وہ سیکس ڈول تھی، وہ تو کال گرل تھی


Speech is silver, Silence is Gold: Thomas Carlyle

تحریم تم سمجھ سکتی ہو کہ ان تمام واقعات کے دوران ہم نے تھامس کے اس قول پہ کتنی مشکل سے عمل کیا ہوگا۔ مگر اس جملے کو لکھنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ تھامس نے صدیوں پہلے کتنی خوبصورتی سے گولڈن کا متضاد سلور بتا دیا تھا۔ ہم آج جو اس کا متضاد کالا لکھ کر اپنے ذہن کی وسعت کو عیاں کر رہے ہیں۔ اس جذبہ علم و حسد پہ قربان جانے کو دل نہ کرے تو کیا کرے۔ تھامس کو تاریخ کے باب میں جاننے والے لیہ ہنٹ (Leigh Hunt) کی اس نظم کو کیسے بھول سکتے ہیں جو ہمیں بھی بہت پسند رہی ہے۔

jenny kiss,d me when we met
jumping from the chair she sat in

اور تھامس کے ساتھ جین کی شادی اور شادی کے بعد اس کی بائیو گرافی۔ سوچنے والے لوگ زندگی میں خوش نہیں رہ سکتے۔ بس انہی نظموں کے خمار میں اس وقت کو گزارا ہے۔

اس وقت لاہور میں بہت گہرے بادل ہیں سورج ان میں چھپا بیٹھا ہے۔ درد کی شدت سے ہاتھ لیپ ٹاپ کے سینے پہ ہے۔ شدت درد بھی دھمال میں خود مست ہو جاتا ہے۔

تحریم تمہارا درد تحریر میں عیاں ہے۔ تم نے کس تکلیف میں یہ سب لکھا ہو گا سمجھ سکتی ہوں۔ ہر ہفتے دل کو دہلا دینے والا ایک واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔ اور ہمارے لفظ کم پڑ جاتے ہیں۔ جو بات کرنی ہوتی ہے وہ رہ جاتی ہے اور درد تصویر بن جاتا ہے۔

ان سب واقعات کے بعد جو رد عمل دکھائی دیا۔ وہ ہے مائنڈ میکنگ کا۔ مجرم کا ساتھ دینے کا مجرم چونکہ مرد ہے۔ مرد تو مرد کا ساتھ دے گا ہی لیکن مرد کے جرم کو جواز عورت بھی بنا رہی ہے۔ اس کی اپنی سوچ ہے ہی نہیں اور وہ مرد کی سوچ پہ اعتبار کرتے کرتے یہ بھول چکی ہے کہ اس کو بھی دماغ غور و فکر کے لئے عطا کیا گیا تھا۔ اگر اس کی ضرورت نہ ہوتی تو اس کے جسم میں یہ حصہ موجود ہی نہ ہوتا۔ وہ خواتین تاحال کم ہیں جنہوں نے زندگی کو برتا ہے اور اس کے بعد اسے نتائج اخذ کر کے اپنی سوچ آپ بنائی ہے۔ جن کا اپنا ایک الگ نکتہ نظر بھی ہے اور نتائج بھی اخذ کیے ہیں۔ اسے بڑھ کر وہ اس کا اظہار کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔

ایسی سوچ بنانے میں حکمران ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ جن کے اپنے سر سے عورت اور ان کپڑے نہیں اترتے تو کبھی سوشل میڈیا کا گندا استعمال ان کو دکھائی دے دیتا ہے۔ سن رکھا ہے حسن دیکھنے والی کی آ نکھ میں ہوتا ہے۔ گویا ہم دیدار جمال سے بھی فارغ ہو چکے۔ جمال فکر سے محرومی تو جملوں کی بنت میں ہی آ چکی ہے۔

اسی دوران خواتین کی بلکہ یہ کہنا چاہیے مخصوص بزرگ صورت خواتین بھی مجرم کی حامی بنی دکھائی دیں۔ اور جنگ سرد سے گرم ہو گئی کہ لڑکی پاک باز نہیں۔ سارا ملبہ لڑکی پہ ڈال دیا گیا۔ نور کیس میں بھی سارا ملبہ نور پہ ڈال دیا گیا۔ تو ہمیں صرف وائرل ہوئی ایک ویڈیو کا ایک جملہ یاد رہ گیا۔ ”وہ خواتین جو کہہ رہی ہیں ہمیں کسی نے ہراساں ہی نہیں کیا۔ تو مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی پتر کہ یہ کوئی خواہش ہے یا کوئی درد، درد رہ گیا ہے آپ کی زندگی میں۔”

