ٹیڑھے کیل

راہ چلتے چلتے میں رک گیا۔ ایک پرانے مکان کو مسمار کر کے وہاں ایک بلند و بالا عمارت کی تعمیر نو کا کام شروع کیا جا چکا تھا۔ بنیادیں اٹھائیں جا چکی تھیں اور مزدور بڑی مہارت سے لکڑی کے تختوں کی شٹرنگ لگا رہے تھے۔ تاکہ بعد ازاں سیمنٹ سے بھرائی کر کے عمارت کے لئے ستون کھڑے کیے جاسکیں۔ مزدور اپنی پشت پر کیلوں کی تھیلی لٹکائے اپنی ہتھوڑیوں کی سے ایک ایک کر کے تختوں کو کیلوں سے آراستہ کرتے جا رہے تھے۔ اس دوران اگر کوئی کیل ٹیڑھا ہو جاتا تو اسے رد کر دیا جاتا یا پھر اسے سیدھا کر کے کام میں لے آتے تھے۔

میں اس سارے کام کو دیکھتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا کہ ہمارے سماج میں کئی انسان سیدھے کیلوں کی طرح معاشرتی ترقی میں اپنا جاندار کردار ادا کرتے ہیں۔ جبکہ ٹیڑھے کیلوں کی طرح نا اہل اور بے کار لوگوں کو رد کر دیا جاتا ہے یا پھر ان کی تربیت یا اصلاح کر کے انہیں معاشرتی ترقی کے عمل میں کھپایا جاتا ہے۔ تربیت، ماحول اور تجربات کسی فرد کی زندگی میں اہمیت کے حامل عناصر ہیں۔

ٹیڑھے کیلوں کے حوالے سے ایک پہلو قابل غور ہے۔ ہمارے ارد گرد سماجی نظام سے مایوس اور نالاں لوگوں کا طرز سوچ یہ ہے کہ، ”جو ٹیڑھا ہے اسے چھوڑ دیا جاتا ہے اور جو سیدھا ہے اسے ٹھوک دیا جاتا ہے۔“ معاشرتی ناہمواریوں، تفریق اور اقربا پروری کی حد تک یہ درست ہو سکتا ہے۔ خالق کائنات کا سورج نیکوں اور بدووں دونوں پر یکساں چمکتا ہے۔ لیکن نظام الٰہی میں انصاف کے تقاضے اپنے معین وقت پورے ہوتے ہیں۔

سیدھے کیلوں کی اہمیت اور اثر انگیزی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ بائبل کے عہد نامہ عتیق میں حبر قینیؔ کی بیوی یاعیلؔ، سیسراؔ بادشاہ کے سوتے ہوئے کنپٹی میں سیدھا کیل ٹھونک کر اسے ہلاک کر دیتی ہے اور اس طرح اپنا عظیم قومی فریضہ ادا کرتی ہے۔ کیونکہ سیسراؔ بادشاہ اس کی قوم کا دشمن تھا۔

سیدھے کیلوں کی اہمیت کا اندازہ دیواروں پر آویزاں کیلنڈروں اور وال کلاک سے لگا لیں۔ ایک سیدھا کیل وقت کی پیمائش پر مامور وال کلاک کو سہارا دیے رہتا ہے۔ ایک سیدھا کیل دنوں مہینوں اور سالوں کے تعین کے لئے لٹکائے گئے کیلنڈر کا بوجھ سال ہا سال اٹھائے رہتا ہے۔

مقام گلگتہ پر حضرت یسوع مسیح مصلوبیت کے وقت دائیں بائیں مصلوب ڈاکو سماج کے ٹیڑھے کیل تھے۔ اپنے معاشرتی ٹیڑھے پن کا اعتراف وہ خود اپنی زبان سے کرتے ہیں۔ جو آخر کار ایک دن اپنے وقت پر انصاف کی ضرب سے فرار حاصل نہ کرپائے۔

مالی و اخلاقی ٹیڑھا پن ناجائز ذرائع سے حاصل کیا ہوا مال و زر ہے۔ دولت پر تکیہ کرنے والوں کا حال ایسا ہی جیسے تیتر دوسروں کے انڈوں پر بیٹھا ہو۔ ٹیڑھے بدقماش اور بد عنوان لوگوں کی ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت کے انبار ایک دن انہی کے لئے گلے کا پھندا بن جاتے ہیں۔ ملک پاکستان میں آئے دن آمدن سے زائد اثاثوں کا ایشو ہمارے معاشرے کے ٹیڑھے کیلوں کے گرد احتساب کا گھیرا تنگ کر رہا ہے۔ کئی ٹیڑھے کیل یعنی بدعنوان افراد جو ملک کو اپنے لالچ اور طمع کے باعث نوچ رہے تھے، احتسابی قوانین کے نفاذ سے خوف زدہ اور نالاں ہیں۔

اسی لیے بہت سے افراد بیرون ملک فرار ہو گئے۔ اور جو باقی بچے، کچھ نے لوٹا ہوا پیسہ واپس کیا۔ بعض ابھی عدالتوں میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ بدعنوانی اور ناجائز ذرائع سے دولت کا حصول اخلاقی ٹیڑھا پن ہے۔ یہ عمل لالچ کے ساتھ ساتھ خود غرضی اور عوام کی حق تلفی کے مترادف ہے۔ وقتی طور پر یہ دولت کا انبار خوشی کا باعث بھلے ہو لیکن یہ ٹیڑھا پن انسان کو ذہنی سکون اور شخصی آزادی سے محروم کر دیتا ہے۔ ایسی دولت کا کیا فائدہ جو انسان کو گھر سے بے گھر اور وطن سے بے وطن کردے۔ آخر کاتب تقدیر کے ہاتھوں ایسے لوگوں حساب کتاب کا دن معین ہے جس سے کوئی فرار حاصل نہیں کر سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words