جب میں سات سال کی عمر میں ختنہ کے تجربہ سے دوچار ہوئی!

جب میں انٹرویو کی غرض سے مس رباب (فرضی نام) کے سائیکو تھرپی آفس میں دخل ہوئی تو انہوں نے میرا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ آرام دہ اور کشادہ کرسی پہ بیٹھتے ہوئے میں نے ان کے آفس کا جائزہ لیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ انہیں اپنے مریضوں کی ذہنی صحت کے ساتھ زندگی کی پریشانیوں سے بدحال مریضوں کے جمالیاتی ذوق کی بحالی کا بھی کتنا خیال ہے۔ خوبصورت پینٹنگز اور ہندوستان سے درآمد شدہ آرٹ کی نادر اشیاء۔ امریکہ میں پیدائش کے باوجود ان کا کمرہ یقیناً اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ وہ اپنی روایت اور ثقافت سے کتنی جڑی ہوئی ہیں۔

تاہم بہت سی اچھی روایات کے ساتھ ایک ایسی زخم آلود یاد بھی ان کے وجود کا حصہ بن چکی ہے کہ جو بظاہر مندمل ہونے کے آج بھی رس رہی ہے اور آج وہ اس کے متعلق ہی مجھ سے گفتگو کرنے کے لیے تیار تھیں۔ (بشرطیکہ میں ان کے اصلی نام اور جگہ کو صیغہ راز میں رکھوں۔) اور وہ بھیانک تجربہ ہے سات برس کی عمر میں ان کی ختنہ کا۔

چونکہ رباب کی یہ گفتگو ان کی بچپن میں ہونے والی ختنہ کے سلسلہ میں ہی تھی لہذا اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے مختصرا جانیے کہ عورتوں کی ختنہ یا female genital mutilation / cutting آخر کیا ہے؟

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق یہ ان تمام طریقہ کار پہ مشتمل ہے کہ جس میں جزوی یا مکمل طور پر کم عمر بچیوں اور عورتوں کے جنسی اعضا کو بلیڈ یا قینچی کی مدد سے بغیر کسی طبی جواز کے کاٹ دیا جاتا ہے۔ تاکہ شادی سے پہلے جنسی عمل کی روک تھام ہو سکے۔ اصل مقصد عورت کی جنسیت پہ قابو پا کر اسے جنسی لذت سے محروم کرنا ہے۔ یہ عمل افریقی اسلامی ممالک میں مروج ہے مثلا صومالیہ، مصر، گھانا، نائجیریا اور وہاں سے سینٹرل ایشیا بسنے والے مہاجرین مثلاً داؤدی بوہری فرقہ کے پیشرو ہیں۔ اس کی تفصیل کے لیے میرے ایک پچھلے مضمون کی لنک پہ جائیے۔

رباب نے بتایا کہ ان کا تعلق مسلمانوں کی جماعت داؤدی بوہرہ سے ہے۔ ان کے والدین ان کی پیدائش سے قبل ہندوستان سے امریکہ کے شہر نیویارک آئے اور وہاں ایسی جگہ بسے کہ جہاں بوہری کمیونٹی کی اکثریت اور ان کی مسجد آباد ہو۔ جو کوئی انہونی باتیں ہیں۔ دنیا سے آئے ہوئے سارے مہاجرین یہی کرتے ہیں۔ اپنے جیسے لوگ، مشترکہ زبان اور روایات۔ اپنے کلچر سے جڑے رہنا اور مذہب کا سہارا بالخصوص نقل مکانی کے ابتدائی سالوں میں جذباتی آسودگی کا سبب بنتا ہے۔ وطن کی یاد کو زندہ رکھتا ہے۔ لیکن پھر مذہب اور انسانیت کی بھلائی کے نام پہ کچھ ایسی قبیح روایت بھی اپنائے رکھتا ہے کہ جو شرمناک ہیں۔

رباب نے تقریباً تین دہائی قبل ہونے والی ختنہ یا ایف۔ جی۔ ایم /سی) کے متعلق اپنے تکلیف دہ تجربہ کو کہ جو ان کے ذہن میں آج بھی تازہ ہے، اس طرح بیان کیا۔ ”یہ واقعہ میری نانی کے بیسمنٹ (تہہ خانے ) میں انجام پایا۔ جہاں میری ہی عمر کی گہری دوست اور کزن بھی آئی ہوئی تھی۔ اس وقت میری عمر سات سال تھی۔ اس دن وہاں امی اور نانی کے علاوہ نانی کی بہن اور ایک بے ہوشی والی ڈاکٹر بھی تھی۔ مجھے آج بھی اس زمین کی ٹھنڈک اپنے جسم میں محسوس ہوتی ہے کہ جہاں مجھے لٹایا گیا تھا۔

