عزاداری کرنے والوں سے دو (تلخ) باتیں


دو ایک گزارشات تھیں۔ پہلے سوچا محرم کے شروع میں عرض کروں گا لیکن مصروفیت کے قلعے کا قیدی ہونے کی وجہ سے اس کی اجازت نہ مل سکی۔ اب جو بات کہنے کی فرصت ہوئی تو محرم کا پہلا (اور کلیدی) عشرہ ختم ہو چکا ہے۔ البتہ عزاداری کے ایام ابھی چلیں گے اس لئے وہ گزارشات کر دینا کچھ ایسا بے معنی بھی نہیں ہوگا۔

عرض یہ تھی کہ محرم کا چاند دکھائی دیتے ہی یہاں سے وہاں تک ہر اس علاقے میں فرش عزا بچھ جاتی ہے جہاں عزائے کربلا کی روایت کو ماننے والے لوگ رہتے ہیں۔ امام باڑوں کو سیاہ پوش کرنے کے ساتھ ساتھ بستی کے عمومی مقامات پر بھی کالے علم، تعزیتی بینر اور دیگر ماتمی پیغامات آویزاں کر دیے جاتے ہیں۔ پچھلے سال (اور اس برس بھی) بہت سی بستیوں کی سیاہ پوشی کے ویڈیو مجھ تک پہنچے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لاکھ پچاس ہزار کی پوری بستی ہی ایک امام باڑہ بن گئی ہے۔

یہ دیکھ کر اس گنہ گار کے ذہن میں ایک خیال نے سر اٹھایا۔ محرم کے ان ایام میں جبکہ پورا علاقہ سیاہ ماتمی لباس پہنے ہوئے ہے ایسے میں اگر کوئی اجنبی بستی میں داخل ہو تو اسے بنا کسی سے پوچھے بھی معلوم ہو جائے گا یہ عزائے حسینی اور کربلا سے تعلق رکھنے والوں کی آبادی ہے۔ کسی کو اسے یہ بتانے کی حاجت نہیں ہوگی کہ یہاں رہنے والے خود کو حسینیت کی روایت سے جوڑتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب محرم نہیں ہوگا اور عزا و ماتم کی یہ سب علامتیں اتار لی جائیں گی تب اگر کوئی اجنبی اس بستی میں داخل ہو تو کیا ہماری سماجی زندگی، اخلاقیات اور طور طریقوں میں کوئی ایسا اختصاص ہے کہ حسینیت کی روایت سے ہمارا تعلق بنا بتائے ہی ظاہر ہو جائے؟

اگر ہمارا ماحول، ہماری سماجی زندگی، ہمارے معاملات اور ہماری قدریں وہ انفرادیت رکھتی ہیں کہ کربلا اور حسینیت سے خصوصی تعلق پر دلیل بن جائیں تو یقین کیجئے یہ بڑا کام ہوا لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور فقط علامتیں ہی حسینیت سے ہمارے تعلق کی دلیل ٹھہریں تو سمجھ لیجیے کہ یہ بڑے غور و فکر کا مقام ہے۔

دوسری گزارش یہ ہے کہ ہم ہوش سنبھالنے سے اب تک ایک شعر خوب سنتے چلے آئے ہیں۔
در حسین پہ ملتے ہیں ہر خیال کے لوگ
یہ اتحاد کا مرکز ہے آدمی کے لئے

کیا ہی عمدہ شعر ہے۔ ہم نے عزاداری میں مختلف مذاہب کے لوگوں کو عقیدت سے شامل ہوتے دیکھا تو اس شعر کی سچائی پر ایمان بھی لے آئے، لیکن جب کچھ اور دیکھتے ہیں تو ذہن سوال کرنے لگتا ہے کہ کیا ہم واقعی حسینیت کو آدمیت کے اتحاد کا مرکز بنانا چاہتے ہیں؟

پوری آدمیت کی بات تو ابھی رہنے دیتے ہیں ذرا صرف سارے مسلمانوں کو ہی لے لیجیے۔ کیا آپ کو اس میں تضاد نظر نہیں آتا کہ ایک طرف ہماری تمنا ہے کہ ہر مسلک کا شخص ذکر حسین کی مجالس میں شریک ہو جبکہ ہمارے کچھ ذاکرین انہیں مجالس میں ایسی باتیں کرتے ہیں جو دوسرے مسلک کی دل آزاری کا سبب ہوتی ہیں؟

میں مان لیتا ہوں کہ ایسے ذاکرین کم ہیں جو کسی کی دل آزاری اور توہین کرنے والے مباحث چھیڑتے ہیں لیکن میرا پھر سوال ہوگا کہ کیا اتحاد آدمیت کا پلیٹ فارم ایسے ’کم‘ ذاکرین کو بھی گوارا کر سکتا ہے؟ ہم کہتے ہیں :

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

آپ ذرا پتہ کیجئے تو کھلے گا کہ ہر مسلک کا مسلمان ’ہمارے ہیں حسین‘ پکار رہا ہے لیکن جب وہ کوئی ایسی مجلس پائے گا جو برپا تو امام حسین کے نام پر ہوئی ہو لیکن اس میں اس کے مقدسات کے بارے میں ہلکی اور قابل اعتراض بات کی جا رہی ہو تو وہ کیا اثر قبول کرے گا؟ ایسی باتیں اسے اس قسم کی مجالس سے قریب کریں گی یا ردعمل کی نفسیات کے تحت وہ کسی اور سمت چلا جائے گا؟

یاد رکھئے ایسی کوئی بھی مجلس جہاں کسی کے مقدسات کی توہین اور دل آزاری ہو وہ پیغام حسینی کی توسیع نہیں بلکہ اس کو محدود کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس قسم کی باتیں کرنے والا کیسا بھی دھواں دار اور بلند گفتار ذاکر ہو، اسے ہم خطیب شعلہ بیاں تو کہہ سکتے ہیں پیغام حسینی کا امین نہیں مان سکتے۔ ایک بات رہی جاتی ہے وہ بھی کہنی ضروری ہے کہ کسی مجلس میں اس قسم کی گفتگو کرنے والا ذاکر ہی قابل گرفت نہیں بلکہ وہ لوگ بھی اس کے شریک کہلائیں گے جو اس مجلس میں موجود ہوں لیکن ایسی باتوں پر معترض نہ ہوں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 117 posts and counting.See all posts by malik-ashter

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments