مہاجرت کا درد

مسافر خان دن بھر لاہور سے آئے اپنے دوست ڈاکٹر ریاض کے ساتھ ہیوسٹن شہر کے قریب واقع امریکہ کے خلائی پروگرام ناسا میں سیر کرتا رہا۔ اس نے وہاں کے میوزیم میں انسانوں کی بنائی ہوئی حیرت انگیز ایجادات اور مشینوں کا مشاہدہ کیا جن کی مدد سے وہ چاند پر اپنا جھنڈا گاڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ دل ہی دل میں خوش ہوتا رہا کہ نسل انسانی کا مستقبل اب محفوظ ہو چکا ہے۔ اسے خوف لاحق رہتا کہ جس سیارے پر انسان بس ر ہے ہیں شاید وہ ایک دن بنی نوع انسان کے لیے رہنے کے قابل نہ رہے اور آدم کی اولاد کو زمین چھوڑ کر اپنا مسکن کسی اور سیارے پر بنانا پڑے۔ پھر ناسا میں ایک ٹورسٹ گائیڈ نے انہیں بتا یا کہ 2023 ء تک یہ ادارہ دنیا کے کچھ اور ممالک کے ساتھ مل کر اپنا مریخ پر جانے کا مشن شروع کرنے والا ہے۔

دن بھر کی تھکن سے چور، اس رات جب مسافر خان اپنے بستر پر لیٹا تو وہ ایک خواب دیکھتا ہے کہ دنیا کے کچھ امیر لوگ زمین چھوڑ کر مریخ پر جانے کی تیاری کر رہے ہیں جس سے خلائی سیاحت پر کام کرنے والی کمپنیوں کی چاندی ہو گئی۔ ارب پتی لوگ دھڑا دھڑ مریخ پر جانے کے لیے اپنی سیٹیں ریزرو کروا رہے ہیں۔ ان دولت مندوں نے دنیا میں تیسری عالمی جنگ کے خطرے کی بو سونگھ لی تھی، اب وہ اپنی جان اور اولاد کو دنیا میں محفوظ نہیں سمجھتے تھے۔ مریخ پر چلے جانے کے بعد ان مہاجروں نے وہاں اپنی نئی بستیاں آباد کرنا شروع کر دیں لیکن جلد ہی وہ اپنے سیارے پر واپس لوٹ آنے کی تمنا کرنے لگے۔ انہیں مریخ پر اپنی زندگی کا مقصد چھوٹا لگنے لگا۔ وہ زمین کی مٹی کی خوشبو کو ترسنے لگے کہ جہاں سے ان کا خمیر اٹھایا گیا تھا۔

وہ دولت کے پجاری جب واپس زمین پر آتے ہیں تو یہاں کے حالات بدل چکے تھے۔ ان کے جانے کے بعد جنگ کا خطرہ ویسے ہی ٹل گیا تھا، جیسے کسی کنویں میں گرے مردار کو نکال باہر کیا جائے اور کلی صفائی کے بعد اس کا پانی پاک ہو جاتا ہے۔ دنیا کو حالت جنگ میں چھوڑ کر جانے والے خود غرض امیر لوگ جب واپس زمین پر آئے تو ان میں سے کچھ ہی زندہ باقی بچے تھے اور بچ جانے والوں کی شکلیں بھی بگڑ چکی تھیں۔ مریخ پر دستیاب شمسی توانائی کے بغیر اور مصنوعی روشنی سے اگنے والی خوراک، آکسیجن کی قلت اور کشش ثقل کے کم ہونے کی وجہ سے ان کے قد لمبے اور جسم انتہائی دبلے پتلے ہو چکے تھے۔ ان کی شکلیں کسی خلائی مخلوق اور ایلینز جیسی ڈراونی دکھائی دیتی تھیں۔ وہ سب منظر مسافر خان کے لیے بڑا عجیب تھا اور ڈر کے مارے اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے رب کا شکر ادا کیا کہ بس وہ ایک ڈراؤنا خواب ہی دیکھ رہا تھا۔

