نامور گیت نگار راجہ مہدی علی خان اور مولانا ظفر علی خان

نامور گیت نگار راجہ مہدی علی خان (1912 تا 1966) اور مولانا ظفر علی خان رحمہ اللہ علیہ (1873 تا 27 نومبر 1956) کے بارے میں کرکٹ تبصرہ نگار راجہ اسد علی خان کی بات چیت

٭٭٭            ٭٭٭

” بھارتی فلمی دنیا کے نامور گیت نگار راجہ مہدی علی خان میرے والد راجہ فاروق علی خان کی پھوپھی ’ہوبیہ خانم‘ کے بیٹے تھے۔ مولانا ظفر علی خان رحمۃا اللہ علیہ میرے دادا کے سگے بھائی تھے۔ اس اعتبار سے راجہ صاحب ان کے بھانجے تھے“ ۔ یہ الفاظ راجہ اسد علی خان صاحب نے ریڈیو پاکستان لاہورمرکز میں کرکٹ پر رواں تبصرے کے درمیان ایک وقفے میں میرے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہے۔

راجہ مہدی علی خان صاحب کے تذکروں کے مطابق انہوں نے ابتدا میں لاہور سے شائع ہونے والے جرائد ”پھول“ اور ”تہذیب نسواں“ کی مجلس ادارت میں کام کیا۔ پھر 1942 کے لگ بھگ آل انڈیا ریڈیو دہلی کے لئے لکھنا شروع کیا۔ کہا جاتا ہے کہ نامور کہانی نگار سعادت حسن منٹو کے ذریعے راجہ صاحب کو اداکار اشوک کمار کی وساطت سے فلم ”آٹھ دن“ ( 1946 ) میں مکالمے لکھنے کا کام حاصل ہوا۔ اس فلم میں راجہ صاحب نے اداکاری بھی کی۔ اگلے ہی برس فلمستان اسٹوڈیو کے شراکت دار ’سسہادر مکھرجی‘ نے اپنی فلم ”دو بھائی“ ( 1947 ) میں انہیں گیت لکھنے کا موقع دیا۔ راجہ مہدی علی خان کے گیت ”میرا سندر سپنا بیت گیا میں پریم میں سب کچھ ہار گئی، بے درد زمانہ جیت گیا“ سپر ہٹ ثابت ہوا۔ 1947 میں جہاں اور فلمی شخصیات بمبئی سے ہجرت کر کے پاکستان منتقل ہوئیں وہاں راجہ صاحب نے بمبئی ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

راجہ مہدی علی خان نے کئی ایک موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ جیسے سچن دیو برمن، اقبال قریشی، ایس مہندر، سردار ملک، رونو مکھر جی، سی رام چندرا، دتہ نائک، او پی نیر، لکشمی کانت پیارے لال اور دوسرے۔ لیکن موسیقار مدن موہن صاحب کے ساتھ کیا گیا کام سب سے الگ نظر آتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ان دونوں کی ذہنی مطابقت اور سوچ یکساں تھی۔ یہ تعلق فلم ”مدہوش“ ( 1951 ) میں قائم ہوا۔ بحیثیت موسیقار، یہ مدن صاحب کی تیسری فلم تھی۔

پھر تو اس کے بعد ”ان پڑھ“ ( 1962 ) ، ”آپ کی پرچھائیاں“ ( 1964 ) ، ”وہ کون تھی“ ( 1964 ) ، نیلا آکاش ”( 1965 ) ،“ میرا سایہ ”( 1966 ) ،“ دلہن ایک رات کی ”( 1967 ) ،“ جب یاد کسی کی آتی ہے ”( 1967 ) ،“ نواب سراج الدولہ ”( 1967 ) وغیرہ کے گیت ایک سے بڑھ کر ایک ثابت ہوئے۔ راجہ صاحب کے تذکرہ نگاروں کے بقول موسیقار مدن موہن کے ساتھ ان کا یہ میٹھا سریلا بندھن گلوکار طلعت محمود کے فلم“ مد ہوش ”( 1951 ) کے اس گیت سے شروع ہوا: ’میری یاد میں تم نہ آنسو بہانا۔‘ ۔

یہ بھی راجہ صاحب ہی کا خاصا ہے کہ وہ تکلیف میں بھی مسکراتے تھے۔ حتیٰ کہ بتانے والے بتاتے ہیں کہ بستر مرگ پر بھی ان کی حس مزاح پوری طرح بیدار تھی۔ یہ بات ان کے آخری ملاقاتیوں نے بتلائی۔

میرے والد اور راجہ صاحب:

