اپنی غلطیوں کی نشاندہی؟

دنیا میں کوئی بھی انسان اس بات کا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ صرف نیکی ہی کرتا ہو اور بدی نہ کرتا ہو۔

اگر ہم انسانی جبلت کا جائزہ لیں تو ہم پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے، کہ انسان نے اپنے ذہن میں برائی کے سانپ پال رکھے ہیں جن کے خوف اور زہر سے کوئی انسان بچ نہیں سکتا۔ بلکہ انہیں جب موقع ملتا ہے تو یہ بنی آدم کو آسانی سے ڈس لیتے ہیں۔

اگر انسانی تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو ہم پر انسانی فطرت کے مکاشفے خوب کھلیں گے اور ہمیں اس بات کا شعور و آگاہی فراہم کریں گے کہ انسان کے تصورات کیسے تھے؟

انسان نے روز اول ہی سے دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر نہ صرف اپنی ذات کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ دوسروں کی زندگیاں بھی غارت کیں ہیں۔ کبھی اس کی سوچ نے اسے اس حد تک گرا دیا کہ اس نے حیوانیت کا لبادہ اوڑھ لیا۔ کبھی اس نے اپنے ہاتھ میں تلوار تھام کر نسلی انسانی کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔ کبھی اس نے اپنی انا پرستی کے تعاقب میں اپنی بادشاہی قائم کرنے کے لئے جنگ کا حکم دیا۔ یوں انسان نسل در نسل گناہ کی اسی دلدل میں اترتا گیا جس میں اس کے پاؤں ہمیشہ کے لئے پھنس گئے۔ وہ مجبور و بے بس ہو گیا۔ اس کی سوچ نے اسے مجرم بنا دیا۔

زمین انسانوں کے خون سے آلودہ ہوتی گئی اور وہ چیخ چیخ کر اس بات کی دہائی دیتی رہی یہ کیسی انسانیت ہے یہ کیسی بشریات ہے یہ کیسی آدمیت ہے؟ جس نے نسلی انسانی کا شیرازہ بکھیر دیا لیکن اپنی غلطیوں کی نشاندہی نہ کی۔ یہ انسانی سرشت کا وہ دو رنگا روپ ہے جس نے اسے ہمیشہ دھوکا ہی دیا ہے۔

انسان ہمیشہ دوسروں پر کیچڑ اچھالتا آیا ہے اور خود اپنے آپ کو بچاتا آیا ہے۔ وہ خود تو اپنے کپڑے صاف رکھنا چاہتا ہے، لیکن وہ دوسروں کو گندگی اور غلاظت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ شاید ہم نے ابھی تک پاکیزہ سوچ کا بپتسمہ نہیں لیا۔ اور نہ اپنی فطرت سے گناہ کی ان کنکروں کو چنا ہے جنہوں نے ہمیں طرح طرح سے چھلنی کر رکھا ہے۔ کیا کبھی ہم نے سوچا ہمارے ہاتھ پاؤں غلطی کرتے ہیں۔

ہماری مجرمانہ سوچ ہمیں غلام بناتی ہے۔ ہمارے تصورات میں گناہ کی کثافتیں پھنسی ہوئی ہے۔ ہماری چال ٹیڑھی ہو گئی ہے۔ ہم بے گناہ کا خون بہاتے ہیں۔ ہماری اخلاقی اقدار کو آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی ہے؟ ہم کس پہاڑ پر کھڑے ہیں، ہماری آخرت کیا ہے؟

کاش!

ہم اپنی فطرت کا جائزہ لے کر اپنا محاسبہ کر سکیں کیونکہ ہمیں دوسروں کے عیب تو بڑی آسانی سے دکھائی دیتے ہیں، لیکن ہم اپنی ذات کو عدالت کی سلاخوں سے کیوں بچاتے ہیں؟

اگر ہم صحیح طور پر اپنا وصف و وزن کریں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ ہمارا کون سا باٹ بھاری اور کون سا ہلکا ہے؟

اگر اس بات کا فطری جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان غلطی کا پتلا ہے۔ اس سے قدم بہ قدم غلطی سرزد ہوتی ہے۔ وہ چاہے اس بات کا اقرار کرے یا انکار کرے۔ ہم اس بات سے منحرف نہیں ہو سکتے کہ ہماری سرشت میں صرف نیکی ہی کا تصور موجود ہے، جب کہ بدی ہمارے نزدیک تک نہیں آتی۔ جو انسان ایسی سوچ کو اپنے اوپر مسلط کرتا ہے وہ نہ صرف اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے، بلکہ اپنی شخصیت کو بھی مسخ کرتا ہے۔

روز مرہ زندگی میں انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے، اور جب کسی میں اس بات کا تصور پیدا ہو جاتا ہے تو اس کی سوچ بالغ ہو جاتی ہے۔ وہ زندگی کو قریب سے دیکھنا شروع کر دیتا ہے، اس کے احساسات اور جذبات میں فراوانی پیدا ہو جاتی ہے، وہ اپنی غلطیوں کی نشاندہی کرنا شروع کر دیتا ہے۔

اس سلسلے میں جب تک ہم اپنے ضمیر کی آواز نہیں سنتے، اور جب تک روح ہمیں ملامت نہیں کرتی۔ ہمارے اندر اصلاح کا تصور پیدا نہیں ہوتا۔ اس کا آغاز اپنی ہی ذات سے کرنا پڑتا ہے، اور سب سے پہلے خود کو ہی عدالت کے کٹہرے میں لانا پڑتا ہے، تب کہیں جاکر تصور اصلاح جنم لیتا ہے۔

