یادوں کے ذرے

میں نے افسانے لکھے، ناول لکھے، مزاح لکھا، شاعری کی اور پھر خاکے بھی لکھ ڈالے پھر بھی کچھ نہ کچھ لکھنے سے رہ جاتا ہے اور ایسا بھی ہوا کہ بہت کچھ ڈائریوں میں لکھا رہ گیا۔ آصف فرخی نے ایک مرتبہ کہا کہ انھیں ڈائریوں میں لکھی ہوئی تحریروں سے دلچسپی ہے سو میں نے بہت سی چھوٹی موٹی چیزیں انھیں بھیج دیں جو دنیا زاد میں افسانچوں کے نام سے شائع بھی ہو گئیں۔

اب ڈائریوں کے علاوہ بھی کچھ باتیں یاداشت میں ہیں جو مجھے وقتاً فوقتاً اپنے ہونے کا احساس دلاتی رہتی ہیں۔ یہ باتیں کم ہی کسی سے گفتگو میں کہی گئی ہیں آج سوچا انھیں بھی پڑھنے والوں کو بتا دوں شاید کسی کو دلچسپی ہو۔

ان میں سے ایک یہ ہے کہ 1950 میں ہمارے والد منٹگمری میں تعینات تھے اور میں میٹرک کا امتحان دے رہی تھی اس وقت میں افسانے لکھنا شروع کرچکی تھی اور میرا بھائی نعیم احمد میری تحریروں میں دلچسپی لیتا تھا جو خود اسکول کی چھٹی ساتویں کلاس میں تھا۔ ایک دن یہ حضرت ایک پرچہ ”سات رنگ“ لے کر آئے اور مجھ سے کہا کہ اس میں لکھیے۔ اس پرچے کو منیر نیازی ایڈٹ کرتے تھے جو نعیم کی معلومات کے مطابق خود کالج کے ابتدائی کلاسوں میں تھے۔

میں نے ایک انگریزی کہانی کا ترجمہ کر کے دے دیا جو سات رنگ میں چھپ گیا۔ اس کہانی کا نام اب مجھے یاد نہیں۔ اس طرح میرے بھائی کا منیر نیازی سے رابطہ ہو گیا اور انھیں یہ معلوم ہو گیا کہ اس کی بہن کچھ لکھتی لکھاتی ہے اور میں اس پرچے کو بھائی کے ہاتھوں کچھ نہ کچھ بھیجتی رہی۔ منیر نیازی سے میرا براہ راست رابطہ نہ کبھی خط کے ذریعہ ہوا نہ کبھی آمنا سامنا ہوا۔ ہاں ایک اور بات کہ میں نے ان دنوں جو کچھ لکھا وہ رضیہ وقیع کے نام سے چھپا۔

خیر ان ہی دنوں منیر نیازی کی ایک نظم منٹگمری شہر کے بارے میں چھپی۔ ویسے تو ان کی نظموں کے عنوان ہی خاصے طویل ہوتے ہیں مگر اس نظم کا ایک مصرعہ میرے ذہن میں اب تک چپکا ہوا ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ ان کے بے شمار مداحوں میں سے کسی کو اس طویل مصرعے کا علم ہے یا نہیں۔ وہ مصرعہ یہ ہے۔

سلیٹی شامیں بلند پیڑوں پہ غل مچاتے سیاہ کوؤں کے قافلوں سے اٹی ہوئی ہیں۔

جس کسی نے اس زمانے کی اس شہر کی شامیں دیکھی ہیں وہ گواہی دے گا کہ یہ مصرعہ نہیں بلکہ وہاں کی شاموں کی عکسی تصویر ہے۔ جھٹپٹے کے وقت وہاں کائیں کائیں کرتے کوے ہجوم در ہجوم آن کر درختوں پر بیٹھتے تھے کہ درخت سیاہ ہو جاتے تھے۔

اسی زمانے سے کسی حد تک متعلق دوسرا واقعہ یہ ہے کہ اسلام آباد کی اردو کانفرنس میں ایک شام بہت سے لکھنے والے لابی میں ایک دائرے میں بیٹھے تھے کہ منیر نیازی کہیں باہر سے آئے۔ انھیں دیکھ کر سب کو ہی محسوس ہوا کہ پی کر آئے ہیں۔

