مردوں کی چار نمایاں اقسام

لاہور میں چودہ اگست کے موقع پر گریٹر اقبال پارک میں عائشہ اکرم اور چنگ چی رکشے میں بیٹھی خاتون کو ہراساں کرنے والے واقعات کے بعد عورت کی مخالفت اور موافقت کا جو طوفان سوشل اور دیگر طرز کے میڈیا پر اٹھا ہے، اس سے ہمارے مردوں کی چار اقسام نمایاں طور پر سامنے آئی ہیں :

٭ بدکار و خبیث / جنسی ہراسانی میں ملوث
٭ پست کردار / عورت دشمن / عورت کی بے حرمتی پر خوشیاں منانے اور اسی کو قصوروار قرار دینے والے
٭ ”او چھڈو جی، سانوں کی“ والے روئیے کے حامل / خاموش تماشائی (چھوڑو جی، ہمیں کیا! )

٭ انسانیت اور انسانی حقوق و اقدار کا احترام کرنے والے، عورت کو برابر کی انسان اور لائق عزت سمجھنے والے

بدکار و خبیث / جنسی ہراسانی میں ملوث:

نمبر ایک پر جو مرد اور لڑکے ہیں، یہ عائشہ اکرم پر جنسی تشدد جیسے چھوٹ بڑے واقعات کے مجرم ہیں۔ یہ عورت کو کمتر مخلوق اور قابل کراہت سمجھ کر کسی بھی حد تک اس سے بدتمیزی اور بے حرمتی کرنے سے نہیں چوکتے۔ ان میں کم عمر اور نوجوان لڑکوں کی بڑی تعداد کے علاوہ درمیانی عمر کے اور بوڑھے ہوس پرست مرد بھی شامل ہیں۔ عورت، لڑکی، یا بچی کو دیکھ کر انہیں عضو مخصوص پر خارش شروع ہو جاتی ہے۔ بولے بغیر خارش کر کے یہ اپنی مردانگی کا احساس دلاتے ہیں۔

انہیں خارش زدہ جانور بھی کہا جاتا ہے۔ خارش شدید ہونے کے باوجود بھی علاج نہیں کرواتے کیونکہ یہ ان کے نزدیک شرمناک ہے۔ لگتا ہے کہ گندگی اور غسل نہ کرنے کی وجہ سے ان کے غیر ضروری بالوں میں جوئیں پڑ جاتی ہیں۔ اس زمرے کے شدت پسند لڑکے اور مرد، عورت کو چھو کر اپنی موجودگی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ عورت کی بے حرمتی کر کے اور اسے گالیاں دے کر آسودگی محسوس کرتے ہیں۔ ان کے مردانہ کارناموں کا خمیازہ ان کے گھر کی خواتین کو بھگتنا پڑتا ہے جب وہ بھی گھر میں اور باہر انہی جیسے درندوں کے ناپاک عزائم کا نشانہ بنتی اور ذلت اٹھاتی ہیں۔

پست کردار / عورت دشمن / عورت کی بے حرمتی پر خوشیاں منانے اور اسی کو قصوروار قرار دینے والے :

یہ وجود زن سے پیدائش پانے کے باوجود اسی کو اپنی کمینگی کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کے نزدیک عورت فساد کی جڑ، مرد کو جنت سے نکلوانے کی مرتکب، اور ہر ظلم و ستم کی خود ذمہ دار ہوتی ہے۔ خود کو عقل کل سمجھنے والے ایسے ہی ایک پست کردار کی زبانی میں نے سنا: آپ کسی کو ہاتھ دیں گی تو ہی وہ آپ کو چھیڑے گا۔

اس تعریف کے مطابق، جنسی درندگی اور قتل کا نشانہ بننے والی کم عمر زینب نے اپنے مجرم کو بہت شدت سے ”ہاتھ دیا“ ہو گا۔ اور پھر ہاتھ دینے کا جو نتیجہ بھگتا، وہ پاکستان کے باہر کے لوگوں نے بھی دیکھا اور سنا۔ چنگ چی رکشے والی خاتون نے بھی ”ہاتھ دے کر“ ایک کالے لنگور کو بلایا، ”آؤ، مجھے گلے لگا لو۔ میرے رخسار تمہارے بدبودار اور غلیظ لبوں کے پیاسے ہیں۔ میں تو آج تک تم ہی جیسے کسی سیاہ فام و سیاہ کار کی قربت کے لئے تڑپ رہی تھی۔“

مذکورہ بالا صاحب عقل کو کچھ عرصہ قطر میں بھی گزارنے کا اتفاق ہوا ہے۔ وہ قطری اور عرب خواتین کے معاشقوں، اور ملازمین اور ڈرائیوروں کے ساتھ رنگ رلیاں منانے کے جو لذیذ قصے سناتے ہیں، اس لحاظ سے پاکستانی خواتین تو نہایت پسماندہ اور افسوس ناک حد تک غیر ترقی یافتہ ہیں۔ مظلوم و مجبور پاکستانی، بنگالی، سری لنکن، اور بھارتی ملازمین اور ڈرائیور ان عیاش عرب خواتین کے ناجائز جنسی مطالبات و خواہشات پورے کرنے پر مجبور ہیں۔ چونکہ وہ خارجی / تا رکین وطن اور بسلسلہ روزگار وہاں مقیم ہیں اس لئے مالک یا مالکن کے خلاف شکایت کی صورت میں نہ صرف ان کو ملازمت سے برطرف بلکہ ڈی پورٹ بھی کیا جا سکتا ہے

