑھنے کے بعد قبروں میں ابدی نیند سونے والوں کے لیے دعائیں مانگتے۔ رب سے التجا کرتے کہ ہمارے پیارے اچھی جگہ پر ہوں، مزے میں ہوں۔ دعائیں دلوں سے نکلتیں تو آنسوؤں کے قطرے آنکھوں سے ڈھلک جاتے۔ بچھڑنے والوں کے ساتھ بیتے پل ٹھہر جاتے اور ان کی یادیں گئے دنوں کی قبر سے اگربتیوں کے دھوئیں اور خوشبو سے بھی زیادہ تیزی سے اٹھنے لگتیں۔
کبھی نا مل سکنے کا غم کتنا گہرا ہوتا ہے کہ پتھر دل کو بھی پگھلا کر آنکھوں سے بہا دیتا ہے۔ گاؤں کے مضبوط لوگ جو زندگی کی تلخیوں کو ہنس کے سہ جاتے اور پہاڑ جیسی مصیبتوں کو من پہ سہار جاتے وہ بھی رو دیتے۔ جن آنکھوں میں ہمیشہ مسکراہٹوں کی بجلیاں چمکتی رہتیں انہی آنکھوں سے بے بسی کے آنسو لڑیاں بن بن برس جاتے۔
کوئی ماں ہے جو جوان بیٹی یا بیٹے کی قبر سے لپٹ گئی ہے اور رو رو کر نڈھال ہے۔ اس کی آہوں میں جوانی، شادی، سہرے اور رنگلے پلنگ جیسے الفاظ سسکیوں کی شکل بن کر نکل رہے ہیں۔ جہیز میں بنائے لکڑی کے رنگلے پلنگ کا رنگ پکا اور زندگی کچی ہونے کا شکوہ کرتے۔ کوئی بوڑھا باپ ہے جو اپنے بیٹے کی قبر پر آ بیٹھا ہے اور رب سے کہہ رہا ہے کہ میں زندگی جی بیٹھا تھا مجھے موت دے دیتا، بیٹا اپنی زندگی جی لیتا۔ کوئی بیٹا ہے جو اپنے باپ کی قبر پر اپنے تنہا ہونے اور ناتواں کندھوں پہ زندگی کا بار اچانک پڑنے کا شکوہ کر رہا ہے۔ کوئی جواں عمر والدین ہیں جو اپنے اس پھول بچے کی قبر پر پھول بچھا رہے ہیں جو پورا کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گیا تھا۔
یہ سبھی کام اتنی محبت اور پیار سے کرتے تھے لوگ کہ فوت ہو جانے والے بھی اتنی محبت دیکھ کر ضرور خوش ہوتے ہوں گے۔ ان کی آنکھیں بھی تو نم ہوتی ہوں گی۔
ابو کے ہمراہ ہم بھی قبرستان جاتے۔ دادا جی، پھپھو، خالہ، نانا، چھوٹے بھائی اور دیگر عزیزوں رشتہ داروں کی قبروں پر جاتے۔ ابو اپنے والد اور بہن کی قبر پر جا کر رونے لگتے اور خدا جانے کتنی دیر روتے رہتے۔ قبروں سے یوں باتیں کرتے جیسے وہ لوگ دنیا چھوڑ کر گئے نہیں بلکہ سب ایک ہی چولہے پہ بیٹھ کر شام کا کھانا کھا رہے ہوں۔
ہم بچے پورا قبرستان گھومتے۔ قبرستان میں بچوں بڑوں کی کافی رونق ہوتی تھی۔ قبرستان میں بسے جن بھوت، بلائیں، چڑیلیں، چھلاوے کہیں دور چلے جاتے۔ عام دنوں میں قبرستان میں اگے اوکانہہ (فراش) کے پیڑوں سے گرم لو جب گزرتی تو سنسناتی آوازیں یوں سنائی پڑتیں جیسے کوئی بلا ہمیں دیکھ کر پھنکار رہی ہو۔ سنی سنائی کہانیوں کے بھوت قبرستان رہتے تھے یا نہیں، ہمارے لاشعور کے دریچوں میں ضرور گھس گئے تھے۔
ہم بچے قبروں کے گرد دوڑتے کھیلتے جاتے۔ بڑوں کی آبدیدہ آنکھیں اور مرجھائے چہرے بھی ہمیں روک نا پاتے۔ بچوں کے چہرے کھلے کھلے ہوتے تھے۔ سبھی لوگ میٹھی سلونی پھلیاں، مکھانے، لڈو، خرمے، ٹانگر، ٹافیاں، بوندی، نمک پارے بانٹتے تو ہم دوڑ دوڑ کر مٹھی بھر بھر شاپروں میں جمع کرتے جاتے۔
ہم حیران ہوتے تھے کہ خوشبو، رونق، اور مٹھائی کے ہوتے ہوئے بھی یہ عورتیں اور مرد قبروں سے لپٹے روتے کیوں ہیں۔ ابو سمیت سبھی کے آنسو خشک نہیں ہو رہے اور سبھی بچے قہقہے لگاتے کھیل رہے ہیں اور نمک پارے کھا رہے ہیں۔