بہت سے لوگوں کو بیٹھا دیکھ کر وہ اسی طرف چلے آئے اور بزرگ افسانہ نگار ابوالفضل صدیقی صاحب کی ٹھوڑی میں ہاتھ ڈال کر بار بار کہتے رہے۔ یہ بڑا بیبا آدمی ہے۔ صدیقی صاحب نروس تو ہوئے مگر کچھ بولے نہیں، چپ چاپ بیٹھے رہے۔ پھر وہ جمیلہ ہاشمی کے پاس گئے اور کچھ ایسی بات کہی جو مجھے لفظ بلفظ یاد نہیں مگر مطلب یہ تھا کہ یہ بڑے زمیندار کی بیوی ہے۔ پھر میرے پاس آئے، میں گھبرائی کہ خدا معلوم میرے بارے میں کیا کہیں گے۔ انھوں نے کہا۔ یہ پہلے رضیہ وقیع کے نام سے لکھتی تھی اور اس کے والد ریلوے میں افسر تھے۔ مجھے تعجب ہوا کیونکہ میں نے کبھی کسی کے سامنے یہ بات صاف نہیں کی تھی کہ میں شروع میں کس نام سے لکھتی تھی بس شادی کے بعد نام بدل کر بھیجتی رہی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جب میں نے ادب لطیف میں لکھنا شروع کیا تو میرزا ادیب نے مجھے خط میں لکھا ”اپنا نام بدلیے۔ رضیہ وقیع تو کچھ رضیہ واقعی سا لگتا ہے۔ ”میرزا ادیب وہ واحد ادیب تھے جو لاہور میں 1954 / 55 میں میرے گھر آن کر مجھ سے ملے۔ پچھلے چند سال سے میں ادب لطیف میں لکھ رہی تھی۔

خیر، اس واقعہ کے دوسرے دن لان میں لنچ پر میں نے منیر نیازی سے پوچھا مجھے ایک بات بتائیے کہ شراب کے نشے میں آدمی جو بات کہتا ہے کیا اسے بعد میں یاد رہتی ہے۔ منیر نیازی ایک دم گھبرا گئے۔ بولے کیا کل رات میں نے بہت بد تمیزی کی۔ میں نے کہا نہیں، میں ویسے ہی پوچھ رہی ہوں مجھے تجسس رہتا ہے۔ بولے ہاں کچھ دھندلا سا یاد رہ جاتا ہے۔ مثلاً کل بہت لوگ باہر بیٹھے تھے، شاید میں نے کوئی بات وات کی ہو۔

کانفرنس کے بعد ان کی کسی اور شہر میں مشاعرے کی دعوت تھی۔ انھوں نے مجھ سے ساتھ چلنے کو کہا مگر میں نے معذرت کرلی۔

پھر بہت عرصے بعد کراچی میں ان سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے ایک مرتبہ میرے ساتھ عجب واقعہ ہوا میں اپنا نام بھول گیا۔ اب میں پریشان ہو کر پرانے رسالے دیکھوں کہ شاید کوئی تصویر ملے جس کے نیچے میرا نام لکھا ہو۔ پھر میں باہر نکل گیا کہ شاید کوئی پڑوسی مجھے نام سے پکارے۔ اس وقت مجھے خیال آیا کہ گھر کے باہر نام کی تختی ہونا ضروری ہے۔

بات ختم ہو گئی۔ مگر شاید میرے ذہن میں اس بات کا اتنا اثر ہوا کہ اسی دن ”میں کون ہوں“ کے عنوان سے ایک افسانہ میں نے لکھ ڈالا۔ دوسرے دن منیر نیازی سے ملاقات ہوئی تو میں نے بہت مسرور ہو کر یہ بات انھیں بتائی اور سوچا کہ وہ یہ سن کر خوش ہوں گے۔ مگر وہ بولے ”اللہ آپ لوگوں سے بچائے، ہر بات کا افسانہ بنا لیتے ہیں۔“

