متوسط طبقے کا لڑکا

انٹرویو انگریزی میں جاری تھا۔ مینجر کا دفتر بہت وسیع تھا، میز اور دیواریں خوبصورت تاریخی فن پاروں سے سجی ہوئی تھی تھی۔ کوئی آدھ گھنٹے سے مینجر ٹیکنیکل سوالات پوچھ رہا تھا۔ جب اسے اسد کی صلاحیت پر اعتماد ہو گیا تو دوسرے سوالات کی طرف توجہ دی۔ ادھر اسد بھی منیجر کی ذہانت اور علم سے کافی متاثر تھا اور منیجر کا چہرہ اسد کو کتنا ہشاش بشاش اور صحت مند دکھائی دے رہا تھا۔

’میں تمہاری تکنیکی مہارت اور تجربے سے بہت متاثر ہوں۔ تم نے ہر سوال کو غور سے سنا اور کتابوں سے رٹے رٹائے جوابات دینے کے بجائے ان کے عملی حل کے بارے میں سوچ بچار کیا۔ تمہیں شاید پتا ہے کہ کسی کی بات کو تحمل سے سننا اور سمجھنا ایک بہت اہم صلاحیت ہے۔‘

’جی، شکریہ آپ کا۔‘ بھاری بھرکم اسد کا چہرہ خوشی سے کھل گیا تھا۔
’اب میں نے تم سے کچھ اور سوالات پوچھنے ہیں جو تکنیکی نہیں ہیں۔‘
’جی پوچھیں۔‘

’ تم نے آئی ڈی اے سے ماسٹرز ڈگری حاصل کی یہ واقعی قابل تعریف بات ہے۔‘ پھر منیجر نے کافی کا ایک گھونٹ لیا۔ ’ہوں! بی اے تم نے گورنمنٹ کالج سے کیا۔‘ پھر مینجر کچھ رک کر بولا۔ ’بتاؤ تفصیل پہلی جماعت سے۔‘

’میں نے ماڈل اسکول سے میٹرک کیا، اس سے پہلے والے اسکول کا مجھے نام بھی یاد نہیں۔‘ اسد دیوار پہ لگی ہوئی موہنجو داڑو کی تصویر کو گھورتا ہوا بولا۔

’نام یاد نہیں؟ تم نے چھ سال وہاں پڑھا ہے!‘

’اب اس علاقے میں ہم نہیں رہتے ہیں۔ سر، ہم لوگ اس وقت ناظم کالونی میں رہتے تھے یہ ایک چھوٹا سا اسکول تھا ایک ہی مکان کی پہلی منزل پہ یہ پورا اسکول مشتمل تھا۔‘

’ہوں! یہ تو کوئی ایسا ویسا ہی اسکول لگتا ہے۔‘ یہ کہہ کر مینجر کچھ گہری سوچ میں مبتلا ہو گیا۔ پھر ذرا آگے کی طرف جھکا۔ ’کون سے بلاک میں یہ پرائمری اسکول تھا؟‘

’سر، آپ پرائمری سکول کو اتنی اہمیت کیوں دے رہے ہیں؟‘ اس دفعہ اس نے منیجر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کا جواب سوال سے دیا۔

’اسی سے تو پتہ چلتا ہے تمہاری کلاس کا۔ یہ سمجھانا مشکل کام ہے۔ میری ٹیم کے سب لوگوں کا تعلق اعلیٰ طبقے سے ہے۔‘

’میرا بھی تعلق اعلی طبقے سے ہے۔ ہماری تربیت میں شرافت، محنت اور آگے بڑھنے کی صلاحیت ہمارے والدین نے کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے۔‘

’یہ نہیں ہے میری مراد؟‘
اسد کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔ ’سر، پھر اعلی طبقے سے کیا مراد ہے؟‘

’تم اس سوال کا جواب جانتے ہو، پھر بھی سوال کر رہے ہو!‘ منیجر نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔ ’ان لوگوں کی بات چیت، لباس، عادات و اطوار، سوچ اور زندگی کے پیمانے الگ ہوتے ہیں؟ تم ان کی ٹیم کا حصہ کیسے بن سکتے ہو! تمہاری پرورش تو اعظم کالونی کی گلیوں میں ہوئی ہے۔‘ پھر منیجر نے ایک لمبا سانس لیا۔ ’تمہاری آنکھوں میں دلیری ہے، مڈل کلاس کے طبقے کی بزدلی نہیں۔ مجھے یہ بات بہت پسند ہے اس لیے میں تمہیں یہ آفر ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ کے ساتھ دے رہا ہوں!‘

اسد نے اپنے خوشی کے جذبات کو روک لیا تا کہ منیجر اس پہ مڈل کلاس کا لیبل نہ لگا دے۔ ’بہت شکریہ، یہ بتائیں کہ میں کب سے کام شروع کر دوں۔‘

’یکم اکتوبر سے، ابھی چھ ہفتے باقی ہیں۔ اس دوران تم نے بہت کچھ سیکھنا ہے۔‘ منیجر نے آواز بلند کرتے ہوئے کہا۔

’بتائیں سر، کیا سیکھنا ہے؟ میں خوب محنت کر کے سیکھ لوں گا۔ آپ مجھ سے نا امید نہیں ہوں گے!‘

منیجر کے چہرے پہ ایک معنی خیز مسکراہٹ آئی۔ ’اس دوران تم مہنگے ہوٹلوں میں کافی پینے اور سینڈوچ وغیرہ کھانے کے آداب سیکھو، عورتوں سے بلا جھجک بات کرو بلکہ مذاق کرنا سیکھو۔ یہ عام کپڑے پہنے کے بجائے آج کل کے فیشن کے کپڑے پہنو۔ پوری بات چیت انگریزی میں کرو۔ کوئی ماڈرن کلب یا جم جوائن کرو۔ اب تم خود ہی سمجھ لو کہ تمہیں کیا کیا کرنا ہے! کیا تم یہ سب کر سکتے ہو؟‘

اسد کی آواز گلے میں ہی پھنس گئی۔ ’بالکل کروں گا یہ سب کچھ، آپ کی ٹیم کا حصہ جو بننا ہے۔‘

پھر مینجر کرسی سے اٹھا اور ہاتھ بڑھا کر اسد سے ملایا۔ اسد دروازے کی طرف بڑھا اور کچھ کہے بغیر کمرے سے نکل گیا۔ منیجر نے پیچھے سے آواز لگائی۔ ’اسد‘

اسد مڑ کر مسکرایا۔ ’پہلی اکتوبر سے میں آپ کی ٹیم کا حصہ بن جاؤں گا۔ آپ مجھے آفر بھیج دیجئے گا۔‘
پہلی اکتوبر آئی تو اس دن کوئی دس بجے اسد نے مینجر کو فون کیا۔ ’ہیلو سر۔‘
’تم کہاں ہو ابھی تک آئے نہیں!‘
اسد خاموش رہا۔
’اسد، یہاں سب لوگ نو بجے سے پہلے دفتر پہنچ جاتے ہیں۔‘

اسد نے ذرا اپنے لہجے کو سخت کیا۔ ’ابھی میں کافی پینے اور سینڈوچ کھانے کے آداب سیکھ رہا ہوں، جب سیکھ لوں گا تو آ جاؤں گا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words