عطا اللہ مینگل کی الطاف حسین کے ولیمے میں شرکت اور ان کی سندھی

بلوچستان نیشنل پارٹی کے بانی، بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور بلوچستان کی وطن دوست سیاست کے ایک اہم رہنما عطا اللہ مینگل کی وفات کی خبر کے ساتھ ہی ان سے متعلق کئی واقعات ذہن میں امڈ آئے۔ وہ صوبے کی سیاست پر نصف صدی سے زیادہ عرصے تک چمکتے رہنے کے باوجود ہمیشہ ملنسار اور شفیق ہی رہے۔ کبھی ان کے ساتھ صحافتی جرح بھی کی تو انہوں نے ہمیشہ مسکرا کر ہی جواب دیا۔

ان کے ساتھ ایک ملاقات مجھے ہمیشہ یاد رہتی ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کا لندن میں ولیمہ تھا جس میں مجھ سمیت بی بی سی اردو کے کچھ اور ساتھیوں کو بھی دعوت تھی۔ دعوت شمالی لندن میں واقع الیگزینڈریہ پیلس پارک میں قائم وسیع عمارت میں تھی۔ جب ہم وہاں پہنچے تو عمارت میں داخل ہونے سے قبل سب کو میٹل ڈٹیکٹر اور باڈی سرچ کے عمل سے گزرنا پڑ رہا تھا، جس کی وجہ سے ایک طویل قطار لگی ہوئی تھی۔ اور اس قطار میں عطا اللہ مینگل صاحب بھی کھڑے تھے۔

مجھے انہیں قطار میں کھڑا دیکھ کر برا لگا۔ میں نے سوچا کہ وہ ایک اہم رہنما ہیں، سابق وزیراعلیٰ ہیں، ایک کیو ایم کے ساتھ ان کے بہت قریبی تعلقات ہیں، انہیں تو وی آئی پی کی طرح پروٹوکول ملنا چاہیے تھے، وہ کیوں قطار میں ہونے چاہئیں؟ خیر یہ ان کی مرضی تھی، اگر وہ کھڑے تھے تو میں کون ہوتا تھا سوال کرنے والا؟

لیکن مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے جا کے ان کو سلام کیا، ہاتھ ملایا اور اپنا تعارف کرایا۔ مسکرا کر ملے اور پھر ہلکی پھلکی بات چیت سے بات سیاست پر چلی گئی۔ میں نے ان کو بی بی سی اردو آنے کی دعوت دی اور کہا کہ انٹرویو کا موقع دیں۔ انہوں نے حامی بھر لی اور دو دن بعد آنے کا وعدہ کیا اور رابطے کے لیے اپنا لندن کا نمبر دیا۔ مجھے پتا تھا کہ وہ سندھی بہت صاف بولتے ہیں تو میں نے ان سے سندھی میں بات کی۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ وہ اتنی اچھی اور صاف سندھی بول رہے تھے جتنی اچھی تو بہت سارے وہ سندھی بھی نہیں بولتے جن کی مادری زبان ہے۔

میں نے مینگل صاحب سے پوچھا سر آپ اتنی اچھی سندھی کیسے بولتے ہیں؟ جواب دینے کے بجائے انہوں سے سوال سے مجھے لاجواب کر دیا۔ پوچھنے لگے آپ یہ بتائیں کہ آپ اتنی اچھی اردو کیسے بولتے ہیں؟ اور پھر ہنستے ہوئے بتایا کہ وہ بچپن سے سندھ میں رہتے رہے ہیں، سندھیوں سے رشتہ داریاں ہیں، ان کے آبائی علاقے وڈھ میں بے شمار لوگ سندھی بولتے ہیں اور سندھی ان کے گھر کی زبان ہے۔

خیر میٹل ڈٹیکٹر اور تلاشیوں کے مرحلے سے گزر کر ہم الطاف حسین صاحب کی دعوت میں شریک ہو گئے۔ مینگل صاحب کو کارکنوں نے لے جا کر اگلی نشستوں پر بٹھایا اور ہم بھی کہیں جگہ پکڑ کر بیٹھ گئے۔

دو دن بعد عطا اللہ مینگل صاحب بی بی سی ورلڈ سروس کے ہیڈ کوارٹر بش ہاؤس آئے۔ ہماری سروس کے تمام ساتھیوں نے ان سے ملاقات کی اور پھر میں نے ان کا انٹرویو رکارڈ کیا۔ پرانی بات ہے اور اس وقت اس انٹرویو کی رکارڈنگ بھی میرے پاس موجود نہیں لیکن مجھے یہ یاد ہے کہ ان کی ایم کیو ایم سے قربت کے تناظر میں جب میں نے پوچھا کہ کیا وہ ”مہاجروں“ کو ایک الگ قوم تسلیم کرتے ہیں تو انہوں نے اس کا براہ راست جواب نہیں دیا بلکہ کہا کہ ”یہ سندھیوں اور مہاجروں“ کا اپنا اندرونی معاملہ ہے اور یہ ان دونوں کو مل کر طے کرنا ہے”۔

ان کا اس سوال کا براہ راست جواب نہ دینا شاید بہت سارے لوگوں کو پسند نہ آئے لیکن بات انہوں نے بہت مناسب کی۔ سندھ کے عوام کے حق میں یہ بہت اہم ہے کہ وہ آپس کے معاملات پر کھل کر ایمانداری سے پر امن طریقے سے بات کریں اور مسائل کو حل کریں۔

لندن میں ان ملاقاتوں کے بعد ، مینگل صاحب سے مزید کئی ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ مجھ سے وہ کبھی بات کر لیتے تھے لیکن بہت عرصے سے انہوں نے میڈیا سے بات کرنا بند کردی تھی۔ وہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور سیاست سے بہت مایوس ہو گئے تھے۔ میں نے دو ہزار سترہ میں پاکستان کے ستر برس مکمل ہونے پر انٹروویوز کی ایک خصوصی سیریز کے لیے انہیں فون کیا۔ مینگل صاحب اس وقت وڈھ میں تھے اور انہوں نے کہا آپ وڈھ آ جاؤ ملاقات کروں گا بات کروں گا، لیکن انٹرویو اختر (ان کے بیٹے اختر مینگل) سے لے لو۔ میں نے کہا سر آپ کی بات اور ہے، آپ سے ہی بات کرنا چاہوں گا، کہنے لگے یار مجھ رہنے دو کیوں میرا روزہ تڑوانا چاہتے ہو، پھر اور لوگ بھی کہیں گے انٹرویو کے لئے۔ میں نے ان پر مزید اخلاقی دباؤ ڈالنا مناسب نہیں سمجھا اور اختر مینگل صاحب سے انٹرویو کیا۔ ان سے بھی انٹرویو بہت خوب رہا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words