لڑکپن کے زمانے کی ایک اور بات یاد آتی ہے۔ بچوں کے کسی رسالے میں ایک قطعہ چھپا جو یقیناً کسی بچے کا نہیں ہو سکتا ۔ وہ قطعہ یہ تھا
اب میں ہرگز دعا نہ مانگوں گا
یہ دعائیں فضول ہوتی ہیں
عمر بھر مانگتے رہو لیکن
شاذ و نادر قبول ہوتی ہیں

اس قطعے کے نیچے کوئی نام بھی تھا۔ میں نے بہت سے شاعروں سے پوچھا کہ یہ آپ کا قطعہ تو نہیں مگر اب تک شاعر کا نام معلوم نہیں ہوسکا اور نامعلوم کیوں مجھے اب تک اس بات کی کھوج ہے کہ یہ کس شاعر کا قطعہ ہے اور یہ بچوں کے رسالے میں کیوں شائع ہوا۔ شاید اس شاعر کے نام کا اب کوئی سراغ مل سکے۔

تقریباً اسی زمانے کی ایک اور بات یاد آتی ہے۔ میں نے بچوں کی جو کہانیاں پچھلے دو سال میں لکھی تھیں وہ فیروز سنز نے 1951 میں ”آنکھ مچولی“ کے نام سے کتابی شکل میں شائع کیں اور اس وقت مجھے سو روپے بطور رائلٹی دیے۔ ہمارے والد کو اس بات پر تعجب ہوا کہ جو لڑکی انٹرمیڈیٹ کے امتحان کی تیاری کر رہی ہے اس کی کتاب ایک بڑا ادارہ چھاپنے کو تیار ہے۔ بہر حال وہ کتاب چھپی۔ اس کی کچھ کاپیاں ملیں جو سب بٹ بٹا گئیں۔ اب مجھے شوق ہوتا ہے کہ دیکھوں اس وقت کیا لکھا تھا تو کوئی ایک کاپی کہیں دستیاب نہیں۔ نہ اس کا پہلا مسودہ میرے پاس ہے نہ فیروز سنز کے پاس۔ مجھے چند کہا نیوں کے پلاٹ یاد ہیں جن میں سے ایک کہانی کا پلاٹ وہی تھا جس پر ایک فلم حال میں امریکہ میں بنی ہے کہ اسمتھ سونین میوزیم کے کردار زندہ ہو جاتے ہیں۔ میری کہانی میں رات کو کھلونے زندہ ہو جاتے تھے جیسے گڑیاں زندہ ہوجاتی تھیں اور چائے وغیرہ بنا کر پیتی تھیں۔
ایک سچی کہانی تھی جو میرے بھائی کی شرارت پر مبنی تھی اور اس کا عنوان تھا ”یہ بھائی۔“

ایک اور کہانی میں بچے نہر کے کنارے جگنو پکڑ کر اپنے اپنے غباروں میں ڈالتے تھے اور رنگین روشنیوں سے لطف لیتے تھے۔ باقی کی کہانیاں یاد نہیں۔ اب میرے بہن بھائی بھی اس کتاب کی تلاش میں ہیں۔ اگر اتفاق سے کسی صاحب یا صاحبہ کے پاس اس کا کوئی نسخہ ہویا کسی جگہ سے دستیاب ہو سکنے کا علم ہو تو مجھے مطلع فرمائیں۔

اسی زمانے میں ایک کہانی پر بچوں کے کسی رسالے پر مجھے انعام ملا تھا اور رسالے نے اس کہانی کو کتابی شکل میں شائع کیا تھا۔ وہ کتاب بھی زندگی اور یاد داشت کے کسی بہت دور کے کونے میں جا پڑی، یہی تجسس ہے کہ آخر لکھا کیا تھا۔