ان کے لہجے کی اٹھان تو کہہ رہی تھی کہ درد درد رہ ہی گیا ہے لفظوں کی انتخاب بتا رہا تھا کہ مرد سے بے موسمی چاہت کے خواہش نے انہیں مردانہ زبان بولنے پہ مجبور کیا ہوا ہے اور دوسرے انہوں نے زندگی برتی نہیں ہوئی سمجھائی گئی ہوئی ہے۔ ان کی زندگی ان کے گھر کے مردوں نے گزاری ہوئی ہے۔ مگر ہمیں زبان بندی نے مجبور رکھا کہ ہم اپنی ماؤں کی عمر بلکہ ان سے زیادہ عمر کے مرد و خواتین کو نہ تو سمجھا بتا سکتے ہیں کہ احترام کے تقاضے حیا بنے ہوئے ہیں۔

”میرا دل کرتا ہے کہ کچھ ایسا لکھوں کہ جو پڑھیں سب، مگر سمجھے وہ۔ آپ سمجھ رہی ہیں ناں؟“ گولڈن گرل ہو یا بلیک، مطلب ہر طرح سے اکسانے کی ہر ممکن سعی کی گئی۔ مگر ہماری تربیت کے مطابق مقابلہ کمزور سے نہیں کیا جاتا کہ ایک جملے کی تلوار کا وار شوگر یا بلڈ پریشر کا سبب بن کر کسی کے واقعے کو کسی کا حادثہ نہ بنا دے۔ سو بزرگوں سے تو ہر اعتبار سے معذرت رہے گی۔ کیونکہ جب فرق دو نسلوں کا ہو تو مسئلہ بدل جاتا ہے۔ اور ان تمام واقعات میں فرق دو نسلوں کا ہے۔ لیکن فرق صدیوں کا بھی ہو تو مجرم مجرم ہی رہے گا۔

بات کرتے ہیں مائنڈ میکنگ کی۔ تو سابقہ تمام تر واقعات کی روشنی میں ایک ہی بات سامنے آئی کہ ہر صورت عورت کے غلط ہو نے کا جواز تلاش کر لیا جاتا ہے۔ ایسے ایسے جملے کہے جاتے ہیں کہ۔ متوسط اذہان اس کو آ خر کار قبول کر لیتے ہیں کہ مجرم مرد نہیں عورت ہے۔

عائشہ ٹک ٹاکر تھی۔ مجرم عائشہ ہے۔
نور لیونگ ریلیشن شپ میں تھی مجرم نور ہے۔

قرۃ العین بچوں کی ماں تھی۔ سو اسے تو مر کر بھی شوہر سے نبھانی تھی۔ مجرم قرۃ العین تھی۔ بلکہ وہ شوہر کے ہاتھوں مر گئی وہ جنتی عورت ہے۔

اس کے حق میں کوئی خاندان والا بھی نہیں بولا وہ پٹتی رہی۔ یہ اس کا عشق شوہر ہے۔
’ارے بہن سیدھا جنت میں جائے گی، شوہر نے مارا ہے، ”ارے یار کتنا خوش بخت ہے بیوی مار دی۔”
” میں اپنے نئے مجازی خدا پر ایمان لے آئی ہوں۔”
” عورت کے چھوٹے کپڑوں کی وجہ سے بے حیائی پھیل رہی ہے،
” مرد کا کیا ہے نہایا دھویا پاک ہو گیا،
” عورت نے گھر والوں کی عزت لٹا دی،
” وہ باکرہ نہیں تھی۔ پہلی رات کو شوہر نے اسے مار دیا،
”میاں ہمارا کلچر ہے،
” آج کی مائیں دین پر توجہ نہیں دے رہیں،
”وہ سیکس ڈول تھی، وہ کال گرل تھی،

اوپر سے نیچے تک ”آؤ مایوسی پھیلائیں، والی ذہن سازی جاری و ساری ہے۔ اور وہی لوگ جو اپنی جوانیوں میں خود بے راہ روی کا شکار رہے ہیں۔ وہ آج راہنمائی کا کام کر رہے ہیں۔ یا جن کی زندگی میں کوئی درد رہ گیا ہے۔ دوسروں پہ انگلی اٹھا رہے ہیں۔ یہ اور ایسے بے شمار جملے لاشعوری طور پہ ذہن سازی کرتے ہیں۔ لیکن ہم اتنے باشعور ہیں کہ ہمیں ذہن سازی کا پتا ہی نہیں جیسے۔

