اردو ادب کا شاہکار ناول: اداس نسلیں

عبداللہ حسین کے شہرہ آفاق اردو ناول اداس نسلیں کی کہانی متحدہ پنجاب کے ایک گاؤں روشن پور سے شروع ہوتی ہے جو کہ دھلی سے بہت دور نہ تھا۔ ناول کی کہانی 20 ویں صدی کے دوسرے عشرے سے شروع ہوتی ہے اور تقسیم ہند تک چلتی ہے۔ ناول کا اہم کردار نعیم بیگ ہے جو کہ ایک کسان کا بیٹا ہوتا ہے۔ نعیم اپنی ابتدائی زندگی تو اپنے چچا کے ساتھ کلکتہ میں گزارتا ہے لیکن جلد ہی جوانی میں قدم رکھتے، اپنے باپ نیاز بیگ کے پاس روشن پور لوٹ آتا ہے۔ روشن پور کے مالک (بڑے زمیندار) روشن آغا ہوتے ہیں جو کہ دہلی میں روشن محل میں رہتے ہیں۔ نعیم اور روشن آغا کے خاندان کے آپس میں بہت اچھے تعلقات ہوتے ہیں۔ نعیم کا شمار، روشن آغا کی بیٹی عذرا کے اچھے دوستوں میں ہوتا ہے اور وہ روشن محل بھی آتا رہتا تھا۔

ناول کے شروعاتی حصہ میں متحدہ پنجاب کے گاؤں دیہات کی زندگی کو بہت عمدہ طریقے سے بیان کیا گیا ہے جہاں سکھ اور مسلمان بہت پیار سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں۔ منظر کشی میں تو کوئی اس ناول کا ثانی نہیں، گویا یوں معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ پڑھنے والے کے سامنے ہو رہا ہو۔ گاؤں میں نعیم کی زندگی اچھے سے گزر رہی ہوتی ہے لیکن جنگ چھڑ جانے کی وجہ سے نعیم اور اس کے کئی دوستوں، جن میں اس کا سکھ دوست مہندر سنگھ بھی شامل ہوتا ہے، فوج میں بھرتی کر لیا جاتا ہے اور یورپ میں جنگ لڑنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔

نعیم بہت بہادری سے جنگ میں حصہ لیتا ہے۔ جنگ میں نعیم کے کافی دوست مارے جاتے ہیں اور وہ خود بھی ایک بازو گنوا بیٹھتا ہے جنگ سے واپس آنے کے بعد نعیم کو اس کی بہادری کی وجہ سے سرکار کی طرف سے میڈل اور کچھ زمین دی جاتی ہے۔ جنگ سے واپسی کے بعد نعیم آزادی ہند کے لیے پرتشدد کارروائیوں کرنے والے گروہ کے ساتھ جا ملتا ہے جو کہ ریل کی پٹڑیوں کو نقصان پہنچانے کا کام کرتے ہیں لیکن جلد ہی وہ اس گروہ سے تنگ آ کر وہاں سے بھاگ نکلتا ہے۔

نعیم کے واپس آنے کے بعد عذرا اور نعیم کی شادی ہو جاتی ہے اور وہ دونوں گاؤں کے کونے پر ایک مکان بنا کر وہاں پر رہائش اختیار کر لیتے ہیں۔ نعیم اور عذرا آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے احتجاجوں میں شریک ہوتے رہتے ہیں اور خود کو کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا کر لیتے ہیں۔ نعیم گرفتار ہو کر کچھ وقت میں جیل میں بھی گزارتا ہے۔ نعیم کی طبیعت میں چڑچڑا پن آ جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ عذرا کو گھر سے نکال دیتا ہے لیکن جب نعیم پر فالج کا حملہ ہوتا ہے تو عذرا خود کو روک نہیں پاتی اور نعیم کو اپنے پاس لے آتی ہے لیکن نعیم اس بار بھی صحتیاب ہونے کے بعد عذرا کو روشن محل چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

ناول کا آخری حصہ تقسیم ہند کے وقت کی صورتحال کی منظر نگاری کرتا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت جو لوگوں کے منہ کو انسان کا خون لگ چکا تھا اور جو ہجرت کرنے والے قافلوں پر ظلم کیے گئے، بہت ہی عمدگی سے بیان کیے گئے ہیں۔ نعیم کے علاوہ ناول کے اہم کرداروں میں نعیم کا سوتیلا بھائی علی، اس کا باپ نیاز بیگ اور عذرا کے بہن بھائی ہیں۔ ناول کے کرداروں کے درمیاں مذہب، محبت، عقل اور دیگر موضوعات پر بھی بہت دلچسپ گفتگو ہوتی ہے۔ ناول میں انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اردو ادب میں اس شاہکار ناول کی نمایاں حیثیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس ناول کی مقبولیت میں اشاعت کے تقریباً 60 برس بعد بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
عبدالقدیر کوندھر کی دیگر تحریریں