عبوری صوبہ عجلت کا فیصلہ

گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون کو اللہ لمبی عمر دے جنہوں نے ایک سوال پر حیثیت کے تعین میں رخنہ ڈالے رکھا ورنہ آج تک اپنے دفتر اور محکمہ کے سیکریٹری کا منہ نہ دیکھنے والوں نے قبول و منظور فرما دیا تھا۔

گلگت بلتستان اسمبلی میں اپنی رکنیت کا حلف لینے کے بعد اور نظام کو سمجھنے سے قبل ہی آئینی اور عبوری صوبہ کا مطالبہ کرنا خلاف توقع نہیں ہے، اس عجلت اور ہنگامی قرار داد کو سمجھنے کے لئے اسمبلی کی صورتحال کو دیکھنا ضروری ہے، جی بی اسمبلی سے رواں مالی سال کا بجٹ کثرت رائے سے منظور ہو چکا ہے لیکن حتمی طور پر اے ڈی پی کی کاپی اب تک نہیں چھپ سکی ہے یہ تو پہلی مرتبہ ہوا ہوگا کہ اے ڈی پی کا پی دو ماہ بعد بھی چھپ نہیں سکی ہے۔ دلچسپ صورتحال اے ڈی پی چھپنے کے بعد سامنے آئے گی کہ جو بجٹ اسمبلی سے منظور ہوا ہے وہ چھپنے والے سے بہت مختلف ہے، یہ قانون سازی کی مجموعی حالت ہے، ماضی میں ملازمین کی مستقلی بل پر بھی یہی صورتحال دیکھنے کو ملی جہاں منظور ہونے والے بل اور گزٹ آف پاکستان میں چھپنے والے بل میں کھلا تضاد نظر آیا۔

یہ اسمبلی کا منفرد اعزاز ہے اور اس کا کریڈٹ وزیر خزانہ جاوید منوا کو جاتا ہے کہ اب تک منظور نہ ہونے والے بجٹ کی جشن میں وفاقی سیکریٹری امور کشمیر و جی بی، چیف سیکریٹری سمیت 11 مزید سیکریٹری لیول کے افسر ان کو تین ماہ کی تنخواہ، اکاؤنٹنٹ جنرل و 10 افسر ان، ڈائریکٹر جنرل و 5 افسر ان، ڈپٹی اکاؤنٹنٹ جنرل و 3 افسر ان سمیت 10 وفاقی افسر ان کو دو ماہ کی تنخواہ، جی بی کے 82 دیگر محکموں کے سیکریٹریز و ملازمین کو دو مہینے کی تنخواہ کے برابر اعزازیہ کا اعلان کر دیا ہے۔

جاوید منوا صاحب دور اندیش آدمی ہیں جنہوں نے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کی سیکورٹی سکواڈ کو بھی دو ماہ کی تنخواہ اسمبلی سیکریٹریٹ کی پولیس اور سپیشل برانچ کے اہلکاروں کو ایک اضافی تنخواہ کا اعلان کر دیا ہے یہ وہ تمام ناقابل فراموش ہیروز ہیں جن کی بدولت بجٹ کاپی دو ماہ بعد بھی حتمی شکل تک نہیں پہنچ سکی ہے۔

اگر اسمبلی کی کارروائیوں کو جھلکیوں میں دیکھا جائے تو کہیں سے لعنت ملازمت، کہیں سے گالیاں، سپیکر پر مسلط شدہ ایجنڈا متعارف کرانے کا الزام، اپنے لیڈروں کو فرشتہ ثابت کرنے کے لئے قلابازیاں اور مخصوص ایجنڈوں کا بزنس، حرام خوری اور عیاش کے اڈوں کی تقاریر نظر آئیں گی۔ اسمبلی کے ضابطے کے تحت لاز ہے کہ 120 دنوں اجلاس ہونا چاہیے، 9 ماہ سے زائد عرصے میں معمول کے صرف تین اجلاس ہوئے ہیں جبکہ بجٹ اور پری بجٹ کا ایک ایک اجلاس شامل ہے۔ معمول کے تین اجلاسوں کی اگر گروہ بندی کی جائے تو ایک اجلاس میں تعارفی، ایک اجلاس حلف اور ایک خصوصی اجلاس برائے قرار داد عبوری صوبہ بن سکتا ہے۔ اس نمایاں کارکردگی پر بطور انعام اب ایک اور قرار داد اسمبلی میں آئے گی کہ اراکین کی تنخواہوں دو گنا یا تین گنا بڑھائی جائیں گے۔

