پاکستان کے سیاستدان

اگر ہم تاریخ پاک و ہند کے تناظر میں سیاستدان کی تعریف کا بغور جائزہ لیں تو یہ علم ہوتا ہے کہ اچھا سیاستدان صرف وہی بن سکتا ہے۔ جو سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے کے ساتھ ساتھ صاحب حیثیت بھی ہو۔ تا کہ اپنے ہاں آنے جانے والے مہمانوں کے قیام و طعام کا بندوبست کر سکے یا پھر وہ جو سائل کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ وقت و حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فلسفہ کسی حد تک درست نکلا۔ سیاستدانوں کی بیٹھک میں لوگوں کا ہجوم لگا ہی رہتا ہے۔

کیونکہ ان کا عوام سے مسلسل رابطہ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں زیادہ تر سیاست زمینداروں، چوہدریوں، نوابوں اور سرداروں کے گرد گھومتی رہی اور بعد ازیں سرمایہ دار اور بیوروکریٹس سیاست پر چھا گئے۔ مزاج مادہ پرست اور حاکمانہ ہونے کی وجہ سے ایسے سیاستدانوں نے غریب عوام کو لالچ کے چنگل میں پھنسائے رکھا مگر ان کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ نہ دی۔ اس کی بڑی وجہ ان کی بنیادی سوچ ہے کہ اگر غریب کے معاشی مسائل حل کر دیے گئے تو وہ کس پر راج کریں گے۔

اور اگر عوام تعلیم یافتہ ہو گئی تو ان میں اتنا شعور آ جائے گا کہ وہ غلامانہ سوچ سے نکل کر آزادی کی طلب کریں گے۔ اسی لئے وہ لاچار اور پس ماندہ عوام کو دبا کر رکھتے ہیں تا کہ ان پر حکمرانی کرسکیں۔ ہمارے ملک پاکستان کی سیاست زیادہ تر نوابوں، وڈیروں، سرداروں، چوہدریوں، سرمایہ داروں یا پھر فوجی حکمرانوں تک محدود ہو کر رہ گئی۔ جب اسٹیبلشمنٹ کو موروثی اور خاندانی سیاست ختم کرنے کا خیال آیا تو ملک کا اقتدار نا تجربہ کار لوگوں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔

جن میں اکثریت ایسے سیاستدانوں کی ہے جنہیں ہر پانچ سال بعد اپنی سیاسی پارٹی بدلنے کی عادت پڑ چکی تھی۔ وہ پانی کے بہاؤ دیکھتے اور ہر آنے والی حکومت میں شامل ہو کر وزارتوں کے مزے لوٹتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان مسلسل تجربات کی بنا پر مقروض ہوتا چلا گیا۔ ہر آنے والی برسراقتدار پارٹی نے ملک کو جی بھر کر لوٹا۔ اور 74 سال گزر جانے کے بعد بھی غریب عوام کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آئی بلکہ غربت کی شرح مزید بڑھتی گئی۔

پی ٹی آئی کی حکومت سے لوگوں کو بڑی توقعات تھیں۔ اور انہوں نے عوام کو حسب معمول بڑے بڑے وعدوں کے سبز باغ دکھائے۔ مگر تین سال گزرنے کو ہیں اور یہ حکومت بھی باقی حکومتوں کی طرح کسی بھی وعدے پر پورا نہیں اتر سکی۔ غریب کے مسائل میں گزرتے وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ غریب عوام کے نہ معاشی حالات سدھرے ہیں نہ تعلیمی۔ امر1ء، سرمایہ داروں اور پارلیمنٹیرین نے بیرون ملک جائیدادیں بنائی ہیں۔ ان کے بچے اندرون اور بیرون ملک اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور غریب آٹے، چینی، بجلی، پانی اور ٹیلیفون کے بلوں کے چکر میں پس رہے ہیں۔ دوہرے معیار کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں ملک کا سیاست دان امیر ہے اور عوام غریب۔

بے راہ روی اور کرپشن زوروں پر ہے۔ کمسن بچوں کے جنسی تشدد اور ہراساں کرنے کے واقعات میں ہوشرباء اضافہ ہوا ہے۔ آج عورت نہ گھر میں محفوظ ہے نہ باہر۔ یہاں تک کہ قبر کے اندر مردہ جسم بھی جنسی درندوں سے محفوظ نہیں۔ اور صاحب اختیار ہیں کہ عورت کو ہی اس کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ بہت سارے مرد ایسے گھناؤنے واقعات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے پھر عورت کو ہی ذمہ دار کہتے نظر آرہے ہیں۔ ہمارا معاشرہ اخلاقی طور پر پستی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے اور مشرقی اقدار کا تو جنازہ ہی نکل گیا ہے۔

ایسے میں پاکستان کی سیاسی پارٹیاں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہیں۔ انہوں نے بھی خواتین سے بدتمیزی کرنے میں سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا ہے۔ خاص کر پی ٹی آئی کے جیالوں کو تو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ آزاد کشمیر کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے وفاقی وزیر نے مریم نواز کے خلاف بداخلاقی کی تمام حدیں پار کردیں تھیں۔ بداخلاقی کا ایسا ہی واقعہ گزشتہ ہفتے اٹک سے شیریں اسلم کے ساتھ پیش آیا، جو اقلیتی ونگ کی صدر ہے۔ پی ٹی آئی کے یاور عباس بخاری صوبائی وزیر برائے سوشل ویلفیئر اور بیت المال نے فون پر ان کے ساتھ بدسلوکی اور اخلاق سے گری ہوئی گفتگو کا مظاہرہ کیا۔

احتجاجاً شیریں اسلم نے پارٹی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ جس پر اٹک سے تعلق رکھنے والی کچھ دوسری عہدیدار خواتین اور کچھ مرد حضرات نے بھی شیریں اسلم سے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ اقلیتی نمائندوں میں سے کسی بھی نمائندے نے صوبائی وزیر کی اس حرکت کا نوٹس نہیں لیا۔ اور خاموش رہ کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ واقعی اقلیتوں کے حقیقی نمائندے نہیں۔ یہی فرق ہے الیکشن اور سلیکشن کا۔

ہمارے ملک پاکستان میں اقلیتوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ جبراً تبدیلی مذہب و نکاح و اغوا کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ مسیحی سیاستدان پھر بھی قوم کے وفا دار ہونے کی بجائے حکام کے زیادہ وفادار ہیں۔ ویسے تو سوشل میڈیا پر مسیحی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے نمائندے خود کو کمیونٹی کا ہمدرد اور بہت بڑا لیڈر ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ مگر ان کی کار کردگی صفر کے برابر ہے۔ کبھی کبھار اخبارات میں ان کے بیانات پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔

یا پھر غیرسیاسی سرگرمیوں میں ملوث دکھائی دیتے ہیں مگر قوم کے مسائل حل کرنے کے قابل نہیں۔ ایسے لوگوں کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگوں کا ساتھ دینے کی بجائے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ایک دوسرے کی ترقی کا زینہ بننے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ترقی کی منازل احسن طریقے سے طے کی جاسکیں۔ آج کے دور میں جس کے پاس وسائل ہیں ان کو مسائل کا سامنا بہت کم کرنا پرتا ہے۔ اس لیے تعلیمی اور معاشی حالت بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words