راجہ اسد علی خان نے بتایا: ”میرے والد اور راجہ مہدی علی خان میں بچپن ہی سے بہت دوستی تھی۔ دونوں ہی طبعا شرارتی تھے۔ راجہ مہدی علی خان کے حقیقی بھائی راجہ عثمان علی خان خاصے سنجیدہ تھے۔ وہ اپنے بڑوں کو ان دونوں کی چغلیاں لگایا کرتے تھے کہ آج انہوں نے یہ حرکت کی۔ راجہ مہدی علی خان کی میرے والد صاحب سے بہت بنتی تھی۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ہم ایک کارڈ دیکھا کرتے تھے جس پر راجہ مہدی علی خان نے میرے والد صاحب پر ایک نظم لکھی ہوئی تھی“ ۔

” آپ اپنے چچا راجہ صاحب کے ہاں پہلی مرتبہ کیسے پہنچے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” چچا راجہ مہدی علی خان کے بارے میں ہم شروع سے سنتے آ رہے تھے لیکن بمبئی میں میرا ان کے گھر جانا کرکٹ کی کمنٹری کے سلسلے میں ہوا۔ اس کی کہانی کچھ یوں ہے کہ 1999 میں ایک ڈبل ٹور میں پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان ٹرائی اینگل سیریز تھیں جس کے لئے ہمیں اندرون بھارت بہت سفر کرنا تھا۔ ہمیں چھ مرتبہ دہلی، دو دفعہ بمبئی اور دو ہی مرتبہ کلکتہ جانا تھا۔ میں بمبئی جانے میں بہت پر جوش تھا کہ وہاں جا کر چچا راجہ مہدی علی خان صاحب کا گھر تلاش کروں گا۔

جب ناگپور میں ہمارا پہلا میچ تھا تو وہاں کے آل انڈیا ریڈیو کے اسٹیشن ڈائرکٹر ’کرانتے‘ صاحب سے میں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ میں بمبئی میں اپنے بھارت کے نامور گیت نگار چچا مہدی علی خان کا گھر ڈھونڈنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ راجہ صاحب کی بیٹی نیلوفر، نیوی کے سربراہ بھگوت صاحب کے ساتھ بیاہی ہوئی ہیں۔ ان کی یہ بات ایسی تھی جس کے بارے میں مجھے مزید معلومات حاصل نہ ہو سکیں۔ کرانتے صاحب نے آل انڈیا ریڈیو بمبئی کے اسٹیشن ڈائریکٹر کا حوالہ اور نمبر دیا اور کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق راجہ صاحب کی دوسری بیگم طاہرہ حیات ہیں۔ اور یہ بھی کہ ریڈیو والے تمہیں ان تک پہنچانے میں مدد کریں گے“ ۔

” بمبئی جانے سے پہلے میں دہلی بھی گیا جہاں سے مجھے آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر اسپورٹس ’موتی احمد‘ نے بمبئی کے اسٹیشن ڈائریکٹر کے لئے لکھ کر دیا۔ میں ان سے ملا بھی۔ میں نے ان لوگوں کے بارے میں بھی پوچھا جو میرے والد صاحب کے زمانے میں آل انڈیا ریڈیو لاہور میں تھے۔ چچا کے مکان کی تلاش کے سلسلے میں مجھے تین لوگوں کے نام دیے گئے۔ ایک مجروحؔ سلطان پوری صاحب دوسرے ندا فاضلیؔ صاحب اور تیسرے موسیقار خیام صاحب۔

میں ان اصحاب سے فون پر رابطے کی کوشش کرتا رہا لیکن مقصد میں کامیابی نہ مل سکی۔ اسی دوران ہمارا وہاں سے جانے کا وقت آ گیا۔ اب ہمیں صرف ایک مرتبہ اور بمبئی آنا تھا۔ البتہ میں چچا کے مکان ڈھونڈنے کے لئے دوسرے شہروں سے بھی کوششیں کرتا رہا۔ جیسے چچا کے قریبی دوست، موسیقار مدن موہن کے بیٹے ’سجیو کوہلی‘ ۔ یہ گراموفون کمپنی آف انڈیا کے ذمہ دار عہدے پر فائز تھا۔ اس نے بتایا کہ اس کے بھائی سمیر کا میری چچی سے رابطہ رہتا ہے کیوں کہ انہوں نے گراموفون ریکارڈوں کے حقوق اور رائلٹی کے لئے ایک کمیٹی بنائی ہوئی ہے جو گیت نگاروں اور موسیقاروں کی مدد کرتی ہے۔ اس سلسلے میں کچھ عرصہ پہلے ہی میری چچی یعنی راجہ صاحب کی بیگم کو کچھ رقم بھی دی تھی لہٰذا یہ آپ کو راجہ صاحب کے گھر لے جائے گا۔ اس یقین کے ساتھ کہ اب تو اگلی مرتبہ بمبئی آنے پر چچا جان کا گھر میری دسترس میں ہو گا میں پر امید ہو گیا“ ۔