اگلی صبح جب مسافر خان کی آنکھ کھلی تو اس نے ناشتے کی ٹیبل پر رات کے خواب کا ذکر اپنے دوست ڈاکٹر ریاض سے کیا۔ وہ جوڑوں اور پٹھوں کی امراض کا بہترین طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر نفسیات بھی تھا۔ ڈاکٹر ریاض نے مسافر خان کا خواب سن کر اونچی آواز میں شیطانی قہقہہ لگایا اور کہا یار یہ سب تمہارا وہم ہے، دنیا میں ایسا کچھ نہیں ہونے والا اور نہ ہی انسان اس سیارے کو چھوڑ کر کہیں جانے والے ہیں۔ یہ سب تمہارے دماغ میں چلنے والی اس فلم اور ورچوئل پریزنٹیشن کے اثرات ہیں جو تو نے کل ناسا میں دیکھی تھی۔

خان اپنے دوست کی رائے سن کر خاموش ہو گیا لیکن کئی دنوں تک اس کے کانوں میں مریخ پر جانے والے مہاجروں کی نہ سنائی دینے والی چیخیں گونجتی رہیں، اپنا وطن چھوڑنے والوں کے حسرت بھرے چہرے اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتے، دیار غیر میں ان کی بے بسی کی موت کا خیال اسے پریشان کر دیتا، وہ نام نہاد عزت دار اور صاحب ثروت جنہیں اپنے سیارے پر لوگ ان کی دولت اور شان و شوکت کی وجہ سے جھک کر ملتے تھے، وہ اپنی اصل متاع کو چھوڑ کر جانے کے بعد بڑے بے توقیر ہوئے۔ ان کے مریخ پر جانے کا خودغرض جذبہ انہیں ستاتا رہا، انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ پیچھے کس دنیا کو چھوڑ گئے، پیتل ساتھ لیا اور سونا چھوڑ گئے۔

یہ کہانی، مہاجرت کا درد سہنے کی ایک مختصر سی داستان ہے۔ اس کہا نی میں دکھایا گیا ہے کہ اکثر لوگوں کے مہاجر بننے کے پیچھے، ان کے معروضی حالات کے ساتھ، بقول ایک مہاجر دانشور، ان کی خود غرضی کا جذبہ بھی شامل ہوتا ہے۔ وہ اپنا بیٹا تو ساتھ لے جاتے ہیں لیکن بھتیجا چھوڑ جاتے ہیں، اہلیہ تو ان کے ساتھ رہتی ہے مگر ماں چھٹ جاتی ہے۔ کئی آنکھیں ان سے شکایت کرتی رہتی ہیں کہ کیوں وہ بہتے ہوئے کاجل کا دریا چھوڑ گئے۔ انہیں کی نظم ”مہاجر نامہ“ کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے جس سے مہاجرت کا کرب نمایاں ہے :

ہمیں ہجرت کی اس اندھی گپھا میں یاد آتا ہے

اجنتا چھوڑ آئے ہیں ایلورا چھوڑ آئے ہیں

مہاجر بننے والوں کا دکھ سمجھنے کے لیے جہاں انسان کی جبلت کا مطالعہ ضروری ہے وہاں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کیے گئے انسانوں کے حالات جاننا بھی بہت اہم ہے۔ وقت کے فرعون کا ڈر اور اپنی نسل کو بچانے کے لیے بنی اسرائیل والے مصر سے نہ بھاگتے تو اور کیا کرتے، ان کے معصوم بیٹے جو مارے جا رہے تھے، عبداللہ کا یتیم بیٹا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور ان کے ساتھی اگر مکہ نہ چھوڑتے تو اور کیا کرتے، کیا ہمیں شعب ابی طالبؑ کا قصہ یاد نہیں۔

