ناگہانی تا ناگہانی: طاہرہ کاظمی کی زبانی وجود، وبا اور کہانی

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی میری پسندیدہ ادیب ہیں۔ اس سے پیشتر میں ان کی کتابوں، ”کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ“ ، ”مجھے فیمینسٹ نہ کہیو“ اور ”جتی“ پر اپنی گزارشات پیش کر چکا ہوں۔ ”ناگہانی تا ناگہانی“ ایک ناولٹ، دو خطوط اور کچھ کہانیوں پر مشتمل ہے۔ ادب، محض الفاظ کی آرائش نہیں، ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنی ان دیکھی صورتوں، انجانی کیفیات اور غیر فہم ناگہانی سچائیوں کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا

Read more

اگست تک۔ خاموش بغاوت کی داستان

” اگست تک“ گارسیا مارکیز کا وہ ناولٹ ہے جو اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں نے شائع کیا۔ اس ناولٹ کی صورت میں گارسیا مارکیز کی قصّہ گوئی کی بے مثال صلاحیت ایک بار پھر جگمگا رہی ہے۔ یہ، گمشدہ گوہر محبت، محرومی اور آرزو کی ایک مسحور کن کہانی کو منظرِ عام پر لاتا ہے، جو قاری کو یاد دلاتا ہے کہ گارسیا مارکیز ایک ادبی دیوتا ہیں۔ آنا میگدالینا باخ گزشتہ ستائیس برسوں سے اپنے

Read more

جعلی منٹو، نقلی عصمت

سنتے آئے ہیں کہ بڑا ادیب چھوٹے ادیب کو کھا جاتا ہے۔ یہ بات جزوی طور پر قرین قیاس ہے، مکمل سچ نہیں کہ سنجیدہ لکھنے والا بڑے ادیب سے متاثر ہوئے بغیر رہ تو نہیں سکتا لیکن وہ اس کی نقل بھی نہیں کرتا اور اپنی سوچ، تجربے اور مشاہدے اور تخلیقی صلاحیت سے ادب کی تخلیق کرتا ہے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ہمارے نوجوان قلمکار، سب نہیں، لیکن ایک بڑی تعداد، بر صغیر کی دو اہم

Read more

مظہریت اور وجودیت: باسط میر

ادب اور فنونِ لطیفہ کا طالبعلم ہونے کے ناتے، مجھے ہمیشہ فلسفہ اور نفسیات کے مطالعے کا شوق رہا ہے۔ فلسفہ نہ صرف سوچنے کی ترغیب دیتا ہے بلکہ ہمارے فکری افق کو وسیع کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جب ہم کسی مضمون کا مطالعہ کرتے ہیں، تو عمومی طور پر اس مضمون کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں تاکہ اسے بہتر سمجھ سکیں۔ مثال کے طور پر، جغرافیہ پڑھنے سے ماحولیاتی نظام یا دریا کے منبع

Read more

نگاہ دگر کی روشنی (نظمیں)

کوثر جمال کو میں اس وقت سے جانتا ہوں جب میرے اور ان کے افسانے محترمہ کشور ناہید کے ”ماہ نو“ میں شائع ہوتے تھے۔ پھر وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے چین چلی گئیں اور ہمیں افسانوں کی کتاب ”چینی منگولوں کے شہر میں“ سے نوازا۔ میں انہیں بحیثیت افسانہ نگار ہی جانتا تھا اور ان کی افسانہ نگاری کا معترف بھی تھا لیکن کرونا کے دوران جب ساری دنیا آن لائن ہونے پر مجبور ہو گئی تو مجھے کوثر

Read more

بک ریویو : دھوپ میں لوگ (ناول)

غسان کنفانی کا ناول، ”دھوپ میں لوگ“ فلسطینی ادب کے اہم شاہکاروں میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان کی تخلیقات میں ناول، مختصر کہانیاں، ڈرامے، بچوں کی کہانیاں، ادبی تنقید، اور سیاسی تحریریں شامل ہیں۔ کنفانی فلسطین کی آزادی کے ترجمان تھے اور ہفتہ وار اخبار، الہدف (مقصد) کی ادارت کرتے تھے۔ اپنی بیشتر افسانوی تحریروں میں، کنفانی جدیدیت پسند بیانیہ تکنیک استعمال کرتے ہیں تاکہ اجنبیت، جلاوطنی، اور قومی مزاحمت کے موضوعات پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔ تاہم،

Read more

ژاں پال سارترکا ناول: متلی

”لا نوزے“ (La Nausée) فرانسیسی فلسفی اور ادیب ژاں پال سارتر کا مشہور ناول ہے جو 1938 میں شائع ہوا۔ اس ناول کا مرکزی کردار انتوان روکانتین ہے، جو اپنی زندگی کی بے معنویت اور وجود کی حقیقت کے حوالے سے ایک کشمکش میں دکھائی دیتا ہے۔ سارتر کے فلسفے کی بنیاد ”وجودیت“ ہے، جس کے مطابق انسان کی زندگی میں کوئی پیش فرض مقصد یا معنی نہیں ہوتا۔ انسان آزاد ہے اور اپنی زندگی کے معنی خود تخلیق کرنے