بات نکلی تھی گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون کے اس سوال سے جس کی وجہ سے وفاقی حکومت تاحال جی بی کی حیثیت پر اپنی پوزیشن واضح نہیں کر سکی ہے، اطلاعات کے مطابق گلگت بلتستان کے لئے قومی اسمبلی میں تین اور ایوان بالا میں 6 نشستوں پر بات چل رہی ہے، صوبائی حکومت اس پر کوشاں رہی ہے کہ نمائندگی کے لئے تعداد کو بڑھا یا جائے تاہم سامنے سے تاویلات یہی آرہے ہیں جن کا ماخذ آبادی ہے چونکہ ملک بھر میں تقریباً سات لاکھ آبادی پر ایک قومی اسمبلی کی نشست ملتی ہے تو اس اعتبار سے نشستیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

گورنر گلگت بلتستان نے اس معاملے پر یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ اگر آبادی کے اعتبار سے جی بی کو قومی اسمبلی میں دو یا تین نشستیں دی جا رہی ہیں تو سینیٹ میں بی وہی فارمولہ بنایا جائے جو دیگر اکائیوں کے لئے ہے جہاں پر آبادی اور رقبہ نہیں بلکہ بطور اکائی لیا جاتا ہے لہذا گلگت بلتستان کو سینیٹ میں بھی دیگر صوبوں کی طرح 22 نشستیں دی جائیں۔ گورنر جی بی راجہ جلال حسین مقپون کا یہ سوال اب تک رکاوٹ بنا ہوا ہے، گلگت بلتستان کے ساتھ ہمیشہ ایسا کیوں ہوتا ہے جہاں پر امناصد قنا پہلے کیا جاتا ہے اور شرائط و ضوابط بعد میں طے کیے جاتے ہیں۔

مارچ کے مہینے میں اسمبلی سے منظور ہونے والی قرار داد کو دیکھیں تو صرف ایک شرط رکھی گئی ہے کہ تنازعہ کشمیر میں پاکستان کا اصولی موقف بر قرار رہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی، سینیٹ اور دیگر فورمز میں نمائندگی کے لئے قومی اسمبلی سے بل منظور کیا جائے اور آئینی ترامیم کی جائیں۔ صدارتی آرڈر کے تحت اپنا وجود رکھنے والی اسمبلی ریاستی اداروں، ایوان زیریں و بالا کو تجویز دیتی ہے جو اپنی نوعیت کی ایک مضحکہ خیز بات بھی ہے تاہم نظریہ ضرورت کے تحت بھی دیکھا جائے تو شرائط و ضوابط کی بات رکھنا نا مناسب نہیں تھا۔

اب یہ کیسی بات ہے کہ فروغ نسیم یا کوئی اور اچانک اطلاع بھیجتا ہے کہ صبح جی بی کے آئینی حیثیت پر اجلاس ہے تو ادھر سے وزیر اعلیٰ بائی روڈ بھی پہنچ جاتے ہیں۔ اس میں کون سی قباحت تھی کہ جی بی اسمبلی ہی سے کمیٹی قائم کر کے قومی سلامتی کے ساتھ روبرو رکھا جاتا، کمیٹی سے ذہن میں آیا کہ 9 ماہ بعد بھی جی بی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیز کا قیام عمل میں نہیں لایا جا سکا ہے اب بھی وقت ہے کہ اس صورتحال پر حکومت منطقی لائحہ عمل اپنائیں ورنہ ایف سی آر کے ساتھ بھی یہ علاقہ پاکستان تھا تو صدر زرداری اور ممنون حسین کے دیے گئے صدارتی حکم ناموں کے ساتھ بھی پاکستان ہی ہے اور آئندہ بھی اسی طرح پاکستان ہی رہے گا البتہ چند بریف کیس والے جی بی کی بجائے اسلام آباد کے لئے لابنگ کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words