شعبہ تعلیم کب تک لاوارث؟

جامعہ پنجاب کا گوجرانوالہ کیمپس آج کل خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت پنجاب نے گوجرانوالہ شہر میں قائم پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس کو باقاعدہ یونیورسٹی کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک اخباری خبر کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے گوجرانوالہ میں ایک یونیورسٹی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حکام نے حل اس کا یہ نکالا کہ جامعہ پنجاب کا بنا بنایا اور اچھا بھلا چلتا ہوا کیمپس اپنی تحویل میں لیا جائے۔

اس پر گوجرانوالہ یونیورسٹی کی تختی آویزاں کر کے عوام سے کیے گئے وعدے کی تکمیل کر دی جائے۔ اس فیصلے کے خلاف جامعہ پنجاب کے ملازمین اور اساتذہ کئی دن سے سراپا احتجاج ہیں۔ وہ اپنی یونیورسٹی کا کوئی حصہ حکومت کو دینے پر آمادہ نہیں۔ موقف ان کا یہ ہے کہ 2005 میں اس کیمپس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ برسوں کی محنت اور پتہ ماری کے بعد جامعہ پنجاب کا گوجرانوالہ کیمپس اپنے پیروں پر کھڑا ہوا۔ اب تک سینکڑوں نوجوان یہاں سے ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں۔ پندرہ سولہ برس سے قائم اس کیمپس کو کسی کی خواہش اور فرمائش کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔

اگرچہ نہایت گھسا پٹا جملہ ہے، لیکن حقیقت ہے کہ شعبہ تعلیم ہماری ترجیحات میں شامل نہیں۔ تعلیمی پالیسیوں اور فیصلوں پر نگاہ ڈالیں۔ بے انتہا بے سمتی کی کیفیت نظر آتی ہے۔ بجٹ بناتے اور مراعات بانٹتے وقت بھی شعبہ تعلیم کو نظر انداز کرنے کی روایت ہے۔ ایک مصیبت یہ ہے کہ ہمارے ہاں کم و بیش ہر معاملے کو سیاست کی عینک سے دیکھنے کی عادت جڑ پکڑ چکی ہے۔ یہ رواج بھی چل نکلا ہے کہ ہر غلط کام کا ملبہ گزشتہ حکومتوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔

جبکہ ہر اچھے کام کا کریڈٹ اپنے کھاتے میں لکھ لیا جاتا ہے۔ ہم یہ بھی دیکھتے سنتے ہیں کہ جانے والی حکومتوں کی سڑکوں، شاہراہوں، اور دیگر منصوبوں پر تختیاں لگا کر عوام سے داد سمیٹنے کی تگ و دو جاری رہتی ہے۔ اگرچہ سیاست دانوں کی کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں۔ دنیا (اور عوام ) دکھاوے کو کچھ کارگزاری انہیں دکھانا پڑتی ہے۔ لیکن ان سیاسی مجبوریوں کے باوجود، تعلیم اور صحت جیسے حساس منصوبوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے مستثنیٰ رکھنا چاہیے۔

سڑکوں، شاہراہوں اور اینٹ پتھر کے دوسرے منصوبوں پر سیاسی تختیاں لگانا ان سیاست دانوں کی مجبوری سہی، لیکن اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بھی اسی لاٹھی سے ہانکنا نہایت نا مناسب طرز عمل ہے۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ جامعہ پنجاب کے کیمپس پر گوجرانوالہ یونیورسٹی کی تختی ٹانک بھی دی جائے تو اس سے شعبہ تعلیم کی کیا خدمت ہوگی؟ البتہ یہ ضرور ہو گا کہ حکومت اپنی کارگزاری اور نامہ اعمال جب عوام کے سامنے پیش کرے گی تو اپنے آپ کو تعلیم دوست ثابت کرنے کے لئے نہایت فخر سے بتا سکے گی کہ اس نے گوجرانوالہ شہر میں ایک یونیورسٹی قائم کی تھی۔