” بمبئی آمد پر ہم اندھیری کے نزدیک ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ میں نے موسیقار خیام صاحب کو فون کیا تو ان کی بیٹی نے کہا کہ وہ ایک میٹنگ میں ہیں۔ پھر میں نے ندا فاضلیؔ صاحب کو فون کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ نے خیام صاحب کو بتایا تھا کہ آپ راجہ مہدی علی خان کے عزیز ہیں؟ میں نے کہا کہ نہیں تو انہوں نے کہا کہ آپ مجھے آدھ گھنٹے بعد فون کیجئے۔ جب دوبارہ فون کیا تو انہوں نے ’پالے ہل‘ کا ایک پتہ لکھوایا۔ یہ وہی پتہ تھا جو میں پاکستان سے لایا تھا۔

میں وہاں سے ہوٹل آیا۔ میرے ساتھ آئے ہوئے پروڈیوسر عابد بخاری اور کمنٹیٹر طارق رحیم کہنے لگے ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں گے۔ میں نے کہا ابھی نہیں! آئندہ لے کر جاؤں گا کیوں کچھ علم نہیں کہ مکان ڈھونڈنے میں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ خیر میں رکشے میں ’باندرا‘ پہنچ گیا۔ سامنے سے ایک خاتون آ رہی تھیں میں نے پوچھا :

” کیا آپ راجہ مہدی علی خان کے مکان کو جانتی ہیں؟“ ۔
” میں ان کو نہیں جانتی البتہ یہاں سامنے ایک خان رہتا تو تھا“ ۔ انہوں نے جواب دیا۔

” یہ 1999 کی بات ہے وہ تو 1966 میں انتقال بھی کر گئے تھے۔ میں بتائے گئے اس گھر میں چلا گیا۔ وہ کونے والا مکان تھا۔ اس پر نام کی تختی لگی ہوئی تھی جس پر راجہ مہدی علی خان لکھا ہوا تھا۔ اس پر سفیدی پھرا دی گئی تھی۔ اطلاعی گھنٹی کا بٹن دبایا۔ میں نے باہر سے دیکھ لیا تھا کہ ایک خاتون چھڑی کی مدد سے چل رہی ہیں۔ اندازہ ہو گیا کہ یہ ہی طاہرہ راجہ مہدی علی خان ہیں۔ کسی اور خاتون نے دروازہ کھولا۔ میں نے اپنا تعارف کرایا اور راجہ مہدی علی خان کی بیگم سے ملنے کی خواہش ظاہر کی“ ۔

” وہ بڑی حیران ہوئیں اور اندر لے گئیں۔ تھوڑی دیر بعد چھڑی کے سہارے بیگم راجہ مہدی علی خان کمرے میں آ گئیں۔ آتے ہی بہت سے سوالات کیے ۔ مکان کے نہ ملنے کی بات ہوئی تو کہنے لگیں کہ دلیپ کمار سے پوچھ لیا ہوتا۔ یہیں پیچھے تو رہتے ہیں۔ خاندان کی خواتین کے بارے میں درجہ بدرجہ پوچھا جن میں سے اکثر انتقال کر چکی تھیں۔ امین الرحمن اور والد صاحب کے بارے میں پوچھا جو انتقال کر چکے تھے۔ وہ بے حد جذباتی ہو رہی تھیں۔

پھر ’التتمش‘ نام کا ایک نوجوان کمرے میں آیا۔ یہ راجہ صاحب کی سالی کا بیٹا تھا۔ وہ مجھ سے مل کر بہت پر جوش ہوا اور مجھے اپنے خاندانی وکیل صاحب کے ہاں لے گیا۔ وکیل صاحب نے بتایا کہ آپ پاکستان میں جا کر بتائیں کہ پاکستان ٹیلی وژن یہاں بہت دیکھا جاتا ہے۔ آپ پہلے والے ڈرامے بنائیں اور پرائیویٹ پروڈکشن میں آدھا تیتر آدھا بٹیر مت کریں۔ کیوں کہ اس سے پہلے میں سڑکوں پر دیکھ چکا تھا کہ حسینہ معین (م) کے بڑے بڑے ہورڈنگ لگے ہوئے تھے“ ۔

عید کے دن راجہ مہدی علی خان کی قبر پر حاضری:

بات کو جاری رکھتے ہوئے راجہ اسد علی خان نے کہا: ”اگلے دن عید تھی اور مجھے وہیں بمبئی میں رہنا تھا۔ میں چچا کی تربت پر حاضری دینے چچی کے ہاں دوبارہ پہنچا۔ التتمش کو ساتھ لیا اور قبرستان روانہ ہوا۔ راجہ صاحب کی قبر کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ کتبہ بھی ایک جانب گرا ہوا تھا۔ ہم نے فاتحہ پڑھی اور واپس آ گئے۔ گھر میں بیگم راجہ صاحبہ سے کافی باتیں ہوئیں۔ میں نے کہا کہ انشا اللہ آپ ٹھیک ہو جائیں گی۔ التتمش اچھا بچہ ہے آپ کی دیکھ بھال صحیح کر رہا ہے۔

اس پر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ پھر میں وہاں سے نکل آیا۔ چچی اور التتمش نے مجھے جو فون نمبر دیے وہ بند ہی رہتے تھے۔ میں نے اور لوگوں سے بھی کہا کہ وہ ہی کوئی رابطے کی کوشش کر دیکھیں۔ لیکن کوئی بات نہ ہو سکی۔ اب کوئی تین چار سال پہلے علم ہوا کہ طاہرہ چچی بھی انتقال کر گئیں۔ تو یہ تھی روداد راجہ صاحب کے مکان ڈھونڈنے کی!“ ۔

” راجہ صاحب ماڈل ٹاؤن لاہور میں بھی رہتے رہے۔ ان کی والدہ ہوبیہ خانم المعروف ’ہ ب‘ ( ہے بے ) صاحبہ غیر منقسم ہندوستان کی ایک بہترین لکھنے والی تھیں۔ ایک دلچسپ بات: سنا ہے کہ بابائے اردو، اگرچہ عمر میں ان سے کافی بڑے تھے لیکن ان سے شادی کے خواہش مند تھے۔ مولانا ظفر علی خان چاہتے تھے کہ یہ شادی ہو جائے لیکن راجہ صاحب کے دو ماموں مولوی صاحب سے شادی کے حق میں نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری بہن بڑی قابل ہے۔ اس سنی سنائی بات میں سچائی کتنی ہے؟ اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ البتہ یہ بات طے شدہ ہے کہ مولانا ظفر علی خان اور بابائے اردو علیگڑھ میں اکٹھے تھے“ ۔

راجہ مہدی علی خان کا خاندان:

” میں ان کی تینوں بہنوں سے ملا ہوں۔ ان سب سے میرا بڑا پیار محبت تھا۔ یہ وزیر آباد کے ایک محلے کرم آباد میں رہتی تھیں۔ خالدہ خانم تنہا ؔ، بڑی اعلیٰ پائے کی شاعرہ تھیں۔ دوسری بہن زبیدہ بیگم بھی بہت اچھی شاعرہ تھیں۔ پھر ان کی جو قریبی عزیز خواتین تھیں جیسے میری پھو پھو رشیدہ بیگم، امینہ بیگم یہ بھی بہترین شاعرہ تھیں۔ آپ تصور نہیں کر سکتے کہ ان کا کلام کتنا اچھا تھا۔ رشیدہ بیگم تو صاحب دیوان ہیں۔ میں نے حال ہی میں ان کی کتاب ’گزری ہوئی بہار‘ شائع کروائی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ بہت اچھی شائع ہوئی“ ۔

راجہ مہدی علی خان کی تاریخ پیدائش میں ابہام:

” راجہ مہدی علی خان کی تاریخ پیدائش کے بارے میں کئی ابہام پائے جاتے ہیں۔ انٹر نیٹ پر غلط معلومات موجود ہیں۔ یہ میرے والد سے دو برس بڑے تھے۔ اس طرح ان کی پیدائش کا سال 1912 بنتا ہے جب کہ اکثر جگہوں پر یہ 1915 درج ہے۔ ان کے بھائی راجہ عثمان علی خان میرے والد صاحب سے ایک برس چھوٹے تھے۔ راجہ مہدی علی خان کی زندگی کوئی بہت زیادہ جمی جمائی اور پر سکون نہیں رہی۔ انہیں اپنی بیگم طاہرہ سے بڑا پیار تھا۔ ان کی پہلی بیگم میں سے ایک ہی اولاد ہوئی جس کا نام نیلوفر تھا۔ وہ کہاں ہے؟ اس کا کچھ علم نہ ہو سکا! شاید بھارت میں ہی ہوں گی۔ میرے حساب سے راجہ صاحب کی عمر 54 سال بنتی ہے۔ انٹر نیٹ پر چھیالیس اور سینتالیس سال بھی ملتی ہے جو کہ غلط ہے“ ۔

