ہوم بیسڈ سکولنگ۔ بچیوں کی تعلیم کا ایک قابل عمل حل


اگست 2014 ء کا آخری ہفتہ چل رہا تھا ہم نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈ آفس میں ایک بڑے کانفرنس ہال میں کھڑے بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کر رہے تھے۔ وہ ہال دنیا بھر سے آئے ہوئے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے نمائندوں، انسانی حقوق اور تعلیم نسواں کے لیے متحرک ایکٹیوسٹ اور ڈیویلپمنٹ کے ماہرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ جب ہم نے اپنی تحقیق پر مبنی کچھ حوالہ جات پیش کیے اور پاکستان کے ایک پسماندہ علاقے میں بچیوں کی تعلیم کے ایک کامیاب ماڈل کا ذکر کیا تو ہال میں خوب تالیاں بجیں۔ کانفرنس میں وقفے کے دوران کچھ خواتین و حضرات میرے پاس آئے اور پوچھنے لگے کہ صرف اڑھائی سو ڈالرز سے بچوں کے لیے کون سا سکول کھولا جاسکتا ہے۔

اس مضمون کا پس منظر یہ ہے کہ ہمیں گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے ایک پراجیکٹ پر کام کرنے کا موقع ملا۔ یہ مشرف سرکا ر کے جانے کے بعد کا وہ زمانہ تھا جب تعلیم نسواں کے حوالے سے بہت ہی پسماندہ اس ضلع میں بچیوں کے تعلیمی اداروں کو آگ لگائی جا رہی تھی۔ ہماری ٹیم نے ضلع بھر میں بچیوں کی تعلیم کی صورتحال جاننے کے لیے ایک عمیق جائزہ لینے اور تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا۔ ریسرچ میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی جن میں سر فہرست مذہبی طبقہ تھا، علاوہ ازیں وہاں کی کمیونٹی کے سرکردہ لوگ، سرکاری اہلکار اور سیاسی کارکن بھی شامل تھے۔

ہمارے لیے یہ بات حیران کن تھی کوئی بھی بچیوں کو جدید تعلیم دینے کا مخالف نہیں تھا۔ سبھی اس بات پر متفق تھے کہ انہیں بچیوں کو پڑھانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ سبھی اپنی بیٹیوں کو جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہتے تھے لیکن علاقے کے مخصوص سماجی رسم و رواج، قبائل کی آپس میں دشمنیاں، سرکاری سکولوں میں فی میل ٹیچرز کی عدم دستیابی اور کچھ مالی مجبوریوں کی وجہ سے وہ اپنی بچیاں رسمی سکولوں میں نہیں بھیج سکتے تھے۔

آخر علاقے کے عمائدین کی مشاورت کے بعد ہم نے بچیوں کی تعلیم کے حوالے سے ایک تعلیمی ماڈل ڈیزائن کرنے میں کامیاب رہے جسے ہوم بیسڈ سکول پراجیکٹ کا نام دیا گیا۔ ہمارے ادارے نے یو۔ کے۔ ایڈ کے تعاون سے تجرباتی طور پر چھ ہوم بیسڈ سکول کھولے۔ ہمارے تعلیمی ماڈل کو بعد میں گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے بھی اپنایا اور وہاں لڑکیوں کے لیے ستائیس نئے سکولز کھولنے کا اعلان کر دیا۔ جس میں اس وقت کی صوبائی وزیر محترمہ سعدیہ دانش کا کردار بہت اہم رہا۔