اگر اس بات کا بھی دل جمی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے، کہ ہمارے اندر قول و اقرار کا مادہ موجود ہے، جو ہمارے اندر استعداد قبولیت اور اقرار قبولیت کو فروغ دیتا ہے۔

یہ ایک فطری بات ہے جو انسان غلطی نہیں کرتا وہ سیکھ بھی نہیں سکتا۔ کیوں کہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کے لئے غلطی پہلا قدم ہے۔ جو انسان کو اصلاح کی طرف راغب کرتا ہے۔ اگر ہمارے پاس اصلاح کا پیمانہ نہیں ہے تو ہماری ذہنی اور جسمانی نشوونما کا عمل رک جاتا ہے۔ اور جن تبدیلیوں، منصوبوں، اردوں اور جذبوں نے جنم لینا ہوتا ہے، وہ سب ادھورے رہ جاتے ہیں اور ان کے مقابلے میں طاقت اختیار، انا پرستی، رعب و دبدبا، انسان کی شخصیت کو ایسے مسخ کر دیتے ہیں جیسے وہ برسوں سے بیمار پڑا ہے۔

یہ وہ بیمار تصورات اور منفی سوچ کے پرچھائیاں ہیں جو انسان سے ایسی ایسی غلطیاں سرزد کرواتی ہیں، جہاں شخصیت تار تار ہو کر بکھر جاتی ہے۔ اس کا حسن و جمال ان عناصر کی نذر ہو جاتا ہے جس کا اسے صحیح تصور بھی نہیں ہوتا، خیالات میں روانی و سلاست ختم ہو جاتی ہے، اور اس میں صرف بہتری کی گنجائش اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب ہم اپنے آپ کو اصلاح کے صف میں کھڑے کرتے ہیں، تب کہیں جا کر معاملات میں سدھار اور شخصیت میں نکھار پیدا شروع ہوتا ہے۔ جہاں خوشحالی، ترو تازگی، ایمانی قوت، ہمارا دامن پکڑ کر ہمیں اس راہ پر گامزن کر دیتی ہے، جہاں منزل ہمارا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔

کاش!

انسان اپنی غلطیوں کی نشاندہی کر کے ان کا اقرار کرے۔ اور جب ہم ایسا کرنا شروع کر دیتے ہیں، تو ہمارے اندر تبدیلی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ بات صرف شروعات کی ہی ہوتی ہے اور دنیا کا کوئی بھی کام اس وقت تک مشکل پہاڑ دکھائی دیتا ہے جب تک سفر شروع نہ کیا جائے۔ انسان ہمیشہ اس غلط فہمی کا شکار رہتا ہے، کہ اسے خود کچھ نہ کرنا پڑے، بلکہ وہ دوسروں کا انتظار کرتا ہے اور اسی انتظار میں وہ اپنا وقت برباد کرتا رہتا ہے۔

ایسی تباہی اور بربادی سے بچنے کا ایک ہی حل ہے۔ وہ اپنی غلطیوں کی نشاندہی ہے اور جب کسی انسان کو اس بات کا احساس پیدا ہو جائے تو اس صورت میں نہ صرف اسے خود فائدہ پہنچتا ہے بلکہ وہ دوسروں کے لئے بھی مشعل راہ بن جاتا ہے۔

حضرت سلمان نے خوب لکھا ہے ”جو اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے کامیاب نہ ہوگا لیکن جو ان کو ترک کرتا ہے اس پر خدا کی رحمت ہو گی“

اور ہمیں خدا کی رحمت ہمیشہ اس وقت نظر آتی ہے، جب ہم اپنے آپ کو گنہگار تسلیم کر لیتے ہیں، تب خدا ہم پر اپنی رحمت و شفقت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ ہمارے لئے آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ہم تعمیر و ترقی کے دائرے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ہماری ترجیحات اور معیار زندگی بدل جاتا ہے۔ ہم خود کو مجرم اور دوسروں کو راست باز کہنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ ہماری فطرت سے تبدیلی کا چشمہ پھوٹ پڑتا ہے جو اپنی روانی سے ان تمام غیر ضروری کثافتوں کو بہا کر لے جاتا ہے، جنہوں نے ہماری فطرت کو آلودہ کیا ہوتا ہے۔

کاش!

آج ہم اپنی غلطیوں کی نشاندہی کر سکیں۔ یہ عمل نہ صرف خوبصورت ہے، بلکہ تبدیلی میں مرکزی کردار بھی ادا کرتا ہے۔ اس سے قبل بہت دیر ہو جائے ہمارے ارد گرد شام اور تاریکی چھا جائے ہمیں اپنے ضمیر کے چراغ کو روشن رکھنا ہوگا تاکہ وہ گناہ کی تاریکی کو دور کر سکے۔ اپنی غلطی تسلیم کرنے سے انسان کبھی چھوٹا نہیں ہوتا بلکہ وہ نسل انسانی کے لئے ایسا نمونہ تیار کرتا ہے جہاں قوموں کی اصلاح ہوتی ہے۔ معاشرے معاشی اور اخلاقی طور پر مستحکم ہو جاتے ہیں۔ وہاں امن محبت اور خوشی آ جاتی ہے۔ آئیں اپنی اور دوسروں کی بہتری کے لیے جھک جائیں کیونکہ پھل ہمیشہ جھکے ہوئے درخت کو لگتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words