ماضی قریب کو ہی دیکھ لیں، ہٹلر کے ستائے یہودی جرمنی سے فرار نہ ہوتے تو کہاں جاتے، تقسیم کی زد میں آنے والے برصغیر کے بے چارے لوگوں کو تنور میں لگی روٹیاں چھوڑ کر کیوں بھاگنا پڑا، آخر کیوں؟ وہ بٹوارا، جس کے نتیجے میں آسمان نے دنیا کی سب سے بڑی انسانی ہجرت کا نظارہ کیا۔ جنگوں کے ستائے افغانوں کو ہی دیکھ لیں، ساری دنیا میں ٹوٹے ہوئے ہار کے موتیوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں، آخر کیوں؟

اپنی جان کے بعد انسان کو سب سے بڑا خوف، اپنی نسل کے خاتمے کا ہے۔ یہ خطرہ انہیں اپنے جیسے انسانوں اور اپنے وسیب واسیوں سے ہی ہوتا ہے۔ انسان مہاجر بننے کا فیصلہ اپنی کسی معاشی مجبوری کی وجہ سے کرتا ہے یا اس وقت، جب اسے اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں سے خطرے کی بو آنے لگے۔ یہ دھڑکا ایک اکیلی جان کا ہو تو سہا جا سکتا ہے مگر معاملہ جب نسل کی بقا کا ہوتو اسے سہنا ہر انسان کے بس کی بات نہیں۔ شاید اسی لیے انسان اپنا وطن چھوڑ کر کہیں دور جا کر بسنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ اپنی مٹی، اپنی یادیں، اپنی شناخت، سب کچھ پیچھے چھوڑ کر کہیں پردیس میں جاکر آباد ہو جاتے ہیں۔ کون مہاجر بننے کے کرب سے واقف نہیں لیکن پھر بھی کچھ لوگ یہ درد سہنے کی ٹھان لیتے ہیں۔

اس کہانی میں منظر کشی کی گئی ہے کہ مریخ پر جانے والے انسان جلد ہی واپس زمین پر لوٹ آتے ہیں۔ وہ وہاں اپنی نسل اور جان بچانے میں تو کامیاب رہے لیکن مریخ پر ان کی اصل شناخت ختم ہو گئی۔ سرخ سیارے پر ان کی حیثیت ایلینز جیسی تھی۔ پھر ان ایلینز کی دوسری نسل، اپنی شناخت کی تلاش میں زمین پر لوٹ آئی، جہاں سے ان کا تعلق تھا، جہاں ان کی اصل موجود تھی، بے شک ہر شے اپنے اصل کی طرف لوٹ آتی ہے۔ مسا فر خان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ مسافر خان بھی حالات کے جبر سے اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوا، وہ ایک مہاجر بنا، اس نے امریکہ میں پناہ لی، اس نے مہاجرت کا درد سہنے کے کئی مراحل طے کیے اور پھر اپنے وطن واپس لوٹنے کا سوچنے لگا۔

مسافر خان اپنے دیس میں بہت خوشحال تھا۔ وہ اپنی زندگی میں کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس مقام پر پہنچ چکا تھا جہاں دوسرے لوگ اسے سر اٹھا کر دیکھتے تھے، اسے ایک کامیاب انسان کہنے لگے۔ انسان کی کامیابی جہاں نئے بچے پیدا کرتی ہے وہیں حاسدین بھی جنم لینے لگتے ہیں۔ یہ حسد بھی کتنی بری بلا ہے، تیزاب کی طرح اسی برتن کو تباہ کرتی ہے جس کے اندر ہو۔ شاید اسی لیے حسد کرنے والوں سے پناہ مانگی گئی۔ کامیابی کا المیہ بھی یہ ہے کہ بعض اوقات اس کو حاصل کرنے والے لوگ خود ہی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کامیاب کی کامیابی، اس کا مرتبہ اور مقام، اسے زندگی کے کسی ایسے امتحان میں ڈال دیتا ہے جہاں اس کے حصول کے پیچھے دوڑنے والا شخص اسے اپنے لیے ایک مصیبت سمجھنے لگتا ہے۔