ہوم بیسڈ سکولز میں ہمیں کمیونٹی کی اکثریتی رائے سے کسی ایسے گھر میں سکول کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا تھیں جس میں بچیوں کا تحفظ اولین شرط تھا اور اس گھر میں پڑھنے کے لیے بھیجنے پر اہل محلہ کو کوئی اعتراض نہ ہو۔ دوسری شرط یہ تھی کہ اس گھر میں کسی خاتون کا کم از کم میٹرک اور بعض صورتوں میں مڈل پاس ہونا ضروری تھا۔ ہماری تحقیق سے کچھ ایسے پوشیدہ حقائق سے پردہ بھی اٹھا جس سے ہمارے پراجیکٹ کی کامیابی ممکن ہوئی۔ ضلع دیامر کے کچھ علاقوں کے بارے میں یہ تاثر قائم تھا کہ وہاں پڑھی لکھی خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے لیکن ہمارے سروے کے بعد اسی علاقے سے ہمیں ایسی نوجوان اور پڑھی لکھی خواتین کے بارے میں علم ہوا جو کسی دینی مدرسے سے مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ مڈل یا ہائی سکول کی تعلیم بھی حاصل کر چکی تھیں۔

ہمارے ادارے نے ہوم بیسڈ سکولز کے لیے بنیادی تدریسی سامان فراہم کیا جن میں سمعی و بصری معاونات، کچھ چٹایاں، ایک بڑی الماری، کاپیاں اور پنسلیں وغیرہ شامل تھے۔ کتابیں ویسے ہی سرکار کی طرف سے مفت فراہم کی جاتی تھیں۔ ہمیں سکول کی ٹیچرز کو آن دی جاب ٹرینگ کا بندوبست کرنا پڑا، وہ کم از کم تنخواہ پر کام کرنے کے لیے رضا مند تھیں اور یوں کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے اور چھ یونین کونسلوں میں سینکڑوں بچیوں کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جن میں اکثر وہ بچیاں شامل تھیں جو لڑکیوں کے سکول بند ہونے کی وجہ سے گھر بیٹھ گئیں تھیں۔

ہمارا ہوم بیسڈ سکولز کا ماڈل شاید کوئی آئیڈیل نظام تعلیم کا حصہ نہیں تھا۔ یہ ایک ضرورت کے تحت اپنایا گیا۔ آئیڈیل تو یہی ہے کہ جہاں لڑکوں کو رسمی سکولوں میں جانے کی اجازت ہے وہیں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بھی برابر مواقع فراہم کیے جائیں۔ لیکن زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے لیے یہی کرنا ممکن تھا۔ ورنہ تو ہم کسی یوٹوپیا کی تعمیر اور معاشرتی تبدیلی کے انتظار میں عمر بھر بیٹھے اچھے وقت کا انتظار کرتے رہتے۔ ایسا ممکن نہیں، ہمیں آگے بڑھنا ہوتا ہے، چاہے وہ کامیابی کی طرف ایک چھوٹا سا قدم ہی کیوں نہ ہو۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ جب تک رادھا کو نو من تیل نہیں ملے گا وہ نہیں ناچے گی جس کا بالآخر نتیجہ اس محاورے کی صورت نکلتا ہے کہ نہ نو من تیل ہو گا، نہ رادھا ناچے گی۔

ویسے بھی سکول بڑی بڑی بلڈنگز کا نام نہیں، سکول تو وہ ہے جہاں درس و تدریس کا موثر عمل جاری رہ سکے۔ ایک مہربان استاد کسی درخت کے نیچے بیٹھ کر پڑھانے لگ جائے تو وہی جگہ درسگاہ کہلائے گی۔ مجھے اپنے بچپن کی کہانی یاد آ رہی ہے جب مجھے اور میرے چھوٹے بہن بھائیوں کو ناظرہ قرآن پڑھنے کے لیے اپنے گاؤں میں نمبر داروں کی بہو کے پاس بھیجا گیا جو شہر سے بیا کر لائی گئیں تھیں، وہ پرائمری پاس تھیں اور اس وقت ان کا شمار ہمارے گاؤں کی سب سے زیادہ پڑھی لکھی خواتین میں ہوتا تھا۔ خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، اس گھر سے ہماری دور کی رشتہ داری بھی تھی لیکن وہاں ہمیں قرآن پڑھنے کے ساتھ ساتھ، مسجد اور مدرسے سے زیادہ محفوظ ماحول بھی ملا۔

