ہمارے بچے غیر محفوظ ہیں

ہمارے آبا و اجداد نے بے تحاشا قربانیوں کے بعد گوروں اور ہنود کی چنگل سے اس حسرت کے ساتھ آزادی حاصل کی تھی کہ ہم مسلمان ایک پرامن اور خالص اسلامی معاشرے کی تشکیل کر سکیں ’لیکن افسوس صد افسوس ہم نے رفتہ رفتہ اسلامی اقدار کو ترک کر دیا ہے اور بے راہ روی کا شکار ہو گئے ہیں۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی سماجی برائیاں بالخصوص ننھی پریوں کو انسان نما وحشی درندوں کے ہاتھوں لٹتے دیکھ کر تحریک پاکستان میں شامل برگزیدہ شخصیات کی روحیں تڑپتی ہوں گی۔

پاکستان کی پاک سر زمیں پر ننھی پریوں سے جنسی زیادتی، عصمت فروشی، قتل و غارت گری، اغوا برائے تاوان اور دیگر سماجی برائیوں کی غلیظ تعفن نے پاک فضاوٴں کو آلودہ کر دیا ہے۔ ملک بھر میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے شرمناک واقعات کا سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور بڑھتا رہے گا جب تک اس گھناوٴنے جرم کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک نہیں ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ سالوں قصور، جنوبی پنجاب، مردان، راولپنڈی، کوئٹہ، ہری پور، کراچی اور دیگر علاقوں میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے دل دہلانے والے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی نجی تنظیم ’ساحل ”کی رپورٹ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر 10 سے زائد ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ فرشتہ مہمند، اسما، زینب اور ماہم سمیت کئی معصوم فرشتوں کو انسان نما بھیڑیوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد پہچانے جانے کے خوف سے بے رحمانہ طریقے سے قتل کر کے کھیتوں‘ کھلیانوں میں پھینک دیا اور وہاں بھی جنگلی جانور پریوں کی نعشوں کو نوچتے رہے۔

ننھی جانوں کی عصمتیں لوٹنے والوں پر آسمان قہر بن کر کیسے نہیں ٹوٹا؟ کتنی بار ظالموں کے آگے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو جوڑ کر فریاد کی ہوں گی کہ مجھے چھوڑ دو، مجھے پاپا کے پاس جانا ہے، مجھے مما کے پاس جانا ہے۔ زمینی فرشتوں کی آہ و بکا کی صدائیں اللہ کے عرش کو بھی ہلا دی ہوں گی۔ سات آسمانوں میں بھی کہرام برپا ہوا ہوگا مگر حیوانیت اور سفاکیت کی حدوں کو پار کرنے والے درندوں کو ان پر ذرا سا بھی رحم نہ آیا۔

ایسے واقعات کی روک تھام کی خاطر ملک کی مرکزی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے متعدد قوانین پاس کیے گئے ہیں۔ عدالت کے تحت بچوں سے جنسی زیادتی ثابت ہونے پر مجرم کو کم سے کم سات سال قید بامشقت اور عدالت کی مرضی کے مطابق جرمانے کی سزا ہے ’مگر بدقسمتی سے عملی اقدامات نہ ہونے اور قوانین کاغذوں اور فائلوں میں مقید ہونے کی وجہ سے ہمارے بچے، بچیاں غیر محفوظ ہیں۔

پاکستان میں بچوں کے ساتھ روز بروز بڑھتے ہوئے جنسی واقعات کے پیش نظر تعلیمی اداروں، دینی مدارس، علماء اور والدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بچوں کو جسمانی صحت، جنسی افعال کے متعلق آگاہی، شعور، تربیت اور خطرناک صورت حال سے نمٹنے کے لئے ذہنی طور پر آمادہ کریں۔ دیکھا گیا ہے کہ عام طور پر زیادتی کرنے والے ان کے قریبی لوگ ہی ہوتے ہیں۔ ایک ادارے کی رپورٹ کے مطابق دو سو بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کرنے والوں میں سے 49 فیصد رشتہ دار، 43 فیصد واقف کار، گھریلو ملازمین اور صرف 7 فیصد اجنبی افراد کی تھی۔ لہٰذا اپنوں پر بھروسا کرنا بلی کو دودھ کی نگرانی پر رکھنے کے مترادف ہو گا۔

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے معاملے میں کسی پر اندھا اعتماد ہرگز نہ کریں۔ ساتھ ہی معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ باتقویٰ اور دیندار معاشرے کی قیام کے لئے جدوجہد کرے۔ اسلامی اور مہذب معاشرے کے گلشن میں ہی ہم سب کے پھول جیسے بچے سدا کھلتے اور مہکتے رہیں گے ان کی زندگیوں میں کبھی خزاں کا سایہ نہیں پڑے گا۔ بصورت دیگر ان ننھی کلیوں کو پھر سے کسی کالی آندھی کی لپیٹ میں آنے کا ڈر رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words