مسافر خان چھوٹی عمر ہی سے بڑے خواب دیکھنے کا عادی تھا۔ وہ خواب جو کسی سراب کی مانند ہوں کہ جن کے پیچھے جتنا بھاگا جائے وہ اتنے ہی دور ہوتے جاتے ہیں۔ منزل قریب آنے کی بجائے دور نظر آنے لگتی ہے۔ اسے بچپن ہی سے انسانوں کے درمیان کسی قسم کی تفریق کرنا پسند نہیں تھی۔ جب اس نے اپنی شعور کی آنکھ کھولی تو اسے اپنے اردگرد نفرتوں کا ایک حصار بنا ہوا نظر آیا۔ وہ اس منحوس دائرے کو توڑنا چاہتا تھا جو انسانوں کو ان کی قومیت، لسانیت اور رنگ و نسل میں مقید کر دے۔ وہ بڑا ہو کر ایک سیاسی و سماجی کارکن بن گیا۔ وہ انسانوں کی خدمت اور سیاست کے ذریعے طاقت حاصل کر کے، پھر اس قوت کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لانے کا خواہش مند تھا۔

سیاست کے میدان میں، وہ کوئی عام نعرے لگانے والا سیاسی کارکن نہیں تھا جو ہر وقت اپنے لیڈروں کے بیانات کی جگالی کرتے رہتے ہیں۔ وہ ایک باشعور، پڑھا لکھا اور انقلابی ذہن رکھنے والا مخلص ورکر تھا۔ وہ غیر منصفانہ نظام کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی کی قیادت کے غلط فیصلوں پر بھی تنقید کرتا۔ اس کے اخلاص، اپنے مقصد میں واضح ہونے اور اس کے سچے جذبے نے اسے بہادر بنا دیا تھا۔ وہ سیاسی مظاہروں میں سب سے پیش پیش رہتا، اپنے حق اور نظریات کے لیے آواز بلند کرتا۔ جلد ہی اپنے اعلی کردار اور صلاحیتوں کی بنیاد پر وہ اپنی جماعت میں صف اول کے قائدین میں شمار ہونے لگا۔

پھر ملک کے حالات بدلے، جبر کا زمانہ آیا، گلے سڑے نظام کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبائے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا، سیاسی پارٹیاں اپنا رنگ بدلنے لگیں، ان کی قیادتوں نے اپنے نظریات پر سمجھوتہ کر لیا، ”باغی“ اور آزاد فکر رکھنے والے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ ہونے لگی، ان کی کڑی نگرانی ہو رہی تھی، ان کو ڈرایا اور دھمکایا جا رہا تھا، انصاف کا حصول مشکل تر بنا دیا گیا، یہاں تک کہ منصف بھی در شاہ کے چکر لگانے لگے، عام شہریوں کے ذہنوں پر شکنجہ گاڑھے بیٹھے صحافی بھی بدل گئے، ان کی آنکھیں بھی سونے کی چمک سے خیرہ ہونے لگیں، انہیں بھی سب کچھ اچھا نظر آنے لگا، حق لکھنے والی قلمیں گونگی ہو گئیں۔ ایسے حالات میں بھلا زندہ ضمیر کب جینا پسند کرتے ہیں۔ جبر حکمران کا مقابلہ کرنے والوں کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیا گیا اور جو اپنی جان بچا کر بھاگ سکتے تھے انہوں نے بیرون ملک سیاسی پناہ لے لی۔

مسافر خان بھی جیسے تیسے امریکہ میں پناہ گزیں ہوا لیکن بقول منیر نیازی اسے ایک دریا پار کرنے کے بعد دوسرے کا سامنا تھا۔ وہ تھا مہاجرت کا دریا، جہاں اسے اپنے جذبات کی طغیانی سے مقابلہ کرنا پڑا۔ جس میں سر فہرست اپنے وطن سے فطری محبت کا جذبہ تھا۔ وہ ترنگ جس کی رو میں بہہ کر اقبال لاہوری نے ترانہ ہندی لکھ ڈالا۔ خان کو امریکہ میں سیاسی پناہ تو مل گئی لیکن وہاں اسے دل کا سکون نصیب نہ تھا۔ وہ عقوبت خانوں کی اذیت سے تو بچ نکلا مگر ایک بڑی جیل میں قید ہو گیا۔ ایک ایسی میٹھی قید جس میں قیدی خود آ کر پابند سلاسل ہو نا چاہے، اس صیاد کی طرح جو اپنے دام میں خود آ جائے۔ امریکہ میں مسافر خان کو رہنے، جینے، کھانے، پینے اور کام کرنے کی آزادی تو حاصل تھی لیکن وہاں اس کی حیثیت بس ایک بے چارے مہاجر کی سی تھی۔ ایک لٹا پٹا مہاجر جو دوسروں کے رحم و کرم پر جی رہا ہو۔