Read more

”اوریانا فلاشی کا ناول: ”ایک مرد

اوریانا فلاشی اٹلی کی ایک مشہور صحافی اور لکھاری تھیں، جنہوں نے اپنے بے باک انٹرویوز اور تبصروں کے ذریعے عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔ ان کی تحریریں سیاست، جنگ، اور انسانی حقوق جیسے موضوعات پر مرکوز رہیں اور دنیا بھر میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ ناول یونان کے انقلابی رہنما، الیکسینڈروس پاناگولیس کی زندگی پر مبنی ہے، جو نہ صرف ایک سیاسی قیدی بلکہ ایک محبت کرنے والا انسان بھی تھا۔ ناول کی کہانی 1960 کی دہائی کے

Read more

شاید نہیں

رفیع حیدر انجم  ( افسانے) تاثرات:  راشد جاوید احمد  رفیع حیدر انجم ،  ادبی حلقوں میں ایک معروف نام ہے۔ ان کے لکھے افسانے مختلف فورمز میں پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ اب ان کے افسانوں کا غالبا دوسرا مجموعہ ہے جو ” شاید نہیں” کے نام سے شائع ہوا ہے ۔ اس کتاب میں 26 افسانے اور 5 افسانچے شامل ہیں۔ مختصر افسانوں کی یہ کتاب 184 صفحات پر مشتمل ہے۔ میں نے اس مجموعے کے سبھی افسانے پڑھے

Read more

فریم سے باہر – افسانوی مجموعہ

افسانہ نگار : دعا عظیمی تاثرات : راشد جاوید احمد دعا عظیمی کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”فریم سے باہر“ 27 افسانوں اور 10 نثرانوں پر مشتمل ہے۔ اتنے بہت سے افسانے پڑھنے کے لیے مصمم ارادے کی ضرورت ہوتی ہے تاہم پہلے ہی افسانے ”کالی ہوا“ نے مجھے حوصلہ دیا کہ میں باقی افسانے بھی پڑھ پاؤں۔ اس افسانے میں دعا عظیمی نے سماج میں موجود طبقات، یعنی محنت کش اور ان کا استحصال کرنے والوں کی بھرپور عکاسی

Read more

ایک ایک بارش دو آسمان- کتاب پر تبصرہ

راحیلہ خان، پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور ہاتھ میں نشتر رکھنے کے باوجود ایک گداز دل کی مالک ہیں۔ یہ گداز دل ان کے افسانوں کے پہلے مجموعے، ”ایک بارش دو آسمان” میں بدرجہ اتم نمایاں ہے۔ اس مجموعے میں چھتیس افسانے ہیں اور ہر افسانہ پڑھتے ہوئے ہمیں اس کے کردار اپنے آس پاس زندگی بسر کرتے نظر آتے ہیں۔ سیدھے سبھاؤ سے واقعہ چلا لینا اور بات ہے اور اسے فکشن کی زبان میں ڈھال کر

Read more

سرمد کھوسٹ کی فلم ”زندگی تماشا“

میں برسوں سے ادب کا قاری اور فلم، ڈرامے کا ناظر ہوں اور ان کی تلاش میں رہتا ہوں۔ تقریباً روز ہی ایک فلم دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں اور بعض اوقات بہت اچھی فلم دیکھنے کو مل جاتی ہے۔ بس ایسے ہی ”کہ آج کون سی فلم دیکھی جائے“ تلاش کرتے کرتے اچانک نظر پڑی کہ سرمد کھوسٹ نے سینما گھر پہ چلنے والی اپنی ایک فلم کو یوٹیوب پر اپ لوڈ کر دیا ہے۔ حیرت بھی ہوئی اور

Read more

عقیلہ منصور جدون کے تراجم: خدا کے نام خط

ترجمہ نگاری ایک ایسا فن ہے جس کی حیثیت مسلم ہے اور اس کے بغیر دوسری زبانوں کے علوم و فنون سے آشنائی نہیں ہو سکتی اور اس کے بغیر کوئی بھی زبان جدید اور ترقی پذیر ہونے کا دعوی بھی نہیں کر سکتی۔ ترجمہ ہی وہ فن ہے جس کے ذریعے سے ایک قوم دوسری قوم کے ذخیرۂ علم و ادب سے آشنا ہوتی رہی ہے۔ ادب کسی ایک خاص قوم کی میراث نہیں ہے۔ ہر زبان میں تخلیقیت

Read more

صبیح الحسن کا افسانوی مجموعہ: جہنم کا کیوبیکل نمبر 7

گزشتہ سات آٹھ برسوں میں اردو افسانہ نگاروں کے کئی نئے نام سامنے آئے ہیں اور کرونا کے دنوں میں جب تقریباً تمام سرگرمیاں آن لائن ہو گئیں تو ان نئے لکھنے والوں کی تخلیقات بھی پڑھنے کو ملیں۔ میرے لیے ان ناموں میں ایک نام صبیح الحسن کا بھی ہے جس کے افسانے مختلف ادبی فورمز پر پڑھنے یا سننے کا اتفاق ہوا۔ صبیح نے اپنا پہلا افسانوی مجموعہ ”جہنم کا کیو بیکل نمبر 7“ بڑی محبت سے مجھے