ایک بات اور یاد آئی۔ یہ غالباً 1962 کی بات ہے۔ آبلہ پا 1961 میں شروع کیا تھا اور اب ختم کرنے کے بعد اسے چھپوانے کا مسئلہ تھا۔ میری کتاب آنکھ مچولی فیروز سنز نے 1951 میں چھاپی تھی۔ اس لئے مجھے اسی کا خیال آیا اور میں نے وہ کتاب فیروز سنز کو بھیج دی۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اسے کون دیکھے گا، کون پڑھے گا۔ ان دنوں ہم رسالپور چھاؤنی میں رہتے تھے۔ میرے پاس سبط حسن صاحب کا خط آیا جو ان دنوں شاید وہاں ایڈیٹنگ کرتے ہوں۔ انھوں نے لکھا کہ ان دنوں ادارہ صرف درسی کتابیں چھاپ رہا ہے اس لئے یہ ناول نہیں چھاپ سکتے۔ اس کے ساتھ یہ بھی لکھا کہ کاش یہ ناول میں خود چھاپ سکتا۔ (کاش میں نے یہ خط رکھا ہوتا۔ اس وقت یہ دھیان نہیں تھا) اس ناول کے آنے جانے میں شاید دو ایک مرتبہ ان سے خط و کتابت ہوئی ہوگی کہ ایک سنہری شام ایک سفید پوش ہمارے گھر وارد ہوئے اور اردلی سے فرمایا کہ وہ بیگم سے ملنا چاہتے ہیں۔میرے لئے وہ بالکل اجنبی تھے۔ میں نے ان سے پوچھا آپ کو مجھ سے کیا کام ہے تو لگے میری تحریر کے بارے میں الٹے پلٹے سوال کرنے۔

میں نے ذرا بگڑ کر پوچھا کہ صاف بات کیجئے آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ اس پر وہ ذرا خفیف ہو کر بولے کہ آپ کی سبط حسن سے خط و کتابت ہے اسی سلسلے میں آیا ہوں۔ میں نے کہا اگر آپ کو یہ معلوم ہے کہ میری ان سے خط و کتابت ہے تو آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ وہ کس سلسلے میں تھی اور کتنے خط انھوں نے یا میں نے لکھے ہیں۔ اس پر وہ کچھ شرمندہ ہو کر اوپر سے آرڈر وغیرہ کا ذکر کرنے لگے اور کچھ افسانے اپنے پڑھنے کے لئے مانگے جو میں نے ان سے واپسی کے مطالبے کے ساتھ دے دیے۔

ان میں ایک افسانہ موڑ تھا جس میں ایک لڑکی کسی مرد کے ساتھ بھاگتی ہے اور وہ گاڑی خراب ہونے کا اور اسے ٹھیک کروانے کا بہانہ کر کے، لڑکی کو چھوڑ کر اور سارا زیور لے کر فرار ہو جاتا ہے۔ جب وہ لڑکی ایک پولیس والے سے رجوع کرتی ہے اور اپنی قیمتی گھڑی بطور رشوت اسے دیتی ہے تو وہ گھڑی لینے کے بجائے اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے۔ جب وہ افسانے مجھے واپس ملے تو اس افسانے کے اس آخری سطر کو انڈر لائن کر دیا گیا تھا۔ کس نے کیا تھا اور کیوں مجھے پتہ نہیں چلا مگر وہ آج تک میرے مجموعے میں بھی اسی طرح ہے۔

1990 میں دلی جانا ہوا۔ مشفق خواجہ صاحب نے از راہ دوستی وہاں چند احباب کو ہمارے آنے کی اطلاع دی جس کی وجہ سے ہر جگہ ہماری غیر معمولی پذیرائی ہوئی۔ اس سے پہلے آمنہ مشفق اور ہم اکٹھے بھارت جانے کا پروگرام بنا رہے تھے۔ ہم تو نہ جا سکے مگر وہ میاں بیوی ہو آئے اور وہاں کے شاندار استقبال کے قصے سنائے۔ بہر حال ہمیں خلیق انجم صاحب ائر پورٹ پر لینے آئے اور جہاز لیٹ ہونے کی وجہ سے رات کئی گھنٹے ٹھہرے رہے۔ ان کا بیٹا غریب بھی اس نا انصافی کا شکار ہوا جس میں ہمارا کوئی قصور نہیں تھا۔ بہر حال شرمندہ تو ہم ہی ہوئے اور ہوتے رہے۔ جس وقت اپنے ٹھکانے پر پہنچے جو غالب گھر کا مہمان خانہ تھا تو صبح ہو رہی تھی اور نزدیک کے گردوارے میں لوگ صبح کی کیرتن کے لئے جمع ہو رہے تھے۔

