اخبار بینی میں کمی کے اسباب

مطالعہ شوق کا محتاج ہوتا ہے یہ جس کو میسر ہو جائے اس کی پیاس تا عمر سلامت رہتی ہے۔ یہ انسان کی شخصیت اور اس کی اخلاقی قدروں کو سنوارتا ہے۔ انسان کی زندگی مختلف مراحل سے گزرتی ہے ان مرحلوں میں انسان کو طرح طرح کے مسائل سے نبردآزما ہونا پڑتا ہے یہ انسانی تجربات کے ساتھ ساتھ مطالعہ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اخبار کا مطالعہ پہلی سیڑھی کا پائیدان ہے۔ اخبار پڑھے لکھے انسان کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ اخبار بین کی زندگی کبھی بے رونق نہیں ہوتی اس کی زندگی مختلف رنگوں سے مزین ہوتی ہے۔

اخبار پڑھنے سے انسان کی معلومات میں روز بہ روز اضافہ ہوتا ہے۔ اخبار صرف ہمیں ملکی حالات سے ہی آگاہ نہیں کرتے بلکہ ان کے مختلف موضوعاتی مضامین ہماری بنیادی معلومات کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیتوں کو بھی ابھارتے ہیں۔ اگر ہم اخبار کا آغاز و ارتقاء پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اخبار کی شکل میں صحافت کا آغاز 1200 سال پہلے یورپ میں ہوا۔ اس کا پہلا اخبار ”آگسں برگ“ تھا جبکہ اردو کا پہلا اخبار ”جام جہاں نما“ تھا جو فارسی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی شائع ہونا شروع ہوا۔

یوں اردو اخبار کے سفر کا آغاز ہوا اور پھر رفتہ رفتہ اس میں تیزی اور ترقی آتی گئی اور اخبار دنیا کی تمام معلومات کا مرکز بن گیا۔ اسی لئے کہا جانے لگا کہ کسی بھی ملک کے حالات جاننے ہوں تو صرف دو ماہ اس کے اخبار کا مطالعہ کر لیا جائے اس ملک کے تمام شعبوں سے متعلق معلومات حاصل ہو جائیں گیں۔ آج کے زمانے میں اخبار کی وہ اہمیت نہیں رہی جو کہ پہلے ہوا کرتی تھی۔

پاکستان کی آبادی ایک محتاط اندازے کے مطابق بائیس کروڑ سے زائد ہے جبکہ ملک میں شائع ہونے والے تمام اخبارات و رسائل کی مجموعی اشاعت بیس سے پچیس لاکھ سے زیادہ نہیں۔ اخبار جو مطالعے کا پہلا قدم سمجھے جاتے تھے۔ آج کل کے زمانے میں کوئی شاذونادر ہی اخبار کا مطالعہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ پہلے زمانے کے لوگ صبح سویرے اٹھتے ہی ناشتے کے ساتھ اخبار کی سادہ اور گرم خبریں پڑھا کرتے تھے مگر آج کل کے ترقی یافتہ دور میں ٹیلی ویژن کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا نے اخبار کی ساکھ کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔

سوشل میڈیا کی اہمیت و افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا مگر اس پر آنے والی ہر خبر کے بارے میں وثوق سے نہیں کہا جاسکتا، اس کے سچ ہونے کے بارے میں کوئی گواہی نہیں دے سکتا۔ دنیا بھر میں خبر کا سب سے قابل بھروسا ذریعہ اخبار ہی ہے۔ جھوٹی موٹی خبروں کے ساتھ ساتھ فحاشی اور عریانی پھیلانے والوں نے اخبارات کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ اس کی افادیت کو بھی روندا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اخبارات کی اشاعت، اس کی ترسیل اور اس کے مطالعے میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اس کمی کی ایک اور وجہ ان میں شائع ہونے والا مواد اور اشتہارات ہیں۔ مطالعے کے دوران یوں محسوس ہوتا ہے کہ اخبار خبروں اور معلومات کے بجائے اشتہارات کے لئے زیادہ شائع ہوتے ہیں۔ آج کل کے اخبارات میں اشتہارات کی اس قدر بھر مار ہے کہ پہلے صفحے کا نچلا حصہ مکمل طور پر اشتہارات کے لئے مختص کر دیا جاتا ہے۔ اگر مزید صورتحال ایسی ہی رہی تو نوجوانوں میں آخری سانس لیتا مطالعے کا شوق بھی دم توڑ جائے گا۔

اخبار کے مطالعے کو مزید عام کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے 25 ستمبر کو ”نیشنل نیوز پیپر ریڈنگ ڈے“ منانے کا اعلان کیا گیا ہے تا کہ معاشرے کا ہر طبقہ اور خصوصاً نوجوان اس جانب گامزن ہو سکیں

Comments - User is solely responsible for his/her words
طیبہ سعید کی دیگر تحریریں