پاکستان میں واقع کشمیر سٹیٹ پراپرٹی ہڑپ کرنے کی تیاری


کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا انتظام وفاقی حکومت سے وزیر امور کشمیر کو منتقل کرنے کے لئے 1961 کے آرڈیننس میں ترمیم کا مسودہ قومی اسمبلی میں منظوری کے لئے ارسال کر دیا گیا۔ پاکستان حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں، پاکستان میں واقع کشمیر سٹیٹ پراپرٹی ہڑپ کرنے کی تیاریوں سے متعلق آرڈیننس 1961 میں ترمیم کا مسودہ وفاقی کابینہ سے منظور کر کے قومی اسمبلی میں جمع کرا دیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان میں واقع کشمیر سٹیٹ پراپرٹی سے متعلق ترمیمی بل قومی اسمبلی میں جمع کرایا گیا ہے جس کی رو سے کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا انتظام اور اس سے متعلق تمام فیصلوں کا اختیار حکومت پاکستان کی جگہ وزیر امور کشمیر کو منتقل ہو جائے گا۔

قومی اسمبلی کی ویب سائٹ (http://www.na.gov.pk/) میں دی گئی معلومات کے مطابق مختلف قوانین ترامیم کے لئے قومی اسمبلی میں منظوری کے لئے جمع کرائے گئے ہیں۔ اس فہرست کے نمبر شمار 82میں ”جموں و کشمیر ( ایڈ منسٹریشن آف پراپرٹی) ( ترمیمی ) ایکٹ 2021، دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق جموں وکشمیر ( انتظام املاک) آرڈیننس 1961، میں مزید ترمیم کا بل منظوری کے لئے 19اپریل2021 کو قومی اسمبلی میں جمع کرایا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد کشمیر پراپرٹی ایکٹ 1961 میں ترمیم کا مسودہ منظوری کے لئے قومی اسمبلی بھیجا گیا ہے۔ اس ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ

” ہرگاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازیں رونما ہونے والی اغراض کے لئے جموں و کشمیر ( انتظامی املاک) آرڈیننس 1961 ( نمبر 3 مجریہ 1961 ) میں مزید ترمیم کی جائے۔ بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔

1۔ مختصر عنوان اور آغاز نفاذ۔ ( 1 ) یہ ایکٹ جموں وکشمیر (انتظام املاک) ، (ترمیمی) ایکٹ 2021 کے نام سے موسوم ہوگا۔

2۔ آرڈیننس نمبر 3 مجریہ 1961 کی دفعہ 3 کی ترمیم۔ جموں وکشمیر (انتظام املاک) آرڈیننس 1961 ( نمبر 3 مجریہ 1961 ) میں، بعد ازیں جس کا حوالہ مذکورہ آرڈیننس کے طور پر دیا گیا ہے، کی دفعہ 3 میں، (الف) ذیلی دفعہ ( نمبر ( 1۔ الف) میں، (اول) الفاظ ”وفاقی حکومت“ پہلی دفعہ آنے پر لفظ ”منتظم“ سے تبدیل کیا جائے گا، (دوم) الفاظ ”وفاقی حکومت“ دوسری مرتبہ آنے پر، الفاظ اور سکتے ”وفاقی وزیر برائے ڈویژن جسے اس آرڈیننس کا کام سونپا گیا ہے“ اسے تبدیل کر دیا جائے گا، اور (سوم) الفاظ ”وفاقی حکومت“ تیسری مرتبہ آنے پر، لفظ ”وہ“ سے تبدیل کر دیا جائے گا۔

(ب) ذیلی دفعہ ( 2 ) میں، عبارت ”وفاقی حکومت ایک شخص کا تقرر کر سکتی ہے، جو کہلائے گا“ کو عبارت ”ایسے طریقہ کار کے مطابق تقرر کرے گی جیسا کہ قواعد میں صراحت کیا گیا ہے“ سے تبدیل کر دیا جائے گا، اور