” راجہ صاحب کے بیشتر فلمی گانے مجھے ازبر ہیں۔ آپ کو بھی پتہ ہیں۔ بھارت کے اسی سفر میں مجھے بتایا گیا کہ ان کے لکھے ہوئے فلمی گیتوں پر حیدرآباد دکن کے کسی تعلیمی درس گاہ میں مقالہ لکھا جا رہا تھا۔ بیگم طاہرہ مہدی علی خان بھی حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتی تھیں۔ راجہ صاحب کی جو مزاح نگاری میں مشہور زمانہ تحریریں ہیں ان کو اس مقالہ میں کافی حد تک جگہ دی گئی ہے۔ آج بھی کئی ایک لوگ ان کی مزاحیہ نظموں میں رد و بدل کر کے اپنے نام کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ راجہ صاحب کی حس مزاح بڑی زبردست اور اپنی مثال آپ تھی۔ یہ مقالہ حیدر آباد دکن سے منگوایا گیا جو اب ’ظفر علی خان ٹرسٹ‘ میں موجود ہے“ ۔

راجہ مہدی علی خان ہمیشہ زندہ رہیں گے :

راجہ صاحب کے بارے میں راجہ اسد علی خان نے مزید بتایا : ”بھارت کے اسی سفر میں مجھے نامور بھارتی موسیقار مدن موہن صاحب کے بیٹے ’سجیو کوہلی‘ نے بتایا کہ ہم نے راجہ صاحب کا ایک مجموعہ : ’دی لیریکل جینیس راجہ مہدی علی خان‘ The Lyrical Genius Raja Mehdi Ali Khan ای ایم آئی EMI سے جاری کیا ہے۔ اس میں یہ گیت شامل ہیں : ’وطن کی راہ میں وطن کے نوجوان شہید ہو۔‘ فلم“ شہید ”( 1948 ) موسیقار ماسٹر غلام حیدر، آوازیں : خان مستانہ اور محمد رفیع۔

’جیا لے گیو جی مورا سانوریا۔‘ ، آواز لتا منگیشکر،“ آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھے۔ ”، آواز لتا،“ ہے اسی میں پیار کی آبرو۔ ”، آواز لتا،“ وہ دیکھو جلا گھر کسی کا۔ ”، لتا، موسیقی مدن موہن۔ یہ چاروں گیت فلم“ ان پڑھ ”( 1962 ) کے ہیں۔ ’جھمکا گرا رے بریلی کے بازار میں۔‘ ، آواز آشا بھونسلے، ’تو جہاں جہاں چلے گا میرا سایہ ساتھ ہو گا‘ ، لتا، ’نینوں میں بدرا چھائے۔‘ ، آواز لتا۔ یہ تینوں گیت مدن موہن کی موسیقی میں فلم“ میرا سایہ ”( 1966 ) کے ہیں۔

’نیناں برسیں رم جھم رم جھم، پیا تورے آون کی آس‘ ، آواز لتا، ’لگ جا گلے کہ پھر یہ حسین رات ہو نا ہو، شاید کہ اس جنم میں ملاقات ہو نہ ہو‘ لتا، ’جو ہم نے داستاں اپنی سنائی آپ کیوں روئے، تباہی تو ہمارے دل پہ آئی آپ کیوں روئے‘ لتا۔ یہ تینوں گیت فلم“ وہ کون تھی ”( 1964 ) کے ہیں جس کے موسیقار مدن موہن تھے۔“ اگر مجھ سے محبت ہے مجھے سب اپنے غم دے دو، ان آنکھوں کا ہر اک آنسو تمہیں میری قسم دے دو ’آواز لتا، موسیقی مدن موہن، فلم ”آپ کی پرچھائیاں“ ( 1964 ) ،‘ میرا سندر سپنا بیت گیا۔ ’، آواز گیتا دت، فلم ”دو بھائی“ ( 1947 ) موسیقار سچن دیو برمن المعروف ایس ڈی برمن ”۔

مذکورہ فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے ہدایت کار، مصنف، کہانی نویس اور اسکرین پلے لکھنے والے منشی دل ( 1905 سے 1983 ) تھے۔ ان کا تقسیم ہندوستان سے پہلے بھی فلمی دنیا میں اہم مقام تھا پھر پاکستان ہجرت کرنے کے بعد انہوں نے یہاں بھی کامیابی کے ڈنکے بجائے جیسے ایور ریڈی پکچرز کی سپر ہٹ فلم ”عشق لیلیٰ“ ( 1957 ) ۔ اس کے مصنف اور ہدایات کار منشی دل ہی تھے۔ بہرحال فلم ”دو بھائی“ فلمستان کی جانب سے بنائی اور جاری کی گئی۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے راجہ اسد علی خان نے کہا: ” ’پریتم میری دنیا میں دو دن تو رہے ہوتے۔‘ ، آواز لتا منگیشکر، فلم“ ادا ”( 1951 ) موسیقار مدن موہن۔ ’تم بن جیون کیسے بیتا پوچھو میرے دل سے۔‘ آواز مکیش، فلم“ انیتا ”( 1967 ) موسیقار لکشمی کانت پیارے لال صاحبان۔ ’میری یاد میں تم نہ آنسو بہانہ۔‘ آواز طلعت محمود۔ فلم“ مدہوش ”( 1951 )“ موسیقار مدن موہن۔

