عائشہ اکرم کیس: شناخت پریڈ سے متعلق حیران کن انکشافات

لاہور میں یوم آزادی پر مینار پاکستان کے سائے میں سینکڑوں افراد کے ہاتھوں دراز دستی  کا نشانہ بننے والی عائشہ اکرم کی شناخت پریڈ کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آگئے، عائشہ نے کل 10 افراد کو شناخت کیا تھا جن میں 4 ایسے بھی تھے، جو 6، 6 ماہ سے جیل میں قید ہیں اور انہیں شناخت پریڈ کے اصول کے تحت پکڑے گئے ملزموں میں شامل کیا گیا تھا۔

لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں دست درازی کا نشانہ بننے والی خاتون عائشہ اکرم کی شناخت پریڈ کی رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ عائشہ اکرم نے اپنے 3 ساتھیوں بلال، ریمبو اور صدام کی موجودگی میں ملزموں کو شناخت کیا۔ عائشہ اکرم نے کل 10 ملزموں کی طرف اشارہ کیا کہ یہ لوگ اس سے دراز دستی میں ملوث ہیں، تاہم چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ ان 10 میں سے 6 ملزم تو گریٹر اقبال پارک کی ویڈیوز سے شاخت کر کے پکڑے گئے تھے، تاہم 4 ایسے قیدی ان میں شامل کیے گئے تھے جو 6، 6 ماہ سے جیل میں بند ہیں۔

جیل حکام کے مطابق شناخت پریڈ کا اصول ہے کہ اس میں کچھ ایسے افراد بھی شامل کردیے جاتے ہیں جو موقع پر موجود ہی نہ ہوں تاکہ شناخت پریڈ کی صحت کا اندازہ کیا جا سکے، عائشہ نے جن 6 ملزموں کو شناخت کیا، ان میں شہریار، مہران، عابد، ارسلان، ساجد اور افتخار شامل ہیں۔

عائشہ اکرم نے ملزموں کے کردار بھی واضح کیے اور بتایا کہ افتخار نے اس کے کپڑے پھاڑے، ارسلان نے تشدد کیا، شہر یار نے دھکے دے کر جنگلے سے مارا، مہران نے زد و کوب کیا، عابد نے سیلفیاں لیں اور غلط حرکات کیں جبکہ ملزم ساجد نے لڑکوں کو اکسایا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words