4۔ آر ڈیننس نمبر 3 مجریہ 1961 کی دفعہ 3 ج کی ترمیم۔ مذکورہ آرڈیننس میں، دفعہ 3 ج میں الفاظ ”وفاقی حکومت“ کو الفاظ ”وزیر انچارج“ سے تبدیل کر دیا جائے گا۔

5۔ آرڈیننس نمبر 3 مجریہ 1961 کی دفعہ 5 کی ترمیم۔ مذکورہ آرڈیننس میں دفعہ 5 میں، ذیلی دفعہ ( 1 ) میں الفاظ ”وفاقی حکومت کی جانب سے“ کو حذف کر دیا جائے گا۔ ”

وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور کی طرف سے اس ترمیمی بل کے اغراض اور وجوہ بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ

”اس بل کو متعارف کرانے کا اصل مقصد وفاقی کابینہ کا مورخہ 8 نومبر 2017، کا فیصلہ نمبر 419 / 19 / 2017 ہے اور ایسی تمام وزارتوں /ڈویژن وزارت قانون و انصاف کی مشاورت سے متعلقہ ایکٹ /قواعد میں تبدیلی کریں اور الفاظ وفاقی حکومت کو موزوں اتھارٹی کے ساتھ تبدیل کریں۔“

واضح رہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی فروخت پر 1986 میں وفاقی کابینہ کی طرف سے عائد پابندی ختم کرنے کی سمری وزیر اعظم کو ارسال کی گئی تھی۔ وزیر اعظم آفس نے 6 دسمبر 2019 کو وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کو ہدایات جاری کی تھیں کہ ایک ہفتے کے اندر کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی فروخت پر عائد پابندی ختم کرنے کی سمری تیار کر کے منظوری کے لئے وزیر اعظم کو ارسال کی جائے۔

کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا انتظام 1947 سے 1955 تک آزاد کشمیر حکومت کے پاس رہا۔ 1947 میں آزادی کے بعد ریاست جموں وکشمیر کی جائیدادیں (یا مہاراجہ آف جموں کشمیر یا مہاراجہ پونچھ) جو ریاست جموں وکشمیر کی علاقائی حدود سے باہر واقع تھیں، ان کا انتظام آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر نے لے لیا اور اس سٹیٹ پراپرٹی کے قیام کے لئے منیجر قائم کیا۔ پنجاب حکومت نے اس کشمیر پراپرٹی کو متروکہ جائیداد تصور کیا۔ جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کے بعد 1961 میں ایڈ منسٹریشن آف کشمیر پراپرٹی آرڈیننس کے ذریعے حکومت پاکستان نے پاکستان میں واقع کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا انتظام یک طرفہ طور پر خود سنبھال لیا اور اس پراپرٹی کا انتظام و انصرام آزاد کشمیر حکومت سے لے کر وفاقی وزارت امور کشمیر کو دے دیا گیا اور اس سلسلے میں وزارت امور کشمیر کے زیر نگرانی لاہور میں ایڈ منسٹریٹر آفس قائم کیا گیا۔

کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا زیادہ حصہ پنجاب اور کچھ خیبر پختونخوا میں واقع ہے۔ کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کے ایڈ منسٹریٹیو آفس لاہور کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان میں ریاست جموں وکشمیر کی کل شہری سٹیٹ پراپرٹی 1048 کنال تھی جس میں سے 468 کنال فروخت کردی گئی ہے۔ جبکہ اب 580 کنال پر مبنی جائیداد باقی بچی ہے۔ اسی طرح کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی کل زرعی اراضی تقریباً 2426 ایکڑ تھی جس میں سے 462 ایکڑ فروخت کردی گئی اور اب 1974 ایکڑ باقی بچی ہے۔ کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی ان 35 جائیدادوں میں سے 14 جائیدادیں وزارت امور کشمیر کے خطوط پر مبنی اجازت کے ذریعے 1961، 1962، 1963، 1964، 1965، 1981 اور 1992 میں فروخت کی گئیں۔ اس سٹیٹ پراپرٹی کی مالیت اربوں روپے میں ہے۔

کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کے ایڈ منسٹریٹیو آفس لاہور کے ریکارڈ کے مطابق ( 1 ) ۔ حویلی دیال سنگھ لاہور میں 55 کنال 6 مرلہ 150 مربع فٹ آراضی تھیں جس میں سے 32 کنال 10 مرلہ 203 مربع فٹ لیٹر نمبرKP۔ 3 / 11 / 72 مورخہ 3۔ 9۔ 1980 اور لیٹر نمبر KP 1۔ 1 / 1 / 81 مورخہ 15۔ 7۔ 1981 کے ذریعے نامعلوم افراد کو فروخت کردی گئیں۔ اب اس میں سے 22 کنال 17 مرلہ 128 مربع فٹ جائیداد باقی بچی ہے۔ ( 2 ) ۔ لنڈا بازار لاہور ( 3 ) ۔

لوہا بازار لاہور ( 4 ) ۔ ٹرنک بازار لاہور ( 5 ) ۔ چانگڑ محلہ لاہور ( 6 ) ۔ تھاریاں لاہور ( 7 ) ۔ جھگیاں لاہور ( 8 ) ۔ سرد چاہ باغ لاہور ( 9 ) ۔ کٹیر لاہور ( 10 ) ۔ احاطہ غلام بی بی لاہور ( 11 ) ۔ احاطہ میاں سلطان لاہور ( 12 ) ۔ احاطہ کرپا رام لاہور اور ( 13 ) ۔ سرائے میاں سلطان لاہور، کی کل اراضی 289 کنال 5 مرلہ 200 مربع فٹ تھی جس میں سے 32 کنال 17 مربع 127 مربع فٹ لیٹر نمبر KP۔ 9 ( 3 ) / 62 (K۔ 1 ) مورخہ 27۔

3۔ 1963 اور KP۔ 4 / 1 / 81 (K۔ 1 ) مورخہ 31۔ 7۔ 1962 کے تحت فروخت کردی گئیں۔ اور اب اس میں سے 256 کنال 8 مربع 7 مربع فٹ باقی ہے۔ ( 14 ) ۔ نو لکھا گڈز ٹرانسپورٹ لاہور کل اراضی 1 کنال 12 مرلہ 221 فٹ تھی جو کہ تمام کی تمام لیٹر نمبر KP۔ 10 ( 17 ) 64۔ KII مورخہ 5۔ 3۔ 1965 کے ذریعے فروخت کردی گئی۔ ( 15 ) ۔ کشمیر ہاس کشمیر روڈ لاہور کل اراضی 100 کنال 12 مربع 13 فٹ، اور ( 16 ) ۔ حسن دین نرسری ایجرٹن روڈ لاہور کی 13 کنال 216 فٹ جائیداد لیٹر نمبر KII ( 3 ) / 61 (K۔

1 ) مورخہ 21۔ 3۔ 1961 تمام کی تمام فروخت کردی گئیں۔ ( 17 ) ۔ A۔ 10 کشمیر روڈ کی 6 کنال 12 مرلہ جائیداد میں سے 2 کنال 3 مرلہ 53 مربع فٹ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے ) نے اکوائر کرلی۔ یوں اب اس میں سے 4 کنال 8 مرلہ 172 مربع فٹ جائیداد باقی ہے۔ ( 18 ) ۔ پونچھ ہاس لاہور کی کل 212 کنال اراضی میں سے 36 کنال لیٹر نمبر K۔ 8 ( 6 ) / 53 (K۔ 2 ) مورخہ 1۔ 11۔ 1965 فروخت کردی گئی اور اب یہاں کوئی اراضی باقی نہیں ہے۔ یوں پونچھ ہاس لاہور کی باقی 176 کنال جائیداد کا کچھ پتہ نہیں ہے، ایڈمنسٹریٹر آفس کے ریکارڈ کے مطابق پونچھ ہاس لاہور کی 212

کنال اراضی میں سے کچھ باقی نہیں ہے۔ ( 19 ) ۔ پونچھ ہاس کنسٹریکشن سکیم ایریا لاہور کی کل جائیداد 174 کنال 11 مرلہ 194 مربع فٹ تھی جو تمام کی تمام زیر لیٹر نمبر KP۔ 3 ( 3 ) / 82 مورخہ 9۔ 6۔ 1992 کو فروخت کردی گئی۔ اور اب کشمیر پراپرٹی کی اس جائیداد کا بھی کوئی وجود نہیں ہے۔ ضلع گوجرانوالہ میں، ( 20 ) ۔ فاریسٹ ریسٹ ہاس وزیر آباد میں کل 5 کنال 13 مرلہ پر مبنی کشمیر پراپرٹی کی جائیداد تھی جس میں سے 4 کنال 16 مرلے لیٹر نمبر KP۔

1 / 1 / 81 مورخہ 15۔ 7۔ 1981 فروخت کر دی گئی اور اب اس میں سے صرف 17 مرلہ باقی ہے۔ ضلع سیالکوٹ ( 21 ) ۔ سرائے مہاراجہ سیالکوٹ کی کل 19 کنال 1 مرلہ جائیداد ہے اور یہ اب تک فروخت ہونے سے بچی ہوئی ہے۔ ( 22 ) ۔ بنگلہ نمبر 13 ہسپتال روڈ سیالکوٹ کی 1.87 ایکڑ اراضی تھی جسے B۔ 1 قرار دیا گیا اور اس کا قبضہ پاکستان آرمی کو دیا گیا۔ ضلع جہلم ( 23 ) ۔ فاریسٹ ریسٹ ہاس جہلم کی کل 17 کنال 12 مرلہ اراضی پر مبنی جائیداد تھی جس میں سے 13 کنال 3 مرلہ لیٹر نمبر K۔

23 ( 1 ) ۔ K۔ 1 مورخہ 26۔ 8۔ 1963 اور لیٹر نمبر KP۔ 4 / 3 / 71 مورخہ 14۔ 2۔ 1981 فروخت کردی گئیں۔ یوں اب اس میں سے 4 کنال 19 مرلہ 47 مربع فٹ کی جائیداد باقی بچی ہے۔ ( 24 ) ۔ فاریسٹ ہاس شاداب روڈ جہلم کل اراضی 43 کنال 11 مرلہ تھیں جس میں سے 38 کنال 9 مرلہ 47 مربع فٹ زیر لیٹر نمبر KP۔ 4 / 3 / 71 مورخہ 14۔ 2۔ 1981 فروخت کردی گئی۔ یوں اب اس میں سے 4 کنال 18 مرلے 47 مربع فٹ باقی ہے۔ ( 25 ) ۔ پونچھ ہاس راولپنڈی 23 کنال 11 مرلہ۔

یہ اب تک فروخت ہونے سے بچی ہوئی ہے۔ ( 26 ) ۔ سرائے خردو کلاں راولپنڈی 10 کنال اراضی ہے۔ جس میں 83 کرایہ دار مقیم ہیں۔ ( 27 ) ۔ پنڈی ہزارہ ٹرانسپورٹ کمپنی اینڈ ناردرن پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کی 17 کنال 13 مرلہ پر مبنی جائیداد تھی جو تمام کی تمام زیر لیٹر نمبرKP۔ 30 / ( 2 ) / 56۔ (۔ 1 ) مورخہ 7۔ 3۔ 1964 فروخت کر دی گئی۔ ( 28 ) ۔ سرائے گنڈا سنگھ کی 4 کنال 9 مرلہ 6 مربع فٹ اراضی پر مبنی جائیداد تھی، یہ بھی تمام کی تمام زیر لیٹر نمبرK۔

