مہاجرین معنی مشکل

شوق آوارگی انسان کو زندگی کے نئے تجربات اور احساسات سے روشناس کراتی ہے جس کو پانا ہر فرد کی خواہش ہوتی ہے۔ یہ احساسات و تجربات جہاں آپ کو زندگی کی نئی منزلوں کی خوشیاں بخشتی ہیں تو وہی چند لمحات ایسے بھی عطا کرتی ہے جو آپ کی زندگی میں اس قدر گہرے نقوش رقم کر دیتی ہیں وہ آپ کی زندگی کا لازمی جُز بن جاتے ہیں جن سے پیچھا چھڑانا ایسے جیسے موت سے پیچھا چڑھانا،

Read more

افغان کتھا : قسط 02

پاکستان کی جانب طورخم باڈر پہنچنے کے بعد لگ بھگ تین منٹ کی مسافت طے کرنے کے بعد آپ ایک ایسی گلی میں داخل ہوتے ہیں جہاں دونوں اطراف کانٹے دار تاروں سے آپ کا سواگت کیا جاتا ہے۔ باڈر کے اندرونی حصے میں داخل ہونے کے بعد آپ کے پاسپورٹ اور ابتدائی طور پر آپ کے سامان کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ اس مختصر جانچ پڑتال کے بعد اگر آپ افغانی ہیں تو آپ سے کوئی پوچھ گچھ

Read more

افغان کتھا قسط 01

کتاب نکلے تیری تلاش میں مصنف مستنصر حسین تارڑ لکھتے ہیں کی ایک دفعہ دوران سفر میرے والدین نے مجھ سے پوچھا کہ بیٹا تم ایک جگہ پر کیوں نہیں ٹکتے؟ کیا یوں ہی عمر بھر سفر میں گزارو گے؟ یہ سوال سن کر میں نے اپنے والدین کی طرف دیکھا اور ان کو معصومانہ لہجے میں گزارش کی کہ سفر آوارگی ہی میری زندگی ہے اور یہ اب میرے خمیر میں سما چکا ہے۔ سفر انسان کو بہت کچھ

Read more

کتاب اور کیبن کریو

کتابوں کے حوالے سے بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے ہماری نظر میں بعض کتابوں کے عنوانات اس قدر معنی خیز ہوتے ہیں کہ انہیں پڑھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور بعض کتابوں کے عنوانات کو دیکھ کر ہم پہلے سے ہی فیصلہ کر لیتے ہیں کہ کتاب میں کیا درج ہو گا۔ اب یوں کرنا صحیح ہے یا غلط اس کا فیصلہ قاری پہ رکھا جاتا ہے۔ ہم خود بعض کتابوں کو دیکھ کر اپنے آپ کو

Read more

فلاحی ادارے یا سیاسی سہولت کار

پشتو کی ایک کہاوت ہے ”دا چا پہ شر کی دا چا خیر یی۔“ جس کا ترجمہ ہے کہ ”کسی کے شر میں کسی کی خیر ہوتی ہے“ 2022 کو آنے والے سیلاب نے نے جہاں عوام کی کمر توڑ دی وہی پہ حکومت کو بیساکھیوں کی مانند سہارا بھی دے دیا۔ کیونکہ سیلاب سے قبل تمام بین الاقوامی فلاحی ادارے اپنا بوری بسترا سمیٹ کر اس ملک سے دلہن کی طرح رخصتی حاصل کر رہے تھے مگر سیلاب کی

Read more

سیلاب اور سیاست سے رشتہ؟

ہم نے سیلاب کو موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ قدرت کے کھاتے میں ڈال رکھا ہے کہ یہ سب کچھ جو بھی ہو رہا ہے قدرتی آفات ہیں۔ جس کی وجہ سے ہر سال آنے والا سیلاب نہ صرف املاک کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ قیمتی انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ خوبصورت خوابوں کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال مون سون کے مہینے میں ہمیں دل سوز خبریں سننے کو ملتی ہیں