وہاں چند دن بہت آرام سے گزرے۔ ان دنوں دلی میں ہنگامے ہو رہے تھے۔ کمسن بچے جسموں کو آگ لگا کر جل مر رہے تھے۔ ان ہنگاموں اور جلوسوں سے بچا کر خلیق انجم صاحب نے ساتوں دلیوں کی سیر کرائی۔ وہ خود آثار قدیمہ پر تحقیق کے بعد کتاب لکھ رہے تھے۔ ان کی وسیع معلومات کا کیا کہنا۔ سارے پرانے قلعے دکھائے۔ بلبن کا مزار اور وہ لائبریری جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کی سیڑھیوں سے گرنے پر شیرشاہ سوری کا انتقال ہوا تھا۔ خلیق انجم کی تحقیق کے مطابق یہ بات صحیح نہیں تھی۔

جس دن انجمن کے دفتر میں ہمارے اعزاز میں تقریب تھی بسوں کی ہڑتال تھی پھر بھی کچھ لوگ جمع ہو گئے۔ قرۃالعین حیدر بھی پارلیمنٹ کے ممبر قریشی صاحب کے ساتھ آ گئیں۔ کچھ مولوی قسم کے حضرات بھی تھے۔ ابھی تقریب شروع نہیں ہوئی تھی کہ میں نے سنا، خلیق انجم صاحب کہہ رہے ہیں۔ شادی ہمیشہ ہندو عورت سے کرنی چاہیے کہ وہ پتی ورتا ہوتی ہے۔ اس کا مذہب اسے سکھاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ میں ڈری کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں یہ مولوی لوگ ابھی جوابی کارروائی شروع کردیں گے مگر میں نے دیکھا کہ سب خاموش رہے اور کسی قسم کی بدمزگی نہیں ہوئی۔ شاید ان صاحبان کو معلوم ہو کہ وہ اس طرح کی باتیں کیا کرتے ہیں۔

تقریب اچھی خاصی رہی۔ قرۃالعین کے ہاتھوں انجمن کی شائع شدہ کتابیں ہمیں ملیں اور تصویریں بھی کھینچیں۔ ایک دن اور انجمن جانا ہوا تو میں نے خلیق انجم کو بتایا کہ میرے ناول آبلہ پا کا ترجمہ پاؤں کے چھالے کے نام سے ہوا ہے اور الہ باد کے کسی پبلشر نے اسے چھاپا ہے۔ نام اس وقت یاد تھا اب یاد نہیں۔ شاید نریاب یا ایسا ہی کچھ تھا۔

خلیق انجم نے کہا ارے یہ تو اپندر ناتھ اشک کے بیٹے کا پبلشنگ ہاؤس ہے میں اس سے ابھی بات کرتا ہوں۔ انھوں نے میرے سامنے بات کی کہ بھئی رضیہ فصیح احمد آئی ہوئی ہیں۔ تم نے ان کا ناول چھاپا ہے پیسے انھیں بھجواؤ۔ فون رکھ کر انھوں نے مجھ سے کہا۔ وہ کہہ رہا ہے کہ آج چیک آپ کو بھجوائے دیتا ہوں۔ اس کے بعد ہم کئی دن وہاں رہے مگر کوئی چیک آج تک موصول نہیں ہوا۔

ایک رات ہم نے خلیق انجم صاحب کے گھر بھی قیام کیا۔ صبح ان کی بیگم مجھے نزدیک کے مندر میں پانی لانے کے لیے ساتھ لے گئیں۔ اس مندر کے نل میں دریائے گنگا کا پانی آ تا تھا اور ان کے گھر میں یہی پانی پیا جاتا تھا۔ گھر کے نلوں میں دریائے جمنا کا پانی آتا تھا۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ گنگا کا پانی میٹھا اور جمنا کا پانی کھاری ہے۔