Read more

مریم عرفان کا راج ہنس ( افسانے )

تاثرات:: راشد جاوید احمد اردو زبان و ادب میں خواتین کی خدمات سے چشم پوشی زیادتی ہوگی جو ان کی سیاسی اور سماجی بصیرت، علمی شغف اور شعور کی پختگی کا بین ثبوت ہے۔ خواتین افسانہ نگاروں نے عورت کے جذبات، احساسات اور جذبٔہ ایثار کو ہمیشہ بڑی چابکدستی اور فن کاری سے پیش کیا ہے۔ ان کا مقصد محض اپنی نمائندگی نہیں بلکہ عصری تقاضوں کے تحت سماج کو سجانے، سنوارنے اور نا برابری کے خاتمے کا جذبہ بھی

Read more

مست، سمو اور شاہ محمد مری کی تثلیث

” موسلا دھار بارش نے خیمے کی طنابیں توڑ ڈالیں۔ خیمے کی کڑیاں اور پردے ہوا میں بکھر گئے، چادر تیز ہوا اڑا کر دور لے گئی۔ حسن و جوانی کی ملکہ کی گہری سیاہ ناگ جیسی کنڈل زلفیں، چہرہ کیا تھا ایک چراغ روشن، آنکھیں غزال جیسی سہمی ہوئی سیدھی دل کو چھید گئیں، تؤکلی پہ انجماد طاری ہو گیا، آنکھیں جھپکنے کا اپنا ازلی کام بھول گئیں دل نے برق کی رفتار سے دھڑکنا شروع کر دیا۔ محبت

Read more

چھپائی گئی تاریخ میں مستنصر حسین تارڑ کی نقب ”میں بھناں دلی دے کنگرے“ ۔ ناول۔ مستنصر حسین تارڑ

ساڑھے پانچ ہزار سال پرانی سلطنت سپت سندھو جو کہ آج کا پنجاب ہے، صدیوں سے اس الزام کا سامنا کر رہا ہے کہ پنجاب نے ہر حملہ آور کو خوش آمدید کہا ہے اور کبھی مزاحمت نہیں کی۔ یہ درست نہیں۔ تاریخ ہم سے چھپائی گئی ہے۔ پنجاب کی تاریخ اور پاکستان کی پیدائش کے بعد سے ہی پنجاب کی اصل تاریخ پر دبیز پردے ڈال دیے گئے۔ مزاحمت انسانی فطرت کا وصف ہے۔ زندہ رہنے کی خواہش بذات خود ایک مزاحمتی عمل ہے۔ پنجاب میں مزاحمت کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی سپت سندھو کی تاریخ۔ انگریزوں کے قبضے سے لے کر آج پنجاب میں پنجابی زبان کا عدم نفاذ۔ تاریخ کا جاری جبر ہے۔

Read more

تنہائی سے تنہائی کو بہلاتی: عبیرہ احمد کی شاعری

عبیرہ احمد کی نظموں کا مجموعہ ” لکھتے رہنا” میں نے ابھی پڑھا ہے۔ نظم کی دنیا میں یہ ایک خوبصورت اضافہ ہے۔ ان نظموں میں زبان و بیان کی صفائی، شیرینی اور بے ساختگی نمایاں ہیں۔ کتاب کا نام نظم ” لکھتے رہنا” پر رکھا گیا ہے اور اس نظم میں جو دو حصوں میں ہے، زبان کی لطافت اور جدت ادا ہے۔ اس مجموعے کی تمام نظمیں بیان کی لطافت کی حامل ہیں۔ تخیل کی نازک خیالی اور

Read more

آئینے میں جنم لیتا آدمی

نظم گو : مسعود قمر معروضات : راشد جاوید احمد مسعود قمر کا نیا شعری مجموعہ ”آئینے میں جنم لیتا آدمی“ میرے سامنے ہے۔ نظموں کے اس مجموعے میں آئینے کی علامت بھرپور طور پر ابھر کے سامنے آتی ہے۔ مجھے ساری نظمیں اسی آئینے میں نظر آئیں جسے شاعر نے خود بنا کر اس میں جنم لیا۔ اپنی ذات اور گرد و نواح میں پھیلی ہوئی کائنات کی آگاہی مسعود قمر کی فکر کا بنیادی عنصر ہے اور یہ