Read more

پہاڑوں کی طرح سوچیں

کوہ ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم کے سنگم میں رہنے والے وہ لوگ جو کہ شنا، بلتی، بروشسکی، کھوار، وخی اور دیگر علاقائی زبانیں بولتے ہیں ان کی پہچان کا پیمانہ گلگت بلتستان ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ خطہ مختلف تہذیبوں خاص طور پر بروشال، دردستان اور بلورستاں کا حصہ رہا ہے۔ یکم نومبر 1947 سے اب تک اس خطے کے فیصلے ہمیشہ مقتدر طاقتیں اور غیر مقامی لوگ ہی کرتے آئے ہیں کیونکہ اس خطے کے حقوق کے لیے آواز

Read more

کیا تاریخ میں واقعی ایسا ہوا تھا؟

شعبہ سیاسیات کا ادنی طالبعلم ہونے کی نسبت سے جہاں ہمیں تقابلی سیاسیات، بین الاقوامی تعلقات کے ساتھ دیگر مضامین پڑھنے کا موقع ملا وہی تاریخ پاکستان سے بھی شناسائی ہوئی۔ اس بات میں دو رائے نہیں کہ ہم جس تعلیمی نظام میں پروان چڑھ رہے ہیں وہ انگریزوں کا دیا ہوا وہ نظام ہے جو آج کی اس تغیراتی دنیا میں ناقابل قبول ہے اور فرسودہ ہو چکا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی 2016۔ 2017 رپورٹ کے مطابق پاکستانی

Read more

بنجر اور زرخیز زمین

یہ کہانی ہے گل خان کی ایک ایسے انسان کی جسے بہتر مستقبل کی تلاش اپنے آبائی علاقے سے دور لے گئی۔ سنہ 1998 میں اپنے گاؤں سے نکلنے والے گل خان کو اس بات کا ذرا بھی علم نہ تھا کہ آیا وہ گاؤں سے نکلنے کے بعد کیا کرے گا نہ اس کے پاس کوئی ہنر تھا نہ کوئی تعلیم۔ مگر خود پہ بھروسا کر کے نکلنے والے گل خان نے نتائج کی فکر کیے بغیر قدم اٹھانا

Read more

غیر قانونی مگر جائز؟

گلگت بلتستان کا نام سنتے ہی ذہن میں قدرت کے شاہکاروں کا ایک نقشہ سا کھنچ جاتا ہے جس کا تصور کرنا، تصور بہشت سے کہیں کم نہیں! جہاں لوگ اس کے قدرتی حسن اور مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہیں اس کے باسیوں میں ایک طرح کا خلاء پایا جاتا ہے جسے تشخص کا خلاء کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ جہاں اس خطے کو اپنی قدرتی حسن کی بدولت دنیا میں ایک مقام حاصل ہے وہی پہ

Read more

غیر قانونی مگر جائز؟

گلگت بلتستان کا نام سنتے ہی ذہن میں قدرت کے شاہکاروں کا ایک نقشہ سا کھنچ جاتا ہے جس کا تصور کرنا، تصور بہشت سے کہیں کم نہیں! جہاں لوگ اس کے قدرتی حسن اور مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہیں اس کے باسیوں میں ایک طرح کا خلاء پایا جاتا ہے جسے تشخص کا خلاء کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ جہاں اس خطے کو اپنی قدرتی حسن کی بدولت دنیا میں ایک مقام حاصل ہے وہی پہ

Read more

نہ ختم ہونے والی وبا؟

سوچ رہا تھا کہ اس عنوان کی تمہید کیسے باندھی جائے ابھی تک اس ذہنی کشمکش میں مبتلا تھا ہی خیال آیا کہ جس عنوان کا مضمون ہی انسان ہو اس عنوان کو تمہید کی کیا ضرورت۔ چونکہ تاریخی اعتبار سے انسان ایک پیچیدہ عنوان رہا ہے اور ماضی میں بے شمار مسائل سے دو چار ہوا ہے اور اس کے مجموعی حل کے لیے کبھی امید تو کبھی نا امیدی کے ساتھ ہمت تو باندھی ہی ہے مگر ہمیشہ

Read more