وہاں سے علی گڑھ گئے۔ گاڑی چار گھنٹے لیٹ تھی اس لئے یونیورسٹی کے اردو کے احباب جو ہمیں لینے آئے تھے لوٹ گئے، لیکن مشفق خواجہ نے جن پروفیسر کو خط لکھ دیا تھا وہ موجود تھے۔ ان کے گھر رات کے کھانے کے بعد اس گھر میں آئے جہاں انھوں نے ٹھہرنے کا انتظام کیا تھا۔

صبح علی گڑھ کی سیر کو نکلے۔ فصیح کا خیال تھا کہ علی گڑھ میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی، چند فیکلٹیز کا اضافہ ہو گیا ہے۔ مجھے اسٹریچی ہال دیکھنے کا بڑا شوق تھا جس میں بہت مشہور جلسے اور مشاعرے ہوئے تھے۔ اس کا ذکر بطور خاص رشید احمد صدیقی کے مضامین میں پڑھا تھا اور یوں بھی ہر علی گڑھ کے لڑکے اور لڑکی کے منھ سے سنا تھا۔ اس کو دیکھ کر مایوسی ہوئی۔ ہمارے ذہن میں بہت کشادہ اور خوبصورت تھا مگر دیکھنے میں بہت چھوٹا سا لگا، اور اب اسے ریٹائر کر دیا گیا تھا اس لئے اس میں کاٹھ کباڑ پڑا تھا کیونکہ اس کی جگہ نیا ہال تعمیر ہو گیا تھا۔ فصیح نے خاص طور سے اپنا انجینئرنگ کالج دکھایا۔ وہاں سجاوٹ ہو ر ہی تھی، بتیاں لگائی جا رہی تھیں۔ معلوم ہوا کہ اولڈ بوائز کی ری یونین ہے۔ میں نے فصیح سے کہا کہ تم بھی تو بہت پرانے ”اولڈ بوائے“ ہو، ان کو سرپرائز دو، مگر وہ راضی نہ ہوئے۔

ہمارے میزبان آئے اور ہم سے کہا کہ وہ ہمیں آل احمد سرور صاحب اور قاضی عبدالغفار صاحب سے ملوانے لے کر چلیں گے۔ ہم نے پوچھا کیا انھیں فون کر دیا ہے انھوں نے کہا۔ یہاں فون کرنے کا طریقہ نہیں ہے، سوائے چند لوگوں کے ہر ایک کے پاس فون نہیں ہے۔ ملنے جاتے ہیں مل گئے تو خیر صلیٰ، نہیں ملے تو واپس آ جائیں گے۔

افسوس کہ سرور صاحب کے گھر میں تالا لگا ہوا تھا اور قاضی صاحب کے گھر اندھیرا تھا۔ کچھ آوازیں اندر سے آ رہی تھیں۔ ان کو سن کر ہمارے میزبان اور بھی تیزی سے لوٹنے پر آمادہ ہو گئے۔ ہمارا قیام اتنا مختصر تھا کہ دوبارہ ملنے کی کوشش بھی نہ کر سکے۔

بھارت جاکر تاج محل نہ دیکھنا ناممکن ہے۔ ہم آگرہ گئے اور تاج محل دیکھنے کا خواب پورا کرتے ہوئے اورنگ آباد کے اجنٹا ایلورا کے حیران کن ہال (میرے خیال میں ان کو غار کہنا بالکل غلط ہے) دیکھتے ہوئے بمبئی پہنچے۔ بمبئی میں یوسف ناظم صاحب نے با اصرار اپنے گھر ٹھہرایا گو کہ ان کے گھر میں خاصے لوگ تھے مگر انھوں نے ایسی بات کہی کہ ہمیں رہنا ہی پڑا۔ انھوں نے کہا اگر یہاں کوئی تکلیف ہو تو بتائیے گا ہم آپ کا انتظام کہیں اور کر دیں گے۔

