سوشل میڈیا کا خطرناک جن
آج ایک سوشل میڈیا کے دوست کی امریکی افواج کی پناہ گاہ میں لنگر کھاتے شیئر کی ہوئی ایک تصویر دیکھی، جو کہ یقیناً فیک تھی، اور انہیں ان کی پوسٹ میں بتانے کی کوشش کی۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کا استعمال دن بدن ہر طرح سے خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔
ایک طرف ایک غلط خبر، ایک جھوٹی تصویر سیکنڈوں میں وائرل کر دی جاتی ہے، اور اس غلط خبر کی تصحیح ہونے تک ایک بڑا طبقہ انہیں درست بھی مان چکا ہوتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے سخت سائبر قوانین کی لاعلمی بہت سے افراد کو لاعلمی میں ہی کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔
پاکستان میں مجموعی طور پر ہر فرد سوشل میڈیا پر بہت سے لائکس، کمینٹس اور شیئر کے معاملے میں حساس واقع ہوا ہے۔
چند سیکنڈ میں مشہور ہونے کا چسکا لگانے میں ہمارے ٹی وی چینلز ہر طرح سے اس بات کو پروموٹ کرتے نظر آتے ہیں کہ آپ چائے پاووری کریں، چاہے پیچھے دیکھیں، آپ کسی بھی طرح سوشل میڈیا پر مشہور ہو جائیں اور یہ آپ کی سب سے بڑی قابلیت بن جاتی ہے کسی بھی مارننگ شو میں آنے کے لئے۔
اور یہ چسکا نوجوانوں کو کسی بھی طرح کا اسٹار بنانے کے کلیے اکسا رہا ہے اور اس میں کسی اخلاقی حد کا مقرر نا ہونا، مشہور ہونے کے لئے کسی بھی حد تک چلے جانا، ایک انتہائی خطرناک ٹرینڈ کا اشارہ دے رہا ہے۔
اور اس پر المیہ یہ ہے کہ ایک درست خبر، ایک مثبت خبر، یا کسی مثبت وڈیو کو وہ ویوز، لائکس اور کمینٹس نہیں مل پاتے جتنا کسی غیر مثبت خبر، جھوٹی خبر یا منفی وڈیو کو مل جاتے ہیں، اور یہ سوچے بنا کہ اس سے نوجوانوں کو، معاشرے کو، یا پاکستان کو کیا نقصان ہو سکتا ہے، اسے زیادہ سے زیادہ نا صرف شیئر کیا جا رہا ہوتا ہے بلکہ ایسا کرنے پر اکسایا جاتا ہے اور یہ عمل بھی صرف اپنی مشہوری کے لئے کیا جاتا ہے۔
یقیناً ایک بڑا طبقہ اسی سوشل میڈیا سے مثبت فائدہ بھی اٹھا رہا ہے لیکن ان کو جتنی کوشش اور جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے، آپ ذرا ان سے پوچھ تو لیں، وہ کسی بھی منفی کنٹینٹ بنانے والے کو نہیں کرنا پڑ رہی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ
1۔ ہم اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ ہر خبر، وڈیو، یا کنٹینٹ آگے بڑھانے کے لئے نہیں ہوتا۔
2۔ کسی خبر یا وڈیو کی اصلیت کو جاننے کی کوشش ضرور کر لیں۔
3۔ خاص طور پر ایسی خبریں، جن کا ڈائرکٹ تعلق، پاکستان، اسلام، خواتین، یا کسی شخصیت کے کردار کے بارے میں ہو۔
