امریکا نیا تماشا لگانے جا رہا ہے

افغانستان سے آ خری فوجی نکلنے کے بعد جو بائیڈن کی تقریر بنیادی طور پر ہزیمت اور شکست کو قابل قبول بنانے کا جواز فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب افغانستان میں ٹھہرنا قومی مفاد کے خلاف تھا۔ سوال یہ ہے کہ قومی مفاد تھا کیا۔ انہوں نے خود ہی تسلیم کیا کہ اسامہ کو تو وہ ایک دہائی پہلے ہی مزا چکھا چکے تھے۔ شاید وہ بھول گئے کہ اسامہ کو مزا چکھانے سے بہت پہلے وہ اسے گرفتار کر سکتے تھے لیکن نہیں کیا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ منصور اعجاز دبئی میں اسامہ کا انتظار کرتا رہا لیکن پاکستانی ایجنسیوں نے اسے حوالے نہ کیا۔

امریکہ اپنے عوام کے سامنے جنگوں کے جواز بنانے میں سب سے اہم کام یہ کرتا ہے کہ شخصیتوں کو عفریت بنا کر پیش کرتا ہے مثلاً صدام حسین، قذافی اور اسامہ بن لادن۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خود امریکا کے ایما پر اسامہ بن لادن افغانستان آیا تھا۔ لیبیا میں حملے کا جواز اپنے سفیر کے قتل ہونے کو بنایا گیا۔ اسی تقریر میں جو بائیڈن نے داعش خراسان کے خطرے اور امریکہ کا داعش خراسان کے خلاف حملے جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

داعش خراسان دو ہزار جنگجووں پر مشتمل وہی تنظیم ہے جس کی ٹمبر کے مسئلہ پر 2019 میں طالبان کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی جس میں امریکا نے طالبان اور افغان نیشنل آرمی نے داعش خراسان کی مدد کی تھی۔ اس سے پہلے 2018 میں جوزجان میں دونوں کی معمولی جھڑپ ہوئی تھی۔ اس وقت بہت سے چھوٹے چھوٹے جہادی گروپ افغانستان میں موجود ہیں اور یہ خطرہ موجود ہے کہ وہ تمام گروپ داعش خراسان کے ساتھ مل جائیں کیونکہ داعش خراسان کا ایک عالمی ایجنڈا ہے اور وہ طالبان کی نظریاتی دشمن ہے۔

جس طرح امریکا طالبان کے لئے پچاسی ارب ڈالر کا اسلحہ چھوڑ کر بھاگا ہے اور جیسے روس اور چین اس پر داعش کی مدد کا الزام لگاتے رہے ہیں اس سے یہ ثابت ہے کہ خود امریکا کا طالبان / داعش خراسان کی لڑائی کے ارادے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا گو کہ پاکستان میڈیا مجاہدین داعش خراسان کو کوئی خطرہ نہیں سمجھتے۔ یہ داعش خراسان ہی تھی جس نے کچھ عرصہ قبل کابل میں لڑکیوں کے سکول پر حملہ کر کے بہت سی معصوم طالبات کو شہید کر دیا تھا۔

پھر اپنی تقریر میں جو بائیڈن نے کہا کہ روس اور چین اسے افغانستان میں پھنسائے رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بہت ہی احمقانہ بیان اس لئے ہے کہ امریکا اپنا سفارت خانہ بند کر کے جا چکا ہے جب کہ روس کا سفارت خانہ معمول کا کام کر رہا ہے اور روس نے لوگوں کو نکالنے میں کسی افراتفری کا مظاہرہ بھی نہیں کیا۔ چین تو پہلے ہی سے طالبان حکومت کو۔ قبول کرنے کے لئے بیٹھا ہے کیونکہ اسے وہاں کان کنی کے ٹھیکے چاہئیں۔ جو بائیڈن فرماتے ہیں کہ ان کا مقصد نیشن بلڈنگ کبھی نہیں تھا حالانکہ بیس برس میں امریکا نے وہاں جو مڈل کلاس پیدا کی ہے وہ اظہار آزادی رائے کی قائل ہے اور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہی ہے۔

امریکا نے وہاں دو ہزار کلومیٹر کے روڈ لنک قائم کیے ہیں اور چار ٹرانسمیشن لائنوں کے ذریعے بجلی کی درآمد کو یقینی بنایا ہے۔ افغان نیشنل آرمی میں امریکا نے دانستہ ازبک، تاجک اور غیر پشتونوں کو بھرتی کیا اور شاید اس کا مقصد متفرق قوموں اور قبائل سے زیادہ کمزور اور تعصبات کے حامل افراد کو یکجا کرنا تھا اور یا پھر ان لوگوں کو جو طالبان خطرے کے سامنے ڈھیر ہو جائیں۔ جو بائیڈن کہتے ہیں کہ انہیں اشرف غنی کے بھاگنے کا یقین نہیں تھا.

سوال یہ ہے کہ اگر غنی بھاگ گیا تھا تو امر اللہ صالح کو قائم مقام صدر بنا دیتے۔ اس نے تو اعلان کیا تھا کہ وہ قائم مقام صدر ہے اور ریاستوں یا حکومتوں کی ڈور ایک شخص کے ہاتھ میں تو نہیں ہوتی۔ اگر جو بائیڈن خدانخواستہ مر جائے تو کیا رہاست کا کام رک جائے گا؟ اشرف غنی خود کہتا ہے کہ وہ خون خرابہ نہیں چاہتا تھا اور اس کا مطلب ہے کہ وہ بھی طالبان کی اس پیش قدمی کو ایک سازش گردانتا ہے۔ طالبان بھی کہتے ہیں کہ ان کا کابل میں گھسنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن غنی بھاگ گیا حالانکہ وہ غنی کو ڈھونڈتے بھی رہے۔

یہ بھی سوچا جا سکتا ہے کہ طالبان اور غنی کے درمیان خانہ جنگی کی بنیاد بھی رکھی جا رہی تھی۔ پھر جو بائیڈن کہتے ہیں کہ ابھی دو تین سو لوگ وہاں موجود ہیں اور امید ہے طالبان انہیں افغانستان چھوڑنے دیں گے۔ دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ اگر ڈیڈ لائن گزر جاتی تو طالبان ان کے لوگوں پر حملہ کر سکتے تھے۔ بات میں واضح تضاد ہے کہ آپ کئی ہزار لوگوں کو جو مترجم تھے، این جی اوز چلا رہے تھے، خواتین کے حقوق کے لئے کام کر رہے تھے طالبان کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ آئے؟

دو یا تین سو امریکیوں کو وہاں کیوں چھوڑ دیا۔ پھر بائیڈن کہتے ہیں کہ انہوں نے القاعدہ کو شکست دے دی حالانکہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والوں کو تو انہوں نے خود مذاکرات کے لئے چھوڑا۔ ان کی تقریر ایک غلطی کا جواز ڈھونڈتے آدمی کی تقریر تھی جس سے روایتی امریکی۔ سازش کی بو آ رہی تھی۔ امریکا میں چوہتر فی صد لوگوں نے اس تقریر کو شکست خوردگی سے تعبیر کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words