” میری مجروح ؔ سلطان پوری صاحب سے بڑی اچھی بات ہوئی۔ نہایت باکمال شخصیت تھے۔ میری ان سے فون پر بات ہوئی تو کہنے لگے کہ میں راجہ سے ملا تو نہیں لیکن ان کے انتقال پر ان کے ہاں باندرا گیا تھا۔ مجروحؔ صاحب با کمال شخصیت تھے اور ان کا بھی موسیقار مدن موہن سے تعلق تھا۔ ہمارے ہاں یہ بھی غلط کہا جاتا ہے کہ موسیقار مدن موہن صاحب وزیر آباد سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا تعلق تو راولپنڈی سے تھا“ ۔

کچھ مولانا ظفر علی خان کے بارے میں :

” میں نے ذاتی دلچسپی لے کے مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ بنایا۔ یہ مجھے کرنا ہی تھا اور میرا فرض تھا۔ کون کون سی قوتیں اس کام میں رکاوٹیں ڈالنے نہیں آئیں! سیدھی سی بات ہے کہ مولانا ’احراریوں‘ یعنی مجلس احرار الاسلام کے خلاف تھے۔ اس کے علاوہ کچھ اور بڑے نام بھی ہیں۔ میں اپنی بات کو متنازعہ نہیں بنانا چاہتا۔ مولانا ظفر علی خان کے خاندان والوں، حکومتوں، شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی بلکہ الٹا قدم قدم پر رکاوٹوں کا باعث بنے۔

مولانا ظفر علی خان کے یوم وفات پر قومی اخبارات خاص طور پر یہاں کے نام نہاد ’بابائے صحافت‘ کے اخبار میں خصوصی اشاعت کا اہتمام ہوتا ہے، یہ تو میں نے تحریک شروع کی! میں چیلنج کرتا ہوں کہ مجھ سے زیادہ اس سلسلے میں کسی اور نے کام کیا ہو تو سامنے آئے! اس شخص ( مولانا ظفر علی خان) کے ساتھ بحیثیت قوم ہم لوگوں نے احسان فراموشی کی ہے۔ پھر جن لوگوں نے مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ پر قبضہ کر رکھا ہے وہ ایک علیحدہ داستان ہے۔ کسی کو کچھ نہیں پتا۔ اخبارات میں ہمیشہ ان کی ایک ہی تصویر شائع ہوتی تھی۔ میں نے 80 تصاویر اور اخبار ”زمیندار“ کے 12,000 صفحات جمع کیے ۔ میں نے ’ظفر علی خان چیئر‘ اور ’ظفر علی خان ایوارڈ‘ بنوایا۔ مجھ سے زیادہ کسی اور شخص نے ظفر علی خان ٹرسٹ کے لئے کام نہیں کیا! مولانا ظفر علی خان کی دستاویزی فلم پر کسی نے یہاں کچھ بھی کام نہیں کیا۔ اس فلم کا مواد تک میں نے دیا۔ ہم لوگ تو بلحاظ عہدہ، بلحاظ کسی کا گھٹیا پن، بلحاظ کسی کی جائیداد یا نام و مقام اس کی عزت کرتے ہیں۔ ہم لوگ مفاہمت پرست لوگ ہیں۔ جو لوگ آج صحافت کے علم بردار بنے ہوئے ہیں وہ در اصل مولانا ظفر علی خان کی سوچ کے یکسر مخالف ہیں۔ یہ بات میں عملی طور پر ثابت کر سکتا ہوں۔ کبھی اس تکلیف دہ موضوع پر بھی ضرور بات کروں گا کیوں کہ اس وقت بات راجہ مہدی علی خان کے بارے میں ہو رہی ہے۔

تصنیفات:

راجہ مہدی علی خان نے نثر اور نظم دونوں پر یکساں مہارت سے طبع آزمائی کی ہے۔ جیسے : ”انداز بیان اور“ ، ”مضراب“ ، ”بونوں کا قلعہ“ ، ”چاند کا گناہ اور دیگر افسانے“ ، ”راج کماری چمپا“ ، ”مضراب طنزاً اور رومانی نظمیں“ ، ” ملکاؤں کے رومان“ ، ”کلیات راجہ مہدی علی خان“ وغیرہ۔ انہوں نے بچوں کے لئے کتاب ’‘ بچوں کے ڈرامے ”بھی لکھی جو پنجاب بک ڈپو نے شائع کی۔ راجہ مہدی علی خان کی ایک اور شاہکار، مصالحہ دار کتاب“ فلمی پریاں ”بھی ہے۔ اس کتاب میں نورجہاں سمیت اس زمانے کی نامور فلمی ہیروئینیں جیسے دیویکا رانی، خورشید، کانن بالا، مہتاب، نسیم وغیرہ کے حالات کے بارے میں لکھا ہے۔

