پیپلز پارٹی کے بغیر پی ڈی ایم کا کراچی جلسہ

گزشتہ روز پیپلز پارٹی اور اے این پی کے بغیر بقیہ پی ڈی ایم کی جماعتوں نے کراچی میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ میرے سمیت ملک کے سینیئر صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کے دماغ میں یہی بات گھوم رہی تھی کہ پی ڈی ایم میں سے دو جماعتوں کے نکلنے سے اپوزیشن جماعتوں کے بیانیے میں کمزوری آ جائے گی اور عوام اب پی ڈی ایم کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگنے کی بجائے اپنے روزگار کی تلاش شروع کریں گے کیونکہ اس سے قبل پاکستانی قوم کی پی ڈی ایم کی قیادت کے ساتھ بہت سی امیدیں وابستہ تھیں کہ ہماری آواز کو حکومتی سطح تک پہنچانے کے لیے ایک نئی قیادت سامنے آ گئی ہے، مزدوروں کے چہروں پر مسکراہٹ سی چھا گئی تھی کہ پی ڈی ایم کے آنے سے بیروزگاری کا خاتمہ ہوگا، مہنگائی کا طوفان کم ہوگا، ضروریات زندگی کی تمام اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہو گئی، ملک کا سیاسی ٹمپریچر بڑھنے لگا اور تجزیہ نگار نت نئے تجزیوں سے قوم کو دلاسا دیتے رہے، اسی کشمکش میں سینیٹ کے انتخابات بھی منعقد ہوئے اور پی ڈی ایم کے حمایت یافتہ امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کو فتح نصیب ہوئی۔

اس کے بعد اگلا قدم سینٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب تھا، حکومت نے انتخابات سے ایک دن قبل سینیٹ ہاؤس میں خفیہ کیمرے نصب کر دیے جس کو پی ڈی ایم کے نمائندوں نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ بے نقاب کر کے منظر عام پر لے کر آئے، پی ڈی ایم کی قیادت میں یہ بات طے تھی کہ چیئرمین سینیٹ پیپلز پارٹی، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ جے یو آئی ف اور اپوزیشن لیڈر نون لیگ کا ہوگا، جب سینیٹ کے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات ہوئے تو یوسف رضا گیلانی اپنی ہی پارٹی کے ارکان کی طرف سے بیلٹ پیپر پر غلط اسٹیمپ لگانے سے ہار گئے اسی طرح جے یو آئی ف بھی ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن ہار گئی اب بات اپوزیشن لیڈر بنانے کی تھی تو پیپلز پارٹی نے بڑی چالاکی کے ساتھ چار ووٹ حکومتی آزاد امیدواران اور اے این پی کے ساتھ مل کر یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کر دیا اور یوں پیپلز پارٹی اور اے این پی نے مل کر پی ڈی ایم کی پیٹھ پیچھے چھرا گھونپا۔

بلاول بھٹو زرداری نے نون لیگ کی قیادت پر الزام لگایا کہ اس نے بینظیر بھٹو شہید کے قاتلوں کے وکیل کو اپوزیشن لیڈر کے لیے نامزد کیا تھا جس پر ہم اپنا اپوزیشن لیڈر لے کر آئے جبکہ نون لیگ کے رہنماؤں کی طرف سے جوابی وار میں کہا گیا کہ بینظیر بھٹو شہید اپنی زندگی میں چوہدری پرویز الٰہی کو اپنا قاتل کہہ کر گئی تھی اور آج پیپلز پارٹی کی قیادت ان کے گھروں میں جا کر دعوتیں اڑا رہی ہوتی نظر آتی ہے۔ بظاہر میڈیا سمیت پورے پاکستان میں پیپلز پارٹی کو تنہائی کا سامنا رہا اور بلاول بھٹو زرداری نے بہت کوشش کی کہ کسی طریقے سے دوبارہ پی ڈی ایم میں شامل ہوا جائے لیکن پی ڈی ایم کے عہدیداران نے ان کی کاوشوں کو ناکارہ بنا دیا۔

اس حادثے کے بعد کافی عرصہ تک پی ڈی ایم میں خاموشی شائع رہی اور کورونا کی تیسری لہر نے بھی پورے ملک کو ایک بار پھر اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا تھا، جب کورونا لہر تھوڑی سی کم ہوئی تو پی ڈی ایم کے قائدین ایک دفعہ پھر دوبارہ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے سب سے پہلے مردان میں جلسہ کیا جو کافی کامیاب رہا، جس کے اہم سپوت مولانا فضل الرحمان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف تھے، اس کے بعد کراچی کے جلسے کی باری آئی تو پیپلز پارٹی کی طرف سے کراچی شہر میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن لگا دیا گیا، پی ڈی ایم نے اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے کراچی کے جلسے کو ملتوی کر کے جلد نئی تاریخ دینے کا اعلان کیا۔

اب گزشتہ روز 29 اگست کو پی ڈی ایم کا کراچی میں جلسہ منعقد ہوا جس کی میزبانی جے یو آئی ف کر رہی تھی، باغ جناح کے وسیع و عریض میدان کو بھرنا اتنا آسان کام نہیں تھا لیکن پھر بھی پی ڈی ایم کی جماعتوں کی طرف سے پہلے کی نسبت بہت بڑا اجتماع منعقد کر کے پیپلز پارٹی کو جواب دے دیا کہ پی ڈی ایم پیپلز پارٹی کے بغیر بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان صاحب کے لیے یہ ایک ٹیسٹ میچ تھا جس میں وہ کامیاب ہوتے نظر آئے اور کراچی میں ایک دفعہ پھر پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا۔

یاد رہے! کراچی کی قومی اسمبلی کی 14 سیٹیں حکمران جماعت کے پاس ہیں اور اہالیان کراچی حکمران جماعت سے بہت تنگ آ چکے ہیں کیونکہ وفاقی حکومت کی طرف سے مسلسل کراچی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے میدان میں اتری ہے اور ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب آئے روز مسائل کو حل کرتے دکھائی دیتے ہیں جس کی وجہ سے پی ڈی ایم نے بھی مل کر کراچی کی سر زمین پر قدم جمانے شروع کر دیے ہیں۔ بہرحال پی ڈی ایم نے گزشتہ روز بہت اچھا اور شاندار جلسہ منعقد کیا اور ایسے ہی مسلسل اگر وہ جلسے و جلوس منعقد کرتے رہے تو کراچی سمیت پورے ملک میں جنرل الیکشن کی ایک نئی صورت حال دیکھنے کو ملے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words