کیا تاریخ میں واقعی ایسا ہوا تھا؟
شعبہ سیاسیات کا ادنی طالبعلم ہونے کی نسبت سے جہاں ہمیں تقابلی سیاسیات، بین الاقوامی تعلقات کے ساتھ دیگر مضامین پڑھنے کا موقع ملا وہی تاریخ پاکستان سے بھی شناسائی ہوئی۔ اس بات میں دو رائے نہیں کہ ہم جس تعلیمی نظام میں پروان چڑھ رہے ہیں وہ انگریزوں کا دیا ہوا وہ نظام ہے جو آج کی اس تغیراتی دنیا میں ناقابل قبول ہے اور فرسودہ ہو چکا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی 2016۔ 2017 رپورٹ کے مطابق پاکستانی تعلیمی نظام 61 سال پرانا ہے۔
سکول، کالجز اور جامعات میں تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے کی بجائے طالبعلم کے ذہن کو معلومات کا پنڈورا بکس بنایا جاتا ہے جو طالبعلم کے لیے وبال جان بن جاتا ہے۔ چونکہ جامعہ کے طلبہ ہونے کا زیادہ سے زیادہ فائدہ رہتا ہے ہے کہ اپنے ہم رفیق کے ساتھ بیٹھ کر پرانے اور نئے نظریات و خیالات کا تذکرہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی اثنا جامعہ کراچی اور جامعہ اردو کے چند طلبہ نے ایک اسے گروپ کی تشکیل دی ہے جہاں پہ مختلف پروفیسرز، طلبا و طالبات اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شرکت کرتے ہیں اور سیکھنے اور سکھانے کے عمل کو جاری رکھتے ہیں۔
سیکھنے اور سکھانے کے اس عمل کو جاری رکھتے ہوئے ایک اور نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں جامعہ کراچی کے سابقہ پروفیسر ڈاکٹر خورشید کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ پروگرام میں مختلف موضوعات پہ سیر حاصل گفتگو ہوئی مگر جس موضوع نے مجھے میرے جاہل ہونے کا احساس دلایا اس کا ذکر کرنا چاہوں گا کیونکہ اس موضوع کا بالواسطہ اور بلا واسطہ تعلق ہمارے تعلیمی نظام، علمی و فکری آزادی کے ساتھ ہے جو کہ ہمارے آج کا موضوع بھی ہے۔
ابتدا کچھ یوں ہے کہ ہمارے ایک دوست جو کہ تاریخ کے طالبعلم ہیں انہوں نے یوم دفاع کی اہمیت کو بیان کرتے اپنے جذبات کے ساتھ وہ سب کہہ ڈالا جو بچپن سے ہم مطالعہ پاکستان میں پڑھتے تھے۔ جذباتی ایمانی کی دلیل دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم نے دشمن کے دانت ایسے کھٹے کیے کہ انہوں نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا اور ہمیں جیت نصیب ہو گئی جس کی بدولت آج تک ہم 6 ستمبر کے اس پر مسرت دن کو جوش و خروش سے ”یوم دفاع“ کے طور پہ مناتے ہیں۔
یہ کہتے ہی ہمارے دوست نے اپنی گفتگو کو اختتام پذیر کر دیا۔ گفتگو کے اختتام پہ ڈاکٹر صاحب کے چہرے پہ ہلکی سے مسکراہٹ نمودار ہوئی جس نے مجھے ذہنی الجھن میں ڈال دیا۔ چند لمحے خاموشی کے بعد میں نے ڈاکٹر صاحب سے اس مسکان کی وجہ پوچھی جو مجھے سوئی کی طرح چھب رہی تھی۔ انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز پروفیسر جارج سنتیانا کے ان الفاظ سے کیا؛
”موجودہ تاریخ جھوٹے واقعات کا ایک ایسا پلندا ہے جس میں لوگوں نے ایسے واقعات بیان کیے ہیں جو کبھی رونما ہوئے ہی نہیں۔ تاریخ کو ہمیشہ سے غلط لکھا پڑھا اور سنایا گیا ہے، اسی لیے اسے دوبارہ لکھا جانا چاہیے“
یوم دفاع کے دن کی تاریخ بتانے سے پہلے ڈاکٹر صاحب نے حلفاً اقرار کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک محب وطن پاکستانی ہوں جس کے لیے پاکستان کی آن اور شان افضل ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں ہے کہ میں حقیقت سے منہ پھیر لوں۔ چونکہ میرا تعلق درس و تدریس سے ہے لہذا معلم ہونے کی نسبت سے مجھ پہ فرض ہے کہ نظریے کے دونوں کے پہلووں کو سامنے رکھوں اس کے بعد یہ قاری کا اختیار ہے کہ وہ کس کا انتخاب کرتا ہے۔
