جب ایک لائبریری نے ایک بچے کی جان بچائی

اسکول میں چھٹی کی گھنٹی بج چکی تھی۔ سب بچے قطار در قطار کھڑے اسکول سے جانے کی اجازت کے انتظار میں تھے۔ آٹھویں جماعت کے بچے جب کلاس سے نکلنے لگے تب اسلامیات کے استاد مولانا صاحب نے دو بچوں کو رکنے کا اشارہ کیا۔ جب پوری کلاس چلی گئی تو انہوں نے ان دونوں کو بیٹھنے کا کہا اور کہنے لگے،

” آپ دونوں بہت ذہین ہیں۔ آپ لوگوں کی فطانت دیکھ کر مجھے رشک آتا ہے۔ خوشی ہوتی ہے کہ میرے شاگردوں میں بھی ایسے بچے موجود ہیں جو مستقبل میں امت کے کام آ سکتے ہیں۔ آپ دونوں اسلام کی بھلائی کے لئے بہت مفید ثابت ہو سکتے ہیں مگر!“

یہ کہہ کر انہوں نے لمحہ بھر کو توقف کیا اور پھر کہنے لگے،

”مگر آپ لوگ صحیح جگہ نہیں ہیں۔ یہاں انگریزی تعلیم آپ کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کیے جا رہی ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہیں یہ صلاحیتیں یہ سب کچھ اکارت نہ چلا جائے۔ میں چاہتا ہوں میں آپ لوگوں کے لئے ذریعہ بنوں کیونکہ میں یہ سب کچھ ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ اور میں ایسا ہونے بھی نہیں دوں گا۔“

دونوں میں سے ایک جس کی رنگت ہلکی سانولی سی تھی اور تھوڑا دبلا سا تھا حیران ہو کر کہنے لگا،
” لیکن سر کوئی بھی طالب علم انگریزی تعلیم حاصل کر کے بھی تو دین کے کام آ سکتا ہے۔“
مولانا صاحب نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا،

” یہی تو مسئلہ ہے۔ آپ لوگوں کے ذہن میں یہ باتیں بٹھا دی گئی ہیں اور درست راستہ آپ لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ہے۔ مختصر راستہ۔ جس میں کامیابی ہی کامیابی ہے۔ تھوڑی سی کوشش اور بہر صورت کامیابی!“

یہ کر کر انہوں نے دونوں بچوں سے کل چھٹی کے بعد اکیلے میں ملنے کا کہا اور نکل پڑے۔

سانولی رنگت والا بچہ گھر آ کر پورا دن اسی بابت سوچتا رہا۔ شام تک اس کے ذہن میں یہ بات گردش کرتی رہی کہ آخر وہ کون سا راستہ ہے جس میں محنت کم اور ہر صورت کامیابی ہے۔ بہت سوچ بچار کے بعد بھی وہ یہ معمہ سلجھا نہ سکا۔

اگلے دن پھر مولانا صاحب نے دونوں بچوں کو روکا اور کہنے لگے،
” کیا خیال ہے آج میں آپ لوگوں کو کامیابی کا راستہ بتا نہ دوں؟“
بچوں نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ گویا ہوئے،

”جہاد! وہ میراث جو ہم سے کہیں کھو گئی ہے۔ ہمارے اسلاف نے جب اللہ کی راہ میں شجاعت کے جوہر دکھائے تب ہی باطل کو زیر کیا اور اسلام کی دھاک بٹھائی۔ جہاد ہی وہ مختصر راستہ ہے جس میں کامیابی ہی کامیابی ہے۔ فوت ہو گئے تو شہید اور جنت کا سکون اور اگر غازی بن کر لوٹ آئے تو آخرت کی راحت۔ جہاد میں کامیابی کے بعد کافروں کے مال یعنی مال غنیمت میں بھی حصہ اور ان کی عورتیں بھی تمہاری“

اس دفعہ گوری رنگت والا قدرے تنومند بچہ بولا،
” لیکن سر یہ کیسے ممکن ہوگا؟“

”یہ بہت آسان ہے۔ آپ لوگ اگر آنا چاہتے ہیں تو میں آپ لوگوں کی مدد کروں گا۔ آپ روزانہ میرے ہاں شام کو آیا کریں، میں آپ لوگوں کو اسلحہ چلانا سکھاؤں گا۔ آپ لوگوں کی ذہنی اور جسمانی تربیت کی ذمہ داری میں لوں گا۔ اور اس سے زیادہ قابل فخر بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ مجھ سے یہ خدمت لے۔“

تھوڑی دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ گہرے سکوت کو توڑتے ہوئے وہ کہنے لگے،

”کیا آپ دونوں تیار ہیں دین کی خدمت کے لئے۔ غازی یا شہید بننے کے لئے، کافروں کے سر قلم کرنے کے لئے اور ان کی عورتوں کو کنیزیں بنانے کے لئے“

دونوں بچوں نے اثبات میں سر ہلا کر تائید کی اور مولانا صاحب خوشی سے جھومتے ہوئے وہاں سے رخصت ہو گئے۔

سانولی رنگت والے بچے نے گھر آ کر بیگ الماری کی طرف اچھالا اور بستر پر دراز ہو گیا۔ اسے عجیب کشمکش کا سامنا تھا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ جہاد کے لئے تربیت حاصل کرے۔ کشمیر فلسطین افغانستان جا کر لڑے۔ شہادت کا رتبہ حاصل کرے یا غازی بن کر اپنی آخرت کی راہ سہل بنائے۔ اس کے ذہن میں رہ رہ کر کنیزوں خیال آ رہے تھے لیکن ایک اور فکر بھی لاحق تھی کہ اگر والد صاحب کو علم ہو گیا تو معاملہ بگڑ جائے گا۔ وہ کبھی نہیں مانیں گے اور بہت غصہ ہوں گے ۔ بالآخر اس نے طے کر لیا کہ آج وہ مولانا صاحب کے پاس نہیں جائے گا اور کل کلاس میں معذرت کر لے گا۔

کل اسکول میں اسے علم ہوا کہ اس کا دوسرا دوست مولانا صاحب کے پاس گیا تھا جہاں اسے کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ دکھایا گیا۔ اس نے ساتھ یہ بھی بتایا کہ مولانا صاحب اس کی غیر حاضری پر بہت رنجیدہ تھے۔

اسے شرمندگی بھی بہت تھی لیکن وہ والد صاحب کے ڈر کے باعث ٹال مٹول سے کام چلاتا رہا۔ مولانا صاحب بھی کافی عرصہ اصرار کے بعد مایوس ہو گئے تھے اور انہوں نے بھی قطع تعلق کر لیا۔

اس کے بعد کافی عرصہ اس دبلے سے سانولی رنگت کے بچے کو یہ بات چبھتی رہی کہ وہ ایک اچھا مسلمان نہیں ہے۔ اس کی ایمان کی طاقت اتنی بھی نہیں تھی کہ والد صاحب کے ڈر کو جہاد کے شوق کی خاطر راہ سے ہٹا دیتی۔

اگلے دو ڈیڑھ سال اسی کشمکش میں گزرے۔ بیچ میں اسے ہلکا پھلکا مطالعہ کا شوق لاحق ہو گیا۔ گھر میں چند ایک کتابیں تھیں وہ پڑھیں۔ ادھر ادھر یار دوستوں سے ادھار کتابیں لی۔ اس کا ذہن رفتہ رفتہ کھلنے لگا۔ ایک دن گرمیوں کی چھٹیوں میں اسے خبر ہوئی کہ کہیں پاس ایک لائبریری کھل رہی ہے۔ پھر اس نے وہاں لائبریری میں جانے کو معمول بنا لیا۔ کتابیں بہت ساری کتابیں اور باشعور دوست اس کی ذہن کی کشادگی کا باعث بننے لگے۔ سیاسیات، مذہبیات، تاریخ اور ادب نے اس کی آنکھیں کھول دیں اور ایک دن وہ اس بات پر قائل ہو گیا کہ انسان کی حرمت اور اس کا احترام ہی دراصل نوع انسانی کے لئے کامیابی کا راستہ ہے۔ رائے کا احترام تہذیبوں کی تعظیم، محبت، الفت اور دکھ بانٹنے سے ہی دھرتی ماں کا حق ادا کیا جا سکتا ہے۔

شاید آپ کو یقین نہ آئے لیکن واقعی میں، دور دراز دیہاتی علاقے کی ایک لائبریری نے ایک بچے کی جان بچا لی تھی۔

(حقیقی واقعات سے ماخوذ)

Comments - User is solely responsible for his/her words