Read more

مہر گڑھ کے پوتے سے شاہ محمد مری کی شناسائی

نام کتاب: ہڑپہ سے شناسائی مصنف: ڈاکٹر شاہ محمد مری تاثرات: راشد جاوید احمد 2022 میں شائع ہونے والی یہ کتاب بیک وقت تاریخی ورثے اور ہڑپہ کے سفرنامے کی کتاب ہے۔ سفرنامے کے ساتھ ساتھ یہ احباب نامہ بھی ہے۔ ان احباب کا ذکر جو اس سفر میں مصنف کے ہم سفر تھے۔ تاریخ اور تاریخی ورثے کی کتابیں، ماہرین آثار قدیمہ یا اس کے طالب علموں کے لیے ہی زیادہ تر کشش رکھتی ہیں۔ کوئی تاریخ کا قاری

Read more

کارل مارکس, فرانز مہرنگ اور شاہ محمد مری

” کارل مارکس کی داستان حیات“ فرانز مہرنگ نے لکھی اور اسے اردو قالب میں ڈھالا، معروف دانشور، مورخ، محقق، انسان دوست، ترقی پسند ادیب ڈاکٹر شاہ محمد مری نے۔ اس کا اردو قالب مجھے کچھ برس پہلے پڑھنے کو ملا۔ اس سے پیشتر مارکس کی زندگی کے بارے میں کئی عبارتیں اور مضامین ملتے تھے لیکن ٹکڑوں میں۔ شاہ محمد مری صاحب کی اس ترجمہ کی ہوئی کتاب کا دوسرا ایڈیشن 2016 میں شائع ہوا اور میں نے اسے

Read more

دھوپ کے موسم میں حسین مجروح کا "سائبان”

کتابی سلسلہ شمارہ اول۔ مدیر اعلی جناب حسین مجروح برادرم حسین مجروح نے کمال محبت اور مہربانی سے سہ ماہی سائبان کا پہلا شمارہ عنایت کیا۔ ممنون ہوں۔ کتابی صورت کے اس رسالے کا منور محی الدین کا بنایا سرورق اور اس کا گیٹ اپ دیکھ کر ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کی تخلیق پر بہت محنت کی گئی ہے۔ یہ سہ ماہی پرچہ، سائبان تحریک کا وکیل ہے۔ سرورق سے اگلے صفحے پر اس تحریک کے مقاصد

Read more

مونتاژ ( افسانے ) فارحہ ارشد

مقالہ : راشد جاوید احمد آج اردو ادب تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے جہاں ایک طرف نت نئی اصناف وقت کی ضرورت کے تحت پیدا ہو رہی ہیں تو دوسری طرف پہلے سے موجود اصناف میں فنی اور فکری سطح پر انقلابی تبدیلیاں دونوں سطحوں پر ہو رہی ہیں یعنی ادب تخلیق کرنے والے اور ادب پڑھنے والے اس سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں پوری دنیا میں آئے روز تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں

Read more

مجھے فیمینسٹ نہ کہو: ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی یہ دوسری کتاب ہے جس کا میں نے ابھی مطالعہ کیا ہے۔ ان کی پہلی کتاب ”کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ“ پر میں ایک تاثراتی مضمون رقم کر چکا ہوں۔ زیر نظر کتاب بھی ڈاکٹر صاحبہ کے لکھے ہوئے مضامین یا کالموں کا مجموعہ ہے۔ چونکہ کتاب کا نام ”مجھے فیمینسٹ نہ کہو“ ہے تو ذرا دیکھیں فیمینزم ہے کیا؟ فیمنزم کی کوئی خاص تعریف ممکن نہیں۔ یہ سیاسی، سماجی، نظریاتی اور عورتوں کے بارے

Read more

کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ: ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی حقیقت نگاری

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی سے میرا تعارف ” ہم سب” پر ان کے کالموں کے حوالے سے ہوا ۔ یہ کالم ہمارے سماج میں عورت سے روا رکھی جانے والی زیادتیوں اور خواتین کے ذہنی اور طبی مسائل کے بارے میں ہیں اور جس چیز نے میری توجہ ادھر مبذول کی وہ ان کا منفرد اسلوب ہے جس میں افسانوی رنگ نمایاں ہے  انکی کتاب ، ” کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ” میں نے ابھی ابھی پڑھی ہے۔ یہ کتاب

Read more

مریم مجید ڈار کے افسانے: سوچ زار

shabgazeeda@gmail.com  مریم مجید ڈار کے افسانے انٹر نیٹ کی وساطت سے مختلف فورمز میں پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ افسانوں کے مواد اور زبان نے مجھے متوجہ کیا اورایک دو افسانے میں نے اپنے ای میگزین ” پینسلپس میگزین” میں بھی شائع کئے(۔بغیر اجازت کے ۔جس کے لیے معذرت) پھر خبر ملی کہ مریم صاحبہ کے افسانوں کا مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے تو میں نے  ” سوچ زار” حاصل کیا۔ ہمارے معاشرے میں گھٹن کے اسباب کیا ہیں،

