میرا پاکستان کیسا ہو، افغانستان جیسا ہو؟ (مکمل کالم)

افغانستان پر اتنے کالم اور مضامین لکھے جا رہے ہیں کہ مجھے لگتا ہے اگر میں نے کالم اس موضوع پر کالم نہ لکھا تو لوگ سمجھیں گے کہ میں ’افغان امور کا ماہر‘ نہیں ہوں۔ جبکہ ایک سکہ بند کالم نگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ موٹر مکینک کا کام بھی جانتا ہو اور افغانستان کے حالات پر بھی گہری نظر رکھتا ہو۔ بد قسمتی سے میں ان دونوں باتوں میں ہی کورا ہوں۔ راستے میں کہیں گاڑی خراب ہو جائے تو میں بونٹ کھول کر یہ بھی نہیں بتا سکتا کہ اس کی بیٹری جواب دے گئی ہے یا گئیر آئل بہہ گیا ہے۔

افغانستان کے بارے میں میری معلومات کا ماخذ اخباری رپورٹیں اور مضامین ہی ہیں جن میں سے کچھ پڑھتا ہو اور باقی بور ہو کر چھوڑ دیتا ہوں۔ وہ تو بھلا ہو طالبان کا جن کے کابل پر قبضے کے بعد سے موضوعات کی گویا بہار آ گئی ہے اور ہم جیسے افغان امور کے تجزیہ کاروں کی چاندی ہو گئی ہے۔ آئے دن ان کی طرف سے کوئی نہ کوئی نرالی بات سامنے آجاتی ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوتا سو مجھ ایسوں کو کالم لکھنے کا موضوع مل جاتا ہے۔ آج بھی کم و بیش ایسی ہی صورتحال درپیش ہے۔

میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں افغان جنگ کے خاتمے کا جشن منائوں یا کم از کم امریکہ کی شکست پر ہی بھنگڑا ڈال لوں مگر جونہی میں بھنگڑا ڈالنے کا ارادہ کرتا ہوں میری نظروں کے سامنے وہ مناظر گھومنے لگتے ہیں جن میں لوگ جہازوں سے لٹک کر بھاگنے کی کوشش میں ہلاک ہو رہے ہیں، برقع پوش عورتیں اپنے معصوم بچوں کے ساتھ در بدر ہیں جن کوئی پرسان حال نہیں اور اپنے مستقبل سے بے خبر لوگ جہاز میں مرغیوں کی طرح بیٹھے ہیں تاکہ انہیں افغانستان سے کسی دوسرے ملک منتقل کیا جا سکے۔

مجھے اس بات کا بھی اندازہ ہے کہ جو کچھ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دکھایا جا رہا ہے وہ اس تکلیف اور اذیت کا عشر عشیر بھی نہیں جس سے افغان عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے گزر رہے ہیں اور مستقبل قریب میں بھی ان کے حالات تبدیل ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ افغانستان کو ایک فعال، مربوط اور منظم حکومت کی ضرورت ہے جو جدید انداز میں امور مملکت چلانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ بظاہر طالبان کی حکومت میں یہ تینوں خصوصیات ہوں گی، آخر انہوں نے امریکہ کو شکست دی ہے، مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

دو مثالوں سے اندازہ لگا لیں۔ کابل پر قبضے کے بعد طالبان افغانستان کے مرکزی بنک میں گئے اور وہاں موجود © © ’چوکیدار‘ سے کہا کہ 9 ارب ڈالر کے زر مبادلہ کے ذخائر ان کے حوالے کیے جائیں۔ بنک والوں نے طالبان کو بتایا کہ ان کے پاس نقد رقم نہیں ہوتی، زر مبادلہ کے یہ ذخائر مختلف اثاثوں کی شکل میں فیڈرل بنک نیویارک کے پاس ہیں اور یہ اثاثے امریکی صدر پہلے ہی منجمد کر چکا ہے۔ افغانستان بنک کے گورنر کو یہ بات مختلف ٹویٹس سے واضح کرنی پڑی جو پہلے ہی ملک چھوڑ کر جا چکا تھا۔

یہ واقعہ روزنامہ ڈان کے لکھاری خرم حسین نے اپنے کالم میں لکھا ہے۔ دوسری مثال میڈیا کی ہے۔ ایک چھوٹا سا ویڈیو کلپ میں نے ٹویٹر پر دیکھا، خدا جانے اصل ہے یا پیروڈی، اس میں ایک ٹی وی اینکر طالبان کا انٹرویو کر رہا ہے اور اس کے ارد گرد مسلح جنگجو رائفلیں تانے کھڑے ہیں۔ کسی ستم ظریف نے اس پر اچھا تبصرہ کیا کہ یہ طالبان کا آزاد میڈیا کا تصور ہے۔ ان حالات میں اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ طالبان افغانستان کو باقاعدہ ایک ایسے ملک کی طرح چلائیں گے جس میں ٹیکس کا نظام ہو گا، تنخواہیں بنک سے ادا کی جائیں گی، سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کے لیے انجنئیرز بھرتی کیے جائیں گے اور ملک میں امن امان کے لیے تربیت یافتہ پولیس ہوگی نہ کہ طالب جو خود ہی موقع پر جج بن کر سزا سنا دیتا ہے تو میری نیک تمنائیں ایسے خوش فہم لوگوں کے ساتھ ہیں۔