II ( 6 ) 61 (K۔ 1 ) مورخہ 7۔ 3۔ 1964 فروخت کردی گئی۔ ( 29 ) ۔ راجہ بازار راولپنڈی میں 7 کنال 162 مربع فٹ اراضی پر قائم 17 دکانیں تھیں جو زیر لیٹر نمبر K۔ II ( 4 ) 61 (K۔ 1 ) مورخہ 14۔ 2۔ 1962 فروخت کر دی گئیں۔ ( 30 ) ۔ آزاد پتن میں 16 کنال 12 مرلہ اراضی، ریکارڈ کے مطابق یہ تمام زمین دریائے جہلم کے کٹا میں آ گئی۔ ( 31 ) ۔ سرائے مہاراجہ کہوٹہ ساڑھے پندرہ مرلہ، یہ اب بھی باقی ہے۔ ( 32 ) ۔ پونچھ ہاس مردان میں 15 کنال کشمیر سٹیٹ پراپرٹی KAD کے زیر لیٹر نمبر K۔

81 ( 14 ) 53 (K) مورخہ 15۔ 11۔ 1965 کو ڈاکٹر امیر محمد خان کو فروخت کردی گئی، یوں اب خیبر پختون خواہ میں کشمیر سٹیٹ کی کوئی پراپرٹی موجود نہیں ہے۔ اسی طرح کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی زرعی اراضی کے ریکارڈ کے مطابق، ( 33 ) ۔ گاں سلطان پور لاہور میں 111 ایکڑ اراضی تھی جس میں سے 234 کنال 14 مرلہ لیٹر نمبر K۔ 6 ( 8 ) / 60 (K۔ 1 ) مورخہ 14۔ 2۔ 1962 کے ذریعے 1091 کنال بی آر بی نہر اور ریلوے لائن کے لئے ایکوائر کی گئی، اب اس میں سے 12 ایکڑ 1 کنال 12 میٹر باقی ہے۔ ( 34 ) ۔ ضلع شیخوپورہ گاں پوراب تحصیل فیروز والا میں 1259 ایکڑ اراضی میں سے 353 ایکڑ 9 مرلہ زیر لیٹر نمبر KP۔ 3 / 1 / 75 مورخہ 10۔ 8۔ 1981 فروخت کردی گئی۔ اور اب اس میں سے 906 ایکڑ اراضی باقی بچی ہے۔ ( 33 ) ۔ گاں جنگھو چک شیخوپورہ میں 1056 ایکڑ اراضی موجود ہے۔

وزارت امور کشمیر کے پاس فروخت کردہ کشمیر پراپرٹی کا کوئی حساب کتاب موجود نہیں اور نہ ہی آزاد کشمیر حکومت کے پاس کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی کوئی تفصیل موجود ہے۔ آزاد کشمیر حکومت کا مسلسل مطالبہ رہا ہے کہ کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا انتظام آزاد کشمیر حکومت کو واپس دیا جائے۔ یہ بڑا سوال ہے کہ پنجاب اور صوبہ پختون خواہ میں واقع کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کا یہ بڑا حصہ کس کس کو کس مالیت پر فروخت کیا گیا، فروخت سے حاصل ہونے والی رقوم کہاں گئیں؟ کشمیر سٹیٹ پراپرٹی کی یہ صورتحال کشمیریوں کے پاکستان پر اعتماد کو نقصان پہنچانے کا باعث بھی ہے۔

26 اگست 2021 کو ایک خبر کے مطابق جموں وکشمیر سٹیٹ پراپرٹی کے کشمیر روڈ لاہور میں 4 کنال 17 مرلہ، شاداب روڈ جہلم میں 7 کنال 5 مرلہ اور پونچھ ہاؤس کمپلیکس راولپنڈی میں 3 کنال 17 مرلہ کے خالی پلاٹس کے استعمال کے ٹی او آرز بنانے کے لئے وزارت امور کشمیر کے سی ایف اینڈ اے او کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words