Read more

سیکس اور سماج: سعید ابراہیم

سیکس اور سماج۔ یہ نہایت ضروری کتاب میں نے ابھی ابھی مطالعہ کی ہے۔ اس کتاب کے مصنف سعید ابراہیم ہیں جو نیشنل کالج آف آرٹس اور دیگر کئی ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں سے منسلک رہے۔ کچھ عرصہ جنگ گروپ میں بطور آرٹ ڈائرکٹر بھی کام کرتے رہے اور مسرت کی بات یہ ہے کہ میری جنم بھومی، گوجرانوالہ کے فرزند ہیں۔ کتاب کے نام کے نیچے باریک فونٹ میں لکھا ہے ”مکالمہ ضروری ہے“ اور شاید یہی وجہ کہ محترم سعید

Read more

بارش بھرا تھیلا (نظمیں)۔

شاعر مسعود قمر مقالہ نگار۔ راشد جاوید احمد آج سے ساتھ ستر برس پہلے اردو نظم کی جو روایت ظاہر ہوئی اس میں نمایاں نام ن۔ م۔ راشد، میرا جی اور مجید امجد کے تھے۔ ان کی نظموں کا موضوع انسان تھا جس کی پہچان اس کے خارجی حوالوں میں موجود تھی۔ اس دور کی نظم میں انسان کی شناخت کا گہرا احساس موجود ہے۔ گزشتہ چالیس پچاس برسوں کی نظم فکری اعتبار سے وجودی فلسفے سے متاثر رہی ہے۔

Read more

مناط ( افسانے )۔

افسانہ نگار۔ مطربہ شیخ مقالہ :: راشد جاوید احمد اردو افسانہ اپنی پیدائش سے اب تک نت نئے تجربات کی زد میں رہا ہے اور اس کی پہچان اور وسعت میں روز افزوں اضافہ ہی ہوتا رہا ہے۔ ترقی پسند تحریک سے جدید دور تک اور پھر آج بھی افسانے میں کئی تجربات ہو رہے ہیں۔ فکشن نگار اپنے زمانے کے حالات، مسائل، موضوع، تکنیک، اسلوب، کردار، زبان اور بیان، میں تجربات کرتے آئے ہیں اور اس لحاظ سے مختلف

Read more

کہانی کا آخری کنارہ ۔۔۔۔ منزہ احتشام گوندل

” کہانی کا آخری کنارہ“ منزہ احتشام گوندل کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ہے۔ اس سے پیشتر ان کے افسانوں کا مجموعہ ”آئینہ گر“ شائع ہوا جس پر اپنے تاثرات رقم کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ منزہ اپنے ہم عصر افسانہ نگاروں میں سب سے زیادہ حیران کردینے والی تخلیقی صلاحیت کی مالک ہیں۔ آئینہ گر کا پیش لفظ، ”اعتراف“ بجائے خود حیران کن تخلیق تھا۔ اب جب کہ میں نے ”کہانی کا آخری کنارہ“ کا مطالعہ کیا

Read more

ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری (افسانے)

افسانے کی دنیا میں بہت انقلاب برپا رہے ہیں۔ کبھی پلاٹ، کردار، نقطہ نظر اور وحدت تاثر کے بغیر افسانے کا تصور ممکن نہیں تھا۔ پھر ایسا دور آیا کہ پلاٹ اور مرکزی کردار کے بغیر افسانہ لکھا جانے لگا۔ کبھی نقطہ نظر ضروری سمجھا گیا کبھی اسے مہلک اور پراپیگنڈہ کہا گیا۔ پھر علامتی اور تجریدی افسانے کا دور آیا اور روایتی اجزائے ترکیبی بے معنی ہو کر رہ گئے۔ محترم نیر مصطفی کے افسانوں کا مجموعہ ”ٹوٹے پھوٹے

Read more

حالت اب اضطراب کی سی ہے

میں، میلان کنڈیرا کی کتاب آئی ڈنٹیٹی کا اردو ترجمہ بعنوان ”پہچان“ مترجم محمد عمر میمن کی ابھی صرف ورق گردانی کر رہا تھا کہ میری بیٹیوں نے میرے کمرے میں داخل ہو کر مجھ سے کہا، ”ابو جی۔ ہماری بات دھیان سے سنیں۔ کرونا کی وجہ سے سکول کبھی بند ہو رہے ہیں کبھی کھل رہے ہیں۔ ہم نے تو لڑکیوں کو سکول سے اٹھوا لیا ہے۔ گھر پر ہی پڑھیں گی۔“ ” کون پڑھائے گا گھر پر؟“ میں

Read more

عندلیبِ جاں

بات صرف اتنی ہی نہیں تھی۔ ٹیچر کو اس بچی سے ایسے جواب کی ہر گز توقع نہیں تھی۔ ماریہ نے جھکا ہوا سر اٹھایا اور ٹیچر ذکیہ کے ماتھے پر گھورتی ہوئی نظریں گاڑ دیں۔ ذکیہ حیرانی سے اسے دیکھتے ہوئے بولی
” آخر ہوا کیا ہے تمہیں؟ کیا استاد کے ساتھ ایسی بد تمیزی سے بولتے ہیں؟“

