نظروں کا زاویہ

اسے نہیں یاد کہ یہ خواہش اس کے دل میں کب پیدا ہوئی۔ لیکن یاد کا احساس ماضی میں جتنا بھی سفر کر سکتا ہے یہ واضح ہے کہ اس چاہت کی جڑیں گہری اور پرانی ہیں جو اس کے ساتھ ساتھ پروان چڑھی ہیں۔ اسے پھول پسند ہیں، درخت، پودے، شاخیں، پتے، سبزہ، رنگ سب اس کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ رات کی رانی، دن کا شہزادہ، یا سمین کے سفید پھول، چنبیلی کے پیلے گہنے، چمپا کی بہار، املتاس اور سنبل کی جنگلی خوبصورتی اسے ہانٹ کرتی ہے۔ کتاب، قدرت، منظر، پرندے اور ان کی چہکاریں اس کا عشق ہیں۔

تو اس نے ایک خواب پالا تھا کہ مولا جب بھی اسے اپنا ٹھکانہ دے، پھولوں سے بھرا دے، اس میں کمرے بھلے کم ہوں لیکن اس کی ہر دیوار رنگوں اور پھولوں سے سجی ہو۔ اس کی سامنے کی بالکونی ایسی ویلکمنگ ہو جس کی دیواریں اور کونے مہکتے، رنگیلے اور ہریالے ہوں۔ لٹکتی بیلیں، کھلتی کلیاں، بجتے ونگ چائمز، جھولتے گھروندے اور ان پر گاتے، اٹکھیلیاں کرتے پکھیرو ہوں۔ اور وہ بالکونی ہر ایک کے لئے مسکراہٹ کی وجہ اور تھکن سمیٹنے کا باعث ہو۔ اور وہ اس کے ایک کونے میں کین کی کرسی پر، کتاب پڑھنے کے مزے لے، خوشبو کو محسوس کرے، پنچھیوں کی شرارت دیکھے اور اپنے ارد گرد کو محسوس کرے۔ دوڑتی بھاگتی، روبوٹک زندگی سے کچھ پل خود کو تازہ دم کرنے کو نکالے۔

بالکونی سج گئی، دیواریں مہک اٹھیں، چہکاریں گونجنے لگیں، گھنٹیاں بجنے لگیں۔ تو وہ بھی اپنی کتاب کے ساتھ، مصروفیات کی لمبی لسٹ سے کچھ پل چرا کے اس گوشے کو آباد کرنے جا بیٹھی۔ ابھی پاؤں بھی نہ پسارے تھے، کرسی کے ساتھ گردن کو پیچھے ٹیک بھی نہ لگائی تھی اور کتاب بھی آدھ کھلی تھی کہ اسے کچھ بے چینی محسوس ہونا شروع ہو گئی۔ دیکھا تو پتہ چلا کہ سامنے گھر کے مزدوروں کے چلتے ہاتھ رک گئے ہیں، ساتھ والی آنٹی نیچے اپنے گیراج سے گھوری کروا رہی ہیں۔ اور سڑک سے گزرتے سبھی پیدل اور گاڑی سوار اس بالکونی کے پاس ضرور اپنی رفتار آہستہ کر کے آنکھوں کو سینک رہے ہیں۔

وہ ایک میچورڈ، ایکسپیرینسڈ، اور جوانی میں بوڑھی روح ہے۔ ان گھورتی، طنزیہ، جانچتی اور ٹٹولتی نظروں سے واقف ہے جو راہ چلتے، دفتر، گھرمیں کام کرتے، کسی ہسپتال انتظار گاہ میں انتظار کرتے ہوئے، کسی بینک کی قطار میں لگے ہوئے، کسی اسکول، کالج، یونیورسٹی میں، کسی میٹنگ میں پریزنٹ کرتے ہوئے اس نے جھیلی ہیں۔ زندگی کے چالیس برس اسی طرح کے ماحول میں گزارے ہیں اور بہت سوں کو گزارتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ لیکن وہ بد قسمتی سے اتنی بے حس نہیں بن سکی کہ نیگٹیویٹی اور ڈسکرجنگ ماحول میں آرام سے جینے کی عادی ہو جائے۔

وہ ابھی تک یہ خواب پالتی ہے کہ وہ مثبت معاشرہ بنے گا جس میں آپ بھلے بالکونی میں بیٹھ کر کتاب پڑھیں، بیچ راستے میں رک کر گانا گائیں، وہیل چیئر پر گراؤنڈ میں گھومیں، سو مردوں میں ایک عورت گاڑی چلائے یا ہزار عورتوں میں ایک مرد کھانا پکائے، کوئی لکڑی کی بیساکھی پکڑے کسی مجمعے میں داخل ہو تو اس کی طرف اٹھنے والی نظریں چبھتی ہوئی نہ ہوں، کھڑے کھڑے پانی پانی کرنے والی نہ ہوں، اندر تک ایکسرے کرنے والی نہ ہوں۔ بلکہ حوصلہ افزا، میٹھی، صاف، دوستانہ اور پرتپاک ہوں جو ہمیں انسان بنائیں۔ ہمارے کھیل کے میدانوں، بالکونیوں، دفاتر، سڑکوں، گھروں اور ایک دوسرے کے ساتھ کو آباد، با رونق اور با برکت بنائے۔ اسے امید ہے کہ آپ بھی یہ چاہتے ہوں گے۔ تو پھر اٹھیں اور اپنی نظروں سے دیکھنے کا زاویہ بدلیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words