میرا ایک دوست جو ایک بہت مایہ ناز ماہر تعلیم بھی ہیں، وہ جب امریکہ سے اعلی تعلیم حاصل کر کے واپس پاکستان لوٹے تو وہ وطن عزیز میں تعلیمی اداروں کے اندر تعلیم کش حالات کو دیکھ کر اتنے بدظن ہوئے کہ انہوں نے اسلام آباد میں اپنے بچوں کے لیے گھر میں ہی اپنا سکول کھول لیا۔ ان دونوں میاں بیوی نے مل کر گھر کو ایسا تعلیم دوست اور چائلڈ فرینڈلی بنایا کہ وہاں قدم رکھتے ہی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہم جاپان کے کسی سکول میں کھڑے ہوں۔ گھر کی درو دیوار تک اس کی مخلصانہ کاوش کی گواہی دیتی تھیں۔ ہمارے اس خبطی دوست کو ڈر تھا کہ کہیں ہمارے ملک کا فرسودہ تعلیمی نظام اس کے شاہین بچوں کو زاغ نہ بنا دے۔

اسی حوالے سے 2007 ء کی بات ہے جب میں آغا خان یونیورسٹی سے منسلک ٹیچرز ٹریننگ کے ایک ادارے میں پڑھا رہا تھا تو مجھے ساہیوال میں اپنے گاؤں جانے کا اتفاق ہوا، وہاں لڑکیوں کے لیے ہائی سکول نہیں تھا اور بہت سی بچیاں مڈل پاس کر کے گھر میں بیٹھ جاتی تھیں۔ ہمارے خاندان کی کچھ پڑھی لکھی خواتین نے گاؤں میں مڈل پاس بچیوں کو ہائی سکول کے امتحان کی تیاری کروانے کے لیے مفت پڑھانا شروع کر دیا جس سے گاؤں کی کئی بچیاں میٹرک پاس کر گئیں اور ان میں سے آج بہت سی بی اے پاس بھی ہیں اور کہیں ملازمت بھی کر رہی ہیں۔ ہمارے اسی گھر میں جہاں مڈل پاس بچیوں کو پڑھایا جا رہا تھا وہیں بڑی عمر کی خواتین کے لیے تعلیم بالغاں کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

تعلیم بالغاں کی کلاس میں داخلہ لینے والی ایک اسی سال بوڑھی اماں نے تو مجھے حیران ہی کر دیا۔ میں نے از راہ تجسس پوچھا اماں جی آپ اس عمر میں پڑھ کر کیا کریں گی تو جواب ملا، ”پتر میں اپنے بچڑیاں نوں آپ فون کریساں“ ( یعنی میں اپنے بچوں کو خود فون کروں گی) ۔ آپ اس بڑھیا ماں کا موٹیویشن لیول چیک کریں، دیکھیں، بدلتے حالات اور ٹیکنالوجی نے بوڑھی عورت کو اپنی عمر کے اس حصے میں کیا کچھ نیا سیکھنے پر آمادہ کر دیا۔ ویسے تو سیکھنے سکھانے کا عمل لحد سے مہد تک جاری رہتا ہے لیکن جب تعلم کے ساتھ ضرورت اور آمادگی بھی جڑ جائے تو تعلیم کے فروغ کی راہیں کھلتی جاتی ہیں۔

میری ستر سالہ ماں جو صرف ناظرہ قرآن اور کچی روٹی پڑھی ہوئی تھیں انہوں نے بھی ساٹھ سال کی عمر کے بعد اردو پڑھنا سیکھی اور اب وہ ٹی وی پر چلنے والے ٹکرز اور ہیڈ لائنز کو بھی پڑھ اور سمجھ سکتی ہیں۔ وہ ٹچ فون کا بہترین استعمال کرنا جانتی ہیں، اپنے بچوں کے میسجز پڑھ لیتی ہیں اور انہوں نے یہ سب کچھ گھر میں ہی اپنی پڑھی لکھی بہوؤں اور بیٹیوں سے سیکھا۔ مجھے اپنے علاقے کے ایک برگیڈیر صاحب کا سچا واقعہ بھی یاد ہے جب ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے شاندار کیریئر کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے تو انہوں نے کہا میری ان پڑھ ماں کا جو صرف گھر میں لگی کلاک پر ٹائم دیکھنا جانتی تھیں اور وہ ہمارے سونے، جاگنے، پڑھنے اور کھیلنے کے وقت کی نگرانی کیا کرتیں تھیں۔ اس ماں نے اپنے یتیم بچوں کو وقت کا پابند بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور یہی وقت کی پابندی اس فوجی افسر کی کامیابی کا راز تھا۔