ماریہ کو اندر ہی اندر اس ٹیچر سے سخت نفرت ہو چکی تھی اور وہ جانتی تھی کہ ایک نہ ایک دن ایسا ہی ہوگا۔ اس سکول میں پچھلے سال سے ایک نیا تجربہ کیا جا رہا تھا۔ ٹیچر ذکیہ اگرچہ آرٹس اور ڈرامے کی انچارج تھی تاہم اسے یہ فرض بھی سونپا گیا تھا کہ وہ طالبات اور ان کے والدین کے درمیان تعلقات کی نوعیت بھی دریافت کرے تاکہ ان بچوں اور والدین میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے جو اپنی مصروفیات کے باعث بچوں سے وہ تعلق نہیں رکھتے جو والدین اور اولاد میں ہونا چاہیے۔

Read more

ثمینہ سید کے افسانے: کہانی سفر میں ہے

کہانی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ انسان۔ جب ایک انسان نے اپنے دکھ سکھ میں دوسرے انسان کو شریک کرنا چاہا تو اسے زبان کا سہارا لینا پڑا اور پھر قلم کی ایجاد نے زبان کی جگہ لے لی اور خوب لی کہ زبان سے ادا شدہ لفظ، سننے والا، کچھ بھی سمجھ سکتا ہے لیکن لکھا ہوا لفظ تو تبدیل نہیں ہو سکتا۔ میں یہاں کہانی یا افسانے کی تاریخ بیان نہیں کروں گا کہ اس

Read more

چندن راکھ ( افسانے ) مصباح نوید

افسانوں کے اس مجموعے نے اپنے خوبصورت سرورق اور انوکھے نام کی وجہ سے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ پبلشر، نگارشات نے ایک ہی فون کال پہ کتاب مجھے مہیا کردی اور میں نے ان افسانوں کا مطالعہ کر ڈالا۔ چندن راکھ، محترمہ مصباح نوید کے 16 افسانوں کا مجموعہ ہے اور کتاب کے مطالعے سے علم ہوا ہے کہ یہ ان کے افسانوں کا اولین مجموعہ ہے۔ ادب اور افسانے کا طالب علم ہونے کے باوجود میری نظر میں اس سے پہلے ان کی کوئی ادبی تحریر نہیں گزری۔

Read more

گونجتی سرگوشیاں (افسانے )۔

محترمہ فرحین خالد نے نہایت محبت و تکریم سے مجھے یہ کتاب بھیجی۔ بھیجی تو انہوں نے بقول ان کے ”میرے ذوق مطالعہ“ کے لیے تھی لیکن کتاب کے مطالعے نے مجھے اس پر کچھ لکھنے کو اکسایا۔ بندہ اگر پیشہ ور نقاد نہ ہو تو مضمون لکھنا کافی مشکل امر ہوتا ہے، سو میری گزارشات مضمون کی صورت ہیں۔

افسانوں کے اس مجموعے میں سات افسانہ نگاروں، ابصار فاطمہ۔ ثروت نجیب۔ سمیرا ناز۔ صفیہ شاہد۔ فاطمہ عثمان۔ فرحین خالد اور معافیہ شیخ کی 35 سرگوشیاں ہیں جنہیں گونج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان میں سے ثروت نجیب کا تعلق کابل، افغانستان سے ہے اور باقی سب ہماری ہم وطن ہیں۔

Read more

ایک اجنبی دنیا میں دس منٹ اور 38 سیکنڈ

الف شفق کا یہ تازہ ترین ناول ہے۔ میں نے ان کی تقریباً تمام کتابیں مطالعہ کی ہیں اور ان پر اپنی رائے کا اظہار ایک مضمون کی صورت میں کر چکا ہوں۔ کل ہی میں نے اس ناول کا مطالعہ ختم کیا ہے۔ الف ان کا نام ہے اور شفق ان کی والدہ کا نام۔ اس ناول کے آخر میں وہ اپنی ماں کے نام کو اپنے نام کا حصہ بنانے کے بارے میں بھی بتاتی ہیں۔ اور شاید اس کا ذکر اس کتاب میں ضروری بھی تھا بہرحال شفق سے شفقت اور یہ شفقت اور ہمدردی ہے الف شفق کی جو ان کے تمام ناولوں میں نمایاں ہیں۔

Read more

موسم

شہر کے وسط میں بلند و بالا عمارتوں کے درمیان سڑکوں پر لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے۔ چالیس کے پیٹے کا ایک شخص بڑے جذباتی انداز میں زور زور سے ہاتھ ہلا ہلا کر پرشور مجمعے سے خطاب کر رہا ہے۔ ہجوم اتنا بڑا ہے کہ ڈکٹا فون کے استعمال کے باوجود بہت سے لوگوں تک مقرر کی آواز پہنچ نہیں پاتی۔ کچھ دیر بعد ایک بلند نعرے کی آواز آتی ہے لیکن الفاظ صاف سنائی نہیں دیتے۔ نعرے