گاؤں میں ہر گھر میں حلوہ، چاول، دلیہ، کھیر، سویاں یا کوئی بھی پکوان پکتا اور اڑوس پڑوس گھروں میں تقسیم کیا جاتا۔ بچوں کی موج لگ جاتی۔ اماں زہرہ کے گھر سے ابلے چاولوں پہ سوجی کا حلوہ رکھا آ جاتا تھا۔ ماسی نور الہی کے گھر سے بھی دودھ والی سویاں آ جاتیں۔ تایا جی کے گھر سے چاول، بابا عبدالحق کے ہاں سے پھلجیرا اور باقی آس پاس کے گھروں سے بھی دال دلیہ آتا تو ہم من چاہی ڈش کھاتے۔ اپنے گھر جو پکتا وہ ہم پلیٹوں میں رکھ کر رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے گھروں میں بھاگ بھاگ کر دے آتے۔ گھروں میں لوگ روح افزا ملا کر، برف ڈال کر ٹھنڈا پانی بناتے اور بانٹتے۔ لیموں نچوڑ کر ’شکنجوی‘ بناتے اور پلاتے۔
چاچا بشیر رنگریز کی والدہ اماں جنداں سین شام کو آتیں اور تمام مرحومین کو ایصال ثواب کے لیے ختم پڑھتیں۔ ختم پڑھنے کے بعد سالن، روٹی، حلوہ گھر لے جاتیں اور پانی سے بھرے گلاس کو پھونک مار کر گھر والوں کو دی جاتیں جس سے سبھی گھر والے گھونٹ گھونٹ پی لیتے۔
محرم کے پہلے عشرے میں جمعے کے خطبے میں حافظ محمد شعبان صاحب ایسا رقت آمیز اور سحر انگیز خطاب کرتے کہ سبھی سامعین کی آنکھیں نم ہو جاتی تھیں۔ کربلا کے میدان میں کرب سے گزرتے شہیدوں کا ذکر ہوتا تو دل دھک کر کے رہ جاتے۔
ابو کی پرانی کتابیں پرانی پیٹی میں بند پڑی رہتی تھیں۔ کبھی پیٹی کھلتی تو جیسے ایک نئی دنیا کا دروازہ کھل جاتا۔ رنگ رنگ کے ڈائجسٹ، فلمی میگزین، شاعری کے کتابچے، نسیم حجازی کے ناول، اسلامی کتابوں سمیت بہت کچھ دیکھنے کو مل جاتا۔ ہم بچوں کے لیے چھوٹی پیٹی میں کتابوں کے چھوٹے سے ذخیرے کی رنگ برنگی تصاویر ہی نئی کائنات بن جاتی تھیں۔
محرم میں ابو کتابوں کے اسی جہان سے ’خاک کربلا‘ نام کی کتاب نکالتے۔ ظہر کے بعد کمروں کے ڈھلتے سائے میں چارپائیاں بچھائے جب ہم سب گھر والے چائے کی پیالیاں لیے بیٹھتے تو ابو اس کتاب کو اونچی آواز میں پڑھتے۔ شہیدان کربلا کے بارے میں ایسی دردناک داستاں ہوتی کہ بچوں سمیت سبھی کی آنکھوں سے آنسو چھلک جاتے تھے۔
الفاظ میں ایسا غم بھرا ہوتا تھا کہ ابو کوئی بھی فقرہ روانی سے نا پڑھ پاتے۔ آواز بھرا جاتی اور آنسوؤں کی وجہ سے الفاظ ورق پہ پگھل جاتے۔ بڑوں کو روتا دیکھ کر بچوں کی آنکھوں سے بھی آنسو پھوٹ پڑتے۔
اب زندگی کی ظہر ہو چکی ہے۔ سائے ڈھل چکے ہیں۔ بچپن کا محرم رخصت ہو چکا۔ ابو کے ساتھ دادا جی اور پھپھو کی قبر پر کھڑے ہیں۔ پھول کی پتیاں قبر پر بکھری ہیں۔ ٹافیوں سے بھرا شاپر قبروں کے قدموں میں پڑا ہے۔ قبرستان میں لوگ فاتحہ پڑھ رہے ہیں۔ بچے ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں اور ہنس رہے ہیں۔ پاس ہی کوئی مٹھائی بانٹ رہا ہے۔ میں بھاگ کر مٹھائی لینے نہیں گیا ہوں۔ آج جیب میں پھلیاں جمع کرنے کے لیے شاپر بھی نہیں لایا۔
گاؤں کا محرم ہی بدل گیا یا شاید بچپن میں من میں جو پھول کھلے تھے وہ اب کار جہاں اور سنجیدہ سوچوں کی قبر پہ گر کے مرجھا گئے ہیں۔