جو آنے والی تکلیف کے انجانے خوف کے ساتھ میرے وجود میں سرایت کر گئی تھی۔ لیکن چونکہ میری امی نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ درد ہوگا اور خون بھی بہے گا۔ تو شدید درد کے باوجود مجھے یہ عمل اتنا بیہمانہ نہ لگا۔ میری کم عمری کے باوجود میری ماں نے مجھے سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ عمل لڑکیوں کی جسمانی صحت اور صفائی کے علاوہ خوشگوار شادی کے لیے کیا جاتا ہے ۔ اور پھر انہوں نے امریکی عورتوں کی جنسی بے راہ روی رویے کے متعلق جو بھی کہا ہوگا وہ اس طرح کہ سات سال کی عمر کی لڑکی کو یہی سمجھ میں آیا کہ ہر مسلمان لڑکی کے ساتھ یہ ہوتا ہے۔ مجھے لگا کہ یہ ایک ایسا راز ہے جو سب کو معلوم ہے مگر کوئی اس کا ذکر نہیں کرتا“

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ”مگر جب میں کالج گئی تو پتہ چلا کہ جو عمل میرے ساتھ ہوا وہ FGM کہا جاتا ہے اور یہ کوئی درست عمل نہیں بلکہ عورتوں کی جنسیت کو کنٹرول کرنے کا ایک حربہ ہے۔ اور اس میں مسجد کے ملا کا اہم کردار ہے جو اپنے ماننے والوں میں سالہا سال سے اس قسم کا پروپیگنڈا پھیلا رہا ہے۔ کچھ سال قبل مشی گن کی ریاست میں بچیوں کی ختنہ کرنے والی ایک خاتون ڈاکٹر کی گرفتاری، قید اور والدین کی پکڑ دھکڑ کے حوالے سے انہوں نے اس بات کو درست ماننے سے انکار کیا کہ“ والدین بچوں کا استحصال کر رہے ہیں۔

”انہوں نے کہا تمام والدین کا مقصد بچوں کی بھلائی ہی ہوتا ہے تاکہ ان کی زندگی اچھی گزرے کیونکہ ان کو ان کے مذہبی پیشرو نے انہیں یہی بتایا ہے۔ اصل ملزم تو ملا ہے جو اس کو مذہب کا حصہ بنا کے پیش کرتا ہے۔ حالانکہ نہ یہ قرآن میں ہے نہ حدیثوں سے ثابت ہے۔ مذہب اکثریت کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ اپنی شناخت اور کمیونٹی سے نکل کر لوگ اپنے آپ کو خلا میں معلق پاتے ہیں۔ میری شناخت بھی میری بوہری کمیونٹی ہے۔ میں اور میرے بچے ان سے دور نہیں رہ سکتے۔

لہٰذا اس مسئلہ ٔ کو بہت سہولت سے صرف تعلیمی سطح پہ آگہی پھیلا اور لوگوں کا اعتماد حاصل کر کے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کو تحفظ دیا جائے اور گفتگو کی جائے۔ اپنی کہانیاں شیئر کی جائیں اور سائنسی تعلیم دی جائے۔ اگر محض ڈاکٹروں کو جیلوں میں بند کیا جائے گا تو یہی عمل چوری چھپے کوئی آئی ٹی کا بندہ کرے گا جس کو جراحی اور حفظان صحت کے اصولوں کا علم نہیں۔ اس طرح اب بھی برائی تو ہوگی مگر رازداری سے ہوگی۔“

ایف ایم جی/سی کے تدارک کے حوالے سے انہوں نے کہا۔ ”اس برائی کی روک تھام کے لیے اس محاذ پہ کئی لڑکیاں کام کر رہی ہیں کچھ کا انداز بہت جارحانہ ہے مگر بہت سی دوسری لڑکیاں لوگوں کے درمیان سہولت سے داخل ہو کر آگہی پھیلانے کا کام کر دہی کر رہی ہیں مثلاً ماریا طاہر جس کے ساتھ میں کام کرتی ہوں۔ میری نظر میں یہی طریقہ کار بہتر ہے۔ اب اس موضوع بہت لکھا جا رہا ہے۔ ایک کتاب“ سیون ”جسے کینیڈا کی فرزانہ ڈاکٹر نے لکھا ہے۔“ سات ”اس لیے کہ اسی عمر میں لڑکیوں کی ختنہ کی جاتی ہے۔

عورتوں کی جنسیت کے خلاف ہونے والے اس مجرمانہ عمل کی سالہا سال کی خاموشی کو عورتوں کی آواز ”وی اسپیک آؤٹ“ نامی آرگنائزیشن نے توڑا ہے۔ اس میں بیس لاکھ افراد شامل ہیں جن میں سے شامل 75 سے 80 فیصد خواتین ”ختنہ“ کے عمل سے گزر چکی ہیں۔ تاہم تبدیلی کے عمل میں ان تمام لوگوں کی شرکت اہم ہے جو کسی بھی زیادتی پہ احتجاج کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ کیونکہ سماجی سطح پہ سوچوں میں تبدیلی اور آگہی کا پھیلاؤ ہی ختنہ کے خلاف قانون کے لاگو ہونے میں معاونت کرے گا۔

اس سلسلے میں مزید آگہی کے لیے مندرجہ ذیل دستاویزی فلم کی لنک ضرور کلک کیجیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words