ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری (افسانے)


افسانے کی دنیا میں بہت انقلاب برپا رہے ہیں۔ کبھی پلاٹ، کردار، نقطہ نظر اور وحدت تاثر کے بغیر افسانے کا تصور ممکن نہیں تھا۔ پھر ایسا دور آیا کہ پلاٹ اور مرکزی کردار کے بغیر افسانہ لکھا جانے لگا۔ کبھی نقطہ نظر ضروری سمجھا گیا کبھی اسے مہلک اور پراپیگنڈہ کہا گیا۔ پھر علامتی اور تجریدی افسانے کا دور آیا اور روایتی اجزائے ترکیبی بے معنی ہو کر رہ گئے۔

محترم نیر مصطفی کے افسانوں کا مجموعہ ”ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری“ میرے سامنے ہے۔ میں نے ابھی ابھی یہ افسانے پڑھے ہیں۔ ان افسانوں کے کرداروں سے ہم اچھی طرح واقف ہیں کہ یہ ہمارے دائیں بائیں موجود ہیں لیکن جس طرح سے نیر مصطفی نے ان کو تخلیق کیا ہے، اسلوب اور بیانیے کے ساتھ، یہ کردار یادگار بن گئے ہیں۔ ہر افسانے میں واقعات کی ایک ترتیب ہے جو نقوش کی مانند ابھرتے ہیں اور پھر مصنف کے قلم کی بدولت کہانی کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ ترتیب بھی ایسی کہ قاری کو ادھ ادھر بھٹکنے نہیں دیتی اور اس کا دھیان مستقل مرکزی خیال پر جما رتا ہے۔

افسانوں کا بیانیہ زیادہ تر سادہ ہے۔ کرداروں کا کوئی داخلی خارجی تصادم بھی نہیں اور اگر کہیں ہے بھی تو کہانی میں الجھن پیدا کرنے والا نہیں۔ جیسا کہ ہماری زندگی میں عمومی طور پر نظم و ترتیب نہیں ایسے ہی بعض افسانوں میں بھی ایسا نظر آتا ہے لیکن یہ ایک فطری بات ہے۔ کرداروں کی حرکات و سکنات، خیالات و نظریات اور نفسیات بہت ہی فن کاری سے افسانوں میں سموئی گئی ہیں۔ ہر کردار ہماری روزمرہ زندگی کا فرد نظر آتا ہے۔

افسانوں کا، معروف معنوں میں، کوئی خاص نقطہ نظر تو نہیں لیکن پچھڑے ہوئے طبقے کی خراب و خستہ حالت ضرور عیاں ہے۔ ان افسانوں کے کرداروں کے درمیان مکالمے تو عام بول چال کے مکالمے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ زبان بھی استعمال کی گئی ہے جسے عرف عام میں سلینگ کہتے ہیں۔ یورپ اور مغرب میں تو ایسے بہت سے افسانے ملتے ہیں لیکن یہاں نیر مصطفے نے اس کا استعمال بہت خوبصورتی سے کیا ہے۔ ( افسانہ۔ عبد الغنی جیکسن ) ۔ یہ زبان پڑھنے میں بھی بہت عمدہ اور اپنی اپنی لگتی ہے کہ اس میں بولے گئے مکالمات سے افسانہ نگار کے عہد اور تہذیب کا پتہ چلتا ہے۔ یہ افسانے بیسیوں سال بعد پڑھے جائیں گے تو اس وقت کے قاری کے سامنے اس وقت کی منظر کشی ہوگی۔

نیر مصطفی کی اس کتاب کا ہر افسانہ ایسا ہے کہ آپ اسے پڑھنا شروع کریں تو بیچ میں چھوڑ کے کوئی اور کام نمٹانے نہیں اٹھ سکتے، اسے ختم کر کے دم لیتے ہیں اور پھر تا دیر اس کے اثر میں رہتے ہیں۔ کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ کہہ دینا۔ ایک ایک لفظ کا کہانی کو آگے بڑھانا، یہ ہے ان افسانوں کا اسلوب۔ مزید یہ کہ ہر افسانے میں کوئی نہ کوئی سچائی کوئی سماجی المیہ پوشیدہ ہے۔ ”افسر حسین ولد سکینہ بی بی“ ۔ بخاری صاحب ”۔