اس مضمون کے آخر میں ہم حکومت پاکستان اور افغانستان میں قائم ہونے والی طالبان کی حکومت کو بچوں اور بالخصوص خواتین کے تعلیم کے فروغ کے لیے کچھ پیشہ وارانہ مشورہ دینا چاہیں گے۔ حکومت پاکستان بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ضرورت مند گھرانوں کو ایک بڑا معاشی پیکج دے رہی جو کہ بہت احسن اقدام ہے۔ اگر اس معاشی پیکج کو ذرا اور بہتر بنایا جائے اور ان ضرورت مند گھرانوں میں پڑھی لکھی بچیوں کو تھوڑی پیشہ وارانہ تربیت دے کر اس بات پر آمادہ کر لیا جائے کہ وہ محلے کے سکول سے باہر بچوں کو اپنے گھر میں تعلیم دینے کا بندوبست کریں تو اس پاکستان میں ایک تعلیمی انقلاب لا سکتا ہے۔

بی آئی ایس پی کے تحت ملنے والی سپورٹ کے ساتھ ساتھ اگر اسی گھر کی کسی پڑھی لکھی بچی کی تنخواہ یا وظیفہ بھی شامل کر دیا جائے تو مجھے یقین ہے اس منصوبے سے نہ صرف ضرورت مند گھروں کی آمدن میں اضافہ ہوگا اور عزت نفس بھی برقرار رہے گی بلکہ بہت کم وقت میں ہم لاکھوں سکول سے باہر بچوں کو پڑھنے اور لکھنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ پراجیکٹ کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تحت نصاب میں صرف بچوں کو بنیادی لسانی اور ریاضی کی مہارتیں سکھائی جائیں اور ان کی لائف سکلز بہتر بنا نے پر توجہ دی جائے۔ اس نظام کی مانیٹرنگ کی ذمہ داری کے لیے مقامی سطح پر کمیٹیاں بنائی جائیں اور بچوں کو دوبارہ سکول میں داخلے پر آمادہ کرنے کی صورت میں ہوم بیسڈ ٹیچرز کو انعام اور تعریفی اسناد سے نوازا جائے۔ یہی تعلیمی ماڈل ہم فاٹا کے نئے اضلاع کے لیے اپنا سکتے ہیں۔

افغانستان میں بچیوں کے لیے در پیش مسائل کا حل بھی ہوم بیسڈ سکولنگ کے ماڈل میں ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ جب تک وہاں لڑکیوں کے سکولز کی تعمیر نو کا عمل مکمل نہیں ہوتا اور پہلے سے قائم سکولز بچیوں کے لیے محفوظ نہیں بنائے جا سکتے اس وقت تک بچیوں کو گھروں میں بٹھائے رکھنے سے بہتر ہے کہ ان کے درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے متبادل طریقوں پر غور کیا جائے جس بچوں کے سیکھنے کی عمر اور وقت کا ضیاع نہ ہو۔ جیسا کہ نظر آ رہا ہے، باوجوہ افغانستان کی نئی حکومت کو کئی معاشی مسائل کا سا منا کرنا پڑ سکتا ہے، اس صورت میں مخیر حضرات اور غیر سر کاری تنظیموں کی مدد سے ایسے ہزاروں ہوم بیسڈ سکولز قائم کیے جا سکتے ہیں جن سے لاکھوں بچوں اور بچیوں کو تعلیم کی بنیادی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے اور اس طرح شاید طالبان کی حکومت کا امیج بھی ذرا بہتر ہو جائے اور افغانی بچوں کے روشن مستقبل کی کوئی امید بھی نظر آنے لگے۔

Facebook Comments HS