Read more

بستی بے داد گراں

وہ موت سے نہیں ڈرتا لیکن خوف زدہ ہے۔ وہ اس کارواں میں شامل ہے جو ایک پتھریلی زمین کو ہموار کر کے اس میں خوبصورت بستی بسانا چاہتا تھا۔ ان پتھروں سے پہلے ایک گھنا جنگل ہے جس میں خونخوار درندے ہیں۔ کچھ نظر آتے ہیں کچھ پوشیدہ ہیں۔ ان کی آوازیں رات کی تاریکی اور کمرے کی چپ چاپ میں خوف زدہ کر دیتی ہیں۔ وہ موت کے علاوہ کسی سے بھی نہیں ڈرتا۔ وہ جانتا ہے کہ

Read more

تیز دھوپ میں کھلا گلاب

کتا زور زور سے بھونک رہا تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ ارسطو کے نظریہ حکومت کا بغور مطالعہ کر سکوں لیکن شور بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ میں نے مٹھو سے کہا کہ جا کر معلوم کرے کہ کیا مسئلہ ہے۔ واپس آ کر اس نے مجھے بتایا کہ سڑک پر ایک عورت بکریاں چرا رہی ہے اور بکریاں ہمارے گھر کے باہر والے لان میں گھس آئی ہیں۔ مجھے باغبانی سے از حد دلچسپی ہے اور جب سے ہم دوسرے شہر میں اپنا بڑا گھر چھوڑ کر اس شہر میں آئے ہیں میں اسی چھوٹے سے لان میں اپنی دلچسپی کا سامان پیدا کر لیتا ہوں۔ نئی کالونیوں اور جدید بستیوں میں دس مرلے کے گھروں میں اتنی گنجایش نہیں ہوتی کہ میرے جیسا شخص اپنا شوق بطریق احسن پورا کر سکے۔ میرے ایک دوست نے باغبانی سے میری دلچسپی دیکھ کر میرا نام نباتاتی مریض رکھ چھوڑا ہے۔

Read more

پاکستانی منٹو۔ بھارتی منٹو

سعادت حسن منٹو 1912 میں لدھیانہ میں پیدا ہوئے اور 18 جنوری 1955 کو لاہور میں وفات پائی۔ ان کے والد غلام حسن منٹو ذات کے کشمیری اور امرتسر کے محلہ وکیلاں کے باسی تھے۔ منٹو اپنے گھر میں ایک سہما ہوا بچہ تھے جو سوتیلے بہن بھایؤں کی موجودگی اور والد کی سخت طبیعت کی وجہ سے اپنا آپ ظاہر نہ کر سکے۔ وہ ابتدا ہی سے سکول کی تعلیم کی طرف مائل نہ تھے چنانچہ میٹرک میں تین

Read more

اپنی سوگوار بیسواؤں کی یاد میں

ناول کی کہانی ایک ایسے بوڑھے کے گرد گھومتی ہے جو اپنی زندگی کے نوے سال مکمل ہونے پر اپنے آپ کو ایک عجیب تحفہ دینا چاہتا ہے۔ یہ تحفہ کسی نوخیز باکرہ کے ساتھ رات بسر کرنے کا تحفہ ہے۔ یادداشتوں کا یہ عیاں تذکرہ گبریل گارسیا مارکیز کا مشہور زمانہ ناول ہے۔ ان یادداشتوں کا بے نام راوی نوے سال کا ہو گیا ہے اور اس نے خود کو ایک کنواری کے ساتھ رات گزارنے کا تحفہ دینے

Read more

آمنہ مفتی کا ناول: پانی مر رہا ہے یا کہانی مر رہی ہے

کتاب کے عنوان نے مجھے کتاب خریدنے پر اکسایا،  سو میں نے خرید لی اور پڑھ بھی لی۔ اس سے پہلے محترمہ آمنہ مفتی کی کوئی تحریر، کوئی افسانہ میری نظر سے نہیں گزرا۔ ناول پڑھنے کے بعد بھی میری سمجھ میں نہیں آیا کہ مصنفہ نے یہ ناول کیوں اور کس کے لیے لکھا ہے۔ اس ناول کی کوئی سمت نہیں، کوئی قبلہ نہیں۔ ناول کی کہانی میاں اللہ یار کے بیٹے کی گاؤں آمد سے شروع ہوتی ہے

Read more

رات کی رانی ::افسانے :: رابعہ الربا

خوبصورت سرورق اور خوبصورت نام والا یہ افسانوں کا مجموعہ کچھ برس پہلے شائع ہوا لیکن شومئی قسمت سے مجھے پڑھنے کو ابھی میسر ہوا۔ اس پر بہت سے اہل قلم نے بہت کچھ لکھا ہوگا۔ کتاب کے مطالعے کے بعد میں نے سوچا کہ اب اتنے عرصے بعد میں اس پر کیا لکھوں لیکن اس مجموعے کے افسانوں نے لکھنے کی انگیخت ”مٹھی“ نہیں ہونے دی۔