عائشہ کیس کے دوران جس کا جہاں دل کیا اس نے بھڑاس نکالی۔ ہر کوئی عائشہ ہی نہیں۔ کسی کی بھی کوئی بھی گندی سے گندی ویڈیو فیس بک پہ یوں شیئر کر رہا تھا جیسے ثواب اور صدقہ جاریہ ہو۔ ایک گروپ میں ایک ویڈیو شیئر ہوئی۔ جس میں ایک عبایہ پہنے لڑکی ایک موصوف کے ساتھ سیکس کر رہی تھی عبایہ کے نیچے کوئی لباس نہیں تھا۔ چہرہ مکمل طور پہ چھپا ہوا تھا۔ اور بار بار وہ اپنے نقاب کو درست کر رہی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ بے کیف لفظوں میں پیسوں کا مطالبہ کر رہی تھی کہ اتنے پیسے میرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو جائیں تو اور اچھا پرفارم کرے گی۔ بہت دن تک دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ مرد ایسی ویڈیوز ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں۔ ؟ آج تو جذبہ گند نے اس کو گروپ تک پہنچا دیا۔

یہ مردانہ ذہن سازی ہے جو اس لئے کی جاتی ہے کہ اس کو عورت کی محبت کا کبھی یقین نہ آئے اور وہ ہمیشہ اس کے لئے ایک شے رہے۔ خریدی جانے والی چیز۔ بے توقیر شے۔

وہ ٹک ٹاکر تھی، وہ طوائف تھی، وہ کال گرل تھی، وہ بازاری عورت تھی، وہ گشتی تھی، وہ راتوں کو دوسروں کے ساتھ سوتی تھی۔ وہ حرام زادی تھی

وہ ان سب میں سے کچھ بھی تھی۔ تم اس کے ساتھ بنا کسی معاہدے کے اسے نوچ ڈالو۔ یہ حق تم کو کس نے دیا؟ وہ پیسے لے کر بھی کرتی ہے۔ تو تم نے اسے مفت کا مال کیسے سمجھ لیا۔

جو لمس عورت کی اجازت کے بنا ہو۔ وہ لمس ہمیشہ گندا رہا ہے گندا رہے گا۔ بازاری عورت کی زندگی بھی ہر کسی کے لئے نہیں ہوتی۔ تم نے ہر عورت کی زندگی و جسم اپنا کیسے سمجھ لیا ہوا ہے۔

قبر تک میں جسم نہیں چھوڑتے۔ صرف ایک سوال ہے جواب دے دو ہوس پرستو ”مردہ جسم سے کیسے لطف کشید کرتے ہو؟ ،

خدا صرف عورت کا ہی نہیں ہے۔ تمہارا بھی ہے۔ وہ کہاں رہتا ہے؟

اب یہ مت کہنا ”ناٹ آل، ۔ اب ہم کہیں گے۔ چند کو نکال کے“ یو آل”۔ تم کو موقع ملنے کی دیر ہے۔ منہ سے نقاب اتر جائے گا۔ سوچ کا تو اتر چکا ہے۔

ظالمو کتنی عورتوں کو ننگا کر چھوڑا۔ کسی صحافی کسی پولیس افسر نے پکڑے جانے والے کسی مرد کی منہ دکھائی کیوں نہیں کروائی؟ صحافی بھی ابھی تک چسکے لے رہے ہیں۔ چن چن کر خلیل الرحمن قمر کی ذہنی اولادوں کی رائے چینلز پہ نشر کر رہے ہیں۔ تاکہ مظلوم مجرم ثابت ہو جائے۔ پولیس روز فگرز بتا دیتی ہے کہ کتنے لوگ پکڑے گئے۔ کہاں ہیں۔ کوئی خبر نہیں۔

یہ ذہن سازی صدیوں سے جاری و ساری ہے۔ اس کو روکا نہیں گیا تو معاشرہ انتشار کا شکار رہے گا اور عورت برہنہ کی جاتی رہے گی۔

اس سیریز کے دیگر حصےگولڈن گرلز: اوئے، ننگی کر دی اوئے…گولڈن گرلز: آج ”کچھ“ مردوں کی بات کرتے ہیں
Comments - User is solely responsible for his/her words