4۔ چاہے کوئی کتنا ہی قریبی دوست، گھر والا، رشتہ دار، آپ کو کوئی پوسٹ، یا خبر شیئر کر رہا ہے، اسے شیئر کرنے سے پہلے اس کی اصل ضرور دیکھ لیں، اور اگر وہ خبر درست بھی ہو لیکن اس سے ملک کو یا کسی شخصیت کو نقصان پہنچ سکتا ہو تو اسے ہر جگہ شیئر نا کریں کوشش کر کے صرف متعلقہ لوگوں کے ساتھ شیئر کریں، اگر بہت ضروری ہو۔
5۔ اور خدارا اپنی پوسٹوں میں، وڈیوز میں پاکستان کو کوسنا بند کردیں، یہ پاکستان ہے تو آپ ہیں، ہم ہیں، ہماری شناخت ہے، اگر یہ ملک نہیں تو آپ چاہے کوئی بھی طرم خان ہوں آپ کی کوئی شناخت نہیں، یقیناً اس ملک کے رہنے والوں میں بہت سی کمی، کوتاہیاں ہیں، وہ ہر قوم اور ملک میں ہوتی ہیں، اور کوئی بھی قوم غلطیوں سے مبرا نہیں ہے، لیکن اس میں اس ملک کا کیا قصور ہے؟
6۔ المیہ ایک اور یہ ہے کہ ہم مین اسٹریم میڈیا میں دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے 22 گھنٹے صرف سیاست، یا سیاسی پارٹیوں کے علاوہ کسی بات پر فوکس نہیں کیا جا رہا اور یہ ایک بہت بڑی وجہ ہے کہ یہ قوم ایک غیر یقینی کی صورتحال کا شکار ہے، اور اس غیر یقینی میں دن دگنی رات چوگنی ترقی ہی ہو رہی ہے، آپ کو شاذ ہی کسی چینل خاص کر کسی نیوز چینل پر مثبت خبروں کے حوالے سے کوئی وقت مخصوص نظر آئے گا، یا چینلز مثبت خبروں کو فوکس کرتے نظر آئیں۔
7۔ تعلیم، تربیت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے چینلز کو اگر دیکھا جائے تو ان کی تعداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہے، صرف ایک چینل ڈسکور پاکستان، پاکستان کی سیاحت کو فروغ دینے کا کام کرتا نظر آتا ہے۔ یا اس کوووڈ کی مہربانی کی وجہ سے ان دو سالوں میں کوئی دو یا تین چینلز اسکول، کالج کے سبجیکٹس پر کام کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اور اس کی وجہ بھی میں اور آپ ہی ہیں، کیونکہ مین اسٹریم میڈیا کے مطابق جہاں ان کو ریٹنگ زیادہ ملتی ہے وہ تو وہی دکھائیں گے
8۔ سوشل میڈیا، اور مین اسٹریم میڈیا ایک طاقت ور جن کی صورت میں باہر آ چکا ہے اور یہ جن قابو سے باہر ہے، اب یہ آپ کی اور میری ذمہ داری بن جاتی ہے کہ ہم اس جن کو جس حد تک کنٹرول کر سکیں کر لیں اور اس غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کر سکیں، بہت سے افراد ایسا کرتے نظر بھی آتیں ہیں، آپ ان کا ہاتھ بن کر، ایک بہتر پاکستان، ایک مثبت پاکستان کو اجاگر کر سکتے ہیں۔
9۔ موبائل اب ایک ہتھیار ہے اور اس ہتھیار کا استعمال آپ کو اور مجھے سیکھنا ہو گا، ایک بہتر پاکستان کے لئے، ایک بہتر قوم بنانے کے لئے
10۔ اسی سوشل میڈیا کے جن کو آپ اور میں اپنی طاقت بنا کر اس غیر یقینی میں مبتلا قوم کو ایک عظیم قوم بنانے میں استعمال کر سکتے ہیں
یہ عہد کہ کسی منفی خبر کا حصہ نہیں بنیں، کسی جھوٹی خبر کو آگے نہیں بڑھائیں گے، کوشش کر کے اچھے کام کرنے والوں کو سامنے لائیں گے اور ایک بہتر مستقبل کے لئے مل کر کام کریں گے۔