15اگست 1947 کو تقسیم ہند مکمل ہوا جس میں دو آزاد مملکتیں بنائی گئیں پاکستان اور انڈیا۔ بین الاقوامی طاقتوں کی مداخلت اور اندورنی انتظامی بگاڑ کی وجہ سے دونوں ممالک میں حالات آج تک سرد رہے ہیں اور اس قدر سرد کہ اب تک 4جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ آزادی کے بعد جس مسئلے نے دونوں ممالک کو حریف بنایا وہ مسئلہ کشمیر ہے جسے بین الاقوامی طاقت امریکا اور برطانیہ نے ایک ایسے منصوبے کے تحت ان دونوں ممالک کے درمیان قائم رکھا جس کا حاصل آج بھی کچھ نہیں جس کے حصول کے لیے دونوں ممالک نے 3 جنگیں لڑیں اور بے تحاشا انسانوں کو قتل کیا۔ لہذا اس مد میں ہی 1965 کی جنگ بھی لڑی گئی۔ چونکہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی نسبت سے جہاں پاکستان اسے اپنی شہ رگ سمجھتا ہے تو وہیں پہ انڈیا مہاراجا ہری سنگھ کے معاہدہ الحاق کے تحت اسے اٹوٹ انگ سمجھتے ہیں مگر یہاں یہ بات یاد رکھی جائے کہ ان دونوں ریاستوں کو کشمیر سے سروکار ہے نہ کہ کشمیریوں سے۔
نیوٹن کے قانون حرکت کے مطابق ”ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے“ اگر عمل ہی کا وجود نہ ہو تو رد عمل کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ریاست پاکستان نے شہ رگ کشمیر کو حاصل کرنے کے لیے اس وقت کے فیلڈ مارشل جنرل ایوب کے حکم کے کے مطابق اگست 1965 میں آپریشن جبرالٹر کا آغاز کیا جس کا بنیادی مقصد عسکریت پسندوں کے ذریعے کشمیروں میں انڈیا کے لیے بغاوت کی لہر کو ابھارنا تھا تاکہ موقع کو دیکھتے ہوئے کشمیر کو حاصل کیا جا سکے مگر مختلف وجوہات کی بنیاد پہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
اسی نسبت سے یکم ستمبر 1965 کو آپریشن گرینڈ سلم کیا گیا جس میں پاکستانی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے اکھنور پل پہ حملہ کیا جس کے کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہ آ سکے۔ متعدد بار حملہ آور ہونے والی ریاست پاکستان کو جواب دینے انڈیا 6 ستمبر 1965 کو لاہور سیالکوٹ اور سندھ کے راستے حملہ آور ہوا اور باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوا جو کہ سترہ دن تک جاری رہی اور آخر کار بغیر کسی حصول کے اقوام متحدہ کی دخل اندازی سے 22 ستمبر 1965 کو جنگ بندی کرا دی گئی اور آخر کار 10 جنوری 1966 کو تاشقند امن معاہدے پہ دونوں ریاستوں کے سربراہوں نے دستخط کر دیے اور اپنی اپنی فوج کے انخلا کو مستقبل میں بہتر تعلقات کو یقینی بنانے کے لیے آمادہ ہوئے۔
جب ڈاکٹر صاحب نے اپنی گفتگو اختتام پذیر کی تو اس وقت میں سکتے کی حالت میں تھا۔ چند لمحے بعد خود پہ اور اس نظام پہ افسوس کر رہا تھا کہ آنے والی نسلوں کو بھی وہی تاریخ پڑھائی جاتی رہے گی جس کا کوئی وجود ہی نہیں اور ان کی پرورش بھی ایسے ہی کی جائے گئی جہاں صرف ایک پہلو کو ہی علم کل اور حرف کل مان لیا جائے گا۔ ہم ابھی اسی کشمکش میں تھے کہ کیا کہا جائے کہ اچانک اسی مقرر دوست نے معصومانہ انداز میں خود کو لعن طعن کرتے ہوئے کہا کہ ”کیا ایسا بھی ہوا تھا؟”



Comments are closed.