Read more

ذوالفقار احمد تابش کا مجموعۂ کلام: در نیم وا

پھانس سینے میں گڑی رہتی ہے رات کمرے میں کھڑی رہتی ہے مرے پہلو میں مری پرچھائیں یونہی چپ چاپ پڑی رہتی ہے پروفیسر رشید احمد صدیقی نے غزل کو ”اردو شاعری کی آبرو“ کہا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اردو غزل واقعی آبروئے شعر اردو ہے۔ صدیوں کے عبور و مرور کے باوجود یہ صنف آج بھی موجب دلکشی ہے. ذوالفقار احمد تابش ملک کے بہت ہی معروف شاعر، ادیب اور مصور ہیں۔ ’در نیم وا‘ محترم ذوالفقار احمد

Read more

سیمیں درانی کے افسانے: آنول نال

یہ کتاب محترمہ سیمیں درانی کے 15 افسانوں اور ایک مضمون پر مشتمل ہے۔ کتاب کا نام قدرے چونکا دینے والا ضرور ہے لیکن مصنفہ کا یہ دعوی کہ مرد حضرات آنول نال کو جانتے تک نہیں اور اس کے ذکر پر اپنی ناف کھجانے لگتے ہیں، حقیقت نہیں۔ مزید وہ کہتی ہیں کہ مرد آنول نال کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ مرد جانتے بھی نہیں اور استعمال بھی کرتے ہیں۔ جس جنسی استحصال،

Read more

مشرف عالم ذوقی کا ناول ’نالۂ شب گیر‘ کیوں متاثر کن نہیں؟

”میں برابری اور آزادی کا قائل ہوں۔ اس لئے برسوں سے ایک ایسی کہانی کی تلاش میں تھا، جہاں اپنے تصور کی عورت کو کردار بنا سکوں۔ اس ناول میں دو کردار ہیں۔ صوفیہ مشتاق احمد ایک خوفزدہ لڑکی کی علامت بن کر سامنے آتی ہے یہاں مجھے ضرورت ایک ایسی عورت کی تھی، جسے صوفیہ مشتاق احمد کے ساتھ مضبوطی کی علامت بنا کر پیش کر سکوں۔ ناہید انصاری کا کردار ایک ایسا ہی کردار ہے کہ جب ناہید

Read more

کیرن آرمسٹرانگ کی کتاب’خدا کی تاریخ‘

کیرن آرمسٹرانگ ایک عالمی شہرت یافتہ مصنفہ ہیں۔ برطانیہ میں ویسٹ مڈلینڈ کے علاقے ووسٹر شائر میں 14 نومبر 1944 کو پیدا ہوئیں۔ کیرن آرم سٹرانگ نے اپنی زندگی کے سترہ سال بطور رومن کیتھولک نن بسر کیے، 1969ء میں اپنے مذہبی سلسلے کو چھوڑنے کے بعد انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈگری لی اور جدید ادب پڑھایا، وہ برٹش براڈ کاسٹر برائے مذہبی امور کے فرائض بھی سرانجام دیتی رہیں۔ کیرن کا دائرہ کار اور خیالات کی گہرائی اس

Read more

وکٹوریہ اینڈ عبدل: ہندی فلم

Life is like a carpet, we weave in and out to make a pattern یہ وہ الفاظ ہیں جو لمبے قد، مضبوط جسم اورخوبصورت آنکھوں والا، ایک ہندوستانی غلام عبدل کریم، ملکہ برطانیہ، یعنی کویئن وکٹوریہ کو اس وقت کہتا ہے جب ان دونوں کے درمیاں ایک نازک تعلق کا آغاز ہوتا ہے۔ جی ہاں یہ بات ہے ایک فلم کی جس کا نام ہے وکٹوریہ اینڈ عبدل۔ فلم ’وکٹوریا اینڈ عبدل‘ کی کہانی شرابانی باسو کی کتاب ’وکٹوریا اینڈ

Read more

ہم صورت گر کچھ خوابوں کے

انسان ۔برخلاف حیوان۔ جمالیاتی قوانین کو مدنظر رکھ کر تخلیق کرتا ہے یا ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حیوانات کا عمل جبلی ہوتا ہے اور انہیں یہ جبلی خصوصیات فطرت کی طرف سے عطا ہوتی ہے لیکن انسان کا تخلیقی عمل محض جبلی دائرے میں محدود نہیں۔ انسان مختلف مادوں کو جمالیاتی قوانین جو خارجی معروضی ہوتے ہیں کے مطابق تخلیقی روپ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ جمالیاتی تصورات سماجی زندگی اور اس کی ساخت، تاریخی حالات اور

Read more

کافکا بر لب ساحل: ہاروکی موراکامی کا ناول

ہاروکی موراکامی کی تخلیق کردہ طلسماتی دنیا میں داخل ہونا آسان ہے لیکن نکلنا مشکل۔ ادب کا کوئی بھی سنجیدہ قاری ایسے ادیب کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ یہ ناول 2002 میں لکھا گیا، 2005 میں اس کا انگریزی ترجمہ سامنے آیا۔ اس ناول کی شہرت ساری دنیا میں پھیل چکی ہے اور کئی زبانوں میں اس کے تراجم ہو چکے ہیں اور اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے جناب نجم الدین احمد نے۔ اپنی طلسماتی حقیقت نگاری، منفرد

Read more