عمران خان کے پاس کارکردگی دکھانے کے لیے تصویریں اور تقریریں ہیں

تحریک انصاف کا 3 سالہ معاشی دور بدترین رہا ہے۔ پاکستان کے اندرونی اور بیرونی قرضے تشویش ناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ ریاستی ادارے اربوں روپے کے خسارے پر چل رہے ہیں۔ امیر اور غریب کے درمیان فرق روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ صحت اور تعلیم پر کوئی کام نہیں ہوا آج بھی دو کروڑ سے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں، مریضوں کو ہسپتالوں سے ادویات نہیں مل رہی اور مارکیٹ میں اتنی مہنگی ہیں کہ غریب مریض خرید ہی نہیں سکتا۔ ٹیکس نیٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا جا سکا کیوں کہ عمران خان کے قریبی دوستوں کی کمپنیاں ٹیکس نہیں دیتی بغیر ٹیکس کے سگریٹ مارکیٹ میں سیل کر رہے ہیں۔

عمران خان کے دوستوں کی کمپنیوں کو اوور لوڈنگ کی بھی اجازت ہے جس سے ملک کی سڑکیں تباہ ہو رہی ہیں اور حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے بجٹ کا خسارہ ہر سال بڑھتا ہی رہا ہے۔ مستحکم معیشت کی دو بنیادیں صنعت اور زراعت کی پیداوار زوال پذیر رہی ہے۔ قومی خزانے کو جس بے دردی اور سنگدلی کے ساتھ لوٹا گیا اس کی داستان میڈیا، اخبارات اور سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ پاکستان کی وفاقی حکومت نے موجودہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی کا ہدف دو فیصد سے زائد رکھا ہے جو کہ گزشتہ مالی سال منفی 0.4 فیصد تک گر گیا تھا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) نے موجودہ مالی سال میں پاکستان کا جی ڈی پی ایک فیصد تک بڑھنے کی توقع کی ہے تو دوسری جانب عالمی بینک نے ملک کے جی ڈی پی کی منفی ایک فیصد ہونے کی پیش گوئی کی ہے حکومت ملک میں جاری مہنگائی کے طوفان کو کنٹرول نہ کر سکی اور رواں ہفتے بھی آٹے اور چینی سمیت کئی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے آٹا، چینی، گھی، کوکنگ آئل، تازہ دودھ، دہی، مرغی کا گوشت، انڈے، پیاز اور لہسن سمیت 22 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں۔

حکومت اور ان کے وزراء خیالی ترقی دکھاتے ہیں لیکن عالمی مالیاتی ادارہ کہتا ہے پاکستان کی ترقی منفی رہے گی۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ غربت میں اضافہ ہو رہا ہے زندگی بچانے والی ادویات کے بعد کھانے پینے کی اشیاء بھی غریبوں کی پہنچ سے دور ہو رہی ہیں۔ لیکن عمران خان غریب عوام کا اربوں روپے لگا کر کارکردگی پروگرام کرتے ہیں اخباروں میں بڑے اشتہار لگاتے ہیں۔ کارکردگی پروگرام میں وہی باتیں مخالفین کے خلاف مقدمات کی ویڈیو چلا کر دکھائی دیں گئی اور اخباروں میں اشتہار دیا گیا وہ کسی اور ملک کی ترقی کے فوٹو لگا کر دکھا دیے گئے سوال یہاں یہ بنتا ہے کہ پرانے مقدمات کی ویڈیوز اور دوسرے ملکوں کی ترقی کے فوٹو سے غریب عوام کو کیا ہونے والا ہے جب ان کو آٹا چینی اور بجلی اور گیس سستی نہیں ملے گی روزگار نہیں ملے گا تو غریب عوام کیا ان کی ویڈیوز اور دوسرے ملک کے فوٹو کو کھائیں گے، ان سے تعلیم حاصل کریں گے یا ان سے اپنے بیماروں کا علاج کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words