انہی صاحب نے ایک لاہور کی خاتون کا بھی قصہ سنایا جو بہلا پھسلا کر ایک مرد مومن کو اپنے تنہا گھر میں لے گئی اور وہاں اس کی ”آبرو ریزی“ کر ڈالی، بند دروازوں اور کھڑکیوں کے پیچھے۔ مذکورہ صاحب کی گفتگو سن کر یوں محسوس ہوتا تھا گویا پاکستانی مرد، مرد نہیں ہیجڑے ہیں اور انہوں نے چوڑیاں پہن رکھی ہیں۔ صدق دل سے دعا ہے کہ پاکستان کے تمام کروڑہا مرد چوڑیاں پہن لیں تاکہ ہماری صنف نازک کو جنسی اور صنفی مسائل اور ظلم و ستم سے نجات مل سکے۔ آمین!

”او چھڈو جی، سانوں کی“ والے رویے کے حامل / خاموش تماشائی (چھوڑو جی، ہمیں کیا!):

یہ وہ شریف اور پارسا مرد ہیں جو ایسے موقع پر عورت کی مدد کرنے کی بجائے پتلی گلی سے نکل لینے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ ان کی شرافت و پارسائی جو درحقیقت بزدلی ہوتی ہے، بدکار مردوں کا ہاتھ روکنے اور عورت کو تحفظ فراہم کرنے کی متحمل نہیں ہوتی۔ ایسے لوگ یہ کہہ کر اپنے دل کو تسلی دے لیتے ہیں : ہم شریف لوگ ہیں۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کسی کے پھڈے میں ٹانگ اڑانے کی؟ لڑکی ہی غلط ہے۔ بھلا ان بے غیرتوں کو کون روک سکتا ہے؟ اگر پولیس آ گئی تو خواہ مخواہ ہم نہ پھنس جائیں۔ ہمارے گھر کی بہنوں بیٹیوں پر ایسی باتوں کا کتنا برا اثر ہو گا۔ چلو بھئی چلو، یہاں سے فوراً نکلو۔

شرافت کے پردے میں دراصل ایسے بزدل لوگ بڑی تعداد میں معاشرے میں موجود ہیں۔ ہر نازک موقع پر یہ بس اپنی عزت بچانے کی فکر کرتے ہیں۔ اور جس کی عزت داؤ پر لگی ہو، اسے چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ان لوگوں کا اجتماعی رویہ تماش بینی اور کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

انسانیت اور انسانی حقوق و اقدار کا احترام کرنے والے، عورت کو برابر کی انسان اور لائق عزت سمجھنے والے :

اگرچہ یہ تعداد سب سے کم ہے لیکن ان کی موجودگی سے کہیں نہ کہیں فرق ضرور پڑتا ہے۔ ظالم پدرسری معاشرے کی بدبودار روایات کے سامنے ڈٹ جانے والے ان لوگوں کو قدیم زمانے کے چرواہے طنز و تشنیع کی ضربات سے چھلنی کرتے رہتے ہیں لیکن یہ سر کو بلند کیے عورت کے احترام کی بات جاری رکھتے ہیں۔ دراصل یہی طبقہ مظلوم اور دہشت گردی کی شکار عورت کی پشت پر کھڑا ہوتا ہے چاہے وہ مختاراں مائی ہو یا شازیہ، نور مقدم ہو یا عائشہ، دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بننے والی ملالہ یوسف زئی ہو، یا بھلے وہ کوئی طوائف ہی ہو۔

انسانی اخلاقیات اور اقدار کسی طوائف سے بھی ظلم و زیادتی کی اجازت نہیں دیتیں۔ سوشل اور دیگر میڈیا پر یہی طبقہ عورت کے تحفظ کی بات کرتا ہے۔ مقام صد شکر ہے کہ اب اس طبقے میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ، علامہ مولانا طاہر اشرفی، شوبز کے لوگ، اور دیگر کئی معروف و غیر معروف صحافی شامل ہیں۔ معاشرے کے حالات بھلے تبدیل نہ ہوں لیکن اس طبقے کی بدولت لوگ سوچنے پر ضرور مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ عورت کے تحفظ اور احترام کا تقاضا کرتے ہیں چاہے وہ جیسا مرضی لباس پہنے اور اچھے برے کسی بھی کردار کی مالک ہو۔

سب سے آخر میں میں اللہ رب العزت کا اس بات پر شکر ادا کرتی ہوں کہ میں بھی اسی طبقے کا حصہ ہوں جو عورت کو مساوی انسان اور مساوی قابل عزت سمجھتا ہے۔

(مذکورہ بالا چار اقسام حتمی نہیں لیکن کافی بڑی تعداد میں مرد انہی چاروں اقسام سے تعلق رکھتے ہیں )

Comments - User is solely responsible for his/her words