ناگہانی تا ناگہانی: طاہرہ کاظمی کی زبانی وجود، وبا اور کہانی
ڈاکٹر طاہرہ کاظمی میری پسندیدہ ادیب ہیں۔ اس سے پیشتر میں ان کی کتابوں، ”کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ“ ، ”مجھے فیمینسٹ نہ کہیو“ اور ”جتی“ پر اپنی گزارشات پیش کر چکا ہوں۔ ”ناگہانی تا ناگہانی“ ایک ناولٹ، دو خطوط اور کچھ کہانیوں پر مشتمل ہے۔ ادب، محض الفاظ کی آرائش نہیں، ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنی ان دیکھی صورتوں، انجانی کیفیات اور غیر فہم ناگہانی سچائیوں کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا
Read more