وفاقی یا صوبائی حکومتیں اگر جامعات کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتی ہیں اور نئی نئی یونیورسٹیاں بنانا چاہتی ہیں تو ضرور ایسا کریں۔ اس مقصد کے لئے لیکن باقاعدہ منصوبہ بندی کریں۔ بجٹ مختص کریں۔ انتظامی ڈھانچہ کھڑا کریں۔ پہلے سے قائم کیمپس کو یونیورسٹی کا درجہ دینے سے عملی طور پر کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ جامعات کی تعداد بڑھانے سے کہیں بہتر ہے کہ پہلے سے قائم سرکاری جامعات کی حالت زار بہتر بنانے کی طرف توجہ مبذول کی جائے۔ صوبے بلکہ ملک بھر کی یونیورسٹیوں کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔ بہت سی سرکاری جامعات میں معیار تعلیم نہایت ناقص ہے۔ بیشتر اداروں میں تحقیقی سرگرمیاں سرے سے ہو نہیں رہیں یا ان کا معیار اچھا نہیں۔ اگر واقعتاً شعبہ تعلیم میں بہتری لانا مقصود ہے، تو ارباب اختیار کو ان مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

دنیا کے مہذب ممالک میں مختلف منصوبوں پر رنگ برنگی سیاسی تختیاں لگانے کا رواج نہیں ہے۔ ترقیاتی منصوبے ہوں، شعبہ تعلیم یا صحت سے متعلق ادارے، انہیں سیاست کی عینک سے نہیں، بلکہ مفاد عامہ کی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ اچھی روایت بھی وہاں موجود ہے کہ ایک حکومت کوئی منصوبہ شروع کرتی ہے تو آنے والی حکومت ان منصوبوں کو سیاست زدگی کی نذر کرنے کے بجائے آگے بڑھاتی ہے۔ اس تسلسل کی وجہ سے ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں بھی کچھ اچھی مثالیں موجود ہیں۔ وہ الگ بات کہ یہ مثالیں بس انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تھی۔ جبکہ نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کر کے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ لیکن اس دوران جو بھی فوجی اور جمہوری حکومتیں آئیں، انہوں نے اس منصوبے کو آگے بڑھانے میں اپنا حصہ ڈالا۔

چوہدری پرویز الہیٰ نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب ریسکیو 1122 کی بنیاد رکھی تھی۔ شہباز شریف وزیر اعلیٰ بنے تو یہ منصوبہ جاری رہا۔ کسی کے دل میں خواہش ابھری، تب بھی اس اچھے منصوبے کو بند نہیں کیا گیا۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں یہ منصوبہ شروع ہوا۔ 2013 میں مسلم لیگ (ن) برسراقتدار آئی تو کچھ مشیروں نے مشورہ دیا کہ مخالف سیاسی جماعت کی رہنما کے نام پر قائم اس پروگرام کو بند ہونا چاہیے یا پھر اس کا نام تبدیل کر دینا چاہیے۔

نواز شریف اس پر آمادہ نہ ہوئے۔ لہذا یہ منصوبہ ان پانچ برسوں میں چلتا رہا اور ہر سال اس کے بجٹ میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہ تو چند اچھی مثالیں ہیں۔ زیادہ تعداد ان قومی منصوبوں کی ہے جو سیاسی یا ذاتی انتقام کی بھینٹ چڑھ گئے۔ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ (PKLI) اس کی ایک مثال ہے۔ اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اس عمدہ منصوبے کو اپنی ذاتی رنجش کی بھینٹ چڑھا ڈالا۔ اس اچھے منصوبے اور منصوبہ سازوں کو انتقام کی سولی پر چڑھائے رکھا۔

کاش ہمارے ہاں بھی یہ روایت پروان چڑھے کہ ملک و قوم کی بہتری کے لئے بننے والا ہر منصوبہ آتے جاتے سیاسی موسموں کے منفی اثر سے محفوظ رہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر سیاسی جماعت اپنے دور حکومت میں نئے نئے منصوبے شروع کرے۔ ساتھ ہی ساتھ پہلے سے جاری منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگائے بغیر ان منصوبوں کی مضبوطی میں اپنا حصہ ڈالے۔ حکومتوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اچھی کارکردگی اور نیک نامی کسی تختی، کسی کتبے کی محتاج نہیں ہوتی۔ جامعہ پنجاب کے گوجرانوالہ کیمپس کے قضیے سے متعلق اطلاعات ہیں کہ اساتذہ اور ملازمین کے احتجاج اور دباو کے بعد حکومت نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کا عندیہ دیا ہے۔ امید ہے کہ حکومت پنجاب تعلیم دوست ہونے کا ثبوت دے گی۔ جامعہ کے اساتذہ اور ملازمین کے مطالبے کا احترام کرتے ہوئے اپنا فیصلہ واپس لے گی۔

۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words