فی الحال حالات یہ ہیں کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں طالبان کے قبضے کو اور کابل میں بم دھماکے بھی شروع ہو گئے ہیں، جواب میں امریکہ نے ڈرون حملے بھی داغ دیے ہیں، دہشت گردوں کا تو پتا نہیں البتہ بچے، عورتیں اور بے گناہ لوگ ضرور مارے گئے ہیں۔ لیکن جیسے وہ انگریزی میں کہتے ہیں کہ who cares، افغانستان پر چاہے جتنے مرضی بم برساؤ، مہذب دنیا کی نظر میں یہ کوئی سچ مچ کا ملک تو ہے نہیں جہاں انسان بستے ہوں۔ پاکستان پر بھی اس کے اثرات آنے شروع ہو گئے ہیں۔

گزشتہ پندرہ روز میں دہشت گردی کے تیرہ واقعات ہو چکے ہیں جن میں تیرہ سویلین اور سات سیکورٹی کے جوان شہید جبکہ گیارہ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ پچھلے سال انہی پندرہ دنوں میں چھ واقعات ہوئے تھے جن میں تین سویلین اور تین سیکورٹی اداروں کے جوان شہید ہوئے تھے جبکہ تین دہشت گرد مارے گئے تھے۔ ان حالات میں بندہ کس بات کا جشن منائے!

میرے کچھ دوست کہتے ہیں کہ کم از کم اس بات کا ہی جشن منا لو کہ طالبان نے سپر پاور کو شکست دی ہے اور ان کا جذبہ ایمانی دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ اپنے ارادوں میں مضبوط ہیں لہذا وہ ایک آئیڈیل اسلامی مملکت بھی بنا لیں گے۔ اس بات سوائے اس کے اور کیا جواب دیا جا سکتا ہے کہ آج کی تاریخ میں عوام سے ریفرنڈم کروا کے پوچھ لیں کہ کیا یہ بات ممکن ہے اور کیا وہ افغانستان جیسا پاکستان چاہتے ہیں؟ شاید ہی کوئی بندہ ہو جو یہ چاہتا ہو کہ ہمارا ملک ویسا بن جائے جیسا طالبان افغانستان کو بنانا چاہتے ہیں۔

میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ آخر اتنی باریکی میں جانے کی کیا ضرورت ہے، ملک کے سیانے بیانے لوگ جشن منا رہے ہیں تو مجھے بھی منا لینا چاہیے۔ جشن منانے کے لیے تو ایک سپر پاور کی شکست ہی کافی ہے۔ اس پر ایک لطیفہ یاد آ گیا۔ ایک غریب آدمی نے کسی رئیس کی شاندار کوٹھی دیکھی تو بے ساختہ بولا، چاہے جتنی بھی مضبوط بنا لو، اگر کہیں سے بم آ گرا تو آخر کھنڈ رہی بن جائے گا! ایسا ہی حال ہمارا ہے۔ امریکہ جیسے ملک امیر لوگوں کی طرح ہوتے ہیں جو زندگی میں مختلف ایڈونچر کرتے رہتے ہیں، انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے کتنے کھرب ڈالر کہاں خرچ ہوئے، کتنے جہاز اور کتنی گاڑیاں مال غنیمت میں چلی گئیں۔

امیر آدمی جیف بیزوز کی طرح سوچتا ہے۔ مسٹر بیزوز نے کچھ عرصہ پہلے اپنے ذاتی خلائی جہاز میں ’سپیس‘ کا ایک چکر لگایا، پانچ منٹ کا یہ چکر اسے ساڑھے پانچ ارب ڈالر میں پڑا مگر اس نے یہ پیسے یوں خرچ کیے جیسے کوئی ہاتھ سے مکھی اڑاتا ہے۔ بس یہی فرق ہے امریکہ کے ایڈونچر میں اور ہم جیسے غریب غربا کی سوچ میں۔ امریکی اس بھیانک غلطی کے باوجود اپنے نرم گرم بستروں میں لمبی تان کر سو رہے ہیں، انہیں دنیا کی گالیوں کی پروا ہے اور نہ کسی کا ڈر خوف۔

دوسری طرف افغان عوام ہیں جو روزانہ اس خوف میں زندگی بسر کر رہے ہیں کہ نہ جانے آنے والا دن ان کے لیے کیسا ہوگا! یہ خوف بے حد اذیت ناک ہوتا ہے، دنیا میں اس شخص یا قوم سے زیادہ مجبور اور مظلوم کوئی نہیں ہوتا جس کے پاس آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع ختم ہو جائیں۔ ہمارے ہمسائے میں ظلم کی تاریخ رقم ہو رہی ہے، باقی کسی کا تو پتا نہیں، کم از کم میں اس پر جشن نہیں منا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words