نمونہ کلام:
راجہ صاحب کی ایک مزاحیہ نظم ”بورڈ آف انٹرویو۔“ میں سے کچھ شعر:
اردو ناول میں کیا جھکاؤ ہے
کیوں نئی شاعری میں تاؤ ہے
شاعری کے ہیں کتنے امکانات
اس پہ قلیوں کے کیا ہیں احسانات
ذوقؔ کتنے روپے کماتا تھا
اپنی بیوی سے کیوں چھپاتا تھا
مرزا غالبؔ کے کتنے بچے تھے
کتنے جھوٹے تھے کتنے سچے تھے
اعزازات:

راجہ اسد علی خان نے بتایا: ”راجہ مہدی علی خان کو بھارت میں بعد از مرگ لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ ملا جو ان کی بیگم نے وصول کیا۔ 1960 کی دہائی میں ان کا لکھا ایک فلمی گیت سپر ہٹ ہوا :“ لگ جا گلے کہ پھر یہ حسین رات ہو نا ہو۔ ”یہ بھارت کے آل ٹائم 10 سپر گانوں میں شمار ہوتا ہے“ ۔

” ایک بات ماننا پڑے گی کہ بھارت میں فن کی بڑی قدر اور عزت ہے۔ فنکاروں کی بڑی خدمت کی جاتی ہے۔ وہ مالی طور پر آسودہ ہوتے ہیں۔ بھارت کے نامور شاعر جانثار ؔ اختر کے بیٹے بھارت میں اپنے گیتوں کی وجہ سے کروڑ پتی ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ راجہ مہدی علی خان کے پاس بھی بے تحاشا پیسہ آیا۔ لیکن میرے چچا نے پیسے کی قدر نہ کی اور ان کی بیگم اسی قدیم مکان میں رہائش پذیر رہیں“ ۔

کچھ راجہ اسد علی خان کے بارے میں :
” ریڈیو پاکستان میں کمنٹری کرنے کی شروعات کیسے ہوئیں؟“ ۔

” مجھے کرکٹ پر رواں تبصرہ کرنے کا شوق تو نہیں تھا۔ یہاں ریڈیو پاکستان میں اسٹیشن ڈائریکٹر عبدالرب شجی صاحب تھے۔ میں گورنمنٹ کالج میں تھا اور کرکٹ کھیلتا تھا۔ میں نے تب سے ریڈیو پاکستان لاہور میں اسپورٹس کے پروگرام کرنا شروع کر دیے۔ ایوب رومانیؔ صاحب نے میرا آڈیشن کروایا اور رضا کاظمی صاحب نے میرا آڈیشن لیا۔ شجی صاحب وہی ہیں جنہوں نے وقار احمد، چشتی مجاہد، حسن جلیل اور منیر حسین کو کمنٹری کے لئے موزوں قرار دے کر منظور کیا تھا۔

انہوں نے مجھے کہا تھا کہ تمہیں بہترین ہونا چاہیے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ لاہور ریڈیو والوں نے میری بڑی عزت کی۔ میں نے بھی مقدور بھر نبھانے کی کوشش کی۔ آج کل میں اسپورٹس کا ہفتہ وار پروگرام کرتا ہوں۔ پاکستان ٹیلی وژن والے بھی بلواتے رہتے ہیں۔ میں نے ’جیو سپر‘ اور ’ٹین اسپورٹس‘ پر بھی کمنٹری کی ہے۔ میں نے کرکٹ مبصر کی حیثیت سے 12 عالمی دورے کیے ۔ مجھے شرف حاصل ہے کہ میں نے اللہ کے کرم سے عمر قریشی، افتخار احمد، چشتی مجاہد، منیر حسین، حسن جلیل، ایم ادریس، طارق بچہ، شہزاد ہمایوں، طارق رحیم، ریحان نواز، حمید اختر صاحبان کے ساتھ کرکٹ کے کھیل پر رواں تبصرہ کیا ہے۔ میں اپنے کام سے ماشا اللہ مطمئن ہوں“ ۔