“ رنگوں میں سوچنے والی لڑکی ”ان افسانوں میں افسر حسین کے ساتھ والد کی بجائے والدہ کا نام لگانا بجائے خود ایک منفرد اور غور طلب کام ہے۔ کیا جیتا جاگتا اور سب میسیو کردار تخلیق کیا۔ ادھر بخاری صاحب کا ہٹلر ہے۔ وہ اپنے سید ہونے پر اتراتے پھرتے ہیں لیکن ایک عام سا بندہ ان کے ساتھ وہ کرتا ہے کہ بخاری صاحب اپنی انا کے کتے کا سر قلم کر دیتے ہیں۔ رنگوں میں سوچنا۔ کیا کردار تخلیق کیا ہے افسانہ نگار نے کہ ایسا پہلے کبھی پڑھنے کو نہیں ملا اور کہانی ختم ہوتے تک آپ کو رنگوں کی کیفیات ازبر ہو جاتی ہیں۔

افسانوں کے اس مجموعے کے پہلے اور دوسرے حصے کی کہانیاں نیر مصطفی کو ایک سنجیدہ اور ماہر فکشن نگار منواتی ہیں اور راست بیانیے میں متن میں جملہ در جملہ سفر کرتی ہیں۔ تیسرے حصے میں کچھ علامتی کہانیاں بھی ہیں مگر ان میں بھی کوئی ابہام نہیں اور ان کا عکس قاری کے ذہن کے پردے پر نمودار ہو کے انہیں اس کے لیے عام فہم بنا دیتا ہے۔ ویسے بھی پوری کتاب کا یکساں اسلوب نہیں، ہر کہانی اپنا اسلوب خود لے کے آئی ہے۔

ہر ذی شعور انسان مختلف انسانی رویوں کے متعلق اپنے ذاتی خیالات اور نظریات رکھتا ہے لیکن ایک لکھاری عام فرد کی نسبت زیادہ حساس ہوتا ہے تو یہ حساسیت اور نیر مصطفی کی فکرو نظر ہمیں ان افسانوں میں نظر آتی ہے۔ ”سچ۔ جھوٹ ’۔ اور کت کی پروفائل“ ۔ عمران مینگو ”۔ یہ حساسیت جھاگ کی طرح تیرتی ہوئی نہیں بلکہ کہانی کے اندر گھلی ہوئی ملتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے منٹو صاحب جب طوائف کے مختلف روپ دکھاتے ہیں تو شروع یا آخر میں یہ نہیں کہتے کہ وہ بڑی مظلوم جنس ہے، اس کا کچھ کرو بلکہ یہ مظلومیت ان کا افسانہ پڑھنے کے بعد کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔

یہی بات نیر مصطفی کے افسانوں میں ہے جو انہیں پروپیگنڈا بنانے سے روکتی ہیں۔ غزالہ عارف کا کردار ہو یا شیریں اگروال کا، خود منہ سے بول کر بتاتے ہیں کہ مصنف نے ان کی حرکات، سکنات اور نفسیات کا کیسا گہرا مشاہدہ کیا ہے اور پھر ایسی خوبصورت کردار نگاری کی ہے اور ایسے ایسے مکالمات سپرد قلم کیے ہیں کہ ڈھیروں داد دیے بغیر چارہ نہیں۔ غزالہ عارف والا افسانہ تو عورتوں کی نفسیات کا ایک منفرد پہلو دکھاتا ہے۔

مجھے اس کتاب کے سبھی افسانے بہت پسند آئے اور میں نے انہیں ایک ہی نشست میں پڑھ لیا تاہم ”عبد الغنی جیکسن“ ایک نہایت ہی منفرد افسانہ ہے۔ ایک سیڈسٹ فرد کی کہانی۔ جو بی ڈی ایم ایس (نفسیات کی زبان میں ایک کمپلیکس) کا شکار ہے اور ایسے افراد جسمانی تشدد کے ذریعے جنسی تلذذ حاصل کرتے ہیں۔ یہ ایک مکالمہ ہے دو دوستوں کے درمیان ( عبد الغنی جیکس وہاں موجود نہیں ) ہے۔ اس میں استعمال کی گئی زبان بالکل وہی ہے جو اس مکالمے کے کردار ذاتی زندگی میں بولتے ہیں۔ کوئی تصنع، کوئی بناوٹ نہیں۔ سلینگ۔ اور یہ تب ہوتا ہے جب انتہائی بے تکلفی ہو۔ عبد الغنی جیکسن کی غیر موجودگی کے باوجود وہ پورے افسانے میں قاری کے ساتھ رہتا ہے۔

میں افسانے کا قاری ہوں، نقاد نہیں۔ اس لیے میری گزارشات کو ایک قاری کے تاثرات ہی سمجھا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words