مسافر خان جو اپنے وطن میں کسی ذرا سی نا انصافی پر اپنی سیاسی جماعت کا جھنڈا اور پلے کارڈ اٹھا کر سڑک پر نکل آتا تھا، اب اسے وہ آزادی نصیب نہیں تھی۔ وہاں وہ انصاف کا تقاضا کرتا بھی تو کس سے۔ وہ خان جو غریبوں کی آواز تھا، جس کی پہچان اس کی غریب نوازی تھی، اب وہ خود اپنی نئی شناخت کی جنگ لڑ رہا تھا۔ وہ شناخت جو ملک چھوڑنے کے ساتھ ہی غیر رسمی سی رہ گئی۔ اب اس کی پہچان بس ایک مہاجر تھی۔ وہ مہاجر جن کی آوازیں کسی مقیم کو کم ہی سنائی دیتی ہیں۔ بھلا اپنے گھر اور گھر والوں کے ساتھ رہنے والے، کیا جانیں کہ بے گھری کا درد کیا ہوتا ہے۔ بھلا اپنے وطن میں بسنے والے کیا جانیں کہ مہاجر کس دنیا کو چھوڑ آئیں ہیں۔

مسافر خان کو یہ بات اندر سے کھائے جا رہی تھی کہ نئے ملک میں اسے اور اس کی آنے والی کئی نسلوں کو اپنی پہچان بنانے میں ایک زمانہ لگے لگا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ خوابوں کی سرزمین پر آ گیا ہے جہاں یہ امکان بھی تھا ایک غریب مہاجر کا بیٹا کبھی صدر بھی بن سکتا ہے لیکن اس بڑے امکان تک پہنچنے کے لیے جو نسلوں کی قربانی درکار تھی، وہ دنیا کے کسی بھی عہدے سے بڑی تھی۔ اپنی اصل شناخت کو مٹا کر دوسری پہچان بنانے کا عمل بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے۔

اس میں بڑی محنت اور بڑا کشٹ کاٹنا پڑتا ہے۔ اپنی ذہنی ساخت، اپنے نظریات، اپنے خیالات کو نئی ترتیب دینا پڑتی ہے۔ اپنے وجود کی نفی کر کے اسے زمانے کی تلاطم خیز موجوں کے حوالے کرنا ہوتا ہے جیسے ایک ندی کسی دریا میں مل کر اپنا وجود کھو بیٹھتی ہے یا ایک دریا سمندر میں گر جائے تو دریا نہیں رہتا۔ بھلے دریا کسی بحر کا حصہ بن جائے مگر اس کی خودی اور اپنی پہچان کا سوال باقی رہے گا۔

مہاجرت کا سب سے بڑا مسئلہ مقیم لوگوں کے ناروا رویے بھی ہوتے ہیں۔ مہاجر، جن کی عزت نفس اپنا وطن چھوڑنے کے بعد پہلے سے مجروح ہوتی ہے، انہیں طرح طرح کے ناموں اور القابات سے پکارا جاتا ہے۔ مسافر خان کے ساتھ بھی یہی ہوا کوئی اسے مذہب کے طعنے دیتا، کوئی اس پر ”غیر مہذب“ ہونے کی آوازیں کستا، اسے مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا، اس سے ذاتی نوعیت کے سوالات پوچھے جاتے یہاں تک کہ اس کا نام سن کر کچھ لوگ بدک جاتے، اس کے جسم کی رنگت بھی اس کی ترقی میں رکاوٹ بن کر سامنے آئی۔ اس کے بولنے کا لہجہ بھی اس کی جگ ہنسائی کا سبب بنا۔ وہ کھل کر اپنا پسندیدہ لباس بھی نہیں پہن سکتا تھا۔ مسافر خان کی زندگی کی ہمسفر بھی حجابی تھی وہ اسے لے کر کسی پارک میں جانے سے ڈرتا تھا۔

مسافر خان نے جب دیکھا کہ ایک مہاجر بن کر بھی اس کی زندگی میں چین نہیں تو سوچنے لگا کہ وہ اپنی آنے والی نسل کو وہیں پروان چڑھائے گا جہاں ان کی بنیادی شناخت برقرار رہے گی۔ اگر صحرا کے پھول کسی سرسبز و شاداب میدانی علاقے میں اگانے کی کوشش کی جائے تو وہ جلد مرجھا جاتے ہیں۔ بیج کو کلی اور کلی کو پھول بننے کے لیے خاص آب و ہوا اور موسم کا سہارا چاہیے ہوتا ہے۔ ان کی لاکھ دیکھ بھال کر لیں، چاہے انہیں بند کمروں اور گملوں میں اگائیں مگر باہر کا ماحول، سورج کی تپش اور ہوا ساز گار نہیں تو وہ خوشنما پھول، سونے کے پنجرے میں بند ایک خوبصورت مینا کی طرح ہوں گے جس کو دیکھ کر بس دل ہی لبھایا جاسکتا ہے۔

اس کہانی کے آخر میں انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک مہاجر شاعر، منور رانا کے مہاجر نامہ سے کچھ منتخب اشعار پیش کیے جا رہے ہیں جن کی مدد سے ہم مہاجرت کا درد سہنے والوں کی دلی کیفیت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں :

مہاجر ہیں مگر ہم ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں
تمہارے پاس جتنا ہے ہم اتنا چھوڑ آئے ہیں
کہانی کا یہ حصہ آج تک سب سے چھپایا ہے
کہ ہم مٹی کی خاطر اپنا سونا چھوڑ آئے ہیں
نئی دنیا بسا لینے کی اک کمزور چاہت میں
پرانے گھر کی دہلیزوں کو سوتا چھوڑ آئے ہیں
ہمیں ہجرت کی اس اندھی گپھا میں یاد آتا ہے
اجنتا چھوڑ آئے ہیں ایلورا چھوڑ آئے ہیں
ہمیں سورج کی کرنیں اس لئے تکلیف دیتی ہیں
اودھ کی شام کاشی کا سویرا چھوڑ آئے ہیں
ہم اپنے ساتھ تصویریں تو لے آئے ہیں شادی کی
کسی شاعر نے لکھا تھا جو سہرا چھوڑ آئے ہیں
کئی آنکھیں ابھی تک یہ شکایت کرتی رہتی ہیں
کہ ہم بہتے ہوئے کاجل کا دریا چھوڑ آئے ہیں
بھتیجی اب سلیقے سے دوپٹہ اوڑھتی ہوگی
وہی جھولے میں ہم جس کو ہمکتا چھوڑ آئے ہیں
یہ ہجرت تو نہیں تھی بزدلی شاید ہماری تھی
کہ ہم بستر میں ایک ہڈی کا ڈھانچا چھوڑ آئے ہیں
ہماری اہلیہ تو آ گئی ماں چھٹ گئی آخر
کہ ہم پیتل اٹھا لائے ہیں سونا چھوڑ آئے ہیں
تو ہم سے چاند اتنی بے رخی سے بات کرتا ہے
ہم اپنی جھیل میں ایک چاند اترا چھوڑ آئے ہیں
یہ دو کمروں کا گھر اور یہ سلگتی زندگی اپنی
وہاں اتنا بڑا نوکر کا کمرہ چھوڑ آئے ہیں
یہ خود غرضی کا جذبہ آج تک ہم کو ستاتا ہے
کہ ہم بیٹے تو لے آئے بھتیجا چھوڑ آئے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words