ہیرو مت بنیں!

افغانستان میں افغان طالبان نے جس سرعت سے کامیابی حاصل کی ہے اسی سرعت سے وہ اپنی قیادت کو بھی سامنے لے آتے تو یہ افغان عوام اور دنیا کے لئے بہتر ہوتا کہ وہ افغان طالبان کی جانب سے اختیار کی جانے والی ممکنہ پالیسیوں اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والے اثرات کا تجزیہ کر پاتے۔ بہر حال تا ہنوز تو پردہ اٹھنے کو منتظر ہے نگاہ، مگر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اشرف غنی کے فرار سے لے کر ان سطور کی تحریر ہونے کے وقت تک افغان طالبان نے ماضی کی نسبت بہت ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کر رکھا ہے۔

افغانستان کے جھنڈے اور دیگر چند مخصوص واقعات سے صرف نظر کرتے ہوئے امید کی جانی چاہیے کہ وہ اسی روش کو جاری رکھیں گے اور دنیا بہر حال امید پر ہی قائم ہے۔ مگر امید رکھنے کا یہ مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ وطن عزیز کے ارباب اختیار قبل از وقت ایسے بیانات داغنے کی جانب چل پڑے جس کے بعد انہیں بیانات سے ہمیں خود بھی داغا جا سکتا ہو۔ عمران خان کا افغان طالبان کی کامیابی پر بیان اسی نوعیت کا بیان ہے جو قبل از وقت اور کوتاہ فہمی پر دلالت کرتا ہے۔

ایسے کسی ردعمل کے لیے ضروری تھا اور ہے کہ کم ازکم افغان طالبان کی قیادت کا تو منظر عام پر آنے کا انتظار کر لیا جاتا۔ وہ کس نوعیت کا سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ متعارف کروائے گے اس کا تو انتظار کر لیا جاتا۔ مگر بدقسمتی سے ہر بات میں لب کشائی کرنا اور ہیرو بننے کی خواہش عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے ساتھ ساتھ تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا کہ میں تو ہمیشہ سے نائن الیون کے بعد امریکی مداخلت کے خلاف تھا حالانکہ دلچسپ صورتحال یہ تھی کہ مشرف کی کنگز پارٹی کے علاوہ عمران خان ایسی شخصیت تھی جو مشرف کی کنگز پارٹی بننے کے لئے اس کی مکمل طور پر حمایت کر رہے تھے اور یہ نائن الیون اور اس کے بعد مشرف حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے ہر اقدام کی حمایت کر رہے تھے۔

یہاں تک کہ مشرف نے جب ریفرنڈم کا ڈراما کیا تو اس ڈرامے کی حمایت میں بھی عمران خان پیش پیش تھے۔ اور انہوں نے مشرف اور اس کی اختیار کردہ پالیسیوں کی حمایت جاری رکھی تھی کہ جب تک مشرف نے 2002 کے انتخابی ڈرامے کے لئے اپنی کنگز پارٹی منتخب نہیں کرلی اور عمران خان کو لال جھنڈی دکھا دی تھی۔ ون مین پارٹی کا اسے کرنا بھی کیا تھا؟ یہ تو بعد والوں کی پسند ہے کہ ون مین پارٹی کو ہی فیس سیونگ کے لیے آگے کر دیا ہے کہ ہم نہیں جو بھی نقصان ہو رہا ہے اس کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

اور یہ بے احتیاطی صرف افغانستان اور اس سے منسلک کاموں میں دکھائی نہیں دے رہی ہے بلکہ چین سے جڑے معاملات میں بھی اس کی واضح شکل دکھائی دے رہی ہے۔ انہی کالموں میں کچھ عرصے قبل گزارش کی تھی کہ پاکستان کی سمندری حدود میں چینی ٹرالر نظر آ رہیں ہیں اور ان کے حوالے سے مقامی ماہی گیروں میں سخت تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے اور ان کی بے چینی کو رفع کرنے کی غرض سے حکومت پاکستان کو اپنی پوزیشن کی وضاحت کرنی چاہیے اور مقامی ماہی گیروں کے خدشات کو رد عمل بننے سے روک دینا چاہیے۔

مگر دیگر معاملات کے معمولات کی مانند اس پر بھی پر اسرار رویہ اختیار کر لیا گیا اور وہاں پر مقامی افراد میں تشویش بڑھتی چلی گئی۔ یہ تو ماضی قریب کا قصہ تھا مگر اب تو وہاں پر پریشانی دن دوگنی رات چوگنی کی مانند بڑھ رہی ہے کیونکہ پاکستانی سمندری حدود جہاں سے مقامی ماہی گیر مچھلیاں پکڑتے ہیں وہاں پر چالیس چینی ٹرالروں کی موجودگی کی خبریں آ رہی ہیں۔ یہ کوئی خفیہ عمل تو ہو نہیں سکتا کہ جس کے لیے خاموشی میں ہی عافیت ہو بھلا ٹرالر چھپ سکتے ہیں؟

اس لیے اس پر دم سادھے بیٹھے رہنے سے بدرجہا بہتر ہوگا کہ پاکستان اپنی پوزیشن کو مکمل طور پر واضح کر دیں کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ چین تو اس وقت ہی کوئی وضاحت دے گا جب پاکستان اپنی پوزیشن کو واضح کرے گا۔ اسی نوعیت کی غلطیوں کے سبب سے دہشت گرد عناصر بھی فائدہ اٹھا جاتے ہیں اور اپنی دہشت پسندانہ کارروائیوں کے لئے جواز تراشنا شروع کر دیتے ہیں۔ دہشت گرد عناصر کا طرز عمل مکمل طور پر غلط ہونے کے باوجود وہ کہیں نہ کہیں سے اپنے لئے ہمدردی بھی حاصل کر ہی لیتے ہیں۔

بھلا پاکستانی سمندری حدود سے مچھلیاں پکڑنا کون سا امر لازم ہے؟ اور ویسے بھی جب ہم سی پیک سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بی آر آئی کی کامیابی سے متعدد ملکوں بشمول چین کو غیر معمولی طور پر فائدہ ہوگا تو ایسے بڑے مقاصد کو حاصل کرنے کی غرض سے چھوٹے مقاصد کو ترک کر دینا ہی عقلمندی ہوگی۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہمارے یہاں ابھی تک چین کو سمجھا ہی نہیں گیا ہے ان کو ان کی ثقافت کو تا کہ معاملات کو سمجھا جا سکتا کاش آج کا کوئی فیصلہ ساز محمد کریم احمد کی کتاب ”چین سے چین تک“ کو ہی پڑھ لے کہ جس میں چین کو اس کی معاشرت کو بالکل عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

میں آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کی تقریر سے اقتباس بیان کرنا چاہوں گا کہ یہ دونوں ممالک کا روڈ میپ ہونا چاہیے۔

The belt and road initiative was launched in response to the call for reforming the global governance system۔ The BRI promotes partnership and a community of shared future، shared rights and joint responsibilities۔ it offers a new approach to reform and improvement of the global governance system۔

Comments - User is solely responsible for his/her words