ان کے ہاں بہت آرام اور بے تکلفی سے گھر کے افراد کی طرح رہے۔ ہمارے اعزاز میں ایک گھر میں بڑے اہتمام کا جلسہ ہوا۔ ان کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ وہ صاحب ہندو تھے اور ان کے گھر میں ایک ایسا ہال خاص طور سے بنوایا گیا تھا کہ وہاں جلسے ہو سکیں۔ صاحب خانہ کی بیگم نے اپنا گھر مجھے دکھایا اور کہا کہ اگلی مرتبہ جب آپ آئیں گی تو ہمارے ہاں ٹھہریں گی۔ ناشتہ اور رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیں گی۔ دن میں آپ کو سیر تفریح کے لئے جانے کی اجازت ہوگی۔ ان کی یہ بات آج تک یاد ہے۔ افسوس کہ اس کے بعد اب تک جانا نہ ہوسکا۔

اس تقریب میں بہت سے ادیبوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک صاحب نے میرے ہڑپہ کے پس منظر میں لکھے ہوئے افسانے ٹھیکریوں کا شہر کا ذکر کیا جو ان کے پاس موجود تھا مگر میرے پاس نہیں تھا اور میں اسے تقریباً بھول چکی تھی۔ اخترالایمان صاحب بھی ملے۔ دوسرے دن صبح سویرے ٹہلنے نکلے تو از راہ عنایت اپنی کتاب میرے لئے یوسف ناظم صاحب کو دیتے چلے گئے۔

یوسف ناظم صاحب ہمیں عصمت آپا سے ملوانے بھی لے گئے۔ اس ملاقات کا ذکر بھی میں ان کے خاکے میں کرچکی ہوں۔ بہرحال اچھا، یادگار ٹرپ رہا۔ بھارت میں تصویریں بھی کھینچی گئیں۔ کچھ کتابیں اور تصویریں بھی لائی لیکن سفر نامہ نہیں لکھ پائی۔ اب اپنی یادوں کے کچھ ذرے یہاں پیش کر رہی ہوں۔

1975 میں جب چھاؤنیاں چھوڑ کر کراچی آن بسے تو جہاں اور ادیبوں سے ملاقات ہوئی وہاں کمانڈر انور بھی ملے جن کے افسانے میں پڑھ چکی تھی۔ ان کے افسانے صرف انور کے نام سے چھپتے تھے۔ وہ غالباً رائٹرز گلد کے فعال ممبر تھے۔ ہم قلم میں میرے افسانے شائع ہوئے تو انھوں نے مجھے خط لکھا کہ ایک رضیہ بھابی کو ہم بمبئی میں چھوڑ آئے مگر ہمیں یہاں رضیہ بھابی مل گئیں۔

کراچی آنے کے بعد رائٹرز گلڈ کا الیکشن ہوا تو ہم دونوں ایک ہی پینل میں تھے۔ میرا مضمون ”قصہ ہمارے الیکشن ہارنے کا ”کا اسی زمانے میں جنگ اخبار میں چھپا تھا۔ ہم نے ان کے بیٹے کی شادی میں بھی شرکت کی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد مجھے یہ افسوس رہا کہ وہ میرا ناول صدیوں کی زنجیر خواہش کے باوجود نہ پڑھ سکے۔

یاد آتا ہے کہ ایک مرتبہ ہم حلقۂ ارباب ذوق کے جلسے میں بھی شریک ہوئے۔ ان دنوں علامتی اور تجریدی افسانے لکھنے کا زور تھا اور ہر ایسے افسانے کی بے حد تعریف ہو رہی تھی۔ میں نے کہا کہ میں تجریدی پینٹنگ بھی پسند کرتی ہوں لیکن جس طرح ہر تجریدی پینٹنگ شاہکار نہیں ہوتی اس لئے ہر تجریدی افسانہ شاہکار نہیں ہو سکتا ۔ مگر میری بات کو خاص اہمیت نہیں دی گئی۔

مجھے یہ سوچ کر رنج ہوتا ہے کہ اب کمانڈر انور کا اور ان کے افسانوں کا کہیں ذکر نہیں ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words