اسلام خطرے میں ہے

اسلام خطرے میں ہے، ہے کوئی غیرت مند مسلمان جو اس کو بچا سکے۔ غیر مسلم اسلام اور مسلمان دونوں کو مٹا دینا چاہتے ہیں، اس لیے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ جونہی کوئی مشکوک غیر مسلم نظر آئے تو اس پہ جان لیوا حملہ کر کے اسلام کو بچائے اور اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دے۔ میرا تعلق مسلم گھرانے سے ہے۔ ہم شدید ترین مذہبی لوگ ہیں۔ اور بطور مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ ہم خود چاہے مذہبی احکامات کے ساتھ جو بھی کریں لیکن کسی غیر مسلم کو اس کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ ہماری مذہبی روایات کو توڑنے کوشش کرے۔

چونکہ ہم نے کلمہ پڑھ لیا ہے ہم مسلمان ہیں، لہذا ہم پر جنت واجب ہو چکی ہے۔ اس لیے ہم کو کھلی چھوٹ ہے کہ جو چاہے کریں۔ قحبہ خانے آباد رکھیں، سود کھائیں، جوا کھیلیں، عورتوں اور معصوم بچوں سے جنسی زیادتی کریں، اشیاء خورد و نوش میں ملاوٹ کریں، ذخیرہ اندوزی کریں، سستی چیزیں مہنگے داموں فروخت کریں، رشوت کا بازار گرم رکھیں، ناپ تول میں کمی کریں، جھوٹ بولیں، دھوکہ دیں جب چاہیں سڑکیں بند کر دیں ہسپتالوں پہ دھاوا بولیں اور ایمبولنس تک کو گزرنے نہ دیں، دوسروں کے مال پر قبضہ کریں، اپنے بھائی کے یتیم بچوں کا حق ماریں، بہن کو جائیداد سے حصہ نہ دینا پڑے اس کے لیے اس کی شادی قرآن سے کر دیں، ضعیف باپ کو گھر سے نکال دیں، بوڑھی بیمار ماں کو بے آسرا چھوڑ دیں، یتیم کا حق ماریں، بیوہ کا مال کھا جائیں، صاحب حیثیت ہونے کے باوجود ہر صدقے خیرات پر اپنا حق سمجھیں۔

نماز نہ پڑھیں، مسجد کا کبھی رخ نہ کریں، قرآن اور اس کے احکامات کو کسی الماری میں رکھ کر بھول جائیں، روزے نہ رکھیں، کسی مدرسے میں رہ کر وہاں کے طالبعلموں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالیں، اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو کافر کہہ دیں، مسلک کی بنیاد پر ایک دوسرے کی گردنیں کاٹیں، ایمان بچانے کی خاطر دوسرے مسلک کی مسجد شہید کردیں، اور ایسا کرتے وقت یہ بالکل بھول جائیں کہ مسجد خدا کا گھر ہے اور اس کی دیواروں پر ہمارے ہی قرآن کی آیات لکھی ہیں، اخبار والا ہر روز زمین پر اخبار پھینک جائے لیکن اس کو یہ احساس نہ دلائیں کہ میاں تم قرآنی آیات کی ہر روز بے حرمتی کرتے ہو کہ اس کے پہلے صفحے پر قرآنی آیات کا ترجمہ درج ہوتا ہے، اور پھر اسی اخبار میں پکوڑے بیچیں، یقین کریں یہ سب کرنے کے باوجود ہمیں اس پر ندامت محسوس کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ کہ ہمارا ایمان ہے کچھ بھی کر چکنے کے بعد ایک توبہ کریں گے اور سیدھا جنت کا ٹکٹ مل جائے گا۔

بطور مومن سڑکوں چوراہوں میں اصحاب نبی کی شان میں گستاخی کریں یا پھر نبی آخرالزمان کو ایک بشر ہی سمجھیں۔ لیکن غیر مسلموں کو اس سب کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہیں، اور ہم مسلمان اسلام کے امین ہیں، اس لیے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ کہ ہماری وجہ سے اسلام مضبوط ہاتھوں میں ہی رہے گا۔ ہم بخشی ہوئی قوم ہیں اس لیے جو چاہیں کریں کہ جنت تو ہمارے نام الاٹ ہو چکی۔

گھروں میں لگے کیلنڈر جس کے اوپر والے حصے میں قرآنی آیات لکھنا ہمارے مسلمان ہونے کی نشانی سمجھی جاتی ہے، سال کے اختتام پر اسی کیلنڈر کو کچرے والے ڈبے میں پھینک دیں یا پھر قرآنی آیات کی بے حرمتی کے خدشے سے انھیں جلا دیں لیکن اگر کوئی نیم پاگل یا ان پڑھ غیر مسلم جس کو یہ بھی پتہ نہ ہو کہ یہ جو کتاب اس کے ہاتھ میں ہے وہ قرآن پاک ہے یا کچھ اور، تو اس کے ہاتھ سے اگر وہ کتاب گر جائے یا انجانے میں اس کا کچھ حصہ جل جائے، تو اس انسان کو زندہ جلا دینا چاہیے

یا پھر اگر کوئی غیر مسلم نرس ہسپتال کی الماری کے اوپر سے قرآنی آیات والا پھٹا ہوا کیلنڈر اتارے تو ہماری مسلمانی اسی وقت جاگ جانی چاہیے۔ اور بطور مسلمان ہمارا یہ فرض ہونا چاہیے کہ اس پر چاقو سے وار کیا جائے، توہین قرآن کو بنیاد بنا کر اس کی جان لینے کی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے کہ ایسے غیر مسلموں کی وجہ سے ہی تو اسلام کو ہمیشہ خطرہ ہوتا ہے۔

لیکن میرے دماغ میں خلل ہے جو مجھے سوال پہ اکساتا ہے سوال یہ ہے کہ نبی کی غلامی کا دعوی کرنے والوں کو کیا یہ سب زیب دیتا ہے کہ وہ بنا سبب جانے، معاملے کی تہہ تک پہنچے بغیر کسی کو سزا دے دیں۔ توہین مذہب کرنے والے غیر مسلم کو تو جان سے مار دینا غیرت مند مسلمان ہونے کی نشانی سمجھا جائے، لیکن کوئی بتائے گا کہ انسان کے ساتھ جانوروں سے بھی بد تر سلوک کرنے والے مسلمان کے ساتھ کیا کیا جانا چاہیے۔ نبی کی دی گئی تعلیم پر خود عمل نہ کرنا ہی کیا مسلمانیت ہے۔

کیا اسے مسلمان کو نبی کا غلام سمجھنا چاہیے۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ کسی غیر مسلم پر اہانت اسلام کا الزام لگانے سے پہلے خود ٹھیک سے مسلمان بنا جائے۔ مذہب کے نام پر جان قربان کرنے کی بجائے جھوٹی انا، تکبر، لالچ، کو قربان کیا جائے۔ یقین کریں اسلام کو کسی غیر مسلم سے کوئی خطرہ نہیں، اسلام اگر خطرے میں ہے تو وہ مسلمانوں کی اپنی وجہ سے ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words