” میں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کو ذریعہ روزگار نہیں بنایا۔ بنیادی طور پر ’ایڈورٹائزنگ‘ میرا پیشہ ہے۔ میں ’یونیسیف‘ میں مشیر ہوں۔ کبھی کرم آباد اپنے آبائی گھر بھی چلا جاتا ہوں۔ وہاں چوہدری غلام حیدر خان صاحب، راجہ مہدی علی خان صاحب کی والدہ، ان کی تین بہنیں، زبیدہ بیگم، خالدہ خانم اور سلمیٰ بیگم ان کے بھتیجے بھانجے، میری دو دادیاں : صادقہ بیگم اور زبیدہ بیگم مدفون ہیں۔ میرے والد کی حقیقی والدہ کا نام بھی زبیدہ تھا۔ دونوں دادیاں یہیں دفن ہیں۔ یہیں میرے والد کے دادا مولانا کرم علی خان کی قبر بھی موجود ہے۔ انہوں نے ہی 1880 میں اس گاؤں، کرم آباد کی بنیاد رکھی تھی۔ اس وقت صرف ہمارا ہی ایک ایسا گھر ہے جو کرم آباد میں اپنی اصلی حالت میں ہے ’‘ ۔

میرے والد راجہ فاروق علی خان:

” میرے والد راجہ فاروق علی خان صاحب نے بھی ایک مختصر عرصہ فلمی دنیا سے تعلق رکھا۔ انہوں نے فلم“ ہماری بستی ”کے مکالمے لکھے“ ۔ اس فلم کے ہدایتکار شکور قادری اور فلمساز آغا غلام محمد تھے۔ مشیر ؔکاظمی صاحب کے گیتوں کی دھن موسیقار فیروز نظامی صاحب نے بنائیں۔ یہ فلم جمعہ 17 مارچ 1950 کو نمائش کے لئے پیش ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ مزاحیہ اداکار ظریف کی یہ پہلی فلم تھی (حوالہ پاکستان فلم میگزین ) ۔ ”والد صاحب ریڈیو میں پروڈیوسر تھے۔

انہوں نے ایک ایسا کام دکھایا کہ ریڈیو میں ان کا ڈنکا بجا۔ وہ یہ کہ لاہور ریڈیو میں موہنی حمید بچوں کا پروگرام کرتی تھیں۔ انہوں نے والد صاحب کو کہا کہ آپ میرے ساتھ اس پروگرام میں ’بھائی جان‘ بن جائیں جس سے پروگرام میں جان پڑ جائے گی۔ پھر ہوا بھی ایسا ہی! میرے والد صاحب نے بچوں کی کہانی اور بچوں کا نغمہ شروع کیا۔ ریڈیو کا مشہور ترانہ ’پیارے پاکستان اونچی تیری شان۔‘ اور ’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میرے۔‘ میرے والد صاحب نے بطور پروڈیوسر ریکارڈ کروائے۔ میں خود بھی 12 سال بچوں کے پروگرام کا بھائی جان رہا۔ پہلے ریحانہ صدیقی کے ساتھ پھر بعد میں اور خواتین بھی آئیں۔ مجھ سے پہلے منور سعید بھائی جان بنتے تھے۔ یہ 1980 کے آخر کی بات ہے۔ اس سے پہلے محمد قوی صاحب یہ پروگرام کرتے تھے“ ۔

” کبھی سوچا کہ کرکٹ کو بنیاد بنا کر طویل دورانیے کا ڈرامہ بنایا جائے؟“ ۔

” بڑا اچھا خیال ہے۔ کرکٹ میں ریشہ دوانیاں اور کھلاڑیوں کے حالات زندگی کے حوالے سے ایک بہترین سیریل بن سکتا ہے۔ ہم لوگ تو گلیمر، حسب نسب اور نام نہاد اونچی سوسائٹی والے موضوعات کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔ حالاں کہ کرکٹ میں ریشہ دوانیاں اور کھلاڑیوں کے حالات زندگی پر بنایا گیا ڈرامہ یقینی طور پر عوام الناس میں مقبول ہو سکتا ہے۔ نہایت افسوسناک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق کا تو کوئی تصور ہی نہیں! ایسے ڈراموں کی کامیابی کا محور اچھی تحقیق ہی تو ہے!“ ۔ کرکٹ اور راجہ مہدی علی خان سے متعلق ابھی بہت سے سوالات اور بھی تھے لیکن ان کی کمنٹری کا وقت ہو چکا تھا۔ میں نے راجہ صاحب سے اجازت لی اور کہا کہ باقی سوالات آئندہ سہی۔

راجہ مہدی علی خان بر صغیر پاک و ہند اور دنیا بھر میں جہاں جہاں فلمی گیت سنے جاتے ہیں وہاں وہاں آج ان کے گزر جانے کے 55 سال بعد بھی اپنے گیتوں میں، سننے والوں سے باتیں کرتے محسوس ہوتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words